نئے سال پر بچوں کی دنیا میں آمد

2

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 یو نیسیف نے آج بتایاکہ نئے سال کے پہلے دن بھارت میں ایک اندازہ کے مطابق  69,944 بچے پیدا ہوں گے۔ اسی طرح اس دن  دنیا  بھر میں پیدا ہونے والے تقریباً 395072 بچوں میں بھارتی بچوں کا تناسب  18 فیصد ہوگا۔

  دنیا کے  شہروں میں نہ صرف نئے سال کی آمد کا  بلکہ ان نئے آنے والوں  بچوں کی آمد کا  بھی جشن  اور خوشیاں پورے اہتمام سے منائی جائے گی۔ جیسے ہی گھڑی کا رقاص ( پنڈولم ) پر نصف شب ہونے کا گھنٹہ بجائے گا، ویسے ہی سڈنی میں تقریباً 168 بچوں کی پیدائش کا جشن  بھی ہوگا۔ وہیں ایک تخمینہ کے مطابق  ٹوکیو میں 310، بیجنگ میں 605، میڈرڈ میں 166 اور سب سے آخرنیویارک میں  317 بچے  آنکھ کھولیں گے۔

نئے سال  2019 کا پہلا بچہ امکان ہے کہ بحرالکاہل کے ملک فجی میں پیدا ہو گا  جبکہ سب سے آخر میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پیدا ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سال کے پہلے دن جتنے بچوں کی آمد ہوں گی ان کی نصف سے زیادہ  تعداد  ذیل کے آٹھ  ملکوں میں پیدا ہونے کا امکان ہے:

1۔ بھارت -69,944

2۔  چین – 44,940

3۔  نائجیریا -25,685

4۔ پاکستان – 15,112

5۔ انڈونیشیا – 13,256

6۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ – 11,086

7۔  عوامی جمہوریہ کانگو – 10,053

8۔ بنگلہ دیش – 8,428

یکم جنوری کو دنیا بھر کے بے شمار خاندان  نئی اولاد ہونے کی خوشیاں منارہے ہوں گے کوئی  الیگذنڈر، عائشہ  نام رکھ رہا ہوگا تو کوئی جینگ اور زینب۔ مگر دنیا کے متعدد ملکوں میں ایسے بہت سے بچے ہوں گے جو پیدا ہوتے ہی لقمہ اجل بن جائیں گے۔

2017  سال  میں تقریباً  دس لاکھ بچے  اسی دن موت کا نوالہ بن گئے تھے جس دن انہوں نے دنیا میں پہلی مرتبہ اپنی آنکھ کھولی تھی، اسی طرح  2.5 ملین یا 25لاکھ  بچے اپنی زندگی کا  صرف پہلا مہینہ ہی دیکھ پائے۔ ان میں سے  بیشتر بچوں کی موت ایسے اسباب سے ہوئی جن کا تدارک کیا جاسکتا تھا جیسے ً قبل از وقت پیدائش، زچگی کے دوران پیچیدگیاں، اور انفیکشن جیسے سیپسس (زخم کا سڑنا) اور  نمونیا۔ یہ  چیز  ان بچوں کے زندہ  رہنے کے بنیادی حق کی پامالی بھی ہے۔

اس موقع پر یونیسیف کی بھارت میں نمائندہ یاسمین علی حق نے کہا کہ  ’’ اس نئے سال کے موقع پر آئیے، ہم سب مل کر اس بات کا عہد اور عزم کریں کہ ہر بچہ (لڑکا) اور بچی ( لڑکی) کو ا س کا  ہر حق ملے گا  با لخصوص ان کے زندہ  رہنے کے حق کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ ‘‘  انہوں نے  مزید کہا کہ  ’’ اگر ہم مقامی ہیلتھ ورکروں (  طبی عملے) کی تربیت اور انہیں ضروری طبی ساز و سامان فراہم کرنے پر توجہ دیتے ہیں تو  ہر بچہ کی پیدائش محفوظ ہاتھوں میں ہوگی اور اس طرح ہم لاکھوں  بچوں کو موت  کے منہ میں جانے سے بچا سکتے ہیں۔ ‘‘

اس نئے سال  2019 میں حقوق ِاطفال کے کنونشن  (Convention on the Rights of the Child) کو منظور کئے ہوئے 30 سال مکمل ہوں گے، اسی مناسبت سے یونیسیف  نے پورے سال دنیا بھر میں مختلف تقاریب اور  پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کنونشن کے تحت  دنیا کی حکومتیں اس بات  کے لئے پابند عہد ہیں کہ حقوق اطفال  کے علاوہ  وہ  معیاری طبی سہولیات فراہم کرکے ہر بچے کی زندگی کی حفاظت کرے گی۔

   بہرحال یہ خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکنے کے حوالے سے قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ پوری دنیا میں اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے مرنے والے بچوں کی تعداد میں  اب نصف سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم  نوزائیدہ بچوں میں موت کی شرح کم کرنے کے معاملہ میں پیش رفت سست ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات میں 47 فیصد وہ بچے شامل ہیں جو  اپنی پیدائش کے پہلے ماہ میں فوت ہو جاتے ہیں۔

یونیسیف کی  ’’ہر بچہ زندہ رہے ‘‘  (Every Child Alive) مہم کا مطالبہ ہے کہ ہر ماں اور اسکے نومولود کے صحت کی دیکھ بھال کے لئے  معیاری علاج و معالجہ  اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی طرف فوری توجہ دی جائے۔ ان سہولیات میں اسپتالوں اور طبی مراکز پر صاف پینے کا پانی اور بجلی کی مستقل فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ  زچگی کے وقت تربیت یافتہ طبی عملہ کی موجودگی، حمل کے دوران پیچیدگیوں   کے تدارک  اور علاج  نیز زچگی و پیدائش  کے لئے وافر مقدار میں ادویات کی فراہمی  وغیرہ شامل ہیں۔ ساتھ ہی  لڑکیوں اور خواتین کی تربیت کرنا تاکہ وہ معیاری طبی خدمات اور سہولیات مطالبہ کرسکیں۔

بھارت سے متعلق  تصاویر کے لئے یہاں کلک کریں۔

https://weshare.unicef.org/share/um4308mcqv5e10hu26f4be553410612

تبصرے