تاریخ و سیرتسیرت صحابہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ

راحت علی صدیقی قاسمی

محبت، سخاوت، عدالت، شرافت، ذہانت، ذکاوت، فراست، وفا، اخلاص، ان تمام اوصاف کو مکمل طور پر شامل کردیا جائے تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا خاکہ بنتا ہے، ان کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اِن اوصاف کی عکاسی کرتا ہے، ان خوبیوں کا ادنی درجہ نہیں اعلی ترین درجہ ان کی حیات کے اوراق پر جلی حروف میں نقش ہے، جو آنے والی نسلوں کے لئے مثال کی حیثیت رکھتا ہے، صفحات پلٹتے جائیے، دیدار کرتے جائیے، خالق کائنات کی کاریگری کا دیدار  کیجئیے، اس کی صناعی کے جوہردیکھئے، کائنات کا کوئی بھی فرد ماہر سے ماہر جب  تخلیق و تعمیر کے میدان میں شعبدہ بازی کرتا ہے، تو مختلف دیدہ زیب رنگوں کو جمع کرتا ہے خیالات کو اکٹھا کرتا ہے، صورتیں تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔

اس عمل کے نتیجہ میں خوبصورت دیدہ زیب عمارت عالم وجود میں آتی ہے، جس میں خامیاں ہوتی ہیں، کوتاہیاں ہوتی ہیں، تمام اہل نظر اس سے مطمئن نہیں ہوتے، لیکن خالق کائنات کی تخلیق شاہکار بے مثل ہے، متضاد رنگوں کی حامل ہے، متضاد کیفیتوں کی حامل ہے، اور ہر رنگ دلکش ہے، حسن کے اعلی معیار پر فائز ہے، نقص کا شائبہ بھی اس میں نہیں ہے، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی زندگی متضاد رنگوں کی ایک خوبصورت اور جامع تصویر ہے، جاذب نگاہ، جاذب قلب، جو ہر مسلمان کے لئے قابل دید ہی نہیں قابل عمل ہے- قریش کا نوجوان برد باری سنجیدگی جس کے چہرے پر رقص کرتی ہوء نظر آتی تھی، ذہانت و ذکاوت جس کی گفتگو کا مظہر ہے، شرافت جس کے گفتار و کردار سے ٹپکتی ہے، ملنے جلنے والوں پر ان کی خوبیاں پوشیدہ نہیں رہتی تھیں، نگاہیں ان کے جوہر کو پہچاننے سے قاصر نہیں ہیں، یہ کمالات ان کے خون میں ہیں ان کے مزاج کا حصہ ہیں، کیوں نہ ہوں ان کا سلسلہ نسب چھ واسطوں کے بعد کائنات کے سردار غریبوں کا سہارا یتیموں کے مولی درد مندوں کا آسرا، آقائے نامدار سے ملتا ہے، آپ صل اللہ علیہ و سلم سے محبت ہے، تعلق ہے، دوستی اور روابط ہیں، سلسلٔہ وحی کی ابتدا نہیں ہوئی ہے، صدیق کی محبت کی ابتدا ہوچکی ہے، اور جوں ہی فریضٔہ نبوت کا آغاذ ہوتا ہے۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ کی غلامی قبول کرلیتے ہیں، آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے راہ رو اور آپ کی اداؤں کے دیوانے ہوجاتے ہیں، اب زندگی کاہر لمحہ آپ کی محبت کی نذر ہے، اسلام چھپائے نہیں چھپتا مچل اٹھتے ہیں، اسلام کا اعلان کرتے ہیں، ذہن کے کورے عقل سے بیزار، عشق کی لذت آفرینی سے محروم صدیق سے محبت رسول کا خراج طلب کرتے ہیں، آپ خوشی خوشی خون اور ذخموں کی شکل میں خراج چکا دیتے ہیں، بے ہوش ہوجاتے ہیں، ہوش آنے پر بھی محبوب کا دیدار کئے بغیر  ہوش ٹھکانے نہیں لگتا، یہ صدیق کا عشق ہے، جو ہمیں عشق رسول سے آگاہ کرتا ہے اس مفہوم کو ہمارے ذہنوں پر کھولتا ہے کہ ساری دنیا انکار کرے حیرت زدہ ہوجائے منطق و فلسفے کی بنیاد پر مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر اعلان کرے کہ بھلا رات بھر میں ساتوں آسمان گھومے جاسکتے ہیں، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جبریل اس بات کو کون مانے گا، اور جبرئیل کہیں ابو بکر مانے گا، ابوبکر محیرالعقول واقعہ کی تصدیق کریں، اور اقبال کا یہ مصرعہ حقیقت کا ترجمان ہوجائے،عشق پنہاں جواب عقل پیہم سوال اور عشق کا معیار قیامت آنے والے افراد کے لئے متعین ہوجائے۔

حضرت ابو بکر جان ہی نہیں مال بھی اسلام کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، غریب ضرورت مند مسلمانوں کا تعاون کرتے ہیں، انہیں ظلم و ستم کے خوف ناک اندھیروں سے نکالتے ہیں، ان کا طوقِ غلامی نکال کر پھینک دیتے ہیں، ان کے آقاؤں کو منہ مانگی دولت دے کر ہکا بکا کر دیتے ہیں، اور اہل دانش عشق کے معجزات سے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، خود آپ کے والد کو اعتراض ہوتا ہے، ان بوڑھی عورتوں کو خرید کر آزاد کیوں کرتا ہے، وہ تجھے کیا دے سکتی ہیں، طاقت ور نوجوانوں کو خرید کر آزاد کر تیرے کام آئیں گے، عقل کو کیا خبر عشق لٹاتا ہے، عطا کرتا ہے، اس کی دنیا الگ اور منفرد نوعیت کی حامل ہے، جس پر یہ راز عیاں ہوجائے، وہ دیوانہ ہوجائے یہی صورت حال صدیق اکبر کی ہے، اس سے بڑھ کر دیوانگی کیا ہوسکتی ہے، جس ہستی کے قتل پر کفار قریش کااجماع ہو چکا ہے، سازشیں رچی جا چکی ہیں، منصوبہ بن چکا ہے، عملی اقدامات کئے جارہے ہیں، آپ اس ہستی کے ہم سفر ہیں، اور ہجرت کررہے ہیں، اہل سیر متفق ہیں، یہ ہجرت خوف سے نہیں ہورہی ہے، فانی جسم کی حفاظت کے لئے نہیں ہو رہی ہے، اگر جان کی حفاظت کا معاملہ ہوتا، بلال حبشی مار نہ کھاتے، عامر بن فہیرہ تکلیف نہ اٹھاتے، صدیق اکبر خون نہ بہاتے، آقائے نامدار کے جسم اطہر پر اوجھڑی نہ رکھی جاتی، اس سفر کا مقصد اشاعت دین دعوت دین اور حفاظت دین ہے، ان کور چشموں کو حقائق نظر نہیں آرہے ہیں، راستہ دکھائی نہیں پڑ رہا ہے، ممکن ہے وقت کا جھونکا ان کی آنکھوں پر پڑے گرد کو دور کردے، اور حقائق انہیں نظر آجائیں، اسی مقصد کے پیش نظر صادق اور صدیق ساتھ ہیں، اور یثرب کے نرم و نازک قلوب میں اسلام کا بیج بونے نکل پڑے ہیں، اسلام کی دولت سے انہیں مالامال کرنے کا منشاء قلب میں ہے، مسلمانوں کو راہ عمل دکھانی ہے، راستہ تنگ ہو جائے، حالات موافق نہ ہوں، تو ہجرت کیجئے، اور مقام بدل کر دعوتی امور کو انجام دیتے رہئے، اس سفر کی صعوبتیں خوف وہراس کی کیفیات، قربانی و جانثاری کے واقعات تاریخ کے سینہ پر مثل مہر ثبت ہیں، اور کائنات میں ضرب المثل بن چکے ہیں۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درد و تکلیف کی تسلی پر آپ کے یہ جملہ بھی ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے  ہیں خوف نہ کیجئے اللہ ہمارے ساتھ ہے، وہ موقع اور فکر صدیق بھی لازوال ہوگئی ہے، اور مسلمانوں کو دعوت فکرو عمل دے رہی ہے، انہیں صدیق کا طرز عمل یاد دلا رہی ہے، محبوب کی فکر و تعلق کے اظہار کا طریقہ بتا رہی ہے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی حیات کے کچھ گوشوں پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالنا ضروری ہے،تاکہ ان کی شخصیت ذہنوں میں ابھر جائے، وہ اسلام کے لئے ہوش سے بھی کام لیتے تھے جوش سے بھی، تلوار میان سے باہر نکالتے اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ بھی کرتے، میدان جہاد میں نکلتے تو بہادری کے جوہر دکھاتے، میدان سخاوت میں قدم رکھتے تو گھر کا سارا مال خدمت اقدس میں حاضر کر دیتے، میدان ہوش میں قدم رنجا ہوتے تو” وما محمد الا رسول الی آخر الآیۃ ” کہ کر کر تمام صحابہ کی آنکھیں کھول دیتے، اور ان کے ہوش و حواس کو درست کردیتے ہیں، میدانِ فراست کو چھوتے تو بشارت رسول سورہ نصر سن کر آبدیدہ ہوجاتے، میدان جوش کی سیر کرتے تو اعلان کرتے، ”أینقص الدین وأنا حي ”اور منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں، آپ کی شخصیت کے یہ مختلف رنگ دین کے تقاضوں کے مطابق ہیں، جیسا دین کا تقاضہ ویسا معاملہ، اسی لئے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا اللہ کے رسول سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا کون ہے، تو انہوں نے کہا حضرت ابو بکر پھر سوال کیا گیا کون تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پھر سوال کیا گیا کون تو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ پھر سوال کیا گیا تو خاموش ہوگئیں (روایت ملاحظہ ہو،ترمذی صفحہ207 باب مناقب ابوبکر)

 ”عن عبد اللہ بن شفيق قال قلت لعائشۃ ای أصحاب  النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان احب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قالت ابو بکر قلت ثم من قالت عمر قلت ثم من قالت ثم ابو عبیدۃ الجراح قال قلت ثم من  قال فسکتت، ھذا حدیث حسن صحیح  ”

واقعات اور روایت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی عظمت اور عشق رسول کو ثابت کرتے ہیں، اور ہر مسلمان کو احساس دلاتے ہیں، اور زبان حال سے سوال کرتے ہیں، کیا وہ دعوت دین کے لئے گھر چھوڑتا ہے؟ کیا وہ دین کے لئے جوش میں آتا ہے، کیا وہ دینی مقاصد کے لئے ہوش سے کام لیتا ہے، کیا وہ دین کے لئے فہم و فراست کا استعمال کرتا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو بہت عمدہ، ورنہ فکر کرنے کی بات اور زندگی کو تبدیل کرنے کا موقع ہے صحابہ کے قدموں کے نشانات پر قدم رکھ فلاح یاب ہونے کی ضرورت ہے، اس سے ہمارہ بھی فائدہ ہوگا، دور حاضر کے تقاضوں پر ہمیں کس طرح کھڑا ہونا ہے، یہ بھی سمجھ میں آجائیگا، مشکلات کے ازالہ کی تدابیر بھی سمجھ میں آئیں گی، دنیا بھی بہتر ہوگی، اور آخرت میں بھی کامیابی و کامرانی حاصل ہوگی، فرمان رسول” أصحابی کاالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم ” پر بھی عمل ہوجائیگا،دنیا و آخرت کی خوشیاں بھی ہمارے قدموں میں ہونگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. سلام علیکم
    کیا کسی بینک کامال لوٹ کر کوئی سخی اور کریم کہلا سکتا ہے؟ کیا نیرو مودی کو سخی یا کریم کہا جا سکتا ہے ؟ اسی طرح اگر کوئی رسول کی بیٹی کا حق لوٹ کر سخی اور کریم کہلائے تو کیا دنیا اسے سخی قبول کریگی ، اور اسی طرح اگر کسی کی خلافت غصب کرکے کسی کی جگہ بیٹھ جانے سے کوئی صاحب منصب بن جاتا ہے ؟
    تعجب کی بات تو یہ ہے کہ فخر انبیا کی بیٹی کے قاتل کو صدیق کہا جانے لگا یہ امت نہ جانے کہاں بھٹک رہی ہے ، تاریخ طبری، صحیح بخاری و۔۔۔ ملاحظہ ہو ۔ جنمیں ان حوادث کا ذکر ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close