تاریخ و سیرت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط پنجم)

عظمت علی

حضرت عیسیٰ کی نبوت

امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ رسول خدا  ﷺ کے فرامین کا اتباع کرواور جو کچھ خداوندتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کا اقرار کرو۔ ہدایت کی نشانیوں کی پیروی کرو کیونکہ یہی امانت اورتقوای الٰہی کی علامت ہے۔ جان لو کہ جوشخص عیسیٰ ابن مریم کا انکار کرے اور آپ کے علاوہ تمام انبیاء کااقرا ر کرے پھربھی وہ دائرہ ایمان سے خالی ہے۔ (بحارالانوارج ۲۳ص۹۶ح۳)

 رسول خدا  ﷺ کا ارشادگرامی ہے:جبرئیل میرے پاس ایک کتاب لے کر نازل ہوئے جس میں مجھ سے ماسبق بادشاہوں کا ذکر تھا اور اس میں مجھ سے ماقبل کے انبیا ء و مرسلین کا بھی ذکر موجود تھا۔ اشبخ بن اشجان ایک بادشاہ تھا جس کانام ’’الکیس‘‘تھا۔ اس نے ایک سو چھیاسٹھ برس حکومت کی۔ اس کی ابتدائی پچاس برس کے دوران حکومت اللہ نے جناب عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث فرمایا۔ آپ کو نور، علم، حکمت، انبیاء ماسبق کے تمام علوم اور اور علم انجیل بھی عطا کیا گیا۔ اللہ آپ کو بیت المقدس، بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ خدا، کتاب و حکمت اور اس کے رسولوں کے ایمان کی طرف دعوت دیں مگر اکثر لوگوں نے کفر و سرکشی کی بناء پر آپ کا انکار کردیا۔ جب انہوں نے انکار کیا تو جناب عیسیٰ نے بارگاہ خداوند ی میں دعا کی اوراپنے ارادہ پر قائم و دائم رہے۔ آپ کی بددعا نے اثر دکھایا تو ان میں کچھ لوگ شیاطین کی شکل میں تبدیل ہوگئے تاکہ لوگ اللہ کی علامات سے عبرت حاصل کریں۔ لیکن جو لوگ کفرو سرکشی میں مبتلا تھے، ان میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اس لئے جناب عیسیٰ بیت المقدس کی طرف تشریف لائے اور ۳۳ ؍برس تک خداوندمتعال کی طرف دعوت دیتے رہے۔ اس کے بعد یہودیوں نے آپ کا پیچھا کیا اور ان لوگوں نے دعویٰ کیاکہ انہوں نے آپ کو خوب ستایا اور زندہ زمین میں دفن کردیا۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہودیوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کیااورسولی لٹکا دیا جبکہ خدا نے یہودیوں کو آپ پر مسلط نہیں کیابلکہ ان کے سامنے آپ کی شبیہ بن گئی۔ یہودی نہ آپ کو ستا سکے، نہ زمین میں دفن کرسکے اور نہ ہی آپ کے قتل اور سولی پر چڑھانے پر قادر ہوسکے جیساکہ اللہ کاارشاد ہے :’’انی متوفیک۔ ۔ ۔ کفروا۔ ‘‘

میں تمہاری مدت قیام دنیا پوری کرنے والے اور تمہیں اپنی طرف اٹھا لینے اور تمہیں کفار کی خباثت سے نجات دلانے والا ہوں۔ (آل عمران؍۵۵)

وہ آپ کو قتل اورصلیب پر لٹکا نے کے قابل نہ تھے ورنہ آیت الٰہی کی تکذیب ہوجاتی جیساکہ ارشاد ہوتاہے:’’بل رفعہ اللہ۔ ۔ ۔ حکیما۔ ‘‘

بلکہ خدانے اپنی طرف اٹھالیا اور خدا صاحب غلبہ اور صاحب حکمت بھی ہے۔ (سورہ نساء ؍۱۵۸)

جب اللہ آپ کو اٹھاناچاہاتو آپ کی طرف وحی کی کہ آپ نورخدا، حکمت الٰہی اور علم کتاب کو شمعون بن حمون الصفا اپنے خلیفہ کو ودیعت کردیں اورآپ نے ایسا ہی کیا۔ (بحارالانوار ج ۱۴ ص ۵۱۵ح۴)

 صفوان بن یحییٰ سے منقو ل ہے کہ میں نے امام رضاعلیہ السلام سے عرض کیاکہ اللہ کے آپ کو محمد تقی علیہ السلام کی عطا سے قبل میں آپ سے آپ کے مابعد کے سلسلے میں سوال کیا کرتاتھا اورآپ فرمایاکرتے تھے کہ خداوندمتعال مجھے ایک فرزند عطا کرے گا۔ جب اللہ نے آپ کو وہ فزند عطا کیا تو ہماری آنکھیں روشن ومنور ہوچلیں۔ اللہ ہمیں کبھی بھی آپ کے رنج و غم کے ایام نہ دکھائے !لیکن اگرا یساہو گیا تو ہمیں کس کا اتباع کرناہوگا ؟

آپ نے محمد تقی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایاجو کہ آپ کے سامنے کھڑے تھے۔

میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جائو!یہ بچہ صرف تین برس کا ہے!

امام نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کے سامنے حجت خداقرار ہوئے جبکہ آپ کی عمر صرف تین سال کی تھی۔ (کافی ج ۱ ص ۳۲۱ح۱۰)

 امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے فرزند امام محمدتقی علیہ السلام کی ولادت سے قبل ارشاد فرمایا:خدا کی قسم ! اللہ ہم میں سے ایک فرزند کو منتخب فرمائے گا۔ جس کے ذریعہ حق اور اہل حق ثابت ہوں گے اروباطل اور اہل باطل تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ اس کے ایک برس بعد امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ اس وقت آپ نے فرمایا:یہ ابوجعفر (محمدتقی )ہیں۔ میں ان کو اپنا نائب بناتاہوں اور اپنی جگہ بٹھاتاہوں۔ ہم اہل بیت کے چھوٹے، اپنے بڑوں سے میراث پاتے ہیں۔ کہا گیا کہ یہ بچہ توصرف تین برس کا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام اس وقت حجت خدا تھے جب آپ کی عمر صرف تین سال تھی۔ (الخرائج و الجرائح ج۲ ص۸۹۹)

 امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام نے فرمایا:بروز قیامت عرش الٰہی پر چارایسی شخصیات ہوں گی جو اولین میں سے قرارپائیں گی اور چارا آخریں میں سے ہوں گی۔ اولین میں جناب نوح، جناب ابراہیم، جناب موسیٰ اور جناب عیسیٰ ہوں گے۔ اورآخرین میں چار حضرت رسول خدا  ﷺ، امام علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام ہوں گے۔ (تہذیب ج۵ ص۸۴ح۳)

 جناب ابوذر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:ایک روز میں مسجد میں داخل ہوا تو تنہا رسول خدا مسجد میں تشریف فرماتھے۔ اس لئے میں نے خلوت کو غنیمت جا نا اورآپ سے عرض کیا:اس دنیا میں کتنے انبیاء تشریف لائے ؟

آپ نے فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار

میں نے عرض کیا:ان میں سے مرسلین کتنے تھے ؟

آپ نے فرمایا: تین سو تیرہ

میں نے عرض کیا:سب سے پہلانبی کون تھے ؟

آپ نے فرمایا: جناب آدم

عرض کیا : وہ انبیا ء ومرسلین میں سے تھے؟

فرمایا:ہاں ! اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے خلق کیا ارو اس میں اپنی روح پھونکی۔ اے ابوذر ! چار نبی سریانی تھے :جناب آدم، جناب شیث، جناب اخنوح (ادریس آپ نے ہی سب سے پہلے قلم سے خط و کتابت کی )اورجناب نوح ہیں۔ چار انبیاء عربی تھے :جناب ہود، جناب صالح، جناب شعیب اور تمہارے نبی حضرت محمد مصطفی ہیں۔

بنی اسرائیل کے پہلے نبی جناب موسیٰ اور آخری نبی جناب عیسیٰ تھے اور ان دونوں کے درمیان چھ سو انبیاء تشریف لائے۔ ابوذر نے سوال کیا :اللہ نے کتنی کتابیں نازل کیں ؟

آپ نے فرمایا:ایک سو چار۔ اللہ جناب شیث کوپچا س، جناب ادریس کو تیس، جناب ابراہیم کو بیس  صحیفے عطاکئے۔ اس نے توریت، زبور، انجیل اور قرآن کو بھی نازل فرمایا۔ (الخصال ج ۲ ص۵۲۴)

نوٹ:اس مضمون میں درایت اورروایت کے صحیح السندہونے سے قطع نظر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق روایات کو جمع کیا گیا۔ (مترجم)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close