تاریخ و سیرتسیرت نبویﷺ

رسول اللہﷺ کی زندگی بعثت سے قبل

محمد صابر حسین ندوی

انسانیت کی تاریکی اور عرب کی شب دیجوری میں آفتاب نور عام ۹؍ربیع الاول؍دوشنبہ کی صبح صادق کو پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا، ولادت کے بعد آپ کے شفیق و کریم دادا محترم عبدالمطلب نے تین دن بعد شرفاء قریش کی دعوت کی اور آپ کا نام نامی ا سم گرامی محمد تجوویز کیا، سیرت نگاروں نے یہ بھی لکھا ہے، کہ آپ نے یہ نام پیدائش کے فوراً بعد مولود مسعود کو کعبہ میں لے جا کر رکھا تھا، لیکن بعد میں آپؐ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ نے فرشتہ سے بشارت پاکر آپؐ کا نام احمد رکھا، ان دونوں نام بارگاہ ایزدی او ر دربار رسالت میں اتنا محبوب ٹھہراکہ: آپؐ کی شفاعت کانام احمد،آپؐ کے لواء کا نام محمد،اور آپؐ کی امت ’’حمادون ‘‘ کہلاتی ہے۔ خیال رہے کہ آپ کے والدماجد چوبیس سال کی عمر میں جب کہ آپ بطن مادر میں تھے ؛انتقال ہو چکا تھا،یعنی آپؐ نے یتیمی کی حالت میں آنکھیں کھولیں، لیکن دادا محترم نے آپؐ کے لئے شفیق باپ کا کردار ادا کرتے ہوئے، بہترین پرورش کا انتظام کیا اور محض چار سال کی عمر میں آپ کی والدہ بھی داغ مفارقت دے گئیں، جس کے بعد کلی طو پرعبدالمطلب ہی آپ کی نگہداشت و پرداخت کی ذمہ دار ی سمبھالنے لگے۔ (تاریخ خضری:۱؍۶۲۔ رحمۃ اللعالمین:۱؍۳۸،۳۹)

مشیت الہی دیکھئے کہ :آپؐ ابھی ۸ سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ کے دادا محترم کا بھی انتقال ہو گیا، جس کا اثر اس قدر ہوا ؛کہ جب عبدالمطلب کو مقام’’ حجون‘‘ میں دفن کر نے کیلئے لے جایا جارہا تھا،تو آپ سسک سسک کر رو رہے تھے، ظاہر ہے کہ :آپ سے ایک ایسا شفیق داد جدا ہورہاتھا، جس نے آپ کو یتیمی میں سینہ سے لگا کر، دل میں گداز و حرارت پیدا کی تھی، آپ ہی نے مکہ میں دستور کے مطابق بہتر سے بہتر پرورش کی فکر کرتے ہوئے، دیہی علاقوں میں رضاعت کا بندوبست کیا تھا،جس کی سعادت دائی حلیمہ کے حق میں آئی تھی،جو خود اپنا قصہ یوں بیان کرتی ہیں کہ :وہ بہت ہی زیادہ قحط سالی، پریشان حالی، ضعف سالی،وقت کی ماند اور تھکن سے ٹوٹ چکی تھیں، لیکن یہ آپ ہی سعادت و خوش بختی تھی کہ سہیلیاں بھی رشک کر نے لگیں۔

دائی حلیمہ نے آپ کی تربیت میں کوئی کسر نہ رکھی اورآپ کو عمدہ اخلاق سے مزین کرتی رہیں، ہرچھ مہینہ کے بعد آپ کی والدہ کے پاس لے جاتیں اورماں کی ممتا کی چھاوں میں کچھ گزر بسر کرنے کے بعد اور شفقت مادری کی ٹھنڈی وپر سکون لمحات کے بعد واپس لے آتیں، یہاں تک کہ جب مدت رضاعت مکمل ہوئی ؛تب بھی آپ کو اتنا لگاؤ ہوگیا تھا کہ انہیں اپنے سے جدا کرنے کو تیار نہ ہوئیں، اور اپنی کھلی آنکھوں سے سعادت مندی کا نظارہ کرنے بعدمزید اپنے ساتھ رکھنے کی خواہش کی اور واپس لے گئیں، جہاں آپ ؐ نے بارہ سال کی عمر میں بکریاں چرائی تھی، اور عربی زبان کی فصاحت، دیہی علاقوں کی زندگی اور اس کی خصوصیات نیز رضاعی بھائی، بہنوں کی محبت اور بچپن کی حسین لمحات گزارے تھے، پھر آپ جب ہوشیار اور سمجھدار ہوگئے، اور بعض ایسے واقعات پیش آئے جو فطرت وعادت کے خلاف تھے، جس نے آپ کے رضاعی بھائی، بہنوں پر خاصا اثر ڈالا تھا، ایسے میں دائی حلیمہ نے آپ کو آپ کی والدہ کے سپرد کردیا۔ واضح رہے کہ بکریاں چرانا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ حکمت الہی اور مکہ کا رواج تھا اور حقیقتاً عالم انسانی کی غلہ بانی کادیباچہ تھا(ابن ہشام:۱؍۱۶۲ ومابعدھا)۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ کے یتیم ہو جانے اور بالخصوص دادا محترم کے انتقال کر جانے کے بعد آپ کی پرورش وپرداخت کے ذمہ دار آپ کے چچا عباس بن عبدالمطلب قرار پائے تھے، جو کہ آپ کے والد عبداللہ کے حقیقی بھائی تھے،اور اب آپ مکہ ہی میں زندگی گزارنے لگے، چونکہ آپ یتیم تھے اور مستقبل دشوار کن ہوسکتا تھا، لہذا آپ کو خاندانی پیشہ ؛تجارت میں شامل کر لیا گیا،جیسا کہ عرب تجارتی سلسلہ میں عموماً شام کا سفر کرتے تھے، چنانچہ اس دفعہ آپ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، جہاں ایک مشہور واقعہ پیش آیا جس کو اکثر سیرت نگار غلط بتاتے ہیں :کہ جب آپ بصری پہونچے تو بحیرہ راہب نے آپ کی نبوت کی نشانی کو ہیچان لیا، اور آپ کے چچا سے درخواست کی کہ :انہیں لوٹادیں، جب بحیرہ راہب سے سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا :کہ جب آپ پہاڑی کی جانب سے اتر رہے تھے، تو تمام درخت آپ کے لئے سجدہ ریز ہو گئے تھے۔ (مختصر السیرۃ؛شیخ عبداللہ۔ ۱۶،ابن ہشام:۱؍۱۸۰تا۱۸۳)

آپ کے بچپن کے قصوں 8 میں ایک قصہ ’’حرب فجار‘‘ کا بھی مشہور ہے،یہ وہ جنگ ہے جو اسلام سے پہلے قریش اورقیس عیلان کے درمیان ہوئی تھی،ابتداءً قیس غالب رہے، پھر قریش، بالآخر صلح پر جنگ کا خاتمہ ہوا، اس جنگ کی قیادت ابو سفیان کے دادا، اور یزید کے پرداداحرب بن امیہ کر رہے تھے، جوکہ اپنے سن وشرف کی وجہ سے قریش وکنانہ کے نزدیک بڑا مرتبہ رکھتا تھا،چونکہ کہا جاتا ہے ؛ کہ قریش اس میں حق پر تھے، اسی لئے آپ نے بھی شرکت کی، لیکن ابن ہشام نے یہ صراحت کی ہے کہ :آپ نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھا یا، اسی لئے اس جنگ کو فجاراس لئے کہاجاتا ہے کہ اس جنگ میں حرم اور حرام مہینے دونوں کو پامال کیاگیا تھا۔ ایسے ہی مختلف واقعات و حالات سے دوچار ہوتے ہوئے اور عام بچوں سے دور؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی سر پرستی و نگرانی میں پرورش پا رہے تھے، اگر کوئی غیر شرعی امر ہوتا ؛تو آپ کی آنکھ لگ جاتی یا آپ بے ہوش ہو جاتے، چنانچہ مشہور ہے کہ ؛جب چچا نے بناء کعبہ کے وقت دھوپ کی تپش اور گرماہٹ سے بچنے کے لئے ازار کھول کر سر سے باندھنے کو کہا توآپ کو اونگھ آگئی اور آپ زمین پر گر پڑے۔ (ابن ہشام:۱؍۱۸۴ تا۱۸۶۔ قلب جزیرۃ العرب:۳۶۰۔ تاریخ خضری:۱؍۶۳،بخاری:باب بنیان الکعبۃ۔ ۱؍۵۴۰)

اسی طرح آپ کے بچپن میں آپؐ کے بہت سے دوست تھے جیسے ابوبکر،ضمام بن ثعلبہ اور تجارت میں آپ کے ساتھی قس بن سائب تھے، جنہوں نے آگے چل کر اسلام بھی قبول کیا، اور آپ کی تعریف میں عمدہ کلمات کہے۔ نیز آپ ان اقعات میں شریک ہوتے تھے جس میں اکابرین شریک ہوتے، جن میں ’’حلف الفضول‘‘ کا واقعہ مشہور ہے،کہ جب جنگ فجار کے بعد عرب کے لوگ ٹوٹ چکے تھے، تب ایک دوسرے کی دیکھ بھال، نصرت و اعانت،ہمدردی و محبت، جا لوٹ کھسوٹ اور جنگوں سے دست برداری کے لئے عبداللہ بن جدعان تیمی کے مکان پر جمع ہوئے اور ایک ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں قریش یعنی بنی ہاشم، بنی عبدالمطلب،بنی اسد بن عبدالعزی،بنی زہرۃبن کلاب اور بنو تیم مرۃ وغیرہ شامل تھے،جس کی شروعات زبیر بن عبالمطلب نے کی، اس حلف سے آپ کو اتنا لگاؤ تھا کہ نبوت کے بعد بھی آپ اسے یاد کرتے اور اسے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر گردانتے اور کہتے :اگر مجھے اب بھی اس حلف کی طرف بلایا جائے ؛تو میں لبیک کہونگا (ابن ہشام:۱؍۱۳۳،۱۳۵۔ مختصرالسیرۃ:شیخ عبداللہ؍۳۰،۳۱)۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچپن ہی سے شریف النفس، نرم خو، انسان دوست اور حسن اخلاق کے پیکر تھے، مکہ مکرمہ میں آپ کی شرافت، عزت اور انت داری کا یہ عالم تھا کہ ؛لوگ آپ کو امین و صادق کہہ کر پکارتے تھے اور امانتیں رکھواتے تھے، اس سلسلہ میں یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ؛کعبہ کی تعمیر پختہ نہ ہونے کی وجہ سے، برسات کے موسم میں گرجاتی، اہل مکہ نے اسے پختہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن جب مقدس پتھر یعنی ’’حجر اسود‘‘ کو اس کے مقام پر رکھنے کی نوبت آئی، تو اس اعزاز کو پانے کے لئے قبیلے آپس میں جھگڑ نے لگے، تلواریں سوت لی گئیں، قریب تھا کہ ایک دوسرے کی گردن اڑادیں، خون کے پیالوں میں ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے کی قسمیں کھائی جانے لگیں، تب ہی ایک بزر گ ابو امیہ بن مغیرہ نامی نے یہ رائے دی کہ ؛جو کوئی مکہ میں صبح سویرے داخل ہوگا وہی ہمارے مقدمہ کا فیصل ہو گا۔ خدا کا یہ فیصلہ ہو اکہ سب سے پہلے مکہ میں آپؐ ہی داخل ہو ئے، شرفاء قریش منتظر تھے، آپ کو دیکھتے ہی خوش و خرم کہہ اٹھے :’’ھذالامین رضیناہ،ھذا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘یہ تو امین و صادق ہیں، ہم ان سے راضی ہیں، ….آپؐ نے اس نزاع کافیصلہ اس حکیمانہ انداز میں فرمایا ؛کہ تاریخ ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے، آپؐ نے ایک چادر منگوائی، اس پر حجر اسود کو رکھا اور ہر قبیلہ کے سرداروں سے کہا کہ :اس چادر کے ایک ایک کونے کو تھام لیں، !لیکن جب پتھر حجر اسود کی جگہ پر پہونچ گیا، تو آپ نے بنفس نفیس اسے اس مقام پر رکھ دیا۔ (دیکھئے:ابن ہشام:۱؍۱۹۲تا ۱۹۷،فقہ السیرۃ:۲۶،۶۳،بخاری:باب فضل مکۃ وبنیانھا:۱؍۲۱۵،تاریخ خضری:۱؍۶۴،۶۵)

یہ بات یقینی ہے کہ ہر ایک کو مستقبل اور بود و باش کی فکر ہوتی ہے، اب آپ ؐ کے چچا بوڑھے اور لاغر ہوگئے تھے اور ممالک کا سفر و تجارت سے قاصر ہوگئے تھے، چنانچہ آپؐ نے تجارت کا بار اپنے شانوں پر اٹھایا اور شام و بصری کے سفر پر نکل پڑے، لیکن صرف آپ کا ہی سرمایہ اور مال کافی نہ تھا، آپ کو اور زیادہ مال اور تجارت کے سلسلہ میں مزید اقدام کرنے کی ضرورت تھی، ایسے میں ایک خاتوں جن کا نام خدیجہ بن خویلد تھا،جو مکہ کے بڑے تاجروں میں تھی، جن کا سامان تجارت اہل قریش کے برابر ہوتا تھا، انہوں نے آپؐ سے دوگنی آمدنی کے بدلہ بیرونی تجارتی سفر کا مطالبہ کیا، آپ ؐ نے اسے قبول فرمایا اور پورے تین مہینہ بعد بہت زیادہ فائدہ کے ساتھ لوٹے، اور پوری امانت و دیانت کے ساتھ مال لوٹایا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وہ کمالات اور خوبیاں تھیں جنہیں دیکھ کر حضرت خدیجہ بہت متاثر ہوئیں اور آپ سے شادی کا راداہ ظاہر کیا جو کہ اپنے معاشرہ وقبیلہ کی سب سے زیادہ باوقار اور باعزت خاتون تھیں، حالانکہ آپ ۲۵ سالہ نوجوان اور ۴۰ سالہ خاتون تھیں، اور اس سے قبل دو شادیاں کر چکی تھیں اور کئی بچوں کی ماں بھی تھیں، چونکہ آپ شریفانہ کرداراور کریمانہ خصائص کی حامل خاتوں تھی،ایسے میں آپؐ نے پیغام کو شرف قبولیت بخشا، اورحضرت خدیجہ ہی کے گھر پر ۵۰۰ درہم اور روایتوں کے مطابق ۲۰ اونٹ مہرپر، چچا محترم نے خطبہ نکاح پڑھا،اس طرح آپ نے ازدواجی زندگی میں قدم رکھا، لیکن آپؐ کی اصل زندگی تو ہادی عالم و نبی آخر الزماں ہونا تھا،ایسے میں دنیوی زندگی میں الجھنا اور اس سے دل لگی کرنا آپ کے شایان شان نہیں تھا، چنانچہ آپ کا دل دنیاومافیھا سے بے زار،خلوت، تنہائی اور رب حقیقی کے جستجو میں منہمک ہوگیا،تاریخ میں آتا ہے کہ :آپ تمام تر سہولیات کے باوجود ہمیشہ دل میں ایک درد لئے پھرتے، حتی کہ آپ نے تنہا زندگی گزارنا شروع کی اور مکہ سے دور جاکر ایک پہاڑ پر جسے غار حرا کہتے ہیں ؛وہاں جا کر مختلف قسم کی فطری عبادتوں اور مراقبوں میں مشغول رہنے لگے۔ (ابن ہشام:۱؍۱۸۹،۱۹۰۔ فقہ السیرۃ:۵۹۔ تلقیح الفھوم:۷)

دراصل یہ علم ربانی اور بعثت نبوی کا دیباچہ اور با ر رسالت کے لئے تیار ہونا تھا، یہ موسی ؑ کی چلہ کشی اور عیسی کی تکبیر مسلسل کا جز تھا، جو نہ صرف سابقہ انبیاء بلکہ محمد مصطفی ﷺ کا بھی لازمہ بنا اور ساتھ ہی انسانیت کے لئے علم کے راستہ میں سر دھن نے اور اپنے آپ کو دنیاوی مشغلوں سے للہیت و ریاضت کا پابند بنانے کا پیغام بھی ٹھہرا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close