تاریخ و سیرتطب

عہدرسالت میں طبیب خواتین

اُس دور میں خواتین کو بہت سی طبی معلومات حاصل تھیں اور ان کے ذریعے وہ چھوٹے موٹے امراض کا علاج کرلیاکرتی تھیں۔

ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

عہدرسالت میں طب نے سرزمین عرب میں فنّی صورت نہیں اختیار کی تھی۔ عربوں کا دیگر قوموں سے رابطہ کم سے کم تھا، اس لیے ان کے درمیان فروغ پانے والے علوم اور فنّی تجربات سے اہل عرب عموماً محروم تھے۔ اس عہد میں طب کے میدان میں دومراکز کو کافی شہرت حاصل تھی۔ ایک ایران کے شہر جندی شاپور میں قائم تھا اور دوسرا مصر کے شہر اسکندریہ میں۔ دونوں مقامات پر قائم تعلیم گاہوں میں طب کی نظری اور عملی دونوں پہلوئوں سے باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی۔ فاضل اساتذہ کی ایک ٹیم تھی، جن سے بڑی تعداد میں طلبہ فیض اٹھاتے تھے اور ان کی رہ نمائی میں مریضوں کا علاج معالجہ اور نت نئے طبی تجربات بھی کرتے تھے۔ عہد نبوی میں حارث بن کلدہ نامی ایک طبیب کا تذکرہ ملتاہے، جو جندی شاپور کے مدرسہ طبیہ کا فیض یافتہ تھا۔ وہ طائف میں رہتاتھا اور اس کا تعلق قبیلۂ ثقیف سے تھا۔ موجودہ دور کی اصطلاح میں وہ ایک ’سند یافتہ‘ طبیب تھا۔ اس بنا پر اس کی دور دور تک شہرت تھی۔ سنن ابی دائود کی ایک روایت کے مطابق حضرت سعد بن ربی وقاصؓ کی ایک مرتبہ طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا:

اِئتِ الحَارِثَ بِنِ کِلْدَۃَ اَخَاثَقِیْفِ فَاِنَّہ‘ رَجُلٌ یَتَطَبَّبُ(ابوداؤد، کتاب الطب، ۳۸۷۵، ضعفہ /البانی)

’’قبیلۂ ثقیف کے حارث بن کلدہ کے پاس جائو۔ وہ علاج معالجہ کرتاہے۔‘‘

عہدرسالت میں سرزمین عرب کی طب کو ہم قبائلی طب سے موسوم کرسکتے ہیں۔ پیہم تجربات اور دوسرے  قبائل سے ربط باہمی کی بناپرانھیں بعض امراض کے علاج معالجے کے طریقے اور کچھ ادویہ کے خواص معلوم ہوگئے تھے۔ بہ ہرحال اس عہد میں طب کی جو بھی شکل رہی ہو اور اس کی ہم جو بھی قدر و حیثیت متعین کریں، اس میں خواتین کا قابل قدر حصہ نظرآتا ہے۔ بل کہ بعض پہلوئوں سے ان کا حصہ مردوں سے کچھ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

عہدرسالت میں خواتین کی طبّی  خدمات کاجائزہ ہم تین پہلوئوں سے لے سکتے ہیں:

(1)میدانِ جنگ میں زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد(First Aid)

عہدِ جاہلیت میں، جب جنگ عموماً تلواروں اور نیزوں کے ذریعے لڑی جاتی تھی۔ عورتوں کو دورانِ جنگ فوجیوں کو معرکہ آرائی اور شجاعت وجواں مردی کے جوہر دکھانے پر ابھارنے کے لیے استعمال کیاجاتاتھا۔ وہ گاتی بجاتی رزمیہ و عشقیہ اشعار پڑھتی ہوئی فوجیوں کے پیچھے پیچھے چلتی تھیں۔ مسلم فوج میں انھیں اس کام کے لیے تو نہیں استعمال کیاگیا۔ البتہ ان سے پیاسے فوجیوں کو پانی پلانے، زخمیوں کو اٹھاکرمحفوظ مقامات پر لے جانے اور ان کی مرہم پٹی کرنے جیسے کام لیے گئے۔ کتب سیرت و تذکرہ میں ایسی متعدد خواتین کے نام محفوظ ہیں، جنھیں زخمیوں کی فوری طبّی امداد (First Aid) کے کام میں خصوصی مہارت حاصل تھی اور انھوں نے غزوات و سرایا میں اس خدمت کو بہ حسن و خوبی انجام دیا۔

حضرت رُبیع بنت مُعَوذؓ  فرماتی ہیں:

کُنّا نَغْزُومَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نَسْقِی القَدْمَ وَ نَخْدِمُھُمْ وَنَرُدُّ القَتْلیٰ والجَرْحیٰ اِلیٰ البَدِیْنَۃِ (صحیح بخاری، کتاب الطب: ۵۶۷۹، کتاب الجہاد:۲۸۸۳)

’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں جاتے تھے، فوجیوں کو پانی پلاتے تھے، ان کی خدمت کرتے تھے اور مقتولین اورزخمیوں کو مدینہ واپس لاتے تھے‘‘۔

دوسری روایتوں میں علاج معالجہ کی صراحت ملتی ہے:

کَانَتْ رَبُّمَا غَزَتْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَتُدَاوِی الجَرإحیٰ وَتَرَدُّ القَنْلٰی اِلیٰ المَدِیْنَۃِ (اسدالغابۃ فی معرفتۃ الصحابۃ، ابن الثیرالجزری، دارالشعب، ۴/۱۰۷)

’’بسااوقات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں، زخمیوں کاعلاج کرتی تھیں اور مقتولین کو واپس مدینہ لاتی تھیں ‘‘۔

حضرت ام عطیہ الانصاریۃ کے بارے میں مورخین نے لکھاہے کہ ان کا شمار عہدجاہلیت اور عہداسلامی دونوں عہدوں میں طب اور جراحت کے مشہور ماہرین میں ہوتاتھا۔ (تاریخ الطب، شوکت موفق الشطی، مطبعۃ الجامعۃ السوریۃ: ۱۹۵۶ء ۱/۱۳۰)

وہ خود فرماتی ہیں:

غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلی اللّٰہ علیہ وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ فُکُنْتُ اضْنَعُ لَھُمْ طَعَامَہُمْ وَاَخْلُفْہُمْ فِی رِجَالِہِمْ وَاُدَاوِی الجَرْحیٰ وَاَقُوْمُ عَلَی المَرْضیٰ (الطبقات الکبری، ابن سعد، دارالفکر، بیروت، ۱۹۴۰، ۶/۳۰۷)

’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی ہوں۔ میں فوجیوں کے لیے کھانا پکاتی تھی۔ ان کی غیرموجودگی میں ان کے کیمپ کی حفاظت کرتی تھی، زخمیوں کا علاج کرتی تھی اور بیماروں کی تیمارداری کرتی تھی‘‘۔

مختلف غزوات کے حوالے سے بھی بعض خواتین کے ناموں کی صراحت ملتی ہے کہ انھوں نے ان میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور علاج کی خدمت انجام دی تھی۔

حضرت نسیبہ بنت کعب المازنیۃ جو اپنی کنیت ام عمارہ سے مشہورہیں، نے غزوۂ بدر میں زخمی ہونے والے مسلمانوں کو طبی امداد بہم پہنچائی تھی۔(الطب عندالعرب، و احمد شوکت الشطی، موستہ المطبوعات الحدیثتہ، ص:۵۶)

غزوۂ احد میں ان کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ حضرت ام ایمن اور حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ حضرت ام سلیمؓ نے بھی شرکت کی تھی اور انھوں نے اس موقع پر بڑی تعداد میں زخمی ہونے والے مسلمانوں کو طبی میدان میں اپنی خصوصی مہارت سے فائدہ پہنچایاتھا۔ کتب حدیث میں اس غزوہ کے دوران حضرت ام عمارہؓ کی شجاعت اور جاں نثاری کا تذکرہ بڑے شان دار الفاظ میں ملتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کے نرغے میں گھِرا دیکھ کر وہ آپؐ کے لیے سپر بن گئی تھیں۔ چنانچہ آپؐ نے انھیں ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیاتھا  :

مَاالْتَفَتَ یَوْمَ اُحَدٍ یَمیْنَاوَّ لَاشِمَالًا اِلاَّ وَاَنَا اَرَاھَا تُقَاتِلُ دُوْنِی(الاصابۃ فی تمینیرالصحابۃ ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفۃ بیروت، ۲۰۰۴، ۴/۲۷۳۰)

’’غزوہ احد کے موقع پر میں دائیں بائیں جدھر دیکھتا انھیں جنگ کرتے ہوئے پاتا۔ یہ کام وہ میری حفاظت کے لیے کررہی تھیں ‘‘۔

غزوہ خیبر کے موقع پر کافی تعداد میں طبی امداد فراہم کرنے والی خواتین نے شرکت کی تھی۔ حضرت کعبیۃ بنت سعد الاسلمیۃ کی اس موقع پر غیرمعمولی خدمات کو دیکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں ایک مرد کے برابر ان کا حصہ لگایاتھا۔(اسدالغابٖۃ، ۷/۲۵۲، الاصابۃ، ۲۶۲۱، طبقات ابن سعد، ۶/۲۱۲)

غزوۂ خیبر میں شرکت کرنے اور اس میں فوجیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے حضرت ام سنان لاسلمیۃؓ نے خدمت نبوی میں حاضر ہوکر خواہش ظاہر کی تو آپؐ نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارے قبیلے کے کچھ اور عورتوں نے اس سلسلے میں مجھ سے گفتگو کی تھی۔ میں نے انھیں اجازت دے دی ہے۔ تم بھی چلو۔ چاہو تو ان کے ساتھ اور چاہو تو میری زوجہ ام سلمہؓ کے ساتھ رہو‘‘ انھوں نے حضرت ام سلمہؓ کے ساتھ رہنے کی خواہش کی، چنانچہ وہ دورانِ غزوہ انھی کے ساتھ رہیں۔ (طبقات ابن سعد، ۶/۲۱۳ الاصابۃ، ۴/۲۷۰۷)

حضرت اُمیمہ (بعض روایتوں کے مطابق اُمیّہ یا اَمینہ) بنت قیس الغفاریۃ جن کی عمر غزوۂ خیبرکے موقع پر بہت کم تھی (ابھی بالغ بھی نہیں ہوئی تھیں ) اپنے قبیلے کی چند عورتوں کے ساتھ حاضر ہوئیں اور زخمیوں کے علاج معالجہ کی غرض سے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی۔ (طبقات ابن سعد، ۶/۲۱۳، اسدالغابۃ، ۷/۳۱)

(2) پیشہ ٔ طب

بعض خواتین کے بارے میں صراحت ملتی ہے کہ غزوات کے علاوہ بھی وہ مریضوں کے علاج معالجہ کی خدمت انجام دیتی تھیں اور ان سے لوگ استفادہ کرتے تھے۔ اس سلسلے میں سب سے مشہور نام قبیلۂ اسلم کی خاتون حضرت رُیدہ کاآتاہے۔ ابن اسحاق نے ذکر کیاہے کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر حضرت سعد بن معاذؓ کے ہاتھ میں ایک تیرآلگا اور ان کی ’اکحل‘ نامی رگ زخمی ہوگئی، جس سے خون کسی طرح نہیں رک رہاتھا۔ آپؐ نے صحابہ سے فرمایا:

’’اِجْعَلُوْہُ فِی خِیْمَۃِ رُفَیْدَۃَ حَتّٰی اَعُوُدُہ‘ مِنْ قَرِیْبٍ‘‘ (سیرۃ ابن ہشام، المکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ مصر، ۳/۵۸)

’’انھیں رفیدہ کے خیمے میں کردو تاکہ میں قریب سے ان کی عیادت کرسکوں ‘‘

اس سے معلوم ہوتاہے کہ زخمیوں کے علاج معالجہ کے لیے مسجد نبوی میں باقاعدہ ایک خیمہ لگایاگیاتھا اور حضرت رفیدہ کو اس کاذمہ دار بنایاگیاتھا۔ مذکورہ خاتون کے بارے میں اصحاب سیر نے صراحت کی ہے کہ انھیں زخمیوں کے علاج معالجہ میں مہارت تھی اور وہ یہ کام بغیر کسی اجرت کے انجام دیتی تھیں۔

کَانَتْ اِمْراَۃٌ تُدَاوِی الجَرْحٰی وَتَحْتَسِبُ بِنَفْسِھَا عَلَی خِدْمَۃِ مَنْ کَانَتْ بِہٖ ضَیْعَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ (سیرۃ ابن ہشام، ۳/۲۵۸، الاصابۃ، ۴/۲۵۰۵، اسدالغابۃ، ۷/۱۰)

’’وہ ایسی خاتون تھیں جو زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔ مسلمانوں کی خدمت اور ان کی تکالیف کے ازالہ کا کام وہ بغیر کسی معاوضے کے محض اللہ سے اجر ملنے کی امید میں کرتی تھیں ‘‘۔

دوسری خاتون حضرت کعیبہ بن سعد الاسلمیۃؓ کے بارے میں بھی مورخین نے لکھا ہے کہ وہ غزوات کے موقع پر ہی نہیں، بل کہ عام حالات میں بھی علاج و معالجہ کی خدمت انجام دیتی تھیں۔ (المرأ ۃ العربیۃ فی جاھلیتھاواسلامھا، عبداللہ العفیفی المکیۃ التجاریۃ الکبریٰ۔ ۲/۳۹۔حاشیہ)

غزوہ احزاب کے بعد ان کے لیے بھی مسجد نبوی میں ایک خیمہ نصب کیاگیاتھا اور انھیں زخمیوں کے علاج کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ حضرت سعد بن معاذؓ کے علاج میں انھوں نے بھی حصہ لیاتھا۔ (طبقات ابن سعد، ۶/۲۱۲، الاصابۃ، ۴/۲۶۲۱)

(3) طبی معلومات

اُس دور میں خواتین کو بہت سی طبی معلومات حاصل تھیں اور ان کے ذریعے وہ چھوٹے موٹے امراض کا علاج کرلیاکرتی تھیں۔ اگرچہ یہ معلومات ایسی تھیں جیسی آج کل دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں بھی بڑی بوڑھی عورتوں کو حاصل ہوتی ہیں، لیکن اُس زمانے میں، جب کہ طب بہ حیثیت فن ابتدائی مرحلے میں تھی، اُن کی بہت اہمیت تھی۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ کو جن مختلف علوم وفنون میں دست گاہ حاصل تھی، ان میں علم طب بھی تھا۔ ان کے بھانجے عروہ فرماتے ہیں : ’’میں نے قرآن، میراث حلال و حرام (فقہ)  شاعری، تاریخ عرب، انساب اور طب میں حضرت عائشہؓ سے زیادہ واقف کار کسی کو نہیں پایا‘‘۔ ایک مرتبہ انھوں نے ام المومنین سے عرص کیا: ’’اماں جان! مجھے آپ کے ذکاوتِ فہم پر تعجب نہیں، میں سوچ لیتاہوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور ابوبکرؓ کی صاحب زادی ہیں۔ مجھے آپ کی اشعار اور ایّام العرب سے واقفیت پر بھی تعجب نہیں۔ میں سوچ لیتاہوں کہ آپ ابوبکرؓ کی بیٹی ہیں جنھیں ان چیزوں کا سب سے زیادہ علم تھا۔ لیکن مجھے طب سے آپ کی واقفیت پر ضرور تعجب ہے۔ آپ کو طب سے کیسے واقفیت حاصل ہوگئی؟ یہ علم آپ نے کہاں سے سیکھ لیا؟ ام المومنین نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مختلف وفود آتے رہتے تھے۔ وہ جو کچھ علاج معالجہ سے متعلق باتیں بتاتے تھے انھیں میں یادکرلیاکرتی تھی‘‘۔   (مسند احمد، ۶/۶۷)

ام المومنین  حضرت ام سلمہؓ حبشہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھیں۔ وہاں انھیں بہت سی طبی معلومات حاصل ہوگئی تھیں، جن کاوہ استعمال کرتی تھیں اور مختلف امراض میں لوگوں کو ان کا علاج بتایاکرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں انھوں نے بعض دوائوں کے ذریعے آپؐ کا علاج کرنے کی کوشش کی تھی۔ (زاد المعاد، ابن قیم، موستہ الرسالۃ، ۴/)

حضرت شفاء بن عبداللہ بھی لوگوں کو مختلف علاجی تدابیر بتایاکرتی تھیں۔ وہ نملہ (ایک جلدی مرض) کاعلاج جھاڑپھونک سے کیاکرتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ ام المومنین حضرت حفصہؓ سے ملنے گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھ لیاتو فرمایا:

اَلَاتُعَلِّمیْنَ ہٰذِہٖ رُقْیَۃَ النَمْلَۃِ کَمَّا عَلَّمْتِہَا الْکِتَابَۃَ (ابودائود، کتاب الطب، باب فی الرقیٰ، ۳۸۸۷)

بہ طورخلاصۂ بحث،دونکتوں کی جانب توجہ مبذول کرانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

1۔ جدید علوم و فنون کی تاریخ نویسی پرچوں کہ اہل مغرب کی اجارہ داری رہی ہے۔اس لیے وہ ہر علم کا نقطۂ آغاز دوڈھائی سو سال قبل کازمانہ قرار دیتے ہیں اور کسی نہ کسی مرد یا عورت کو اس علم کا موجد اور بانی (Pioneer)قرار دیتے ہیں۔ تیمارداری اور نرسنگ کابھی یہی معاملہ ہے۔ اہل مغرب اس علم کا بانی ’نایتنغل‘ (Florence Nightingale 1820-1910)نامی انگریزی خاتون کو قرار دیتے ہیں، جو طبقہ اشراف سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن اس نے نرسنگ کے پیشہ کو اختیارکرکے اسے وقار عطا کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس میدان میں عہدرسالت کی خواتین کی سبقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انھوں نے جس طرح پوری مہارت اور لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دیا وہ قابل قدرہے۔

2۔ آزادیٔ نسواں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ مغرب میں عورتوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع انیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں حاصل ہوسکے۔ اس سے پہلے ان پر اس کے دروازے بند تھے۔ اسی طرح طبی تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی عورتیں کافی جدوجہد اور مختلف مراحل کے بعد حاصل کرسکیں۔ جب کہ اسلام کے زیرسایہ خواتین کو تحصیل علم کی آزادی شروع سے حاصل رہی ہے اور اس معاملے میں ان کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہیں برتی گئی ہے۔ انھیں علم طب حاصل کرنے اور طبی پیشہ اختیارکرنے کی آزادی تھی۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

Close