صحت

پرائیویٹ اسپتال موت کے سوداگر

آزادی کے بعد انگریز افسر ہی نہیں گئے وہ اپنے ساتھ بہت کچھ لے گئے اور ان کے بعد جو افسر بنے وہ فطری چور اور بے ایمان تھے اور ان کی گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے شاطر ڈاکٹروں کے دل میں یہ خیال آیا کہ نرسنگ ہوم کے نام سے پرائیویٹ اسپتال قائم کئے جائیں۔ اور پھر ہر اس ڈاکٹر نے جس کے باپ کے پاس دولت تھی نہ کہیں نوکری کی اور نہ اپنا مطب کیا نرسنگ ہوم کھول لیا اس میں بوڑھے باپ، ناکارہ رشتہ دار اور گھر کے دوسروں کو بھی روزگار مل گیا۔

مزید پڑھیں >>

ڈینگی سے احتیاط: زندگی محفوظ

اس خطرناک مرض سے بچاؤ کے لیے اشد ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اپنے حصہ کا کام کریں اور اپنے گھر ارد گرد کے ماحول ک صاف رکھنے میں متعلقہ اداروں کا ساتھ دیں۔اگر ہم سب مل کر اس خوفناک عفریب کا مقابلہ کریں گے تو انشاء اللہ اس خونی عفریب کو اس پاک وطن سے ختم کیا جاسکے گا۔ اس لیے یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ڈینگی کے خاتمہ کے لیے اپنے محلے، دفتر، گھر، فیکٹری وغیرہ کے کھڑے پانی اور گندگی کا صفایا کر کے ڈینگی کی افزائش کو روکیں اور اس کو ختم کریں۔کیونکہ اپنے ماحول کو خشک اور صاف رکھنا ہر شہری کا بھی مذہبی،  اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ کسی ایک کی لاپرواہی ڈینگی مچھر کی افزائش کا باعث بن کر پورے معاشرے کے لیے وبال جان بن سکتی ہے۔ 

مزید پڑھیں >>

منشیات فروش، پولیس اور ہم

  منشات فروشی کے بڑھتے رجحان کو لیکر والدین، پولیس، اساتذہ، سیاسی قائدین، میڈیا، معزز شہری، علمائے کرام اور فلاحی تنظیمیں خاموش ہیں یوں لگتا ہے کہ سب ملکر کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نسل نو کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں آنے والی نسل شاید یہ جرم ہمیں معاف نہ کر دے اس سے قبل ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اب بھی وقت ہے جاگنے کا۔منشیات کے خلاف آواز اٹھانا آپ سب کی  ذمہ داری ہے اور میری بھی !

مزید پڑھیں >>

ہر سانس کے ساتھ زندگی میں گھلتا زہر

عوام کو خود آگے آکر ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی سرکاروں پر بھی دباؤ بنانا ہوگا کہ وہ ماحول کے معاملہ میں کسی طرح لاپرواہی کو برداشت نہ کرے، شہر میں جگہ جگہ ہوا کو صاف کرنے کے لئے ائر کلینر لگائے جائیں ۔ دھول کو اڑنے سے روکا جائے اور بغیر روکاوٹ والا ٹریفک نظام تیار ہو، تاکہ ہم سب کو صاف ستھرا ماحول  مل سکے۔ کیونکہ اسی میں ہمیں سانس لینا  اور زندہ رہنا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مٹاپا کیسے کم کیا جائے؟

  ہندستان میں مٹاپا کم کرنے کے لئے کئی تحقیقات ہو چکی ہیں۔ ایک تحقیق اجمل خاں طبیہ کالج، مسلم یونیورسٹی علیگڈھ، انڈیا میں ڈاکٹر فضل الرحمن کاظمی نے کی ہے۔ انہوں نے مریضوں کو پینتالیس روز 20ملی لیٹر کی مقدار میں روزآنہ تین بارصرف سکنجبین سادہ  استعمال کرایا۔ یہ دوا مٹاپے کو کم کرنے میں بے حد نفع بخش ثابت ہوئی، جومذکورہ تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!(آخر ی قسط)

حقیقت یہ بھی ہے کہ اجتماعی خرابیاں اس وقت ابھر کے نمایاں ہوتی ہیں جب انفرادی خرابیاں پایۂ تکمیل کو پہنچ چکی ہوتی ہیں ۔ آپ اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ کسی معاشرے کے بیشتر افراد نیک کردار ہوں اور وہ معاشرہ بحیثیت مجموعی بدکرادی کا اظہار کرے۔ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ نیک کردار لوگ اپنی قیادت اور نمائندگی اور سربراہ کاری بدکرادر لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں اور اس بات پے راضی ہوجائیں کہ ان کے قومی اور ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو غیر اخلاقی اصولوں پر چلایا جائے۔

مزید پڑھیں >>

طب یو نانی کی ترویج و ترقی اور زوال کے اسباب؟

طب یونانی کی ترویج و ابتداء اور اس کے عام ہونے مسلم مسلطنتوں میں پھلنے پھولنے اور اس طرح  ہندوستان میں گھر گھر تک پہنچنے کی اجمالی تاریخ۔ ہم دیانت داری کیساتھ دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ طب یونانی پر صرف مسلمانوں کا ٹھپہ لگا کر اردو کی طرح ہی اس کی جڑیں کاٹنے کی خاموش کوششیں ہورہی ہیں ۔ اب اس کے پیچھے کون ہے اور کن عناصر نے ایک پانچ ہزار برس قدیم طریقہ علاج کو مٹانے اور بے نام و نشان کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جاپانی بخار : بچاؤ پر سوال

مچھروں سے پیدا بیماریوں میں سے انسیفیلاٹس (جاپانی بخار) ایک ہے۔ اس مرض کو سب سے پہلے جاپان کے لوگوں نے 1871 میں جانا، جو جے ای (جیپنیز انسیفیلاٹس) کے نام سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا، مغربی علاقہ کے 24 ممالک کے تین ارب لوگ اس کی زد میں آئے اور زیادہ تر افراد وقت پر علاج اور احتیاط کی وجہ سے بچ بھی گئے۔

مزید پڑھیں >>

محتاط رہیں تو بہت زیادہ سنگین نہیں ہے لیو کیمیا

خون کے سفیدذرات اس کیلوس کو کہتے ہیں جو غذا کے ہضم ہونے کے بعدعروق مارسایقا (غددجاذبہ) کے ذریعے جگروخون میں داخل ہوتاہے چونکہ عروق ماساریقا اور غددجاذبہ و طحال ولبلبہ وغیرہ ایک ہی مزاج کے اعضاء ہیں اس لئے محققین نے ان سے سفید ذرات خون کا بننا تسلیم کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

وبائی امراض اور اسلامی تعلیمات

معتبر تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد بیماریاں ایسی ہیں ؛جو بنی نوع انسانی کو کمزورکرنے اور رفتہ رفتہ انہیں موت کے منہ میں ڈھکیلنے کا کام کررہی ہیں، اسباب کے درجے میں بہت سی مرتبہ ماحولیاتی آلودگی اور فضا میں گردش کرنے والے جراثیم ؛جومختلف ذرائع سے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں بیماری کی وجہ بنتے ہیں، کبھی انسان کا طرز زندگی بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے اور لا تعداد امراض بڑھتی ہوئی عمر میں انسان کو جکڑ لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>