تاریخ و سیرتسیرت صحابہ

حضرت امیر معاویہؓ : اہل بیت کی نظر میں

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

عدل وانصاف،جودوسخا،صدق ووفا،امانت ودیانت،شرافت ومتانت،ان تمام رنگوں کوبہ یک وقت اکھٹا کیجئے توجس پاکبازشخصیت کا خاکہ بنتا ہےوہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں، جی ہاں! ان کی پوری زندگی ان قیمتی اوصاف کا نقش جمیل ہے، ان کی پوری ہستی اوصاف عالیہ کی مجسم تصویرہے، شرافت و سنجیدگی جن کے کردار سے ٹپکتی ہے، ذکاوت و ذہانت جن کی ایک ایک ادا سے ہویدا ہے، صدق و راست بازی جن کی گفتگو کا مظہر ہے، عدل و انصاف جن کی شخصیت کا جزو لاینفک ہے، رعب و دبدبہ جن کی امتیازی شان ہے، یہ وہ باکمال شخصیت ہیں جن کو حضرت امیر معاویہؓ کہا جاتاہے۔

 نام معاویہ، لقب ابو عبد الرحمن والد کا نام ابو سفیانؓ والدہ کا نام ہندہؓ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے اور فتح مکہ کےدن اپنے والد سیدنا حضرت ابوسفیان کے ہمراہ اسلام لائے،آپنے جب اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورؐنے انھیں مبارکباد دی اور مرحبا فرمایا(البدایہ والنہایہ ۸؍۱۱۷)آپ مکہ کے اُن چنندہ لوگوںمیں سے تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے، اسی لئے اسلام لانے کے بعد قرآن مجید کو لکھنے والی جماعت میں شامل ہوئے اور پوری دیانت داری کے ساتھ کتابت ِقرآن کے فرائض انجام دئے، آپؓکی بہن حضرت امّ حبیبہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ(بیوی) ہیں ؛ اس نسبت سے آپؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برادرِ نسبتی (سالے) ہوئے، جسمانی لحاظ سے لحیم و شحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی، آنکھیں موٹی، گھنی داڑھی، وضع قطع چال ڈھال میں بظاہر شان و شوکت نمایاں تھی، روحانی اعتبار سے زہد وتقوی، تواضع و انکساری، اخلاص وللہیت، علم وفضل، فقہ واجتہاد، تقریر وخطابت، غرباء پروری، خدمت خلق، مہمان نوازی، مخالفین کے ساتھ حسن سلوک، فیاضی وسخاوت، اور خوف الہی کا عکس آپ کی زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے، آپ خلفائے اربعہ کے بعد خلیفۂ عادل شمار کئے جاتے ہیں، آپ کی خلافت ۶۴لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی، آپ کے دورِ خلافت میں بڑے اہم کارنامے انجام دئے گئے ہیں جس کی ایک طویل فہرست ہے۔

حضرت امیر معاویہ ؓ تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیت ہیں، جن کے وجود ِ بابرکات سے اسلام کو بڑی تقویت ملی، ان کے دور حکومت میں اسلام کو پھیلنے اور پھولنے کا موقع ملا، لیکن اس کے باوجود یزید کی آڑ لے کر امیر المومنین سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کو بد نام کرنے کے معاملہ میں دشمنانِ صحابہ کا مسموم ذہن شروع ہی سے کار فرما رہا، بے سروپا افسانے گھڑے گئے، الزامات کے تیر و تفنگ داغے گئے،آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی اور ایسا طوفان ِ بدتمیزی برپا کیاگیاکہ اس کی لہروں میں اچھے خاصے فہیم و دانا،سنجیدہ و متین علماء بھی بہہ گئے، وہ حضرت امیر معاویہ ؓکی غلطیاںشمار کرنے لگے اور انہیں دشمن ِاہل ِبیت قراردینے لگے،جبکہ تاریخ و سیر کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہےکہ حضرت امیر معاویہؓ اور اہل ِبیت کے درمیان نہ صرف رشتہ داری اور خاندانی مراسم تھے ؛بلکہ آپس میں اخوت و محبت کا مضبوط رشتہ بھی تھا، ایک دوسرے سے ہمدردی اور خیرسگالی کا صالح جذبہ تھا، وقتی جذبات اور تعصب و ہٹ دھرمی کی رنگین عینک نکال کر ٹھنڈے دل و دماغ سے حضرت معاویہ ؓ اوراہل ِبیت کے حالات اور تعلقات کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ جس معاویہؓ کو خانوادہ علی ؓکا دشمن سمجھا جاتا ہے، خود اہل ِ بیت سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں اور سیدنا معاویہ ؓکے دل میں خانوادہ علیؓکے حوالہ سے کتنی محبت و عقیدت تھی، اور باہم کیسے گہرے مراسم اوردوستانہ تعلقات تھے اور وہ ایک دوسرے کی کس قدر عزت و تکریم کرتے تھے، ذیل میں اس کے چند نقوش پیش کئے جارہے ہیں۔

حضرت معاویہ نبی اکرمؐ کی نظر میں

اہل ِ بیت کے بانی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امیر معاویہ ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں محدثین نے احادیث کی کتابوں میں اس کو جمع کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہےکہ حضرت امیر معاویہؓ کی قدرو منزلت نگاہِ نبوت میں کس قدر تھی، حضرت امیر معاویہؓ کی اہمیت و فضیلت کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کاتبین ِ وحی میں شامل فرمایا ہے، یہ دلیل ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ امانت دار، دیانت دار اورقابل اعتماد و اطمینان ہیں،اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے ان کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ‘‘ اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پانے والابنادے اور ان کے ذریعہ لوگوں ہدایت دےدے(ترمذی، باب مناقب معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه، حدیث نمبر ۳۸۴۲)ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ ! معاویہ کو قرآن اور حساب کا علم عطا فرمااور اسے عذاب سے نجات دے۔ (کنزل العمال، باب معاویہ ؓ، حدیث نمبر ۳۷۵۱۲)اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا‘‘ میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری لڑائیوں کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے( بخاری، باب ما قيل في قتال الروم، حدیث نمبر ۲۹۲۴) تاریخ نویسوں نے لکھا ہےکہ سب سے پہلے بحری راستہ سے جنگ کا آغاز حضرت امیر معاویہؓ نے کیا ہے اس لئے وہ حدیث میں مذکورہ فضیلت کے مصداق ہیں، اس کے علاوہ اور بھی حدیثیں ہیں جس سے حضرت امیر معاویہؓ کی اہمیت و فضیلت اور ان کی رفعت و منزلت کاپتہ چلتا ہے۔

حضرت امیر معاویہ علی مرتضیٰ کی نظر میں 

 حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت علیؓکے درمیان قاتلانِ عثمان کے بارے میں شدید اختلاف رہا اور اس اختلاف کی وجہ سے جنگ صفین کا سانحہ پیش آیا، اوردونوں طرف ہزاروں لوگ شہید ہوئے، زمینی علاقے منقسم ہوگئے، بایں ہمہ ان دونوں کے دل متحدتھے، وہ باہم ایک دوسرے کے تئیں محبت و مؤدت رکھتے تھے، ایک دوسرے پر طعن و تشنع سے گریز کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ جنگ صفین کے بعد کچھ لوگوں نے اہلِ شام اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک گشتی مراسلہ اپنے ماتحت علاقہ کے لوگوں کو بھیجا، اور تاکید کی کہ کوئی بھی شخص حضرت معاویہؓ اور اہل شام کو بُرا بھلا نہ کہے، حضرت علی ؓنے اپنے خط میں لکھا کہ’’ہمارے معاملے کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہمارا اور اور اہل شام (معاویہ )کا مقابلہ ہوا اور یہ بات تو ظاہر ہےکہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہے، ہمارا اوران کانبی ایک ہے، ہماری اور ان کی دعوت ایک ہے، اللہ پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صدیق کرنے میں دونوں کا برابر ہیں، صرف خونِ عثمان کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان میں اختلاف ہوااور ہم اس سے بری ہیں لیکن معاویہ میرے بھائی ہیں ( نہج البلاغہ۱۵۱)اسی طرح حضرت علی ؓسے پوچھا گیاکہ دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ فِي الْجَنَّةِ‘‘ہمارے اور ان کے لشکر کے مقتولین جنت میں جائیں گے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، باب ما ذکر فی الصفین، حدیث نمبر ۳۷۸۸۰)اسی لئے تاریخ کی کتابوںمیں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےلشکر کے مقتولین کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں غسل دیا جائے اور کفن دیا جائے، پھر انہوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اسی طرح حضرت سیدنا علی ٔمرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا: حضرت معاویہ رضی اﷲعنہ کی امارت کو بھی غنیمت سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے (بحوالہ شرح عقیدہ واسطیہ)

حضرت معاویہؓ حضرات حسنینؓ کے نظرمیں

 حضرت علی ؓ کے صاحب زادے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓحضرت امیر معاویہؓ سے خاص تعلق رکھتے تھے، جب کہ حضرات حسنینؓکے سامنے جنگ صفین ہوئی اور امیر معاویہؓ ان کے والد کے خلاف لڑرہے تھے، اور ہزاروں لوگ اس جنگ میں شہید ہوچکے تھے،بے شمار عورتیں بیوہ ہوچکی تھیں، اور کئی بچے یتیم ہوچکے تھے، اور ان کے والد کی خلافت کے بعض حصوں پر حضرت معاویہ قبضہ کرچکےتھے، یہ سب باتیں حضرات حسنین کو معلوم تھیں اس کے باوجود حضرات حسنین ؓ حضرت امیر معاویہ سے تعلقات قائم رکھتے ہیں، حضرات حسنینؓ حضرت علی ؓکے بعد میں خلافت کا اہل حضرت معاویہ ؓ کو ہی سمجھتے تھے، اسی لئے حضرت حسنؓ نے اپنی خلافت حضرت معاویہؓ کو سونپ دی اور ان سے صلح کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، یہ محض ایک صلح نہیں تھی بلکہ امت مسلمہ کو کشت و خون سے روکنے کی ایک بہترین تدبیر تھی جس کی پیش گوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے بتلادی، حضرت حسن کی اس صلح کے بارے میں حضرت امام باقرؒ نے کہاآپ نے جو کچھ کیا وہ اس امت کے لئے ہر اس چیز سی بہتر تھا جس پر کبھی سورج طلوع ہوا (بحارا الانوار،۱۰؍۱۶۴۱)

اسی طرح حضرت حسین ؓنے بھی حضرت امیر معاویہؓ کے ہاتھ پربیعت فرمایا اور ان کے ماتحتی میں کئے جنگیں لڑیں، اور ان سے تعلقات بلکہ رشتہ داری بنائے رکھے ہوئےتھے، اس لئے حضرت امیر معاویہؓ کی حقیقی بھانجی آمنہ بنت میمونہ ؒحضرت حسین کی پہلی بیوی تھی اس لحاظ سے دونوں کے درمیان سسر اور داماد کا رشتہ بھی قائم تھا، اگر حضرات حسنینؓ کے دل رائی کے دانہ کے برابر بھی حضرت معاویہؓ سے صاف نہ ہوتے تو وہ کبھی بھی ان سے صلح نہیں کرتے اور ان کی ماتحتی میں جنگیں نہیں لڑتے، ان کا اس طرح نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حضرت امیر معاویہؓ سے عقیدت و محبت رکھتے تھے اور ان کا بے حد ادب و احترام کرتےتھے، ان کے فیصلو ںکو صحیح مانتے تھے، کتب تاریخ و سیر اس پر شاہد ہیں کہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جایا کرتے تھے وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے، محبت و شفقت سے پیش آتے اور اپنے برابر تخت پر بٹھاتے اور لاکھوں درہم ان دونوں کو عطا کرتے،حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے او ر حضرت معاویہ ؓ ان کو وظائف او رعطایا سے نوازتے(البدایہ و النہایہ،۸؍۱۵۰)

 ان تاریخی حقائق سے اتنی بات تو ثابت ہوتی ہےکہ حضرت امیر معاویہ اور اہل ِ بیت کے درمیان دوستانہ اور ہمدردانہ روابط تھے، اجتہادی غلطیوں اور اختلافات کے باوجود وہ ایک دوسرے کا ادب و احترام کرتے تھے، ایک دوسرے کے خلاف غلط بیانی سے گریز کرتے تھے، عزت و حرمت کو سرِبازار نیلام نہیں کرتے تھے، اگر کوئی ان کے سامنےفریق مخالف کی برائی کرتا، یااس کی عزت کو تارتار کرتا تو اسے سختی کے ساتھ منع کردیتے تھے۔

اہل بیت امیر معاویہؓ کی نظرمیں 

مندرجہ بالا تفاصیل سے بخوبی معلوم ہوتا ہےکہ اہل ِ بیت کی نظر میں حضرت امیر معاویہؓ کا کیا مقام و مرتبہ ہے اور دوسری طرف حضرت امیر معاویہؓکے دل میںبھی اہل ِبیت کے حوالہ سے یہی صالح جذبات تھے، ان کا رویہ بھی حضرات اہل ِ بیت سےہمدردانہ اور مشفقانہ تھا، وہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرتے تھے اسی طرح آپ کے اہل ِ خاندان کی عزت و توقیر کرتےتھے، اہل بیت سے حضرت امیر معاویہ کو خصوصی تعلق تھا، اسی لئے عین جنگ کے موقع پر قیصر روم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاقے پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا، اُس کا خیال تھا کہ مسلمان آپس میں دست بہ گریباں ہیں اور مجھے اس سے اچھا موقع پھر کبھی میسر نہیں آئے گا، اس نے سوچا کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اندرونی طور پر سخت خلفشار میں ہیں ان کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ چل رہی ہے، میرے اس اقدام سے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوں گے،جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قیصر روم کے خطرناک اور ناپاک عزائم کی اطلاع ملی تو بے حدفکرمند ہوئے، کیونکہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنا مشکل تھا،لیکن جب قیصرِ روم کے اس ناپاک ارادے کا علم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہوا تو وہ اسی وقت رعب و جلال سےبھرا ہو ا ایک خط قیصر روم کے نام تحریر فرمایاجس میں قیصر ِروم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ: ائے لعنتی انسان ! مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے شہروں کی طرف واپس پلٹ نہ گیا تو کان کھول کر سن !پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی(حضرت علیؓ) تیرے خلاف صلح کرلیں گے،پھر تجھے تیرے ملک سے نکال دیں گے اور زمین باوجود وسعت کے تجھ پر تنگ کردیں گے(البدایہ و النہایہ،۸؍۱۱۹) خط کیا تھا؟ ایک مؤثر ہتھیار تھا، جس میں شمشیرکی تیزی اور بادل کی گھن گھرج تھی، جسے پڑھ کر قیصر روم کے اوسان خطا ہوگئے، قیصر روم پر ایسی دہشت اور ایسا رعب طاری ہوا کہ ا س کے قدم جہا ں تھے وہیں رک گئے،اگر حضرت امیر معاویہؓ کو حضرت علی ؓ سے دلی بغض ہوتا اور ان کو اپنا دشمن سمجھتے تو قیصر ِ روم کےحلیف بن کر حضرت علیؓ کے خلاف محاذ کھول دیتے؛ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ ایسا نہ کیا ؛ کیو نکہ ان کے دل میں دامادِ رسول ؐ کی عزت تھی، ان کو اپنا بھائی سمجھتے تھے، اسی لئے جب حضرت علی ؓ کی شہادت ہوئی تو حضرت معاویہؓ کو بہت افسوس ہوا اور بہت غمگین ہوئے، حضرت امیر معاویہؓکو جب کبھی حضرت علی ؓکی یاد آتی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے، حضرت ضرار بن ضمرہ کنانیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہؓکی خدمت میں گیا تو حضرت معاویہ نے ان سے فرمایا کہ میرے سامنے حضرت علیؓکے اوصاف بیان کیجیے، توحضرت ضرارؓنے کہا اے امیر المومنین !آپ مجھےمعذور سمجھے، اس پر حضرت معاویہؓنے کہا کہ میںتمہارا کوئی عذر قبول نہیں کروں گا،علیؓ کے اوصاف جمیلہ ہم سے بیان کرنے ہی ہوں گے، حضرت ضرارؓ نے کہا کہ اگر ان کے اوصاف کو بیان کرنا ضروری ہی ہے تو سنئے کہ حضرت علیؓ اونچے مقصد والے، بڑی عزت والے اور بڑے طاقتور تھے، فیصلہ کن بات کہتے اور عدل و انصاف والافیصلہ کرتے تھے، آپ کے ہر پہلو سے علم پھوٹتا تھا،( یعنی آپ کے اقوال و افعال اور حرکات و سکنات سے لوگوں کو علمی فائدہ ہوتا تھا) اور ہر طرف سے دانائی ظاہر ہوتی تھی، دنیا اور دنیا کی رونق سے ان کو وحشت تھی، رات اور رات کے اندھیرے سے ان کا دل بڑا مانوس تھا،( یعنی رات کی عبادت میں ان کا دل بہت لگتا تھا) اللہ کی قسم!وہ بہت زیادہ رونے والے اور بہت زیادہ فکرمند رہنے والے تھے، اپنی ہتھیلیوں کو الٹتے پلٹتے اور اپنے نفس کو خطاب فرماتے، سادہ اور مختصر لباس اورسادہ کھانا پسند تھا، اللہ کی قسم! وہ ہمارے ساتھ ایک عام آدمی کی طرح رہتے؛ جب ہم ان کے پاس جاتے تو ہمیں اپنے قریب بیٹھا لیتے اور جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو ضرور جواب دیتے، اگرچہ وہ ہم سے بہت گھل مل کر رہتے تھے؛ لیکن اس کے باوجود ان کی ہیبت کی وجہ سے ہم ان سے بات نہیں کرتے تھے؛ جب آپ تبسم فرماتے تو آپ کے دانت پروئے ہوئے موتیوں کی طرح نظر آتے، دینداروں کی قدر کرتے، مسکینوں سے محبت رکھتے، کوئی طاقتور غلط دعوے میں کامیابی کی آپ سے توقع نہ رکھ سکتا، اور کوئی کمزور آپ کےانصاف سے نا امید نہ ہوتا، اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوںکہ! میں نے ان کو ایک دفعہ ایسے وقت میں کھڑے ہوئے دیکھا کہ جب رات کی تاریکی چھا چکی تھی، اور ستارے ڈوب چکے تھے، اور آپ اپنی محراب میں اپنی ڈاڑھی پکڑے ہوئے، جھکے ہوئے تھے، اور اس آدمی کی طرح تلملا رہے تھے جسے کسی بچھونے کاٹ لیا ہو، اور غمگین آدمی کی طرح رو رہے تھے، اور ان کی صدا گویا اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ باربار ر’’ یاربنا یا ربنا ‘‘ فرمارہے تھے، اور اللہ کے سامنے گڑ گڑا تے، پھر دنیا کو مخاطب ہوکر فرماتے کہ اے دنیا! تو مجھے دھوکا دینا چاہتی ہے، میری طرف جھانک رہی ہے، مجھ سے دور ہو جا، مجھ سے دور ہو جا، کسی اور کو جاکر دھوکا دے، میں نے تجھے تین طلاق دی ہے؛ کیونکہ تیری عمر بہت تھوڑی ہے، اور تیری مجلس بہت گھٹیا ہے، تیری وجہ سے آدمی آسانی سے خطرے میں مبتلا ہو جاتا ہے، ہائے ہائے( میں کیا کروں) زادِ سفر تھوڑا ہے، اور سفر لمبا ہے، ہر راستہ وحشت ناک ہے، یہ سن کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکے، اور اپنی آستین سے ان کو پوچھنے لگے، اورمجلس میں موجود لوگ ہچکیاں لے کر اتنا رونے لگے کہ گویاکہ گلے پھٹ گئے، اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک بے شک ابوالحسن (یعنی حضرت علی) ایسے ہی تھے اللہ ان پر رحمت نازل فرمائے(حیاۃ الصحابہ، ۱؍۵۸)

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہےکہ ہمیں حق بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور کج روی اور کج فکری سے ہماری حفاظت فرمائے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close