صحت

نیم ’’نم‘‘ Margosa Tree کے طبی خواص

دیگرنام: عربی و فارسی میں نیب گجراتی میں لمڑا،بنگالی ،سندھی اور پنجابی میں نم ،سنسکرت میں نمب تامل میں ویلپو مرہٹی میں کنڈو نمب انگریزی میں مارگو ساٹری کہتے ہیں۔
ماہیت: مشہور سدا بہار درخت ہے نیم کے پیڑ بڑے بڑے پچاس فٹ اونچے اور خوب سایہ دار اس کے پتے نوک دار لمبوترے دو ڈھائی انچ لمبے کنارے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ٹہنی چھ سے دس انچ لمبی جن پر پتوں کے چھ سے گیارہ جوڑے لگتے ہیں موسم بہار کے شروع میں پتے جھڑتے اور نئے سرخ رنگ کے ملائم چمک دار پتے نکلتے ہیں اس کا تنا اور شاخیں سیاہی مائل سبز ہوتی ہے۔ موسم بہار کے آخر میں بہت چھوٹے سفید رنگ کے پھول لگتے ہیں اور پھولوں کے بعد پھل گچھوں میں جوپہلے سبز رنگ کے نیم گول لمبے پتلے پکنے پر ان کا رنگ پیلا ہوجاتاہے۔اور پھل جون میں پک جاتے ہیں جس کو بچے اور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ان پھلوں کے اندر تخم ہوتے ہیں۔جن کو نمبولی کہتے ہیں۔اس سے تیل نکالاجاتاہے جوکہ دواء اور صابن بنانے کے کام آتاہے۔ نیم نر درخت کے تنے میں سے ایک قسم کا گاڑھا مادہ خارج ہوتاہے اس کو ہندی میں نیم کا مدھ کہتے ہیں۔ اس درخت کی عمر دو سو برس سے پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔ اس درخت کے تمام اجزاء پتے پھول تخم چھال پھل اور گوند بطوردواء مستعمل ہے نیم نہایت قدیم ہندی دوا ہے۔جس کا ذکر سشرت میں بھی درج ہے۔
مقام پیدائش: ہندوستان، پاکستان اور برما کے تمام حصوں میں خصوصاً میدانی علاقوں میں۔
مزاج:گرم خشک۔ درجہ اول، سرد خشک۔
افعال: محلل، مسکن ،مقطع ،ملین ،منضج،مصفیٰ خون،دافع بخارو تعفن ،قاتل کر م شکم ،منقیٰ قروح ،دافع دق۔
درخت کے نیچے سونا
پہلے زمانے میں یہ خیال کیاجاتاتھا کہ نیم کا درخت ہوا کو صاف کرتاہے اس لئے گھروں میں لگایاجاتاہے۔یہ یادرکھیں تما م درخت زمین کے پھیپھڑے ہیں۔دن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن چھوڑتے ہیں جبکہ رات کو آکسیجن حاصل کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے ہیں۔اس لئے کسی بھی درخت کے نیچے رات کو سونا مضر صحت ہے۔
پتوں کا استعمال
محلل اور منضج ہونے کے باعث اس کے پتوں کا بھرتہ بناکر پھوڑے پھنسیوں اور دیگر اورام پر باندھتے ہیں جس سے وہ صلابتوں کو نرم کرنے میں مفیدہے۔پتوں کوجوش دے کر درد گوش میں پھنسی کی وجہ سے اس کابھپارہ دیتے ہیں۔خراب زخموں پرپتوں کو پیس کر ٹکیہ بناکر یا پتوں کابھرتہ باندھنے سے اس کا میل کچیل صاف ہوجاتاہے پتوں کو جوش دے کر اس سے خراب گوشت دورہوجاتاہے۔اور نیاگوشت جلد پیدا ہو جاتاہے۔پتوں کو جوش دے کر اس پانی سے زخموں کو دھونے سے زخم کا تعفن دور ہوجاتاہے۔خشک پتوں کو باریک پیس کربھی ضرورتاًاستعمال کرتے ہیں۔جلدی امراض خصوصاًخارش میں اس کے پتوں کے جوشاندے سے غسل کرنامفیدہے۔مصفی خون ہونے کی وجہ سے تقریباً جلدی اور فساد خون کے امراض میں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیم کے پتوں کاپانی نکال کر ایسے زخموں میں ٹپکایاجاتاہے۔جس میں کیڑے پڑگئے ہوں۔ناک کے اندر کرم پیدا ہونے کی صورت میں ناک میں قطور کیاجاتاہے۔
پھول کا استعمال
مصفیٰ خون نسخوں میں شامل کرتے ہیں اگر کپڑے میں پھولوں کو لپیٹ کر بتی بنائیں اور اس کو سرسوں کے تیل میں ترکرکے جلائیں اور اس سے کاجل حاصل کریں تو یہ کاجل خارش چشم کیلئے مفیدہے۔پھل سرکی جوؤں کومارنے کیلئے پانی میں پیس کر بالوں کی جڑوں میں لگاتے ہیں۔
پھلوں کے مغز کا تیل نکلواتے ہیں یہ تیل جلدی امراض کے علاوہ جذام میں بھی مفیدہے۔وجع المفاصل مزمن کو بھی فائدہ بخشتا ہے۔زخموں پر مفرداًیا دیگر ادویہ کے ہمراہ لگانے سے ان کے تعفن کو دور کرکے جلد درست کرتاہے۔قاتل جراثیم ہے۔پرانے خنازیری زخموں کو بھی فائدہ دیتاہے۔نیم کی شاخ سے مسواک کرنامنہ کی عفونت کو دور کرتاہے اور مسوڑھوں دانتوں کیلئے مقوی ہے۔دانتوں کو گلنے سڑنے سے بچاتا ہے۔ تیل میں بتی بھگو کر مقعد میں رکھنے سے چنونے ہلاک ہوجاتے ہیں اس تیل سے صابن تیارکیاجاتاہے۔جوکہ کاربالک سوپ کے برابر فائدہ کرتاہے۔آج کل نیم سوپ کے نام سے بازار میں ملتاہے جوکہ چہرے کے دانوں کے لئے مفیدہے اور اس کا استعمال خارش میں بھی کیا جاتاہے۔نیم کا گوند اعلیٰ درجہ کا مصفیٰ خون ہونے کی وجہ سے بعض سرموں میں اس کو ملا کر امراض چشم میں استعمال کیاجاتاہے۔
نیم کا اندرونی استعمال
اگرچہ چھال کے تمام افعال پتوں کی طرح نہیں لیکن یہ زیادہ تر نافع بخار اور مصفی خون عرقیات میں مستعمل ہے۔اس کا جوشاندہ قاتل کرم شکم ہے اور اس میں خصوصاًفائدہ کرتاہے۔
پھل یعنی نبولی بھی مصفی خون ہے اگر پختہ نبولی کھائی جائے تو اس سے تلین بھی ہوتی ہے۔اور تصفیہ خون بھی۔علاوہ ازیں قاتل کرم شکم اور دافع بواسیرہے۔دو گرام نبولی پانی میں پیس کر پلانا دھتورہ کے زہر کا تریاق ہے۔نیم کے پتوں کا سفوف اکثر جلدی امراض میں مستعمل ہے خصوصاًخارش پھوڑا پھنسی وغیرہ میں مشہور دواہے۔اور اس کے پتوں کاجوشاندہ بخاروں میں سل دق کے بخار میں مستعمل ہے۔
نیم کا استعمال طبی مقاصد کیلئے صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور خصوصاً برصغیر میں اس کی طبی اہمیت مسلمہ ہے۔ جلدی مسائل کے حل اور خوبصورتی میں اضافہ کیلئے نیم کے پتے مجرب نسخے ہیں، اس کے کچھ اہم فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔ چینی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نیم کے تازہ ننھے پتے کھانے سے چیچک ،خسرہ،اور کیل مہاسوں کا علاج ممکن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیم کے درخت پر اگنے والے ننھے پتے چیچک کے ساتھ ساتھ خسرہ اور کیل مہاسوں کیلئے بھی فائدہ مند ہیں۔ماہرین کے مطابق نیم کے پتوں میں ایسے قدرتی اجزاء پائے جا تے ہیں جو جسم کے اندر داخل ہو کر خون اور جگر کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ خارش اور کھجلی کو بھی ختم کر تے ہیں۔تحقیق کے مطابق نیم کے پتے ذائقے میں انتہائی تلخ ہوتے ہیں جنھیں کھانا مشکل ہے ،لیکن انکے انسانی صحت کے لئے فوائد لاتعداد ہیں۔
نیم کا درخت کڑوا، اس کا پھل میٹھا۔ شاخیں تریاق کا کام دیتی ہیں۔ جون کے مہینہ میں اس کا پھل بخوبی پک جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ نیم کا ہر جز کڑوا مگر پھل میٹھا ہوتا ہے۔ چند پھل موسم میں روز کھائیں تو خون صاف ہوتا ہے۔ پھوڑے پھنسیوں اور جلدی امراض کو آرام ملتا ہے۔ نمبولی کی گٹھلی خشک کرکے اس کا تیل بھی کشید کیا جاتا ہے جو بہت کام آتا ہے۔ اسی طرح نیم کا صابن، نیم کی ٹوتھ پیسٹ اب دستیاب ہے۔ نیم کی نمبولی گیارہ عدد روز کھائیں پھر انہیں 21 کی تعداد تک لے جائیں، اس سے پورے سال امن رہتا ہے۔ سال بھر تک خارش، الرجی، دانے نہیں ہوتے۔ نیم کا مرہم دافع عفونت ہے۔ گندے ہٹیلے زخموں کے لیے مفید ہے۔ ایک پاؤ سرسوں کا تیل لیں۔ آگ پر رکھیں، نیم کے تازہ پتے اچھی طرح کوٹ لیں اور ان کو تیل میں ڈال کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔ نیم کی موٹی شاخ لے کر اس سے تیل ہلاتی رہیں جب وہ خوب گاڑھا ہوجائے تو اتار کر ٹھنڈا کرکے رکھ لیں۔ نیم کے مٹھی بھر پتے لے کر پانی میں پکا کر نیم گرم پانی سے ایڑی دھولیں۔ یا کسی چھوٹے ٹب میں پانی ڈال کر ایڑی کو دس منٹ کے لیے بھگو دیں۔ نکال کر خشک ہونے پر نیم کا مرہم لگائیں۔
ماہرین زراعت بتاتے ہیں کہ نیم کا درخت زمینی مٹی کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور پانی کے ضیاع و مٹی کے کٹاؤ کوبھی روکتا ہے، نیز نیم کے درخت کا ہر حصہ بیج ، پھل ، تیل، چھال ، جڑ بطور دافع عفونت اور دافع جراثیم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
نیم کے درخت سے کشید کردہ اجزاء بول ، دست،پیچش،کھانسی، جلدی امراض ، بگڑے ہوئے زخم ، اعصابی تناؤ، انواع واقسام کی سوزشوں سمیت بہت سارے امراض میں بے حد مفید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیم کے پتوں سے کشید کردہ اجزاء ملیریا کے علاج میں نہایت سود مند پائے گئے ہیں یہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کر کے دل کی شریانوں کی تنگی جو دل کے دورہ کا باعث بنتی ہے کو دور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیم کے بیج سے حاصل کیا جانے والا مارگوساتیل طبی خواص کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے جو اپنے اندر کئی قسم کی قدرتی جراثیم کش صفات رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تیل بالوں کی خشکی دور اور انہیں لمبا کرنے میں بھی معاون ہے جس سے ذیابیطس کے مریض بھی بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں۔
نیم کے پتے خواتین کی آرائش ، حسن و جمال وچمکدار جلد کیلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر نیم کے پتوں کی لئی شہد کے ساتھ استعمال کی جائے تو خارش ، داغ ، چنبل اور دیگر جلدی امراض سے شفا حاصل ہوتی ہے۔
نیم کا درخت انتہائی کم پانی حاصل کر کے تیزی سے پرورش پاتا ہے جس سے کئی فوائد کا حصول ممکن ہے۔
1۔ نیم کے پتے پانی میں ابال لیں۔ جب پتے نرم ہو جائیں اور پانی سبزی مائل ہو جائیں تو پانی کو چھان لیں، غسل کرتے وقت نیم کا پانی دوسرے پانی میں ملا لیں، اس سے جلد کے انفیکشن اور کھجلی سے نجات مل جائے گی۔
2۔ جلد کے دانوں کے خاتمہ کیلئے مندرجہ بالا طریقہ سے ابالے گئے پانی میں روئی بھگو کر متاثرہ جگہ لگائیں۔ آپ نیم کے پانی کو کھیرے یا دہی کے ساتھ ملا کر بھی متاثرہ جگہ پر لگا سکتے ہیں۔
3۔ نیم کے پانی کو چہرے کی جلد پر لگانے سے جلد جھریوں سے محفوظ رہتی ہے اور رنگت بھی نکھر جاتی ہے۔
4۔ خشک جلد کو تروتازہ کرنے کیلئے نیم پاؤڈر میں چند قطرے آنولے کا رس ڈال کر متاثرہ جگہ پر لگائیں اور تقریباً دو منٹ تک لگائے رکھنے کے بعد پانی سے دھو دیں۔
5۔ چہرے کے کیل مہاسوں کے علاج کیلئے نیم کے پتوں اور مالٹے کے چھلکے کو اکٹھا کوٹ لیں اور اس میں شہد، سویا ملک اور تھوڑا سا دہی شامل کر لیں، اس آمیزے کو ہفتہ میں کم از کم تین دفعہ استعمال کریں۔
6۔ بالوں کو مضبوط اور صحت مند کرنے کیلئے نیم کے تیل سے بالوں کی جڑوں میں مالش کریں۔ خیال رکھیں کہ بال ٹوٹنے نہ پائیں۔
7۔ سر کی خشکی دور کرنے کیلئے نیم کے پاؤڈر کو پانی میں مکس کر لیں اور اسے سر کی جلد پر ایک گھنٹہ لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد شیمپو سے بالوں کو اچھی طرح دھو لیں۔

مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close