ڈینگو بخار- تحفظ اور تدارک

256

حکیم وسیم احمد اعظمی

      ہندوستان ایک بڑے طول وعرض اور زیادہ آبادی والا ملک ہے، اس ملک میں کہیں نہ کہیں گرمی، سردی اور برسات کا موسم رہتا ہے، پہلے تو اس کا بہت واضح احساس نہیں ہوتا تھا، لیکن گلوبل وارمنگ نے موسموں کے مزاج میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں، جس کی وجہ سے آئے دن نئی نئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اور پہلے سے موجود بیماریوں کی شدت اور شرح اموات میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ کچھ بیماریاں طرز ِ زندگی میں غیر معمولی تغیرات کی وجہ پیدا ہوئی اوربڑھی ہیں اور جن کی وجہ سے جسم کی قوت ِ مناعت [immunity power]پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ قوت ِ مناعت کے کمزور ہونے سے جراثیم اورفیروس[Bacteriaاور Virus] کے چھوٹے سے چھو ٹے حملے بھی بہت بڑے، خطر ناک اور مہلک ثابت ہورہے ہیں۔ قوت ِ مناعت کی کمزوری کی وجہ سے ہی آج انسفلائیٹس، چکن گونیا اور ڈینگو بخار کی قہر سامانیاں بڑھ گئی ہیں اور ان سے تحٖفظ وتدارک میں محکمۂ صحت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آج یہ تینوں بیماریاں ہندوستان کے کئی صوبوں میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

      آج محکمۂ صحت ان سے تحفظ اور ان کے تدارک کے لیے کئی محاذ پر جدوجہد کررہا ہے، علاج معالجہ سے لے کر کلینکل ریسرچ تک پر۔ اس پر ریسرچ کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے ہونے والی اموات کے صحیح اعداد وشمار کو گورنمنٹ ایجنسیاں نہ صرف چھپا رہی ہیں، بلکہ غلط اعداد وشمار پیش کرکے ان بیماریوں سے تحفظ اور ان کے تدارک کی تحقیقی مہم کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یہاں ہم بطور مثال صرف لکھنؤ کو پیش کرتے ہیں۔ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں میں ڈینگو بخار سے مرنے والوں کی تعداد کئی درجن تک پہنچ گئی ہے، لیکن لکھنؤ کے چیف میڈیکل آفیسر صرف چند اموات کا اعتراف کرتے ہیں، جب کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں چیف میڈیکل آفیسر کی جانب سے مرنے والوں کے غلط اعداد وشمار دیئے جانے پر شدید تنقید ہورہی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ کسی بیماری سے ہلاکتوں کے اعدادوشمار چھپا کر اس پر قابو نہیں پایا جاسکتا، بلکہ ان ہلاکتوں کے صحیح اعدادوشمار طبّی محققین تک پہنچنے چاہئیں، تاکہ وہ ان کے تحفظ اور انسداد کو اپنی تحقیقی ترجیحات میں رکھیں اوراس پر کئی کئی زاویوں سے غور کریں۔ یہاں یہ واضح کردیں کہ تحقیق، صرف نتیجہ دیتی ہے، اسے اس سے سروکار نہیں کہ نتیجہ مثبت ہے یا منفی، تحقیق میں منفی نتیجے کی بھی بڑی اہمیت ہے، اس سے نیا لائحۂ تحقیق بنانے کاراستہ کھلتا ہے اور نئے زاویے سے تحقیق کا آغاز ہوتا ہے اور کامیابی کی شاہراہ نکلتی ہے۔ اسی لیے بیماریوں کی وقوع ُپذیری اور ان سے ہونے والی اموات کے اعدادوشمار سے چھیڑ چھاڑ نہ صرف سماجی طور پر غلط ہے، بلکہ طبّی اخلاقیات کے بھی منافی ہے۔

     آج کی ہماری بات صرف ڈینگو بخارسے تحفظ اور اس کے تدارک تک محدود رہے گی۔ ہندوستان میں ڈینگو بخار  [حمیٰ دنج۔ [Dengue fever  کا پہلا مریض  1956ء میں کرناٹک کے ضلع ویلور میں پایا گیا تھا۔ اُسے صرف DF[[Dengue fever تھا، لیکن 1963ء میں کلکتہ میں اس کے بہت مریض ملے، جن میں DFکی پیچیدگی کے طور پر DHFیعنی ڈینگوبخار جریانی[حمیٰ دنج نزفی – Dengue Haemorrhagic fever]کی علامتیں پائی گئیں، جو 30فیصد مریضوں میں تھیں۔ 2007ء میں تو اس بیماری نے ہندوستان کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرۂ اثر میں لے لیاتھا اور آندھرا پردیش، اتر پردیش، دہلی، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، پانڈیچری، گوا، گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، کیرالا، مغربی بنگال، تمل ناڈو، راجستھان اور مدھیہ پردیش اس بیماری سے بہت شدت سے متأثر ہوئے تھے۔

      ڈینگوبخار [حمیٰ دنج۔ [Dengue fever  مادہ ایڈیلس مچھر[ فیمیل ایڈ یس ایجپٹی موسکیٹوز [ Female Aedes aegypti mosquito-  کے ذریعہ صحت مند انسان تک پہنچتا ہے، چنانچہ اس وائرس کی زندگی دو ادوار[Lifec ycles]میں مکمل ہوتی ہے، ایک تو اس مخصوص مچھر میں، دوسرے انسان میں، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جب مچھر مریض انسان کا خون چوستا ہے تو خون کے ساتھ اس بخار کے مخصوص وائرس مچھر کے شکم میں چلے جاتے ہیں اور وہاں اپنی  زندگی کا دور [Life cycle]پوری کرتے ہیں اور جب یہ سرایت زدہ[Infected]مچھر صحت مند انسان کو کاٹتا ہے تو یہ وائرس اس میں منتقل ہوتے ہیں اور مرض کی علامتیں ظاہر کرتے ہیں۔

 مدت ِ حضانت[Incubation Period]:

     سرایت [Infetion] کے 5سے 9دن۔

علامات:

    سرایت [Infetion]کے 5-9دن بعدڈینگو بخار[حمیٰ دنج]کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں، ابتداء میں طبیعت مضمحل اور کسل مند ہوتی ہے، کام کاج میں جی نہیں لگتا، کبھی کبھی انگلیوں اور ہاتھ پیروں میں معمولی درد ہوتا ہے اور کبھی معمولی تکان محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد یک بیک تیز بخار ہوجاتا ہے اور جسمانی درجۂ حرارت 104سے 106  ڈگری فارن ہیٹ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے۔ کبھی اس کے ساتھ لرزہ [کپکپی]بھی ہوتا ہے، مفاصل[Joints] اور عضلات[ Muscles] میں شدید درد ہوتا ہے، نبض سریع[تیز] چلتی ہے، زبان میلی اوراس پر فر جمی ہوتی ہے، قبض ہوتا ہے، بھوک ختم ہوجاتی ہے، متلی اور قے کی شکایت ہوتی ہے، سر، آنکھوں، گردن اور کمر میں درد ہوتا ہے —- سر کا درد عام طور سے پچھلی جانب محسوس ہوتا ہے، حدقۂ چشم[ Eyee ball] میں بھی درد ہوتا ہے، درد کی نوعیت حداری[Rheumatic type] ہوتی ہے، کمر اور کولہوں کے درد کی وجہ سے بعض اوقات لیٹنا دشوار ہوجاتا ہے، ہاتھ اوراگر مبتلائے درد ہوجائیں تو انگلیوں تک کی حرکت دشوار اور تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ چھوٹے بڑے تمام جوڑ درد ناک اور تکلیف دہ ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی جوڑ متور م [سوج ] کے سرخ ہوجاتے ہیں۔ شدید بخار کی وجہ سے رات کو ہذیان [بک جھک] بھی ہوسکتا ہے، پیشاب غلیظ اور سرخ خارج ہوتا ہے۔ چہرہ اور آنکھیں سرخ ہوتی ہیں، جلد[Skin]کی رنگت کسی قدر سرخ ہوجاتی ہے اور اس پر خشخاش کے دانوں کی مانند دانے نکل آتے ہیں، آنکھوں سے پانی آتا ہے، تنفس میں بھی سرعت ہوتی ہے۔ شدید صورتوں میں پردۂ مخاطیہ سے جریان ِ خون بھی ہوتا ہے، بعض اوقات قے کے ساتھ خون بھی آتا ہے۔ 3-4دن بعد جسمانی درجۂ حرارت میں کمی آنے لگتی ہے اور خشخاشی دانے غائب ہونے لگتے ہیں پھر بخار بالکل ختم ہوجاتا ہے، لیکن دوسرے، تیسرے دن بخار پھر چڑھتا ہے اور یہی علامتیں دوبارہ رونما ہوتی ہیں۔ خشخاشی دانوں کا سائز کسی قدر بڑھ جاتا ہے، بعض اوقات اس میں آبلے بھی پڑھ جاتے ہیں، کبھی کبھی ناک، منھ، حلق ورم پیدا ہوجاتا ہے۔ غدد لمفاویہ[Lymphatic glands]بھی بڑھ جاتے ہیں، اس کے بعد بخار ختم ہوجاتا ہے۔ کبھی تیسری، چوتھی بار بھی مرض کا حملہ ہوتا ہے، لیکن عام طور سے دوسری مرتبہ کے بعد جسم میں قوت ِ مناعت[Immunity power]پیدا ہوجاتی ہے۔ تاہم اس عرصہ میں مریض بہت کمزور ہوجاتا ہے، خون میں کرویات ِ بیضاء دم[W.B.C.]اور پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ اگر پلیٹ لیٹس کی تعدا د چالیس ہزار سے بھی کم ہوجائے تو تشویش کی بات ہے۔ مرض کی تشخیص میں عام طور سے کوئی دشواری پیش نہیں آتی، کیوں کہ مریض کے خون کے خرد بینی معائنہ میں اس بیماری کے مخصوص وائرس پائے جاتے ہیں۔

تحفظی تدابیر:

      صفائی پر توجہ دیں، اپنے آس پاس پانی نہ جمع ہونے دیں، دھیان دیں کہ برسات کے موسم میں عام طور سے پانی پلاسٹک کی بوتلوں، ڈبوں، چائے اور کافی کے کپ وغیرہ میں جمع ہوجاتا ہے اور ڈینگو بخار کے مچھروں کی افزائش ِ نسل کا سبب بنتا ہے۔ ناریل پانی پینے کے بعد عام طور سے لوگ اس کے پھل کو اِدھر اُدھر پھینک دیتے ہیں، ان میں بھی مچھر انڈے دے کر اپنی نسل اور انسانوں کی مشکلیں بڑھاتے ہیں۔ تعمیراتی جگہوں پر بھی ان کی نسل بڑھانے کے امکانات بہت ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان جگہوں کی صفائی رکھیں۔

      لازمی طور پر مچھر دانی استعمال کریں۔

     سارے بدن کو پوشیدہ رکھنے والے لباس پہنیں، تاکہ مچھروں کے کاٹے سے محفوظ رہیں۔

     مچھر مارنے، ان کو بھگانے کی تدابیر کریں۔

      یاد رکھیں ! عام خیال ہے کہ یہ مچھر صرف دن کے اُجالے میں کاٹنے ہیں، لیکن اب تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ رات میں بھی کا ٹ سکتے ہیں۔

 اصول ِ علاج:

     آرام بستری کی ہدایت کریں۔

     وبائی امراض کا اصول ِ علاج اپنائیں۔

     جسمانی درجۂ حرارت کو اعتدال پر لانے کی تدابیر کریں۔

      جسم میں بے آبیDehydration]] نہ ہونے دیں۔

     درد ختم کرنے کی تدابیر کریں۔

    مبردات استعمال کریں۔

    ضعف کی صورت میں مقوی دوائیں استعمال کرائیں۔

علاج:

     جسمانی حرارت کم کرنے کے لیے:

      حب ِ اکسیر ِ بخار500ملی گرام دن میں 3بار[صبح، دوپہر، شام] تازہ پانی کے ساتھ کھلائیں۔

       شربت خاکسی25-50ملی لیٹر صبح، شام پلائیں۔

       گلوء خشک، طباشیر، تخم خرفہ سیاہ، ہر ایک برابر وزن میں لے کر باریک کریں 500ملی گرام کی ٹکیہ بنائیں اور2-2ٹکیہ شربت خاکسی25ملی لیٹر کے ساتھ صبح شام کھلائیں۔

      تمر ہندی[املی] 35گرام، آلو بخارا7عدد، دونوں کو250ملی لیٹر پانی میں بھگو دیں اور 24گھنٹے بعد اس کا زلال حاصل کریں، اس میں عرق مکو، عرق بید سادہ،

 عرق شاہترہ، ہر ایک 60ملی لیٹر میں تخم کاسنی، مغز تخم کدو، ہر ایک 6گرام، بہدانہ3گرام کا شیرہ نکال کر شربت بنفشہ 25ملی لیٹر ملا کر پلائیں۔

    آلو بخارا11عدد کو عرق شاہترہ، عرق کاسنی، ہر ایک75ملی لیٹر میں بھگو کر مل چھان لیں اور لعاب ِ اسبغول6گرام، پانی میں نکال کر شربت نیلوفر ملا کر، اوپر سے خاکسی 5گرام چھڑک کر پلائیں۔

    ہڈی، عضلات اور ہڈی میں درد کی صورت میں :

    پوست ہلیلہ، صبر زرد، مصطگی رومی، زنجبیل، ہر ایک12گرام، برگ سناء مکی، ست ِ گلو، ہر ایک6گرام، تمام دواؤں کو حسب ِ ضرورت باریک پیس کر روغن ِ بادام سے چرب کرکے گولیاں بنائیں اور5-7گرام، گرم پانی کے ساتھ شام کو کھلائیں۔

     افسنتین، چرائتہ، کاسنی، گاؤزباں، نانخواہ، پوست درخت نیم، سعد کوفی، ہر ایک برابر برابر ملا کر جوشاندہ بناکر پلائیں۔

   بخار، کمزوری اور ضعف ِجگر کی صورت میں :

     شربت خاکسی25ملی لیٹر، خمیرہ مروارید5ملی گرام، معجون دبید الورد5ملی گرام صبح شام استعمال کرائیں۔

    خمیرہ گاؤزبان عنبری6گرام کھلائیں۔

     نیند لانے کے لیے:

     تخم کاہو، تخم خرپزہ، مغز بادام، خشخاش سفید، مغز تخم کدوئے شیریں، ہر ایک25گرام پیس کر ٹکیہ بنا کر تالو پر رکھوائیں۔

     پلیٹ لیٹس کی تعداد بڑھانے کے لیے پپیتہ کی جڑ اور اس کے پتے کا پانی تجربہ میں مفید پایا گیا ہے۔

     ناریل پانی پلائیں۔

      اگر جانچ میں پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو یا وعوارض کا اندیشہ ہوتو فوراً مریض کو سرکاری اسپتال ریفر کردیں۔

      آج اسپتالوں میں پلیٹ لیٹس کابڑا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے، تیمار دار خون عطیہ کررہے ہیں، جن سے پلیٹ لیٹس علاحدہ کر کے جمع کیا جارہا ہے، اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ بلڈ بینکوں میں ا نہیں رکھنے کی بھی جگہ نہیں ہے، اب پلیٹ لیٹس آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے، اس لیے زیادہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تحفظ کے طور پر آس پاس صفائی رکھیں، پانی نہ جمع ہونے دیں، مچھر مارنے کی تدبیریں کریں، مریض کا علاج بھر پور توجہ سے کریں۔ اسپتال کے ذمہ داروں کو بھی چائیے کہ اموات کا ڈاٹا بالکل صحیح دیں، علامات اورعو ارض[پیچیدگیوں] کے بارے میں بھی محکمۂ صحت کو از خود رپورٹ کریں، تاکہ مزید تحقیق کرکے اس بیماری کا قلع قمع کیا جاسکے۔

تبصرے