صحتماحولیات

ہوائی آلودگی سے کیسے بچا جائے

 شمیم ارشاد اعظمی

ماحولیاتی آلودگی سے متعلق طب یونانی میں کافی مواد پایا جاتا ہے۔ اس موضوع پر سب سے پہلے بقراط نے ’’ کتاب الاہویہ والمیاہ والبلدان ‘‘ کے نام سے ا یک اہم کتاب لکھی ہے۔ جالینوس نے اس کتاب کی تفسیر لکھی ہے اور اس کانام ’’ تفسیر کتاب الاہویہ و المیاہ والبلدان‘‘ رکھا۔ قسطا بن لو قا کی ’’ کتاب فی الوباء و اسبابہ‘‘، محمد بن زکریا رازی کی ’’ رسالہ فی المیاہ‘‘، ابو عبد اللہ تمیمی کی ’’ کتاب مادۃ البقاء باصلاح فساد الہواء والتحرز من ضر الاوباء‘‘ ، ابو سہل مسیحی کی ’’ کتاب فی الواباء (رسالۃ فی تحقیق امرالوباء والاحتراز منہ)‘‘، ابن سینا کی ’’ ارجوزۃ فی الطب فی معرفۃ الفصول الاربعۃ‘‘، ابو محمد عبد اللہ ابن ذہبی کا ’’ مقالۃ فی ان الماء لایغذو‘‘، عبد اللطیف بغدادی کا’’ مقالۃ فی الماء‘‘  وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

ان مآخذ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اطباء قدیم صرف پانی اور ہوا کی آلودگی سے ہی واقف نہیں تھے بلکہ انہیں اس کے روک تھام کی تدابیر بھی معلوم تھی۔ ہوا سے متعلق ا طباء  قدیم نے بڑی ہی تفصیلی بحث کی ہے۔ بالخصوص ہوا، ہوا کے اقسام، ماہیت ہوا، ہوا کی منفعت ومضرت، مختلف شہروں کی ہوائیں اور ان کی خصوصیات، مختلف موسموں کی ہوائیں اور جسم انسانی پران کے اثرات۔ اس مضمون میں صرف ہوا ئی آلودگی سے متعلق  اطباء قدیم کے نکات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ زندگی کے لئے ہوا ایک نہایت ہی اہم اور اولیں عنصر ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی بے معنی ہے۔ ہوا ہمارے ارد گرد پھیلی ہو ئی  ہے اس لئے اطباء کرام اسے ہواء محیط کہتے ہیں ۔

بقراط نے ہوا کے بارے میں لکھاہے۔

   ’’ اجسام کی پوشیدہ روح ہوا کو اپنی طرف ہمارے جسم میں جذب کرتی ہے۔ حقیقت میں ہوا جسم کی حالت کو بدلتی رہتی ہے۔ ہوا کبھی جسم کو سردی سے گرمی کی طرف۔ کبھی خشکی سے تری کی جانب، سرورو مسرت سے غم و اضمحلال کی جانب منتقل کرتی ہے۔ ہوا رکھی ہوئی اشیاء جیسے سینگ، گوشت، شراب، چربی وغیرہ میں تبدیلی کرتی رہتی ہے۔ کبھی گرم، کبھی ٹھنڈا، کبھی سخت، نرم کبھی خشک کرتی ہے۔ وجہ یہ ہے سورج، چاند، ستارے اپنی حرکت ورفتار سے ہوا میں تغیر جب پیدا کرتے ہیں تو اس سے تمام اشیاء عالم میں تغیر پیدا ہو تا ہے۔

ابن سینا اس سلسلہ میں رقمطراز ہے۔

’’ ہوا بدنی اعضاء اور ارواح کے لئے  عنصر ہے، اعضاء کی ساخت و تر کیب کے بنانے اور اور روح کا جزء ہو نے کے علاوہ یہ ایک مدد ہے جو روح تک مسلسل تنفس کے ذریعہ پہونچ کر اس کی اصلاح کا سبب بنتی رہتی ہے اس طرح سے کہ تنفس کی ہوا کی برودت سے روح کی بڑھی ہوئی حرارت کم ہو جاتی ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے تعدیل روح  کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ تعدیل سے دو افعا ل سے پو ری ہوتی ہے، ایک ترویح دوسرے تنقیہ۔ ‘‘

ابن سینا ہوا سے متعلق ایک اور نکتہ بیان کرتے ہیں ۔

’’ہوا جب تک معتدل اور صاف رہتی ہے اور اس کے ساتھ رو ح کے مزاج  کے مخا لف کو ئی چیز ملی ہو ئی نہیں ہو تی۔ اس وقت تک وہ صحت کی محافظ ہو تی ہے۔ اور جب یہ متغیر ہو جاتی ہے تو اس سے صحت کی حفاظت کا کام انجام نہیں پا تا ہے۔‘‘

ہوا کے بارے میں برہان الدین نفیس لکھتے ہیں ۔

  ’’ ہوا کی ضرورت دو اغراض کے لئے ہے۔   اول روح کی تعدیل کے لئے، دوسرے روح کے فضلات خارج کر نے کےلئے۔ پہلی غرض استنشاق سے یعنی اندر کی طرف سانس کھینچنے سے حاصل  ہوتی ہے  اور دوسری غرض سانس پھینکنے سے۔ ‘‘

 ماہیت ہوا آج سے ایک ہزار سال پہلے  ابو سہل مسیحی اور ابن سینا نے ہوا کے بارے میں اپنی رائے دی تھی کہ  دنیا میں ہوائے خالص کا کوئی وجود نہیں  بلکہ یہ ہوا مختلف قسم کی کیفیات کا مجموعہ اور بخارات کا مرکب ہے۔ لیکن اس کے با وجود بھی وہ ہوائیں جو صاف ستھری ہو تی ہیں ، ان میں کسی قسم کی کوئی عفونت نہیں ہو تی وہ جسم انسان کے لئے مفید ہے۔ہوائے خالص کے بارے میں ابو سہل مسیحی کا بیان ہے۔

  ’’ ہواء خالص( مجرد) کا وجودنہیں ہو تا بلکہ وہ مختلف بخارات سے مل کر مرکب ہو تی ہے اور اس کی کیفیات دوسری کیفیات کے ساتھ مل کر بنتی یا بگڑتی (متغیر ) ہے۔ ‘‘

 ابن عباس مجوسی معتدل ہوا کے بارے میں لکھتے ہیں ۔

’’  ہواء معتدل وہ ہوا پاکیزہ اور صاف اور لطیف ہے جس میں بخارات کی آمیزش نہ ہو اور اس کی بو خوشگوار اور پاکیزہ ہو، نہ ایسی گرم ہو کہ پسینہ نکالے اور نہ اتنی سرد ہو جس سے پھریری آجائے اور رونگٹے بدن پر کھڑے ہو ں بلکہ جب آفتاب ڈوب جائے ہوا میں ٹھنڈک جلدی آجایا کرے اور جب آفتاب بر آمد ہو گر می اس میں آجائے۔ جو ہوا ان اوصاف پر ہو مزاج کو معتدل کر دیتی ہے اور بدن کو قوی کرتی ہے، اخلاط کو ساف کرتی ہے، ارواح کو صفائی سے متصف کر دیتی ہے، ہضم کی درستیپر معین ہو تی ہے ‘‘

اس طرح کی ہوا کے بارے میں ابن سینا لکھتے ہیں ۔

’’ جید الجوہر یعنی اچھے جو ہر والی ہو اوہ ہے جو پاک صاف ہو اس کے ساتھ سڑی ہوئی ہوائیں اور بخارات یا دخانات  کے قسم کی کوئی بیرونی چیزشامل نہ ہو۔ مثلاً جھیل، نیستاں ، گندہ خندقوں ، نمناک زمینوں اور ترکاری کے کھیتوں کے بخارات نہ مل گئے ہوں ، خصوصاً ان کھیتوں کے جن میں کرم کلہ اور تیرہ تزک بوئے گئے ہوں ۔ اسی طرح وہ گھنے درختوں اور خراب جو ہر والے مثلاً اخروٹ اور انجیر کے درختوں  کے بخارات سے بھی پاک ہو۔

اچھی ہوا کے لئے ضروری ہے کہ وہ آسمان  کے لئے کھلی ہو ئی ہو، دیواروں اور مکانوں سے گھٹی ہو ئی اور بند نہ ہو، ور نہ اس کے ساتھ فاسد اجزاء اور سانس سے باہر نکالی ہوا کے مل جانے کا اندیشہ ہو تا ہے۔ اور بند ہو نے کی وجہ سے بیرونی اچھی ہوا اور دھوپ اس تک نہیں پہونچتی ہے۔ اسی طرح وہ کسی گڑھے  میں بند نہ ہو جو سورج نکلنے کے ساتھ گرم ہو جائے اور غروب ہو نے کے ساتھ جلدی ٹھنڈی ہو جائے۔ ‘‘

 ابن سینا  انہی ہواؤں کو ہواء مکدر کا نام دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں ۔

’’ مکدر ہوا نفس میں وحشت پیدا کرتی ہے جس سے جی گھٹتا ہے اور سانس میں تنگی پیدا ہو تی ہے  اور یہ ہوا اخلاط کو جوشو حرکت میں لاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکدر ہوا میں غلیظ اجزاء مثلاًگرد وغبار اور بخارات و دخانات مل جاتے ہیں اور اس کا جو ہر ہموار نہیں رہتا۔ ‘‘

فخرالدین محمد بن محمد بن ابی نصر الخجندی عمدہ ہوا کی تعریف اس طرح کرتے ہیں ۔

’’ اچھی ہوا  وہ ہے جس میں مختلف قسم کے بخارات اور ایسی چیزیں نہ ملی ہوں جو طبیعت کے خلاف ہوں ۔ ‘‘

  مندرجہ بالااقتباس سے یہ بات بالکل صاف  ہو جاتی ہے کہ وہ ہوائیں جن میں بخارات اور دخان ہو تے ہیں  وہ اچھی نہیں ہوتی ہیں اسی طرح وہ ہوائیں جو نمناک زمینوں ، جھیلوں یا خندقوں سے آتی ہیں ، ان کے جو ہر متغیر ہو جاتے ہیں ۔ ہواء کے بارے میں اطباء کرام کے بیان کردہ نکات اور جدید سائنس کی معلومات کا اگر ہم موازنہ کریں تو ان میں کو ئی تقابل نظر نہیں آتا۔ جیسا کہ اطباء قدیم نے ہواء خالص کے بارے میں کہا تھا کہ اس کا کوئی وجود نہیں ۔ دوسرے انہوں نے  ہوؤں میں بخارات اور دخانات کی بات کہی تھی۔ یہی بات آج کی سائنس بھی کہتی ہے۔ آج جیساکہ یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ ہوا کے اندر نائٹروجن، آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور ان کے علاوہ مختلف قسم کی مزید گیس  ( جیسے Argon,Neon,Helium,Methane,Krypton,Nitrous Oxide , Xenon  وغیر ہ  پائی جاتی ہیں ۔

  تغیرات ہوا

ہماری صحت پرہوا کے منفی اثرات اس وقت ظاہر ہو تے ہیں جب ہوا کے اندر کسی قسم کا تغیرپیدا ہوتا ہے۔ یہ تغیر چاہے جوہر ہوا میں واقع ہو یا کیفیات ہوا میں ۔ بہر حال ان دونوں ہی صورتوں میں ہوا صحت کے لئے  نقصان دہ ہو تی ہے۔ اطباء کرام نے تغیرات ہوا کے اسباب کئی بیان کئے ہیں ۔ ان میں ارضی اور سماوی دو اہم اسباب ہیں ۔ یہاں اس کی تفصیل کا مو قع نہیں ہے۔

ابن سینا کے مطابق ہوا میں تین طرح کے تغیرات رونما ہو تے ہیں ۔ (۱) طبعی تغیرات (۲) غیر طبعی تغیرات (۳) وبائی تغیرات طبعی تغیرات: جو معمول کے مطابق ہو تے ہیں اس میں فصلی اور موسمی تغیرات شامل ہیں جیسے سردی، گرمی  وغیرہ۔

غیر طبعی تغیرات: اس میں ہوا کے وہ غیر طبعی تغیرات شامل ہیں جو معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں اور طبیعت کے لئے زیادہ خطرناک اور مہلک نہیں ہو تے۔  وبائی تغیرات: یہ وہ تغیرات ہیں جو طبیعت کے لئے نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہیں ۔

ابن سینا اس کی مزید تفصیل بیان کرتا ہے۔

’’ ہوا کے وہ تغیرات جو طبیعت سے خارج ہیں (یعنی کہ وہ مضاد اور دشمن طبیعت ہیں  ان کی دو صورتیں ہیں ۔ اوّل جو ہر ہوا میں استحالہ اور تغیر آجائے، دوسرے ہوا کی کیفیات میں استحالہ و تغیّرواقع ہو جائے۔ چنانچہ ہو اکے وہ تغیرات جو جوہر ہوا کے استحالہ سے رونما ہوتے ہیں اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ ہوا کا جو ہر برا اور ردی ہو جائے، اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ اس کی اس کیفیت میں افراط کے ساتھ شدت یا کمی ہو جائے اس قسم کے تغیرات کو وباء کہا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوا جب متغیر ہو جاتی ہے (خواہ اس میں تعفن لاحق ہو جائے یا اس کی کیفیت بدل جائے ) تو اس سے ابدان ( اشخاص) میں مختلف عوارض لاحق ہو تے ہیں ۔ چنانچہ  جب عفونت عارض ہو جاتی ہے تو بدن کے اخلاط متعفن ہو جاتے ہیں ۔ چنانچہ یہ عفونت پہلے اس خلط میں ہو تی ہے جوقلب کے اندر رہتی ہے، کیونکہ بوجہ قرب کے ہوا کا قلبی خلط تک پہونچنا دوسرے کے مقابلہ میں آسان ہو تا ہے۔‘‘

موجز القانون میں تغیرات ہوا کے بارے میں لکھا ہے۔

’’ ہوا کے غیر طبعی تغیرات جو طبیعت کے مخالف ہوتے ہیں  اور ہلاکت کا باعث بن جاتے ہیں ان کی مثال میں وباء کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہوا میں زہر پیدا کرتی ہیں اور اس سے بہت سے آدمی اچانک مر جاتے ہیں ۔ طاعون اور انفلوئنزا ایسے ہی امراض ہیں ‘‘

 اطباء قدیم نے ہوا کے اندر تغیر ( تعفن  ) کے کئی وجوہات بیان کی ہیں ۔ ابن سینا کے مطابق ہوا   پانی، خراب اجزاء یا اجسام خبیثہ کے ملنے کے بعد ہی متعفن ہو تے ہیں ۔ ابن سینا کے مطابق یہ خراب اجزاء یا اجسام خبیثہ سڑی گلی لاشیں یا گندے جھیل کا متعفن پانی ہوتا ہے۔ جیسا کہ آج ہمارے ملک کے تقریبا تمام نالے اور ندیوں کا پانی مختلف قسم کی غلاظت اور فیکٹریوں کے فضلات کی وجہ سے آلودہ ہو گیا ہے، جس کے لئے گورنمنٹ ہر سال کروڑوں روپئے خرچ کر رہی ہے۔ ابن زہر لکھتے ہیں :اس سے یہ امر واضح ہو گیا کہ مضر ہوائیں جو حار رطب ہو تی ہیں تو اس مرض (حمیر صیفی)کا باعث ہوتی ہیں ۔ خصوصا جب ہوا میں خشکی نہ پائی جاتی ہو اور یہ ہوائیں فضا میں رکی ہوئی ہوں ۔  ابن زہر مزید لکھتے ہیں : کبھی یہ فسادقرب وجوار میں نعشوں کے سڑنے کے بعد ہواؤں کے رکنے یا تالاب و نالوں میں گندہ پانی جمع ہو نے سے بھی ہوا میں فساد واقع ہو تا ہے۔ اسی لئے قدماء قبروں کے آس پاس رہنے سے احتیاط کرتے تھے کیونکہ ان مقامات پر نعشوں سے اٹھنے والے بخارات ہوتے ہیں ۔ بعض مرتبہ خارجی ہوا کے اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے بھی وبائیں واقع ہوتی ہیں ۔ بالجملہ جب ہوا غیر طبعی ہوجائے گی تو بلائیں اسی تناسب سے واقع ہونگی جتنا کہ ہوا اپنے طبعی مزج سے ہٹی ہے۔ ابن رشد اس سلسلہ میں لکھتے ہیں : کبھی ہواء وبائی اس طرح پیدا ہو تی ہے کہ پانی میں مردار اور سڑی ہو ئی چیزوں سے اٹھنے والے بخارات جو ہر ہو امیں مل جاتے ہیں  اور وبائی امراض پیدا ہو جاتے ہیں نیز پانی اور غذا کی خرابی سے وبائی امراض پیدا ہو تے ہیں ۔ جیسا کہ قحط زدہ علاقوں میں دیکھا گیا ہے۔ ہواء وبائی کی بیماریاں موت کا پیغام لاتی ہیں کیونکہ ہوا کی عفونت قلب پر اثر انداز ہو تی ہے۔

اصلاح ہوا اور تحفظی تدابیر

 اطباء قدیم نے ہوا ئی آلودگی سے نمٹنے کے لئے بہت سی تدا بیر اختیار کی ہیں ۔ چنانچہ ان تدابیر کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ماحول کو براگندہ ہو نے سے بچا سکتے ہیں ۔ سب سے پہلے اطباء نے ان اسباب کو ختم کر نے کی کوشش کی ہے جن کی وجہ سے ہوا کے اندر تعفن پیدا ہو تا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے فساد ہوا کی اصلاح کرنے کی تدابیر بیان کی ہیں ۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وباء کے زمانے میں ہواء محیط کا جوہر فاسد ہو کر متعفن ہو جاتا ہے یا کیفیت ہوا میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہوا غیر معتدل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہواکو معتدل مقام پر لانے کے لئے اس کی بڑھی ہوئی حرارت یا رطوبت کو اعتدال پر لانے کے لئے مبرد اور مجفف تدابیر اختیار کرنی چا ہئے۔ اسی طرح  ماحول کو مطہر اورخوش گوار بنانے کے لئے مختلف قسم کی خوشبودارادویہ اور مانع تعفن ادویہ کے چھڑکاؤ کرنا چاہئے۔ اطباء نے روح کی ترویح کے لئے خوشبودار اشیاء سونگھنے کو کہا ہے۔ خوردنی طور  پرمانع تعفن ادویہ کے استعمال کی بات کہی ہے اور تریاقی ادویہ کو ترجیح دی ہے۔ قسطا بن لو قا جالینوس کے حواالہ سے تریاق کبیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ اگر وبائی امراض میں تریاق کبیر سے افاقہ نہ ہو رہا  ہو تو شفا یابی کے تعلق سے طبیب کو بہت زیادہ پر امید نہیں رہنا چاہئے۔ ابن زہر تریاق فاروق کو مانع عفونت، محافظ صحت، دافع سموم، مانع شیخوخت خصوصیات  کا تذکرہ کیا ہے۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ تریاق فاروق گندے پانی سے واقع ہو نے والے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ شاپور بن سہل تریاق فاروق کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ محافظ صحت ہے۔ حالت صحت میں اس کا استعمال بہت سارے آفات سے جو اسباب بادیہ کی وجہ سے ہوتے ہیں محفوظ رکھتا ہے۔ جیسے زہریلے حشرات، سمی ادویہ کے پینے، ہوائی و آبی آلودگی وغیرہ۔

ابن رشد ہوا متعفن کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے درج ذیل تر کیب بتاتے ہیں ۔

’’ اگر ہوا کا پورا جوہر فاسد ہو جائے تو استفراغ عام کیا جائے  اور ایسی چیزیں استعمال کی جائیں جو اپنے پورے جو ہر سے مانع وباء ہوں اس میں بارد یابس بعید از عفونت دوائیں  مثلاً قسط، کندر اور میعہ مفید ہیں  اور اس ضمن میں قطران خاص افادیت کی حامل ہے۔ ‘‘

مزید لکھتے ہیں :

’’ اس زمانہ میں تریاق کبیر ی۴ رتی سے ساڑھے تین ماشہ تک کیا جائے تو وباء سے پو ری حفاظت ہو تی ہے۔ مختصر یہ کہ جب ہوا میں ایسا تغیر ہو جائے کہ بیماریاں پیدا ہو نے لگیں تو ان بیماریوں سے تحفظ کے لئے ایسی تدابیرکی جائے جو مزاج ہوا کے  مخالف ہو۔ ہوا وبائی میں گل ارمنی اور گل مختوم کو سرکہ کے ساتھ استعمال کر نا مفید ہے۔ وباء کے زمانہ میں اطباء نے اس نسخہ کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔ صبر ایک حصہ، زعفران دو حصے، مر مکی ایک حصہ سب کو باریک کر کے روزآنہ بارہ قیراط ایک اوقیہ شراب ممزوج کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ‘‘

ابن عباس مجوسی وبائی امراض سے تحفظ اور علاج کے لئے درج ذیل ادویہ کے استعمال کر نے کی بات کہی ہے۔ ’’ قرص کافور، سکنجبین سادہ یا رب حصرم کے استعمال کیا جائے۔ ‘‘

 ابن ہبل، کتاب المختارات میں لکھتے ہیں :

   ’’ہوا کی عفونت، فساد، بگاڑ اور ہوا کا روح کے مزاج کی مخالف کیفیت اختیار کر لینا ہی وباء ہے۔ اس کا تدارک اس سے حتیٰ الامکان بچ کر ہوا سے محفوظ ٹھنڈے مقامات میں سکونت اختیار کر نے، خوشبو ادر اشیاء کے ذریعہ روح کی ترویح کر نے، ہو ا کے فساد کی اصلاح کر نے والی اشیاء مثلاً سعد کوفی، گلاب، صندل  اور حب الآس وغیرہ کی دھونی دینے، شدید کھٹہ سرکہ استعمال کر نے، سرکہ اور گل ارمنی مخلوط کر کے ناک میں ڈالنے اور پینے، بید سادہ کے پتوں  کو گھروں میں بچھانے اور جہاں تک ممکن ہو غذا میں کمی کر نے کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘

ابن زہرہوا متعفن کا تدارک کچھ اس طرح  بیان کرتے ہیں ۔

’’کمرہ میں تازہ برگ ریحان بچھا دی جائے اور مستقل قطران کی دھونی دی جائے۔ اس کے علاوہ گھر میں سرکہ جو خوب ترش ہو چھڑکیں ۔ ‘‘

محمد بن زکریا رازی ہوا کے اندر موجود بد بو اور اس کی سڑانڈ کو کچھ اس طرح ختم کرنے کی ترکیب بتاتے ہیں :

’’ ہوا میں شدید بد بو اور سرانڈ محسوس ہو توصندل اور کافور کی دھونی دیں ۔ جسم پر عرق گلاب چھڑکیں ، گھر کے دروازہ پر عرق گلاب سے تر کیا ہوا پردہ لٹکائیں ، غذا میں سرکہ، عدس اور سماق استعمال کریں ، پانی میں سرکہ ملا کر پلائیں ، شراب ترک کر دیں ۔ اس کے علاوہ ہر روز ایک عدد قرص کافور کا لینا بھی مفید ہو تا ہے۔ ہوا کو صاف کر نے کے لئے قسط، کندر، میعہ سائلہ

عود، صندل، کافور اور مُر کی دھونی بھی مفید ہے۔

مزید جالینوس کے حوالہ سے رقمطراز ہے:

’’ وباء کے زمانہ میں گل ارمنی کو سرکہ اور پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور وباء کے زمانہ میں تریاق افعی بھی بہت مفید ہے۔

امراض وبائی سے تحفظ کی خاطر کتاب المنصوری میں لکھتا ہے؛

’’ ایلوہ، مرمکی اور زعفران شراب ممزوج کے ساتھ استعمال کر نے سے وباء کے زمانہ میں فائدہ ہوتا ہے اور آدمی وباء سے محفوظ رہتا ہے۔

خلاصہ کلام

 اس مختصر گفتگو سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اطباء کرام کے یہاں ماحولیاتی آلودگی کا بہت واضح تصور موجود ہے۔ انہوں نے بہت ہی واضح اندازمیں یہ بات کہی ہے کہ ہوا اور  پانی کی خرابی کی وجہ سے تعفن پیدا ہوتی ہے جو بعد میں وبائی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اطباء کرام نے وبائی امراض کے اسباب میں فسادآب وہوا ، تعفن اور اجسام خبیشہ جیسی اصطلاحوں کو ذکر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اطباء کرام جہاں ایک طرف مانع آلودگی ہوا اور دافع تعفن ادویہ کا استعمال کیا ہے وہیں کافور جیسی ضد حیوی دوا کا استعمال کر کے طب یونانی کو وقار بخشا ہے۔ اطباء کرام نے ہوائی آلودگی میں مفرحات اور تریاقی ادویہ کا بالخصوص التزام فر مایا ہے کیونکہ یہ دوائیں جہاں ہماری روح کو پاک رکھتی ہیں وہیں یہ روح حیوانی کو تقویت فراہم کر کے آفات و وبا سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہوا ئی آلودگی سے زیادہ تر آلات تنفس متاثر ہو تے ہیں اور عفونت کے سبب بخار عام ہے، یہی وجہ ہے کہ اطبا نے ادویہ مفردہ و مرکبہ میں مفرحات کے ساتھ ساتھ دافع حمیٰ اور امراض تنفس کی مخصوص دواؤں کو بھی شامل فر مایا ہے۔ اطباء نے ان ادویہ کا استعمال داخلی اور خارجی دونوں طور پر کیا ہے۔ ذیل میں مانع آلودگی، دافع تعفن، و دافع حمی اور صدر و سینہ میں مفید ادویہ مرکبہ و مفردہ کا مستند طبی کتب کی مدد سے ایک چارٹ تیارکیا گیا ہے تاکہ مسئلہ کی تفہیم میں آسانی پیدا ہو سکے۔

  اطباکرام نے شروع سے ہی تعفن اور فسادماحول سے محفوظ رکھنے کی کوششیں کی ہیں ۔ طاعون طب یو نانی کا ایک اہم موضوع رہاہے۔ اطبا نے نہ صرف یہ کہ طاعون سے بچنے اور اس سے محفوظ رکھنے کی کوششیں کیں بلکہ اس مرض کا بہت ہی کار آمد علاج بھی کیا۔ اس کے علاوہ تعفن و فساد سے محفوظ رہنے کے لئے شربت مشک اور شربت گلاب کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس سلسلہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ عبد اللہ بن زبیر نے شہادت سے ایک دوروزقبل اس خیال سے خوب شربت مشک پیا کہ دشمن جب نعش کو بے گور وکفن چھوڑیں تو اس سے سڑنے گلنے کی بدبو نہ آئے۔ امیر معاویہ کے سلسلہ میں یہ دلچسپ بات ملتی ہے کہ ان کی مجلسوں میں گلاب کا شربت سب سے پسندیدہ مشروب تھا۔ آج بھی اسی مقصد کے تحت مسلم معاشرہ میں بالخصوص خوشبودار ادویہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف فرحت و انبساط حاصل ہوتا ہے  اور مسام جاں معطر ہوتے ہیں وہیں کہیں نہ کہیں اس کے استعمال کامقصد تعفن سے بچاؤ بھی ہوتا ہے۔ میت کے پاس لوبان کی دھونی اور اگر بتیوں کے جلانے سے بھی یہی مقصد ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ کچھ لوگوں نے اس کو عقیدہ سے جوڑ دیا ہے۔

جدول نمبر (۱)ادویہ مرکبہ

نمبر شمار

اسمائے ادویہ مرکبہ

افعال و خواص

طریقہ استعمال

۱۔ تریاق فاروق(تریاق کبیر)

مقوی معدہ، مقوی قلب، نافع امراض بلغمی۔ مانع عفونت، محافظ صحت، دافع سموم، مانع شیخوخت۔ یہ گرم سرد، زہروں ، سانپ ڈسنے، پاگل کتے کانٹنے اور بچھو کے ڈنک مارنے میں مفید ہے۔ یہ مزاج کو پیش آنے والے حوادث کا ازالہ کرتا ہے۔ مہلک دواؤں اور زہروں کا مقابل کرتا ہے۔

داخلاً

 ۲۔ رب حصرم(کچا انگور)

 مسکن حدت خون وجوش ہے، مقوی معدہ، دافع عطش، مشہی۔ حمیات صفرا، جدری و طاعون میں مفید ہے، دافع خفقان حار ہے۔

داخلاً

۳۔ سکنجبین سادہ

حمیات مادیہ میں مفید ہے۔ عفونت کا خاتمہ کرتا ہے

داخلاً

۴۔ عرق گلاب

مفرح  ومقوی قلب، مقوی اعضائے رئیسہ، مقوی معدہ

داخلاً و خارجا ً

۵۔ قرص کافور

تیز بخار، پیاس، معدہ و جگر کی سوزش اور جریان خون میں مفید ہے

داخلاً

جدول نمبر (۲) ادویہ مفردہ

نمبر شمار

اسمائے ادویہ مفردہ

نباتی ؍ سائنسی نام

مزاج

افعال و خواص

طریقہ استعمال

۱۔ برگ ریحان

Ocimum pilosum

گرم ۲خشک۲

دافع حمیٰ، مسکن حرارت مسکن عطش، ہاضم، کاسر ریاح، مسکن درد۔ برگ  کا سونگھنا باعث رفع فساد ہوا ہے۔ ہوام اس کی بو سے بھاگتے ہیں

خارجاً۔ برگ ریحان کو کمرہ میں بچھا دیا جائے

۲۔ بید سادہ

Salix alba Linn

سرد۱ خشک۱

مسکن حرارت، مفرح و مقوی قلب، مسکن الم، قابض، مجفف۔ تازہ پھولوں کو سونگھنے  سے فر حت اور انبساط حاصل ہوتا ہے۔

خارجاً۔ بچھایا جائے

 ۳۔ حب الآس

Myrtus communis, Linn

سرد خشک

مقوی روح، مقوی قلب اور خفقان ودرد سر دور کرتا ہے۔ پھل دافع زہر ہے۔ پتوں کا سونگھنا مقوی دماغ ہے۔

خارجاً۔ بطور دھونی

۴۔ زعفران

Crocus sativus, Linn

گرم ۲خشک۱

مفرح و مقوی قلب، مقوی اعضاء رئیسہ، دافع عفونت، مفتح سدد۔ عفونت کی اصلاح کرتا ہے اور احشیاء کو تقویت دیتا ہے۔ خلط بلغم کی عفونت کی مصلح ہے۔ محافظ فساد ہے۔ آلات نفس کی بہترین دوا ہے۔

داخلاً

۵۔ سرکہ

Acetum Vinegar

سر د ۲خشک۲

قاطع غلظت اخلاط، ہاضم طعام، مقوی دماغ

داخلاًو خارجاً

۶۔ سعد کوفی

Cyperus rotundus, Linn

گرم ۱خشک۱

مقوی معدہ، مقوی اعصاب، قابض، مفتح، محلل، مطیب دہن۔ قوت حافظہ کو قوی  کرتی ہے، ناک کی بدبو، منھ کی عفونت اور منھ کے چھالوں اور مسوڑھوں کے ڈھیلے ہو نے میں مفید ہے۔ تقطیر البول اور حمیٰ قدیم میں مفید ہے۔ خراب رطوبتوں کو نکالتا ہے۔ بچھو کے کے زہر کے لئے کھانا اور لگانا مفید ہے۔

خارجاًبطور دھونی

۷۔ سُماق

Rhus coriaria, Linn

سرد۲ خشک۳

قابض، مقوی معدہ، مسکن عطش، ملطف، جالی، دافع اسہال وقے۔ پیاس اور صفراوی متلی میں سکون دیتا ہے۔

داخلاً

۸۔ شراب

Alcohol

گرم ۲خشک۲

ملطف، مفرح نفس۔ خون اور حرارت غریزیہ کو بڑھاتا ہے، طبیعت کو اس کے افعال انجام دینے کے کئے قوی کرتا ہے اور اسی وجہ سے یہ دوام صحت کے لئے بہترین دوا ہے۔ زہروں میں مفید ہے۔

داخلاً

۹۔ صبر

Alove barbadensis, Mill

گرم ۲خشک۲

امراض دماغ کو مفید اور معدہ و جگر کے لئے بہترین دوا ہے۔ بطور بخور ربو اور انتساب النفس میں مفید ہے۔

داخلاً

۱۰۔ صندل

Santalum album,Linn

سرد ۲خشک۲

مفرح و مقوی قلب و معدہ، دافع تعفن، اسمیں قوت تریاقیہ بھی ہے۔ اس کا سونگھنامضرت ہوا سے سمیت کا دافع ہے، خفقان و غشی میں مفید ہے۔

خارجاً۔ بطور دھونی

۱۱۔ عدس

Lens esculenta Moench

معتدل

اس کا پانی خناق میں مفید ہے۔ ملین صدر، نزلہ، کھانسی اور خشونت حلق میں مفید ہے، مقوی معدہ ہے

داخلاً

۱۲۔ قرفہ Cinnamomum zeylanicum Blume

گرم ۲ خشک۲

ملطف، دافع تعفن۔ ہوا کے فساد اور عفونت کی اصلاح کرتا ہے، بھنگ اور افیون کھانے والوں کو کھلانے سے اس کا سمی اثر زائل ہوجاتاہے۔

داخلاً

۱۳۔ قِطران

Cedrus  libani Loud

 گرم۳ خشک۳

مقطع، ملطف، دافع تعفن۔ ربو و نفس الانتصاب میں مفید ہے، میت کے جثہ کی حفاظت کرتا ہے، بطور طلاء سانپ کے ڈسنے میں مفید ہے، ہر طرح کے کیڑوں اور مکوڑوں کو بھگاتا ہے۔

داخلاًو خارجاً۔ بطور دھونی

۱۴۔ قسط   Saussurea lappa  Clarke                 

گرم ۳خشک۳

مفتح، جاذب، مقوی اعصاب۔ اس کا دخان زکام میں مفید ہے، بچھو کے ڈسنے میں مفید ہے، ہر طرح کے زہروں میں مفید ہے

داخلاً

۱۵۔ کافور

Cinnamomum camphora,Neeas

سر د ۳ خشک۳

مفرح و مقوی قلب و دماغ، دافع تعفن، تپ دق، تشنگی، جگر و گردے کی سوزش میں مفید ہے۔ خفقان حار میں مفید ہے، اس سے روح کو نورانیت اور لطافت حاصل ہوتی ہے۔

داخلا ًو خارجاً

۱۶۔ کندر

Boswellia serrata,Roxb.

 گرم ۳خشک۱

دافع تعفن، مقوی روح و قلب، منفث بلغم، مدمل قروح ریہ۔ روح حیوانی و دماغی کو پاک کرتا ہے۔ رطوبات دماغ کا تنقیہ کرتا ہے

داخلاًوخارجاً

۱۷۔ گلاب

Rosa damascena, Mill

سرد خشک

مفرح و مقوی قلب روح، مقوی اعضائے رئیسہ، مقوی معدہ و امعاء، مسکن۔ اس کا سونگھنا مقوی دماغ و دل ہے۔

خارضاً۔ بطور دھونی

۱۸۔ گل ارمنی

Arminina Bole

سرد ۱خشک۲

حابس دم و نافع زخم  ہے۔ نزلہ اور سل میں مفید ہے، فساد ہوا میں مفید ہے، طاعونی گلٹیوں میں اس کا پینا اور طلا کر نا دونوں مفید ہیں ۔ وبائی بخاروں میں شراب اور عرق گلاب کے ساتھ اس کا پینا عجیب نفع بخش ثابت ہو تا ہے۔

 داخلاً

۱۹۔ گل مختوم

Marl, sealing clay

سرد ۱خشک۲

مفرح و مقوی قلب و معدہ، مجفف، نافع زہر، حابس دم، نا فع زخم امعاء و حلق و سینہ، نافع تب وبائی، ابن ہبل کے مطابق خالص گل مختوم اگر انسان کے معدہ میں ہو اور وہ زہر پی لے تو یہ برابر زہر کو خارج کرتی رہتی ہے۔

داخلاً

۲۰۔ مرمکی

Commiphora myrrh, Nees

گرم ۳خشک۳

دافع تعفن ملطف، محلل، مدر بول، مجفف قروح۔ تمام زہروں اور نہوش میں مفید ہے۔ ابن ہبل کے مطابق یہ تعفن دور کرنے کی بہترین دوا ہے، یہا تک کہ اگر اس کو لاش میں لگا دیا جائے تو یہ اس کے گلنے  سڑنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ سعال مزمن کو دور کرتا ہے، منقی صدر و ریہ ہے۔

داخلاًو خارجاً

۲۱۔ میعہ سائلہ

Liquimbar orientalis

گرم ۲خشک۲

منضج و ملین، مقوی اعضاء و نافع جذام ہے۔ سموم و نہوش میں مفید ہے، اس کی دھونی دماغ میں جمے ہوئے فضلات کے لئے مفید ہے۔

داخلاً  و کارجاً

حوالہ جات

 ۱۔ ابن رشد۔ کتاب الکلیات، بار دوم  ۱۹۸۷ء، سی سی آر  یو ایم، نئی دہلی، ۳۶۸۔ ۳۶۹

 ۲۔ ابن زہر۔ کتاب التیسیرفی المداوۃ و التدبیر، ۱۹۸۶ ء، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی، صفحہ: ۲۴۵، ۲۴۶، ۲۴۷، ۲۴۹

۳۔ ابن مجوسی۔ کامل الصناعۃ، ۲۰۱۰، ادارہ کتاب الشفاء، نئی دہلی، صفحہ:۲۰۶

۴۔ المغربی، ابو سعیدبن ابراہیم، کتاب الفتح فی التداویٰ من جمیع صنوف الامراض و الشکاوی(مترجم:عبد الباری)، ۲۰۰۷، فیکلٹی آف میڈیسن(یونانی)جامعہ ہمدرد، نئی دہلی، صفحہ:۱۰۰، ۱۱۴، ۱۲۲، ۱۲۴، ۱۴۶، ۱۶۸، ۱۷۶، ۱۸۸، ۱۹۸، ۲۰۰، ۲۰۲، ۲۲۲

۵۔ بغدادی,ابن ہبل۔ ، کتاب المختارات، جلد اول، ۲۰۰۵، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی، صفحہ:۱۰۸، ۱۰۹، ۱۱۴، ۱۹۶

۶۔ بغدادی، ابن ہبل۔ کتاب المختارات، ج دوم، ۲۰۰۵، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی، ۱۳۳۔ ۱۳۴، ۱۵۷، ۱۵۸، ۱۸۶، ۱۹۴، ۲۰۸، ۲۱۶، ۲۳۹، ۲۸۰، ۳۰۲۔ ۳۰۴،

 ۷۔ جمیل، ابو وارث۔ توضیحات اسباب ستہ ضروریہ، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، اجمل خاں طبیہ کالج، علیگڈھ مسلم یو نیورسٹی علیگڈھ، صفحہ:۲۰۔ ۲۲

۸جرجانی، اسماعیل۔ ذخیرہ خوارزم شاہی، جلد سوم، ۲۰۱۰ء، ادارہ کتاب الشفاء، صفحہ ۷

۹۔ تکمیلی، افتخار الحق۔ جراثیم کا مسئلہ، ۱۹۹۹، نظامی پریس لکھنؤ، صفحہ : ۱۵۔ ۱۶

 ۱۰۔ نفیسی، برہان الدین۔ (اردو ترجمہ)کلیات نفیسی، جلد اول، ۱۹۵۴ء ادارہ کتاب الشفاء، نئی دہلی، صفحہ:۱۸۹

۱۱۔ ظل الرحمن، سید۔ آئینہ تاریخ طب، ۲۰۰۱، پبلی کیشن ڈویژن، اے۔ ایم۔ یو، علیگڈھ، صفحہ: ۷۹

۱۱۲۔ ظل الرحمن، سید۔ علم الامراض، ۱۹۶۹، لیتھو کلر پرنٹرس علیگڈھ، صفحہ :۳۹

۱۳۔ طبری، علی بن ربن۔ (اردو ترجمہ)فردوس الحکمۃ؛  ۲۰۰۲، فیصل پبلیکشز دیو بند، صفحہ:۴۳۵۔ ۴۳۶

۱۴۔ مجوسی، علی ابن عباس۔ کامل الصناعۃ، جلد اوّل :۲۰۱۰، ادارہ کتاب الشفاء دریا گنج نئی دہلی، صفحہ:۲۰۶

 ۱۵۔ الخجندی، فخر الدین محمد بن محمد بن الی نصر۔ التلویح الی اسرار التلویح (مترجم :عبد الباری) ۲۰۰۸، نیو پرنٹ سنٹر، نئی دہلی، ۱۳۷۔ ۱۴۱

 ۱۶۔ قسطا بن لوقا، کتاب الوباء و اسبابہ مخطوطہ خدا بخش لائبریری، بحوالہ امراض متعدی وبائی اور انے تحفظ اور معالجہ کی ادویاتی تدابیر، جہان طب جولائی۔ ستمبر ۲۰۰۸ء، صفحۃ: ۳۲۔ ۳۹

۱۷۔ چاندپوری، حکیم کوثر (مترجم)۔ موجزالقانون، ۱۹۸۸ء، دوسرا ایڈیشن، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ۹۱

۱۸۔ رازی، محمد بن زکریا۔ کتاب المنصوری، ۱۹۹۱ء، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی، صفحہ:۱۷۴، ۱۷۶

۱۹۔ لکھنؤی، محمد حکیم۔ بُستان المفردات، ۱۹۹۹، ظفر بُک ڈپومٹیا مضل، دہلی، صفحہ:۸۱، ۱۰۴، ۱۲۴، ۱۵۲، ۱۸۵، ۱۹۵، ۱۹۸، ۱۹۹، ۲۲۴، ۳۳۹۲۶۱

۲۰۔ سمر قندی، محمد بن علیبن عمر متطبب۔ قرابادین مارستانی(مترجم :حکیم عبد الباری )، ۲۰۰۶، شعبہ کلیات فیکلٹی آف میڈیسن (یونانی) جامعہ ہمدرد، نئی دہلی، صفحہ:۲۷

                   21.Park, S. 2005.Preventive and Social Medicine,Ed.18th,Banarsidas Bhanot Publisher,Jaipur:542

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close