صحت

چھینک!

محمد کاشف

اگر کو ئی اپ سے مخاطب ہے اور مزے سے ، سر میں گپ لگا رہا ہے ، اچا نک اسکی حالت میں تبدیلی آ جاتی ہے اور اسکی ناک کی نتھنے کھو لنے کو ہو تے ہو ئے اوپر کی طرف زور کر رہی ہو، منہ کھلتا ہوا اور آنکھیں بند ہو نے والی ہو، بھنو یں اوپر نیچے کو ہو رہی ہو، تو اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ اپنی بات میں وزن بڑھا کر اپ کو ہنسانے کی کو شش کر ہا ہے ، یا اسے اپکی کو حرکت ایسی لگی کہ وہ اپنی ہنسی پر کنٹرول پا نے کی ناکام کوشش کر رہا ہے یا وہ جان بو جھ کر ا پ کی کسی حرکت پر ہنسنے کی کو شش کر رہا ہے، یہ چھینک آنے کی علا مات ہیں ، ا گر اپکو اﷲ تعالیٰ نے یا اچھی یا داشت سے نوازا ہو ، تو اپکو اپنی چھینک والی کیفیت اچھی طرح یا د ہو گی اور اگر اپ ایک نارمل انسان ہے تو اپکو زندگی میں ضرور چھینک آنے سے واسطہ پڑا ہو گا۔۔۔نارمل انسان کو زندگی میں ضرور چھینک سے واسطہ پڑتا ہے ، چھینک آنا بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ ڈاکٹر حضرات اسے ایک صحت مندانہ سر گرامی قرار دیتے ہے، سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ چھینک کیوں آتی ہے جو ہمارا اچھا بھلا حلیہ بگا ڑ کر چلی جا تی ہے۔ تو سنیئے چھینک تب آتی ہے جب ہماری جسم میں کو ئی مضر خو ردبینی جاندار، یا کو ئی اور نا پسندیدہ شئے ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہو تے ہیں تو اس کو باہر نکالنا ضروری سمجھ کر اسے منہ تھوڑ جواب دینے کے لیئے دماغ، اعصابی نظام کو متحرک کرکے اس باہر نکالنا چاہتا ہے تو چھینک کا عمل شروع ہو جا تا ہے، جس سے ہمارا جسم محفوظ رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
اگر ایک وقت زیادہ چھینک آرہی ہو تو یہ الرجی ہو سکتی ہے جس کے لیئے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیئے۔
چھینک ذیادہ تر زکام کی حالت میں بھی اتی ہے بعض حضرات کو الرجی کی وجہ سے بھی چھینک کی شکایت ہو جا تی ہے۔ جو دن میں یا ایک وقت میں کئی کئی بار چھیکنتے رہتے ہیں۔۔۔۔ ایسے ہی میں انگلستان کے شہر وورکیسٹر شائیر کی ڈونا گرفتھ نامی خاتون ایک دن میں پورے نو سو اٹھتر (978)مرتبہ چھینک گئی ۔ وہ بے چاری چھینکتی رہی اس کے ساتھ دلی ہمدردی ہے مگر وہ نو سو اٹھتر مرتبہ چھینک گئی یہ ریکا رڈ کر نے والے ” رحمدل ماہر شماریات "کو داد دینی پڑی گی۔ جو اسکے ساتھ اسکے چھینک شمار کر نے کے لیئے پو را دن گزار گیا اور ایک ایک چھینک کو شمار کر نے کے لیئے بے صبری سے انتظار کرتا رہا۔ یا ایسا بھی ہو سکتا ہے ڈونا گرفتھ خو د شما ر کر گئی ہو مگر پھر اس کا کو ئی یقین کیوں کرتا۔ اس کا ساتھ ضرور کو ئی” ما ئی کا لعل” ہی ہو گا جو وہ چھینک پہ چھینک شما ر کر تا رہا اور اسے ریکارڈ کر تا رہا۔
چھینک کی رفتار بہت تیز ہو تی ہے۔ ارم چیئیرمیڈیکل سائینس کے مطابق چھینک سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نکلتی ہے۔ اور اس سے نکلنا والا مواد تیس فٹ تک تک جا سکتا ہے۔ یعنی اپ کہہ سکتے ہے دنیا کرکٹ کے تیز ترین با ولر شعیب اختر کی اب تک کی تیز ترین گیند ایک چھینک کے رفتار کے برابر تھی۔۔۔۔
چھینک کا عمل ایک دباؤ والا عمل ہے جو پھیپھڑوں سے شروع ہو کر جس سے سینہ پر دباؤ پڑ جاتا ہے ، زبان منہ کی اوپری سطح کو چھو جا تی ہے، دباؤ پیدا ہو کر سانس کے ذریعے مضر یا نا پسندیدہ مواد کو با ہر نکال دیا جاتا ہے اور چھینک کا عمل مکمل ہو پا تا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطا بق تقریبا ایک لاکھ خوردبینی جا ندار ایک چھینک کے ذریعے با ہر کو نکال دیئے جا تے جاتے ہیں۔ اس لیئے چھینک مارے وقت منہ کے آگے ہاتھ رکھنے چا ہیئے تاکہ مضر اثرات سے سامنے بیٹھے لوگ متا ثر نہ ہو۔
تبھی تو ہمارے دین عظیم نے ہمیں سکھا یا ہے کہ جب کو ئی مسلمان چھینکے تو وہ اﷲ کا شکر ادا کرے ، یعنی الحمد ﷲ کہے اور کو ئی سنے تو جواب میں اپنے بھا ئی کے لیئے اﷲ کا رحم مانگے ، اور چھینک والا بندہ اپنے بھا ئی کے لیئے جزا خیر مانگے۔۔۔۔ کیو نکہ بجا طور پر یہ ایک شکر ادا کر نے والا عمل ہے جو اﷲ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے ۔ ایک چھینک جسے ہم معمو لی جان کر نظر انداز کر دیتے ہیں، اس میں اﷲ تعالیٰ کی کتنی حکمت پو شیدہ ہے۔ اس لیئے ہمیں ہر حال میں اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لا نا چاہیئے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close