گاجر کی طبی افادیت

0

ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ)

گاجر(Carrot) ساری دنیا میں ایک مقبول عام سبزی ہے جو تقریباً پوری دنیا میں استعمال ہوتی ہے۔ گاجر کی جڑاور اس کی ہری پتیاں اعلی غذائیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ وٹامنز، منرلس اور پروٹین کی حامل ہوتی ہیں۔ انتہائی سستی، مفید اور بآسانی دستیاب ہونے کے باوجودمحض عدم واقفیت کے باعث لوگ اس کا استعمال نسبتاً کم کرتے ہیں۔

گاجر کی بے شمار اقسام ملتی ہیں لیکن عام طور سے اس کی درج ذیل تین اقسام غذا وداو کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

۱۔ جنگلی گاجر : یہ جسامت میں بڑی رنگت میں سیاہ، بیگنی، بسا اوقات سفید اور ذائقہ میں پھیکی ہوتی ہے۔

۲۔ دیسی گاجر : یہ بھی جنگلی گاجر کی طرح سیاہ،بیگنی یا پھر سفید لیکن ذائقے میں شیریں ہوتی ہے۔

 ۳۔ ولایتی گاجر: جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے، اپنے ظاہری حسن و جمال کی وجہ سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کی رنگت گلابی یا زرد ہوتی ہے۔ ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ ظاہری سطح چکنی اور شکل محبوب کی انگلیوں کی مانند مخروطی ہوتی ہے لیکن اس میں ریشے Fibresنسبتا کم ہوتے ہیں۔

ابتداء میں گاجر مرکزی ایشیاء کے پنجاب اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہوتی تھی اور وہیں سے یہ ایشیاء،یوروپ اور شمالی افریقہ تک پہنچی۔ آج یہ ہند و پاک، ملیشیاء،انڈونیشیاء،فلپائن،مرکزی،مشرقی اور مغربی افریقہ اور امریکہ وغیرہ ممالک میں بھی خوب پیدا ہوتی ہے اور بطور سبزی ہر جگہ استعمال ہوتی ہے۔

 زیر نظر مضمون میں گاجرکی طبی افادیت کا جائزہ مقصود ہے۔ گاجر کو مختلف صورتوں (جیسے کچی گاجر،گاجر کی سبزی، گاجر کا حلوہ، گاجر کا اچار، گاجر کا مربی، گاجر کا جوس یا پھراس کا سوپ )میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن دوا کے طور پر عموما ًاس کا جوس یا پھر اس کے بیج کا سفوف اور جوشاندہ مستعمل ہو تا ہے۔ اس کا عرق ’’عرق گذر‘‘ کے نام سے بازار میں دستیاب ہوتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کا تازہ جوس گھر پر نکال کر استعمال کیا جائے۔ اس کے بیج مختلف مرکبات میں شامل ہوتے ہیں جیسے جوارش زرعونی اور لبوب کبیر وغیرہ۔

گاجر کا مزاج گرم تر ہوتا ہے۔ اس لئے سرد خشک مزاج والوں کے لئے زیادہ مفیدہوتا۔ ہے اس کی جڑاورپتے عموماًبطور غذاجبکہ بیج بطوردوا استعمال ہوتے ہیں۔ غذائی لحاظ سے گاجر وٹامن اے کا سب سے اہم ذریعہ ہے اس لئے کہ Betacarotineسب سے زیادہ گاجر میں پائی جاتی ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ذخیرہ کے طور پر جسم میں موجود رہتی ہے۔ اس لئے ان تمام امراض  میں جو وٹامن اے کی کمی سے ہوتے ہیں، گاجر کا استعمال انتہائی مفید ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گاجر میں سوڈیم، سلفر،، کلورین اور معمولی مقدار میں آیوڈین اور کچھ Minearals بھی ملتے ہیں جن کا جلد کی نشو ونما میں اہم رول ہوتا ہے بشرطیکہ انہیں چھیلا یا ابالا نہ جائے۔ گاجر کے اند ر Alkaline Elements بھی بڑی مقدار میں ملتے ہیں جو خون کی صفائی و تقویت میں مدد دیتے ہیں۔ یہ تمام جسم کے نظام تغذیہ کو قوی کرنے کے ساتھ ہی جسم کے Acid Base Balanceکو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

گاجر کا بیج تیسرے درجے میں گرم خشک ہوتا ہے۔ یہ مدر اور مقوی باہ ہوتا ہے۔ رحم کو فضول مواد سے صاف کرکے حیض جاری کرتا ہے لیکن دوران حمل استعمال کرنے سے اسقاط حمل کا خطرہ ہوتا ہے۔ استسقاء کو دور کرتا اور گردہ و مثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔ اس کا سفوف یا جوشاندہ احتباس بول و حیض، عسر بول،حرقۃ البول،حصاۃ البول و مثانہ اور ضعف باہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

گاجر معدہ اور جگرکو تقویت دیتی، لطافت پیدا کرتی اور جگر، معدہ اور طحال کے سدے کھولنے کے ساتھ ہی استسقاء میں بھی مفید ہے۔ پیشاب کھل کر لاتی اور مثانہ کی پتھری کو توڑنے میں مدد کرتی ہے۔ بلغم نکالنے کے ساتھ ہی کھانسی اور درد سینہ میں مفید ہے۔ اس کے کھانے سے پیاس کم لگتی ہے۔ اس کاجوس خفقان گرم کو نافع ہے۔ جس کے معدہ میں بلغم لزج اوررطوبت کی وجہ سے ضعف ہو، اسے قوت دیتی ہے۔ گاجر کا اچار سرکہ کے ساتھ کھانے سے معدہ و جگر کی تقویت کے ساتھ ورم طحال کو تحلیل کرتا ہے۔ کچی گاجر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ گاجر کو پیس کر  جلے ہوئے مقام پرلیپ کرنے سے سوزش اور جلن کم ہو جاتی ہے۔ اس کا عرق نکال کر دو تین بوند کان اور ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں آکردرد شقیقہ دور ہو جاتا ہے۔ گاجر کامربی سریع الھضم ہے اور استسقاء میں انتہائی مفیدہے اور اگر اسے شہد میں تیار کیا جائے تو بہترین مقوی باہ ہے اور منی کو گاڑھا کرتی ہے۔ گاجر کا مربہ ضعف قلب،خفقان،ضعف بصر، ضعف باہ، عام جسمانی کمزوری میں مستعمل ہے

گاجر کے جوس کو معجزاتی جوس(Miracle Juice)بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بچوں اور بڑوں دونوں کی صحت کو یکساں طور پر مفید و مقوی ہے۔ یہ آنکھ کو تقویت دینے کے ساتھ ہی جسم کی تمام غشاء مخاطی کو صحت مند بناتا ہے۔ یہ خشک اور کھردری جلد کے علاج میں انتہائی مفید ہے۔ البتہ گاجر کے بیج دوران حمل مضر ثابت ہوتے ہیں اس لئے کہ اس کی وجہ سے رحم کی دیواروں میں سمیت کا اندیشہ ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں اسقاط حمل بھی ہو سکتا ہے۔

کھانا کھانے کے بعد کچی گاجر کھانے سے منہ کے اندر موجود تمام جراثیم مر جاتے ہیں۔ یہ دانت کی صفائی کے ساتھ تمام غذائی ذرات (جو دانتوں کے رخنوں میں رہ جاتے ہیں )کو صاف کر دیتے ہیں۔ اس کے مستقل استعمال سے مسوڑھوں سے خون آنے ( Bleeding)اورTooth Decay کی شکایات دور ہو جاتی ہیں۔

کچی گاجر چبانے سے لعاب دہن کی زیادتی کے ساتھ معدہ میں بنیادی خمیرات(Enzymes)، معدنیات (Minerals)اور وٹامنز کی سپلائی بڑھ جاتی ہے جس سے ہاضمہ میں مدد ملتی ہے۔

گاجر کا سوپ دست (Diarrhea) میں ایک گھریلو دوا کے طور پر انتہائی مفید ہے۔ یہ اسہال میں رطوبات کی کمی( Fluid Loss)کو دور کرنے کے ساتھ ہی سوڈیم،پوٹیشیم،فاسفورس،کیلشیم،سلفر اور میگنیشیم جیسے بنیادی اجزاء کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے۔ مزید برآں یہ Pectin  کے حصول کا اہم ذریعہ ہے جو امعاء کے اوپر ایک تہ (Coat) بنا کر انہیں التہاب(Inflammation  ) سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ جراثیم کی نشو ونما کو روکنے کے ساتھ ہی قئے کو بھی بند کرتا ہے خصوصا بچوں میں اس کا استعمال بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ گاجر کا سوپ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ نصف کلو گاجر ۱۵۰ ملی لٹر پانی میں اس قدر پکایا جائے کہ وہ بالکل گل جائے پھر اس نرم ملائم گاجر کو مل دیا جائے اوراس میں ٹیبل اسپون سے ایک تہائی چمچ نمک ملا دیا جائے۔ اب یہی سوپ تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہر آدھا گھنٹہ پر مریض کو دیا جائے۔ ۲۴ گھنٹے کے اندر مریض کو افاقہ ہو جائے گا۔

چیچک کی صورت میں بچے کو گاجر کا سوپ اوردھنیا ( Coriender )کا سوپ ملا کر پلانا چاہیئے۔ تقریبا ۱۰۰ گرام گاجر اور ۶۰گرام Coriender چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کراس کا سوپ بنا لیا جائے اور روزآنہ بچے کو پلایا جائے۔

کچی گاجر قوت مردانگی (Fertility)میں اضافہ کے لئے ایک بہترین غذا ہے اور نامردی یا کمزوری(Sterlity)کی شکایت عموما اس کے استعمال سے دور ہو جاتی ہے۔ نامردی یا کمزوری کی عام وجہ جو مشاہدہ میں آتی ہے وہ دراصل غذا ئی بے اعتدالی یا ان Enzymesکی کمی ہوتی ہے جو عموما سبزیوں کو ابالنے یا پکانے کے نتیجہ میں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے گاجر یا اس طرح کی دیگر سبزیوں کو کچا ہی استعمال کرنا چاہیئے تاکہ ان کے تمام غذائی اجزاء، Mineralsاور Enzymesبحفاظت جسم میں پہنچ سکیں۔

نامردی کی صورت میں گاجر بہترین مقوی باہ ہے۔ ۱۵۰ گرام گاجر اچھی طرح باریک کاٹ کر(Chopped)ایک نیم برشٹ انڈا اور ایک چمچ شہد کے ساتھ روزآنہ استعمال کرنے سے ایک سے دو ماہ کے اندر نامردی(Impotency) دور ہو کر مردانہ قوت بحال ہو جاتی ہے۔

اس کا جوس مختلف امراض میں تنہا یا پھر دیگر کسی جوس میں ملا کر حسب ذیل مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

۱۔ تنہا گاجر کا جوس ۵۰۰ ملی لیٹر۔

۲۔ گاجر کا جوس ۳۰۰ ملی لیٹر +پالک کا جوس ۲۰۰ ملی لیٹر۔

۳۔ گاجر کا جوس ۳۰۰ ملی لیٹر +چقندر کا جوس ۱۰۰ ملی لیٹر + کھیرا کا جوس ۱۰۰ ملی لیٹر۔

گاجر کے مستقل استعمال سے Gastric Ulcerاور معدہ کی دیگر شکایات نہیں ہوتیں۔ گاجر کا جوس بہت سے امراض معدہ و امعاء جیسے درد معدہ(Intestinal Colic)،قولنج،ورم زائدہ اعور،زخم معدہ(Peptic Ulcer) اور بھوک کی کمی وغیرہ کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ گاجر جسم کے اندر Acid Base Balance کو متوازن رکھنے کے لئے سب سے بہترین غذاہے۔ مذکورہ تمام امراض میں گاجر کا جوس مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں دیا جا سکتا ہے۔

گاجر کا جوس اگر پالک کے جوس اور عرق لیموں کے ہمراہ استعمال کیا جائے تو قبض کے علاج میں انتہائی مفید ہے۔ اس لئے کہ گاجر اور پالک دونوں آنتوں (Bowell)کی صفائی میں انتہائی اہم ہیں لیکن مزمن قبض کی صورت میں فوری طور پراس کا اثر نہیں ہوتا بلکہ مستقل استعمال سے ایک سے دو مہینہ میں ہاضمہ درست ہو کر آنتوں کی صفائی ہونے لگتی ہے اور قبض کی شکایت بالکل دورہو جاتی ہے۔ ۲۵۰ ملی لیٹر گاجر کے جوس میں ۵۰ ملی لیٹر پالک کا جوس ملا کر مذکورہ مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کے پیٹ میں کیڑوں (Intestinal Worms) خصوصا Thread Wormsکے لئے گاجر کا جوس انتہائی مفید ہے۔ ایک کپ گاجر کا جوس صبح نہار منہ روزآنہ بچے کو پلایا جائے اور اس کے بعد کھانے تک کوئی اورغذا نہ دی جائے تو چند روز میں ہی پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح Ring Wormکی صورت میں بھی گاجر اور پالک کا جوس مفید ہوتا ہے۔

Sinusitisمیں گاجر کا جوس انتہائی مفید ہے۔ اس مقصد کے لئے تنہا گاجر یا پھر اس کے ساتھ پالک یا پھر چقندراورکھیرا کا جوس مذکورہ مقدار میں ملا کر پینا مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ بالا توازن کے ساتھ گاجر کا جوس ورم لوذتین(Tonsilitis) میں بھی انتہائی مفیدہوتا ہے۔ اسی طرح تنہا گاجر یا مذکورہ بالا توازن کے ساتھ گاجر کا جوس تمام قسم کی حساسیت(Allergies)میں بھی انتہائی مفید ہے۔

ورم زائدہ اعور کی صورت میں بھی گاجر کا جوس تنہا ۵۰۰ ملی لیٹر یا پھر مذکورہ بالا طریقہ سے ملا کر بھی روزآنہ دو بار استعمال کرنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

آنکھ کے امراض میں جو عموماًوٹامن اے کی کمی سے ہوتے ہیں ان میں گاجر کا استعمال انتہائی مفید ہوتا ہے۔ موتیابند کے علاج میں گاجر انتہائی مفید ہوتا ہے۔ موتیا بند کے مریض کو روزآنہ زیادہ سے زیادہ کچی گاجر کا استعمال کرنا چاہیئے یا پھر گاجر کا جوس ایک گلاس صبح و شام استعمال کرنا چاہیئے۔

تلیف کبد(Cirrhosis of Liver)کی صورت میں تنہا گاجر کا جوس یا پھر گاجر اورپالک کا جوس یا پھر گاجر، چقندر اور کھیرا (Cucumber)کا جوس مذکورہ مقدار میں ملا کر پلانا مفید ہوتا ہے۔

آشوب چشم کی صورت میں بھی مذکورہ مقدار میں گاجر اور پالک کا جوس ملا کر پلانا مفید ہوتا ہے۔

Dyspepsiaکی صورت میں روزآنہ نصف گلا س گاجر کا جوس پینے سے یہ مرض دور ہو جاتا ہے اس لئے کہ گاجر مختلف وٹامنز اور Minerals کے ساتھ Enzymes بھی فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ہاضمہ کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے کچا استعمال کیا جائے تو  اس سے لعاب دہن میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس لئے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

Eczemaکی صورت میں گاجر اور پالک کا جوس مذکورہ مقدار میں روزآنہ پینا انتہائی مفید ہوتا ہے۔

Epilepsyکی صورت میں مذکرہ مقدار میں گاجر چقندر اور کھیرا کا جوس  روزآنہ پلانامفید ہوتا ہے۔

Goutکی صورت میں بھی مذکورہ مقدار میں گاجر،چقندر اور کھیرا کا جوس روزآنہ پلانا مفید ہوتا ہے۔

Hypertension کے مریض کو گاجر اور پالک کا جوس مذکورہ مقدار روزآنہ پلانا مفید ہوتا ہے اور اگر دونوں کو الگ الگ پینا چاہیں تو ایک صبح تو دوسرا شام کو استعمال کیا جائے۔

گاجر کے تخم سن یاس کے امراض ( Menopausal Disorders) خصوصاً تناؤ(Tension)میں بہت ہی مفید ہو تا ہے۔ چائے کے چمچ سے ایک چمچ تخم ایک گلاس گائے کے دودھ میں دس منٹ تک ابال کر روزآنہ پینے سے مذکورہ شکایت دور ہو سکتی ہے۔

Migraineکی صورت میں گاجر چقندر اورکھیرا کا جوس مذکورہ مقدارمیں روزآنہ استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔

Nephritisکی صورت میں ایک گلاس گاجر کے جوس میں ایک بڑا چمچ شہد اور ایک چمچ لائم جوس روزآنہ باسی منہ پلانا انتہائی مفید ہوتا ہے۔

Neuritis میں کچی گاجر بہت ہی مفید ہوتی ہے اس لئے کہ اس میں وہ تمام Elementsپائے جاتے ہیں جن کی کمی سے یہ مرض ہوتا ہے۔ فوری آرام کے لئے روزآنہ گاجر اور پالک کا جوس ملا کر پینا چاہیئے۔

نمونیہ میں گاجر اور پالک کا جوس یاپھر گاجر،چقندر اور کھیرا کا جوس ملا کر پلانا مفید ہوتا ہے۔

Prostate Disordersمیں صرف گاجر کا جوس ۵۰۰ ملی لیٹر یا پھر گاجر و پالک کا جوس متعینہ مقدار میں پینا سود مند ہوتا ہے۔

پائیریا کے مرض میں ۱۲۵ ملی لیٹر گاجر و ۱۲۵ ملی لیٹر پالک کا جوس روزآنہ کچھ کچی گاجر کے ساتھ استعمال کرنی چاہیئے۔

Varicose Viensکی صورت میں گاجر اور پالک کا جوس متعینہ مقدار میں استعمال کرنا انتہائی مفید ہو تا ہے۔

گاجرکا مزاج چونکہ حار رطب ہوتا ہے اس لئے گرم مزاج والوں کو اس کا استعما ل حسب ضرورت اور معتدل مقدار میں کرنا چاہیئے۔ مزید برآں یہ ثقیل اور دیر ہضم ہوتا ہے اس لئے بطور غذا ہر شخص کو اپنی قوت ہاضمہ کے مطابق اس کا استعمال کرنا چاہیئے۔ اگرقوت ہاضمہ قوی ہو تو گاجر کو ہمیشہ بغیر چھیلے یا ابالے کچی ہی استعمال کرنا چاہیئے تاکہ اس کے تمام اجزاء کی افادیت کا حصول ممکن ہو سکے۔ ہاں !  قوت ہاضمہ کمزور ہونے کی صورت میں یا پھر بطور دوا، اس کے تازہ جوس کااستعمال زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

تبصرے