صحت

سرکاری اسپتالوں کے تئیں حکومتی عدم توجہی لمحہ فکریہ!

عام آدمی کے لئے اپنا علاج ومعالجہ کرانا بہت ہی مشکل ترین ثابت ہورہاہے۔نجی کاری کی وجہ ڈاکٹروں وپیرا میڈیکس کا بھی زیادہ رحجان پرائیویٹ کلینکوں کی طرف ہے کیوں کہ اس وقت ڈاکٹروں کو دکھانے میں 80 فیصد اور بھرتی ہونے کے معاملے میں 60 فیصد حصہ پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔ہیلتھ سروسیز خاص طور سے شہری علاقوں تک محدود ہیں ، جہاں ملک کی صرف 28 فیصد آبادی رہتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

 عالمی یوم انسداد تمباکو: ایک جایزہ!

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف صرف ایک دن نہیں ؛بلکہ برس کے بارہ مہینے مہم چلائی جائےاورتمام طبقات بالخصوص میڈیا اور منبرومحراب منشیات کے استعمال کے رجحانات کو کنڑول کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

مزید پڑھیں >>

ٹیکہ کاری:ماں کی ذمہ داری!

بھارت میں ٹیکے نہ لگوانے کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات سامنے آئیں ۔ شروع میں مذہبی حضرات نے ٹیکہ کاری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے عام لوگوں کے اس مہم سے جڑنے کی مخالفت کی۔ کئی ایسی باتیں بھی کہی گئیں جن کا ٹیکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے پولیو کی دوا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے پلائی جانے والی دوا ہے۔ یا بچوں کو اس دوا سے بانجھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ۔ دھیرے دھیرے یہ غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ ٹیکہ کاری کی اہمیت سے واقفیت ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ٹیکوں کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کچھ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ کچھ نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ کب کونسا ٹیکہ لگتا ہے۔ کچھ نے کہا کہ ٹیکے لگانے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ کئی کا کہنا تھا کہ ٹیکے لگوانے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ کچھ نے ٹیکہ لگنے سے بچے کے بیمار ہونے کا ڈر ظاہر کیا تو کسی نے غلط صلاح کا سہارا لیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم ٹیکوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ٹیکے مفت میں فراہم کئے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نئی قومی صحت پالیسی اور عوام

قومی صحت پالیسی 2015آخر دوسال بعد منظور ہوگئی۔ اس کے تحت سرکار بڑی آبادی کو سرکاری اسپتالوں کے ذریعہ مفت علاج مہیا کرانے کی تیاری میں ہے۔ کسی بھی ملک کیلئے اس کے شہریوں کی صحت خاص ہوتی ہے۔ کیوں کہ ملک کی ترقی کا انحصار انہیں پر ہوتا ہے۔ پھر بھارت کا آئین تو دفعہ21 میں اپنے شہریوں کو ’زندگی کا حق‘ دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے اپنے کئی فیصلوں میں ’صحت کا حق‘ زندگی کا حق تسلیم کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نیند

پرسکون نیند کی بنیادی ضرورت اندھیرا ہے‘ ماحول کی تمازت اور شور شرابہ کا کم ہونا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے رات بنا کر پرسکون نیند کی ان فطری ضرورتوں کو پورا کر دیا۔ لیکن رات کو بالکل ہی اندھیرا نہیں کیا بلکہ چاندہ بنا کر مدھم روشنی بھی پھیلا دیا تاکہ اس کے بندے رات کو بالکل ہی بے کار یا نہ ہوجائیں ۔پھر رات کو ایک ہی وقت میں دنیا میں بسنے والی تقریباًتمام مخلوقات پر نیند طاری کرکے شورشرابہ بھی ختم کردیا۔ یوں بنی نوع انسان کو نیند کی عظیم نعمت عطا کیا تاکہ وہ شکر کرے۔

مزید پڑھیں >>

صحت کے حوالہ سے بیداری لانے کے لئے میڈیا ورک شاپ

سب سے زیادہ ضروری ہے انسانی زندگی اور بہتر صحت۔ ہمیں نہ اس کیلئے بیدار رہنا چاہئے بلکہ معاشرے کی نچلی سطح تک لوگوں کو بیدار کرنا چاہئے۔ خاص طور پر ان بیماریوں کے تئیں روک تھام کے حوالے سے جو آج بھی دنیا بھر میں تشویش کی وجہ بنی ہیں ۔ میڈیا کی ذمہ داری اس وجہ سے بھی کافی بڑھ جاتی ہے کیونکہ گاؤں قصبوں تک لوگوں کو اس کیلئے بیدا کرنے میں میڈیاکا کردار سب سے اہم ہے۔

مزید پڑھیں >>

صحت اور اسلامی تعلیمات

غورکریں توصحت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ ہے ؛بل کہ قدرت نے جتنی وسیع منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی ہے اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے بھی نہیں کی ،خودہمارے جسم میں باری تعالی نے ایسے ایسے نظام رکھےہیں کہ؛جنہیں دیکھ کرانسانی عقل حیران وشش در رہ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ٹیکوں سے اب بھی دور لاکھوں بچے!

ٹیکہ کاری وائرس اور بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچائو کا سستا اور کارگر طریقہ ہے۔ سرکار کی جانب سے تمام ٹیکے پرائمری ہیلتھ سینٹر، سب سینٹر اور آنگن واڑی مراکز پر مفت فراہم کئے جاتے ہیں ۔ وزیراعظم محفوظ زچگی مہم کے تحت تمام حاملہ خواتین کا بچے کی ولادت سے پہلے مفت جانچ اور دیکھ بھال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کئی ریاستوں میں اسمارٹ کارڈ کے ذریعہ حاملہ عورتوں کی پرائیویٹ اسپتالوں میں مفت جانچ اور علاج کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش سے پہلے اور اس کے بعد ٹیٹنس کا ٹیکہ دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

تندرستی ہزارنعمت ہے!

اپنے آپ کو پانچ وقت نمازکی عادت ڈال لیں ،رزق حلال کمانے کیلئے مشقت کریں ،اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کریں ،زندہ رہنے کیلئے کھائیں نہ کہ کھانے کیلئے زندہ رہیں ،رات کے چھ گھنٹے پرسکون نیند میں گزاریں ،دن کاسونا،رات کاجاگناانسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے،طلوع آفتاب سے قبل بستر سے اُٹھ جائیں ،مختصرکہ سنت نبوی ﷺ کواپنی ذات پرلازم کرلیں یقین جانیں آپ کووہی تندرستی نصیب ہوجائے گی جس کو ہزارنعمت کہتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

سی سی آر یو ایم کی حالت زار کا نوحہ!

اس بات کی بھنک ملتے ہی کہ آپ سی سی آر یوایم کے توسط سے تحقیقاتی کام کیلئے مالی تعاون کے خواہشمند ہیں وہ سراپا سرخ ہوجائیں گے، طرح طرح کے بہانے تراش کریں گے۔تاکہ اپنی طبی تحقیق کے سفرمیں خود بخود آپ کا حوصلہ ٹوٹ جائے اور ناچار ہوکرآپ سپر ڈال دیں ۔

مزید پڑھیں >>