صحت

ہر بچہ کا تحفظ اور ماں کا ہو احترام

دس میں سے آٹھ خواتین اسپتالوں میں بچے جننے لگی ہیں لیکن اب بھی ہر سال پچاس لاکھ عورتوں کے گھر پر ہی بچے پیدا ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

دنیا کے بیشتر ممالک ہر سال 13 مئی کو ’یوم مادر ‘یعنی’ماں کا دن‘ مناتے ہیں۔ اس موقع پر ماؤں کی بہتر زندگی اور بچوں کے تحفظ کا عہد کیا جاتا ہے۔ کیوں نہ کیا جائے، بچہ ایک عورت کو ماں کا درجہ دلاتا اور ماں افزائش نسل کا سبب بنتی ہے۔ اس سال یونیسیف نے مدرس ڈے 128 ممالک میں ایوری چائلڈ الائیو’ ہر بچہ با حیات‘ مہم کے پس منظر میں منایا۔ بھارت میں بچوں کی اموات کو کم کرنے، حمل، زچگی اور بچوں کی ولادت کے تئیں بیداری پیدا کرنے کیلئے انڈیا ہبیٹیٹ سینٹر میں پینل ڈسکشن کا انعقاد کیاگیا۔

اس موقع پر مشہور اداکارہ اور یونیسیف کی خیر سگالی سفیر کرینا کپور نے کہا کہ ماں بننے والی عورت کو دو مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک حمل ٹھہرنے سے بچہ کی ولادت تک، دوسرا پیدائش کے بعد۔ حاملہ عورت کو معیاری طبی سہولت، اچھے ڈاکٹر اور نرسوں کے ذریعے فراہم ہو، یہ خاص دیکھ بھال کچھ ایک کیلئے نہیں بلکہ ہر ایک ماں و بچے کو، لڑکا ہو یا لڑکی، کہیں بھی رہتے ہوں سب کو مہیا کرانے کی ضرورت ہے۔ حمل و نوزائیدہ کی ولادت کے دوران محفوظ ہاتھوں کی سپورٹ ہر ماں و بچی کا حق ہے۔ انہوں نے صنفی مساوات اور معیار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بچیوں کی دیکھ بھال بھی اسی طرح کرنی چاہئے جیسی بچوں کی کرتے ہیں۔ اگر بچی بیمار ہو جائے تو اس کی ایسے ہی فوراً مدد کرو جیسے کہ بچے کیلئے کرتے ہیں۔ کرینا کپور نے اپنی گفتگو میں کہا کہ میں خود ان دور دراز کے علاقوں کے گاؤں میں جانا چاہتی ہوں، جہاں بچے پیدا کرانے کی معقول سہولت نہیں ہے۔ حاملہ خواتین کی تکلیف، اسپتالوں میں سہولیات کی عدم موجودگی سے روبرو ہونا چاہتی ہوں۔ انہوں نے یہ تاثر ملکان گری اڑیسہ سے آئے ڈاکٹر اونکار ہوتا کی آپ بیتی سننے کے بعد دیا۔

ڈاکٹر اونکار ہوتا نے بتایا کہ نکسل واد سے متاثرہ ملکان گری کے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں بچے پیدا کرانے میں انہیں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ آدی واسی علاقہ ہے جہاں کے کنڈا ریڈی آدی واسیوں میں حاملہ عورت کو بچے کی پیدائش سے پہلے گوشالہ میں منتقل کرنے کی رسم ہے۔ اسے گوشالہ میں اپنے بچے کو خود ہی جننا پڑتا ہے۔ نال بھی اسے خود ہی کاٹنی ہوتی ہے۔ گھر کا کوئی شخص اسے نہیں چھوئے گا۔ اگر چھوئے گا تو ایک ہفتہ اسے گاؤں کے باہر رہنا پڑے گا، یہ رسم ہے۔ ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے بچہ جننے میں کئی عورتیں فوت ہو جاتی تھیں۔ حاملہ خواتین کو ہیلتھ سنٹر لانے کیلئے انہیں بڑی مشقت کرنی پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ سینٹر میں اسٹاف بھی نہیں ہے، وہ انکا اسسٹنٹ اور ایک اٹینڈنٹ ہے۔ کئی مرتبہ انہیں حاملہ خواتین کو اپنے اسسٹنٹ کی مدد سے چارپائی پر کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہیلتھ سنٹر لانا پڑا، اور ڈلیوری کرانی پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ مریض کو بھی انہیں خود ہی کھانا بنا کر کھلانا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ تو مریض کا پیشاب، پاخانہ تک ڈاکٹر ہوتا کو ہی صاف کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر اونکار ہوتا نے بتایا کہ یہاں پندرہ، پندرہ دن بجلی نہیں آتی۔ اسپتال میں ایک انورٹر ہے جسے وہ چارج کرکے رکھتے ہیں۔ جس کا استعمال مریض کے آنے پر کرتے ہیں۔ خود بغیر بجلی کے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تو اندھیرے میں گزارا کر لوں گا لیکن لیبر پین سے تڑپتی کوئی عورت رات میں آجائے تو اس کی ڈلیوری کرانے کیلئے بجلی زیادہ ضروری ہے۔ یہی سوچ کر انورٹر کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ہوتا نے بتایا کہ ان کے ملکان گری ہیلتھ سنٹر جانے کے بعد سے بچہ جننے میں کسی عورت یا بچہ کی جان نہیں گئی ہے۔

یونیسیف میں شعبہ صحت کے قائم مقام صدر ڈاکٹر گگن گپتا نے ایوری چائلڈ الائیو مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یونیسیف کی پوری توجہ’ہر بچہ با حیات‘ پر مرکوز ہے۔ اس مہم کے ذریعہ نوزائیدہ بچوں کی روکے جانے لائق اموات کا 2030 تک خاتمہ کرنا ہے۔ دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی قریب 1/5 اور نوزائیدہ کی لگ بھگ ایک چوتھائی اموات بھارت میں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی اموات میں کمی لانے کی سمت میں اچھی کوششیں ہوئی ہیں۔ 2015 کے مقابلے 2016 میں پانچ سال سے کم عمر کے قریب 120000 کم بچے مرے۔ اگرچہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کو کم کرنے اور بچوں کی زندگی میں صنفی امتیاز کے فاصلہ کو کم کرنے کیلئے اور کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر بچے کو زندگی کے پہلے گھنٹہ میں ماں کا دودھ ملے۔ اس معمولی کوشش سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں 22 فیصد تک کی کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماں کا دودھ صرف بچوں کی ہی حفاظت نہیں کرتا بلکہ یہ ماں بننے والی عورت کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ جو خواتین بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، وہ پستان اور رحم کے کینسر سے محفوظ رہتی ہیں۔ امیروں کے مقابلے غریب خاندانوں میں شیرخواروں کو ڈیڑھ گنا زیادہ دودھ پلایا جاتا ہے۔ وہیں اونچی آمدنی والے ملکوں میں ایک تخمینہ کے مطابق21 فیصد بچوں نے اپنی ماں کا دودھ کبھی پیا ہی نہیں، یہ تناسب کم اور اوسط آمدنی والے ملکوں میں چار فیصد ہے۔ ماں کا دودھ پلانے کی شرح میں اضافہ کیلئے بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوعمر لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی شرح میں 8 فیصد کی کمی آئی ہے لیکن پھر بھی نو عمر لڑکیاں حاملہ ہو رہی ہیں۔ نو عمری میں حاملہ ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔ پڑھی لکھی خواتین کے مقابلے ان پڑھ عورتوں کی بچہ کی پیدائش یا اس کے بعد موت کا امکان زیادہ ہو تا ہے۔ حاملہ خواتین کو عدم غذائیت یا خون کی کمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر گگن نے بتایا کہ دس میں سے آٹھ خواتین اسپتالوں میں بچے جننے لگی ہیں لیکن اب بھی ہر سال پچاس لاکھ عورتوں کے گھر پر ہی بچے پیدا ہوتے ہیں۔

مباحثہ میں فرنٹ لائن آشا ورکر اوما دیوی نے اپنے تجربات شیئر کئے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کسی عورت کے حاملہ ہونے کی خبر ملتی ہے، ہم اس کی جانچ کرواتے ہیں۔ حمل کے دوران خون، پیشاب، بلڈ پریشر، وزن کی برابر جانچ کرانی ہوتی ہے۔ کم ازکم چار بار اسپتال جانا چاہئے۔ پوسٹ نیٹل چیک اپ بھی ضروری ہے۔ خون کی کمی نہ ہو اس کیلئے فولک ایسڈ اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کیلئے کیلشیم کی گولیاں دی جاتی ہیں۔ حمل کی مدت میں کھان پان کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ڈلیوری اسپتال میں کرانے کی صلاح دیتے ہیں کیونکہ اسپتال میں ڈلیوری کرانے میں ان ہونی کا امکان کم ہوتا ہے۔ بچے کو پیدائش کے ایک گھنٹہ کے اندر ماں کا دودھ دینا چاہئے۔ چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ دینا چاہئے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں یہاں تک کہ پانی بھی نہیں۔ اوما دیوی نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد وہ بچے کا وزن کرتی ہیں، اسے چھو کر دیکھتی ہیں کہ وہ ٹھنڈہ یا پھر بہت زیادہ گرم تو نہیں ہو رہا، دودھ اچھی طرح پی رہا ہے یا نہیں، سانس لینے میں اسے کوئی دقت تو نہیں ہو رہی، آنکھ چیک کرنے سے پیلیئے کا پتا لگ جاتا ہے۔ نابھی دیکھتی ہیں کہ کہیں اس سے خون تو نہیں آرہا۔اسی طرح زچہ کا بھی پورا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کو ہمیشہ ہاتھ دھو کر چھونا چاہئے۔ انہوں نے بتایا جس بچہ کی ڈلیوری اسپتال میں ہوتی ہے اس کے گھر چھ اور گھر میں پیدا ہونے والے بچے کے گھر وہ سات وزٹ کرتی ہیں۔ اور معمول کے ٹیکوں سے بچے کے والدین کو واقف کراتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت پر ٹیکے لگنے سے بچہ صحت مند رہتا ہے۔

پینل ڈسکشن میں اس بات پر خاص طور سے توجہ دی گئی کہ حمل کے دوران عورت کو اس کے شوہر اور گھر والوں کے سپورٹ کی خاص طور پر ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی مدد سے زچگی کے ایام اور بچے کی دیکھ ریکھ میں آسانی ہو جاتی ہے۔ اس کی عملی مثال جگت پور ضلع ہاوڑہ مغربی بنگال کے شیخ محمد علی نے پیش کی۔ ان کی اہلیہ نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔ بچے کمزوری کی وجہ سے بیمار ہوگئے۔ اہلیہ کیلئے اکیلے انہیں سنبھالنا مشکل تھا۔ شیخ محمد علی نے بچوں کی دیکھ ریکھ میں اپنی اہلیہ کا ہاتھ بٹایا۔ اس کیلئے انہیں کام چھوڑنا پڑا۔ ان کی کوشش سے بچے بچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچہ ماں باپ کی ساجھا ذمہ داری ہے جسے مل کر پورا کرنا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر شوہر اپنی اہلیہ کا ساتھ دے اور گھر کے لوگ حاملہ خاتون کی حوصلہ افزائی اور مدد کریں تو پیدا ہونے والا ہر بچہ صحت مند اور گھر کے لوگ خوش رہیں گے۔

زچہ بچہ کی صحت پر گزشتہ کئی برسوں سے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم محفوظ زچگی مہم بھی شروع کی گئی۔ اس کے نتیجے میں زچہ بچہ کی اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔ کئی ریاستوں کا آئی ایم آر، ایم ایم آر اوسط مرکزی اوسط سے بھی کم ہے، لیکن ابھی بھی اس شعبہ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ملک کے کئی طبقے و علاقے کے لوگ اپنے دقیانوسی رسم ورواج کی وجہ سے ان سہولیات کا فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں یا پھر ہیلتھ سروسز ان کی رسائی سے دور ہیں۔ 24×7 ڈلیوری سینٹرس کی موجودگی کے باوجود بچوں کی ولادت اب بھی گھروں پر ہو رہی ہے۔ جبکہ ان سینٹرز میں حاملہ خواتین کو لانے اور ڈلیوری کے بعد گھر تک پہنچانے کیلئے فری ایمبولینس کا انتظام ہے۔ اتنا ہی نہیں دیہی خواتین کو زچگی کے دوران اچھے کھان پان کیلئے رقم بھی فراہم کی جاتی ہے۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکر، آشا، آنگن واڑی کارکن ماں اور بچے کی بہتر صحت کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ آنگن واڑی مراکز میں حاملہ خواتین کو پوسٹک کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ کوپوشن کے شکار بچوں کی دیکھ ریکھ کیلئے کوپوشن سینٹر کام کر رہے ہیں۔ ان میں مزدوری کرنے والی خواتین کی دہاڑی کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ جتنے دن وہ سینٹر میں رہتی ہیں، اتنے دن کی مزدوری کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ بچے کی زندگی ماں پر منحصر ہے، ماں کا احترام ہو اس معاملہ میں سرکار کے ساتھ سماج کو زیادہ کام کرنا پڑے گا کیونکہ آج کے بچے ہی کل کا مستقبل ہیں۔ ان کی اچھی صحت اور تحفظ ہماری ساجھا ذمہ داری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close