تاریخ و سیرتسیرت صحابہ

حضرت ابو بکر صدیقؓ

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

قمری و ہجری سال کا موجودہ مہینہ جمادی الثانی اس حیثیت سے کافی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں خلیفہ اول حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہے۔ آپ کا نام عبداللہ، کنیت ابوبکر اور آپ کے لقب صدیق اور عتیق ہیں۔ آپ کے والد کا نام عثمان اور کنیت ابو قحافہ تھی اور آپ کی والدہ کا نام سلمی اور کنیت ام الخیر تھی۔ صدیق کا مطلب ہمیشہ سچ بولنے اور سچ کی گواہی دینے والا اور عتیق کا مطلب آزاد، آپ کو عتیق کہنے کے کئی اسباب ہیں جن میں سے سب سے اہم سبب سنن ترمذی شریف کی کتاب المناقب میں حضرت سیدۃ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث پاک ہے کہ حضور  ﷺ  نے آپ کو جہنم سے آزادی کی خوشخبری دی اس لئے اس دن سے آپ کو عتیق کہا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش سے ہے۔ آپ عام الفیل کے ڈھائی سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ ساتویں پشت میں آپ کا شجرہ نسب پیارے آقا  ﷺ  کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے۔

آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے: عبداللہ (حضرت ابو بکر) بن ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر القرشی التیمی۔ اور میرے پیارے آقا  ﷺ  کا نسب مبارک اس طرح ہے: محمد (ﷺ) بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر القرشی التیمی (الی سیدنا آدم علیہ السلام)۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا نسب مرۃ بن کعب پر جا کر پیارے آقا  ﷺ  کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے۔ گویا کہ اس کے بعد حضرت سیدنا آدم علیہ السلام تک جو سلسلہ نسب شریف میرے آقا  ﷺ  کا ہے بالکل وہ ہی نسب مبارک خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ دو سال تین ماہ گیارہ دن خلافت کے منصب پر فائز رہ کر اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جاملے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔

آپ کی تاریخ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض مؤرخین کے ہاں آپ کی تاریخ وفات ۱۵ جمادی الثانی ہے اور بعض کے ہاں ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ہجری ہے۔ آپ کا نمازہ جنازہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا اور آپ کو پیارے آقا  ﷺ  کے پہلو مبارک میں دفن کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے حق اور شان میں قران کریم کی تقریباً پندرہ آیات نازل ہوئیں۔

امام علاؤ الدین علی بن حسام الدین کی مشہور زمانہ حدیث کی کتاب کنزالعمال فی سنن الاقوال و الافعال کے باب فضائل الصحابہ میں حدیث نمبر ۳۵۶۷۳ ہے کہ:

میرے پیارے آقا  ﷺ  نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے حسان کیا تم نے ابو بکر کے لئے بھی کوئی شعرکہا ہے؟ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ  ﷺ، تو میرے پیارے آقا  ﷺ  نے فرمایا کہ سناؤ تاکہ میں بھی سنوں (تم نے ابو بکر کے لئے کیا شعر کہا ہے)، تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے شعر سنایا:

و ثانی اثنین فی الغار المنیف و قد

طاف العدو بہ  اذ  یصعد الجبلا

و کان ردف رسول اللہ قد علموا

من البریۃ لم یعدل  بہ  رجلا

ترجمہ:   دو میں وہ دوسرا تھا جب دونوں غار ثور میں تھے اور دشمنوں نے ان پر چکر لگایا تھا جب وہ پہاڑ پر چڑھے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ  ﷺ  کے ردیف تھے، ان کو معلوم تھا کہ مرتبہ میں مخلوق سے کوئی ان کے برابر نہ ہے۔ (یعنی وہ جانتے تھے کہ مخلوق سے کوئی شخص بھی پیارے آقا  ﷺ  اور ان کے ردیف یعنی ساتھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے برابر نہ ہے۔)

جب حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ رباعی اشعار حضور  ﷺ کے سامنے پیش کئے تو سیددوعالم  ﷺ  مسکرا دئیے اور آپ کے نواجذ (اطراف کی داڑھیں ) نظر آنے لگیں اور حضور نے ارشاد فرمایا کہ اے حسان  وہ (ابو بکر) ایسے ہی ہیں جیسا تم نے کہا۔

اللہ اکبر۔ حضور نبی اکرم  ﷺ کو حضرت ابو بکر سے اتنی محبت کہ حضرت حسان سے خود پوچھتے ہیں کہ ابوبکر کے بارے میں اشعار گویا کہ کبھی ابو بکر رضی اللہ عنہ کی منقبت بھی کہی ہے؟ اور پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی منقبت سن کر میرے آقا ﷺ خوش ہوتے ہیں۔

اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی حضور نبی اکرم  ﷺ سے محبت اور عشق کا اندازہ اس انتہائی مشہور معروف واقعہ سے ہوتا ہے کہ جب غزوہ کے موقع پر نبی اکرم  ﷺ نے اصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مال لانے کو کہا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا مال لے آئے اور گھر والوں کے لئے دنیا کے مال ومتاع سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ جب نبی اکرم  ﷺ نے دریافت فرمایا کہ ابو بکر گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا تو آپ نے فرمایا اللہ اور اللہ کا رسول کافی ہے۔ اس واقعہ کا قلندر لاہوری حضرت ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بانگ درا  میں کچھ اس انداز سے بہت پیارا نقشہ کھینچا ہے:

لے آیا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت

ہر چیز جس سے چشم جہاں میں ہو اعتبار

بولے حضور( ﷺ) چاہئے فکر عیال بھی

کہنے لگا وہ عشق و محبت کا راز دار

اے تجھ سے دیدہ مہ و انجم فروغ گیر

اے تیری ذات باعث تکوین روزگار

پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس

صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول (ﷺ) بس

والسلام

مزید دکھائیں

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ آپ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے الشریعہ و القانون (ایل ایل بی آنرز، شریعہ اینڈ لاء) کی ڈگری حاصل کی۔ آپ جدید قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین پر بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد میں دو سال قانون کی پریکٹس کی۔ اب اپنے آبائی شہر رحیم یار خان میں خواجہ فرید پوسٹ گریجوئیٹ کالج کے شعبہ اسلامیات میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہے ہيں۔ آپ کے ریسرچ آرٹیکلز مختلف اخبارات، جرائد، میگزین اور ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہيں۔

متعلقہ

Close