رسول اکرم ﷺ کا عدالتی طریق کار (دوسری قسط)

ترتیب:عبدالعزیز

قرائنی شہادت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قایم کردہ نظام عدل بعض جرائم کا ارتکاب کرنے کیلئے قرائنی شہادت قبول کرتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کے کردار کی برأت کیلئے قرآن مجید نے بادشاہ کے خاندان کے ایک رکن کی قرائنی شہادت پیش کرنے کی تجویز کا یوں حوالہ دیا ہے:
’’اور اس کے اپنے خاندان کے ایک گواہ نے گواہی دی: اگر اس کی قمیص سامنے سے پھٹی ہے تو یہ عورت سچ کہتی ہے اور یہ شخص جھوٹا ہے۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو یہ عورت جھوٹ بولتی ہے اور یہ سچا ہے۔ پس جب اس نے اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی دیکھی تو وہ بولا: یقینا یہ تم عورتوں کا فریب ہے۔ تمہارا فریب بیشک بہت بڑا ہے‘‘۔
ایسے مقدمات بھی بیان کئے گئے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرائنی شہادت قبول فرمائی۔ بچے کی ولدیت کا مشہور مقدمہ ایسی ہی شہادت پر فیصل ہوا تھا۔
تاہم یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اسلامی نظام عدل نے بلا امتیاز قرائنی شہادت کو قبول نہیں کیا ہے۔ یہ صرف وہاں قبول کی جاتی ہے جہاں قرآن نے واضح طور پر گواہوں کی تعداد مقرر نہیں کی، لیکن سنگین جرائم جو زندگی، عزت، جائداد، مذہب اور ریاست کے خلاف کئے گئے ہوں جو سخت سزا کے مستوجب ہوں۔ مثلاً رجم، ہاتھ کاٹنا، کوڑے لگانا اور ریاست سے جلا وطنی جیسے جرائم کا فیصلہ اور سزا کا انحصار قرائنی شہادت پر کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ اسلامی نظام عدل کا فقید المثال امتیاز ہے جو اسے دیگر عدالتی نظاموں سے زیادہ ترقی یافتہ اور ممتاز بناتا ہے۔ بطور مثال ایک مقدمہ قتل نیچے درج کیا جاتا ہے:
عبداللہ بن سہل اور محیصہ جہد و مشقت کے باعث خیبر گئے۔ بعد میں محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو قتل کر دیا گیا ہے اور ایک ندی یا چشمہ میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گیا اور ان پر الزام لگایا: ’’بخدا! تم نے اسے مار ڈالا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’بخدا! ہم نے اسے نہیں مارا‘‘۔ تب وہ چل پڑا اور اپنے لوگوں کے پاس پہنچا اور انھیں بتایا (جو کچھ اس نے خیبر کے یہودیوں سے سنا تھا)۔ وہ اس کا بڑا بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل مقدمہ کی رپورٹ کرنے اور اس کی تشریح کرنے چل پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ کو ہدایت فرمائی کہ پہلے اس کا بڑا بھائی بولے۔ پس حویصہ نے اپنا بیان دیا۔ پھر محیصہ بولا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمادیا: ’’یا وہ (یہود) تمہارے ساتھی کا خون بہا ادا کریں یا وہ جنگ کیلئے تیار ہوجائیں‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم تحریری طور پر بھیج دیا۔ انھوں نے تحریری جواب دیا: ’’ہم نے اسے قتل نہیں کیا‘‘۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن سے پوچھا: ’’کیا تم حلفیہ بیان دیتے ہو اور اپنے ساتھی کے خون کا حق ثابت کرتے ہو؟‘‘ انھوں نے انکار کر دیا۔ تب آپؐ نے پوچھا: ’’کیا تمہاری خاطر یہودی حلفیہ بیان دیں؟‘‘ انھوںنے کہا: ’’وہ مسلمان نہیں‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انھیں دیت میں سو اونٹ دیئے۔
ایک روایت میں ’’من ابل الصدقۃ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں جس کا مطلب ہے ’’آپؐ نے حکومت کی طرف سے یہ دیت ادا کردی‘‘۔
مقدمہ کی مندرجہ بالا تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ کی سماعت کیلئے مفصل طریق کار اختیار کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش چند مسلمانوں نے کی۔ انھوں نے یہودیوں سے دریافت کیا جن کے علاقہ میں قتل ہوا تھا:
’’وقالوا للذی وجد فیہم‘‘۔ موقعہ واردات کا معائنہ اور دائرہ کار کا تعین واضح طور پر ثابت کرتا ہے۔ پھر ان پر قتل کا الزام لگایا: ملزمان پر فرد جرم عاید کرنے کا طریق کار وضع ہوا۔ تفتیشی رپورٹ پر مقدمہ مدینہ میں عدالتِ انصاف میں پیش کر دیا گیا۔ باضابطہ سماعت ہوئی۔ بیانات سنے گئے اور گواہوں پر جرح ہوئی۔ ملزموں کو عدالت کا تحریری حکم بھیجا گیا۔ ملزمان پر تحریری فرد جرم عائد کی گئی تاکہ انھیں اپنے خلاف الزام کی صفائی کا پورا پورا موقع دیا جائے اور عدل کے تقاضے پورے ہوں، انھیں جرم کے سنگین عواقب سے بھی متنبہ کر دیا گیا۔ ان کا تحریری بیان (جواب دعویٰ) بھی حاصل کیا گیا۔ ملزمان سے تحریری جواب لینے کا یہ طریق کار اس دور کے حساب سے انتہائی ترقی یافتہ تھا، اس کی عدالتی اولیت اور عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا نے اب اس کی اہمیت کو پہچان کر عہد حاضر کے عدالتی نظاموں میں اپنایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عدالتی طریق کار تا ابد انسانیت کیلئے رہنما اور روشن مثال رہے گا۔ امام بخاری کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تحریری حکم مقدمہ کی تفتیش کیلئے خیبر میں تعینات اپنے ضلع مجسٹریٹ کی طرف بھیجا۔ البخاری کے نظریہ کا اظہار بابِ زیر بحث کے عنوان سے ہوتا ہے:
’’حاکم کا مراسلہ اپنے گورنر، ججوں کے نام‘‘: چشم دید گواہوں کی عدم موجودگی میں، مدعی اور تصدیق کرنے والے (تفتیشی عملہ) کو قسم اٹھانے کیلئے یا ملزم کی قسم قبول کرنے کیلئے کہا گیا جسے قبول کرنے سے انھوںنے انکار کر دیا۔
مندرجہ بالا کارروائی کے پیش نظر چشم دید گواہوں کی عدم موجودگی میں عدالت کو کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔ اس لئے چیف جسٹس نے محض قرائنی شہادت پر ملزموں کو کوئی سزا نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ دیت سرکاری خزانے سے ادا کر دی گئی تاکہ ایک مسلمان کا خون ضائع نہ جائے۔ ان فوجداری اور دیوانی مقدمات کی کارروائی سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کئے گئے اور آپؐ نے فیصل کئے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تفتیش کرنے، مقدمہ چلانے اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے مناسب انتظامی عملہ موجود تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت کا نظام عدالت سادہ، سستا اور جلد انصاف مہیا کرنے کے اصولوں پر قایم تھا۔ اس میں کورٹ فیس، وکالت اور دیگر عدالتی اخراجات کا کوئی تصور نہ تھا۔ اخراجاتِ مقدمہ انصاف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہ تھے۔ ایک عام شہری اپنے حق کے حصول کیلئے بغیر کسی خرچ کے کسی وقت بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا تھا۔ یہی اسلامی نظام عدالت کے نمایاں اوصاف ہیں۔
تفتیش اور قانونی کارروائی: کسی مقدمہ کا ابتدائی مرحلہ تفتیش ہے۔ یہ یقینی امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدید طرز کے تھانے قایم نہیں کئے تھے۔ مقدمات اور تنازعے براہ راست مدینہ میں چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوتے یا آپؐ کے نائبین کے سامنے پیش کئے جاتے جو مختلف ضلعی صدر مقامات پر تعینات تھے۔ تاریخی مواد سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو مقرر کیا ہوا تھا جو حسب ضرورت پولس افسروں کے فرائض انجام دیتے۔ صحیح البخاری میں حضرت انسؓ بن مالک کا ایک بیان ظاہر کرتا ہے کہ انصارِ مدینہ میں قیسؓ بن سعد کو پولس کی جمعیت کے سربراہ کے فرائض تفویض کئے گئے تھے:
’’قیس بند سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فرماں روا کے مامور کردہ پولس افسر کے طور پر اپنے فرائض بجا لاتے تھے‘‘۔
اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے الکرمانی نے واضح کیا ہے کہ لفظ ’’کون‘‘ کا تکرار اس عہدہ کے جاری رہنے کو ظاہر کرتا ہے(الاستمرار والدوام) یعنی پولس کا مستقل محکمہ تھا اور حضرت قیسؓ مسلسل اپنے عہدے پر مامور رہے۔ وہ عارضی طور پر مقرر نہیں کئے گئے تھے۔ ’’الشُرطہ‘‘ کی جمع ’’الشرط‘‘ (پولس) کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ ایک جمعیت موجود تھی جس کے سربراہ (صاحب الشرط) قیس تھے۔ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ ’’صاحب الشرط‘‘ کے معنی جمعیت کے سربراہ (کبیرہم) کے ہیں۔ قیسؓ اپنی اس سربراہ جمعیت کی حیثیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں آمد پر آپؐ کے آگے آگے چل رہے تھے اور آپؐ کے احکامات نافذ کرتے جارہے تھے۔
اسلامی ماخذ کی یہ تفصیل ثابت کرتی ہے کہ عہد رسالت میں ایک منظم اور منضبط انتظامیہ معرجِ وجود میں آچکی تھی جس کے فرائض میں امن عامہ کے قیام کے ساتھ ساتھ عدالتی احکام اور فیصلوں کی تنفیذ اور دیگر سرکاری امور کی انجام دہی تھی۔ اس دور میں یہ تصور تو نہیں تھا کہ بڑے بڑے دفاتر ہوں جن میں سرکاری عمال آج کی طرح بیٹھے ہوں مگر جہاں تک انتظامیہ کے اغراض و مقاصد اور انھیں بروئے کار لانے کا تعلق ہے وہ بدرجہ اتم موجود تھے۔ پولس اور انتظامیہ کی جمعیت سے متعلق کچھ اور نام بھی بیان کئے گئے ہیں۔ انیس تصغیر انس بن الضحاک السلمی ایک زنا کے مقدمہ میں جو ان کے سپرد کیا گیا تھا افسر تفتیش مقرر ہوئے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ اور زیدؓ بن الجہینی نے یہ مقدمہ یوں بیان کیا ہے:
’’ایک بدو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرما دیجئے۔ اس کا مخالف اٹھ کھڑا ہوا اور بولا: ’’اس نے سچ کہا ہے، پس ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیے‘‘۔ تب بدو نے بیان کیا: ’’میرا بیٹا اس کا ملازم تھا جس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ لوگوں نے مجھے کہاکہ تمہارا بیٹا سنگساری کا مستوجب ہے، پس میں نے سو بکریاں اور ایک غلام خوں بہا دیا۔ پھر میں نے عالموں سے پوچھا جنھوںنے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کا مستوجب ہے‘‘۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں یقینا تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، جہاں تک تمہاری بکریوں اور غلام کا تعلق ہے تو وہ تمہیں واپس دی جاتی ہیں۔ تمہارا بیٹا سوکوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کا مستحق ہے، جہاں تک تمہارا تعلق ہے اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ (معاملہ کی تفتیش کرو)، اگر وہ اقبالِ جرم کرے تو اسے سنگسار کرو‘‘۔
اس مقدمہ میں انیس کے سپرد مقدمہ کی تفتیش کی گئی تھی اور اسے اختیار دیا گیا تھا کہ اگر ملزمہ اقبال جرم کرے تو عدالت کے حکم کا نفاذ کرے۔
ابو بردہ بن نیر کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفتیش اور تحقیقات کیلئے مامور کیا تھا۔ الترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل مقدمہ میں جو البرائؓ بن عازب نے روایت کیا ہے افسر تفتیش تھے:
’’میرے چچا ابو بردہ بن نیر میرے پاس سے گزرے وہ ایک جھنڈا لئے ہوئے تھے جس کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے کیا تھا۔ میں نے ان سے دریافت کیا: ’’آپ کا کہاں جانے کا قصد ہے؟‘‘ انھوںنے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے اس کے مرنے کے بعد شادی کرلی ہے، اس لئے آپؐ نے مجھے اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ہے‘‘۔
یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ جونہی کسی جرم کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کی جاتی، آپؐ فوراً اس کی تفتیش کسی ذمہ دار شخص کے سپرد فرماتے۔
معاویہؓ کے والد قرہ کے سپرد ایک مقدمہ کی تفتیش کی گئی تھی جس میں ایک شخص نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔ مندرجہ ذیل مقدمۂ ظلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجرم کی گرفتاری کیلئے ایک جماعت بھیجی گئی تھی۔ ابن شرحبیل نے بیان کیا ہے:
’’میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینہ آیا۔ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور وہاں سے اناج کی چند بالیاں لیں اور انھیں مسل ڈالا۔ اس موقع پر باغ کا مالک آپہنچا جس نے میرے کپڑے اتار دیئے اور مجھے مارا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے انصاف کی فریاد کی۔ آپؐ نے (ایک جماعت) ملزم کے پاس بھیجی جو اس کو اپنے ہمراہ لے آئی۔ آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا: کس چیز نے تمہیں اسے مارنے پر مجبور کیا؟ اس نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرے باغ میں داخل ہوا ، وہاں سے اناج کی کچھ بالیاں لیں اور انھیں مسل ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تنبیہ کی: اگر وہ لاعلم تھا تو تم نے اسے نہیں سکھایا اور اگر وہ بھوکا تھا تم نے اس کیلئے خوراک مہیا نہیں کی، اس کے کپڑے واپس کرو۔ آپؐ نے میرے لئے ایک یا آدھا وسق (اناج کا پیمانہ) دینے کا حکم دیا‘‘۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ کسی شہری کو کسی جرم کا ملزم قرار دینے سے پہلے اسے قانون کا علم سکھانا ضروری ہے۔ اسی طرح اس فیصلے سے اسلامی قانون کا دوسرا انتہائی بنیادی اور اہم اصول یہ سامنے آتا ہے کہ بھوکے کو چوری کی سزا دینے سے پہلے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ملزم کی خوراک کا خاطر خواہ طور پر انتظام موجود تھا۔ جب تک شہریوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی … خوراک، لباس، مکان، علاج وغیرہ حاصل نہ ہوں ان ضروریات کے حصول کیلئے وہ جو طریقہ بھی استعمال کریں اس پر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
بالفاظ دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر اسے ان میں سے کسی سے محروم رکھا جائے اور وہ محروم شہری جس طریقے سے بھی انھیں حاصل کرے وہ طریقہ قابل دست اندازی پولس نہیں گردانا جاسکتا۔ نہ اسے چوری تصور کیا جائے گا اور نہ سزا کا مستوجب قرار دیا جائے گا جبکہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ایسے محروم اور بھوکے شخص کو سزا کے بجائے حکومت کی طرف سے اناج اور خوراک دی جائے گی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملزم مذکور کے حق میں فیصلہ دیا اور حکم میں لکھا کہ اسے ایک یا آدھا وسق اناج دیا جائے۔                     (جاری)
موبائل: 9831439068    azizabdul03@gmail.com

تبصرے بند ہیں۔