عہد نبویؐ میں نظام تعلیم (دوسری قسط)

0

ان چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں لکھنے پڑھنے کا آغاز ہورہا تھا اور ابھی زیادہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ حیرہ سے آنے والا شخص وہی خط سکھائے گا جو حیرہ میں رائج ہے۔ وہاں کی زبان میں کل چوبیس حرف ہیں جب کہ عربی میں حروف کی تعداد اٹھائیس (28)ہے۔ ظاہر ہے کہ حیرہ میں رائج خط اس زبان کیلئے ناکا فی  ہوگا۔ اسی لئے حیرہ میںر ائج خط کی مدد سے عربی زبان کے خصوصی حروف میں امتیاز کرنا بھی دشوار تھا۔ عربی زبان کے حروف میں امتیاز قائم کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ مختلف حروف کے سلسلہ میں ایک نقطہ نیچے لگاکر ’’ب‘‘ بنائیں اور اسی حروف پر ایک نقطہ اوپر لگاکر ’’ن‘‘ بنائیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں خطیب البغدادی وغیرہ متعدد لوگوں کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ غالباً اس کوتاہی کو دور کرنے کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا تھا۔ روایت ہے کہ ایک دن خلیفہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبید غسانی نامی کاتب کو بلایا اور فرمایا کہ ’’میں تمہیں کچھ لکھواتا ہوں، اسے لکھو رقش کرو‘‘۔ غسان کہتا ہے کہ ’’رقش‘‘ کیا چیز ہے؟ وہ تبسم کرکے کہتے ہیں کہ میں ایک دن مدینہ منورہ میں تھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کی حیثیت سے مجھے یاد فرمایا اور حکم دیا کہ لکھو اور رقش کرو۔ میں نے بھی پوچھا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رقش کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ تھے کہ ’’حرف پر جہاں ضرورت ہو، نقطے لگاؤ‘‘۔

 اس چھوٹی سی روایت سے جو ہمیں کئی کتابوں میں ملتی ہے، گمان ہوتا ہے کہ نقطے لگاکر حروف میں امتیاز پیدا کرنا بہت بعد کی چیز نہیں ہے بلکہ عہد نبویؐ میں اس کا آغاز ہوگیا تھا لیکن کتب رسم المصاحف (یعنی قرآنی املا) کے مؤلفوں یا خط عربی کے عام مؤرخوں کے ہاں اس کا کوئی ذکر نہیں؛ البتہ اس کی تائید میں اب کچھ اور چیزیں بھی ہمیں مل گئی ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ طائف کے مضافات میں ایک کتبہ ملا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انہی کے حکم سے طائف کے گورنر نے ایک تالاب بنوایا تھا، اس پر ایک کتبہ لگایا گیا۔ اس کتبے کے کئی حروف پر نقطے ہیں۔ یہ سنہ 50ہجری کا واقعہ ہے۔ ظاہر ہے بعد کی جعل سازی نہیں ہوسکتی۔ اس کتبے کے سب حروف پر نقطے نہیں ہیں بلکہ صرف چند حروف پر ہیں۔ یہ ذرا پرانی دریافت تھی، اب ایک اور نئی چیز ہمارے سامنے آئی ہے جو اس سے زیادہ مؤثر ہے۔ مصر میں کچھ جھلیاں (پارچمنٹ) دریافت ہوئی ہیں جن پر کچھ تحریریں لکھی ہوئی ہیں۔ ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت 22ہجری کے زمانے کے دو خطوط ہیں۔ ان میں بھی نقطوں کا اہتمام نظر آتا ہے؛ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی ایک حد تک نقطے لگانے کا رواج تھا۔ اسے حجاج بن یوسف یا اس کے بعد کی چیز قرار دینا درست نہیں۔

  بہر حال خط کے سلسلے میں ایک طرف تو یہ بنیادی اصلاح ملتی ہے کہ حروف پر نقطے لگاکر ان میں امتیاز پیدا کرو۔ دوسری طرف کچھ اور حدیثیں بھی ملتی ہیں جو اگر چہ مسلم و بخاری جیسی کتب حدیث میں تو نہیں آئیں لیکن لائق توجہ ہیں۔ مثلاً ایک حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہے جس میں آیا ہے کہ جب تم کوئی خط لکھو تو اسے فوراً تہہ نہ کرو بلکہ اس پر ریگ ڈال کر پہلے اسے خشک کیا کرو، اس کے بعد اسے بند کرو۔ یہ ایک عقل مندی کی بات ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدے کی دلیل ہے، کیونکہ بعض وقت جلدی میں خط بند کردیتے ہیں اور روشنائی گیلی رہتی ہے جس کے باعث تحریر پر نشان پڑجاتے ہیں یا روشنائی پھیلنے کی وجہ سے تحریر پڑھنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس سے زیادہ ایک اور چیز دلچسپ ہے جو ابن اثیر نے لکھی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم لکھو تو ’’س‘‘ کو ایک لمبے خط کی طرح نہ لکھو بلکہ اس میں شوشہ کا اہتمام کرو، ورنہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ ’’بم‘‘ ’ب‘ اور ’’م‘‘ کا مجموعہ ہے یا ’ب‘ ، ’س‘ اور ’م‘ کا؟ خط کے سلسلے میں یہ اور اس طرح کی دوسری حدیثیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔ ایک ترکی فاضل نے تحریر کے متعلق ایک چہل حدیث ہی لکھ ڈالی ہے۔ ایک آخری بات پر میں اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ جب ہجرت کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لاتے ہیں تو ’’صفہ‘‘ کا مدرسہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ وہاں کے اور مدرسوں میں ایک مدرس لکھنا پڑھنا سکھانے پر مامور ہوئے تھے۔ ان کا کام طالب علموں کو خطاطی کی مشق کرانا تھا۔

 ہجرت سے پہلے مکہ میں قیام کے دوران میں لکھنے پڑھنے کی دو تین اور مثالیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔ ایک تو وہ مشہور صحیفہ ہے جس کے مطابق مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان والوں کا بائیکاٹ کیا تھا کہ کوئی شخص نہ اپنی بیٹی نکاح کیلئے دے اور نہ کوئی ان کی بیٹی لے، نہ ان کے ہاتھ کچھ بیچے اور نہ اس سے کچھ خریدے، حتیٰ کہ ان سے بات چیت تک نہ کرے۔ اس معاہدے کو لکھ کر کعبہ کے اندر لٹکایا گیا تھا تاکہ اس پر ایک مقدس فریضے کے طور پر سنجیدگی اور کامل طور سے عمل کیا جائے۔ مزید صراحت یہ بھی ہوتی ہے کہ اس معاہدے میں جو صرف مکے والوں نے کیا تھا: ایک مزید حصہ دار کے طور پر بنو کنانہ کے لوگ بھی شامل ہوئے تھے۔ اس معاہدے کی طرف اشارہ کرنے والی بخاری وغیرہ میں ایک حدیث ملتی ہے۔ غزوۂ حنین یعنی فتح مکہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل ہم ایک ایسے مقام سے گزریں گے جہاں ایک زمانے میں ظلم کی اعانت کی گئی تھی۔ اس سے مراد یہی تھا کہ بنو کنانہ کے لوگ اس مقام پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خاندان کے خلاف کئے جانے والے معاہدے میں اہل مکہ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کیونکہ آپ اس سے واقف ہیں کہ کس طرح اس تحریر کے باوجود دیمک چاٹنے کی وجہ سے یہ معاہدہ بعدمیں منسوخ ہوگیا تھا۔

 ایک دوسرا واقعہ حضرت تمیم الداری کے متعلق ہے۔ وہ ایک فلسطینی تھے اور ہجرت سے پہلے مکہ آکر مسلمان ہوئے اور اپنی بہت سی داستانیں بھی سنائیں جن کا صحیح مسلم میں ذکر ہے، جن میں جہاز رانی وغیرہ کی کہانیوں کا ذکر ہے۔ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے سیاحت کے دوران میں فلاں فلاں مقامات اور چیزیں وغیرہ دیکھی ہیں۔ بہر حال انھوںنے مسلمان ہوتے ہوئے کہاکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ملک شام سے آرہا ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ جب مسلم سپاہ شام فتح کرلیں، اس وقت شام کے فلاں فلاں گاؤں جاگیر کے طور پر مجھے دیئے جائیں اور اس کیلئے آپ مجھے ابھی سے ایک پروانہ دے دیجئے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط ہمیں ملتا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ اگر بیت مرطوم، حبرون اور فلاں فلاں مقام فتح ہوں تو وہ تمیم الداری کو دے دیئے جائیں۔ یہ خط اصل ہے یا بعد میں تمیم الداری کی اولاد کی جعل سازی کا نتیجہ ہے، اس سلسلے میں کچھ کہنا آسان نہیں؛ کیونکہ ماخذوں میں پروانہ مبارک کی عبات کے دو بالکل مختلف متن ملتے ہیں۔ بہر حام امو ابو یوسفؒ کی ’’کتاب الخراج‘‘میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اور یوں یہ تحریر و کتابت کی دوسری قدیم ترین مثال ہمارے سامنے آتی ہے۔

 ایک اور چیز کا ذکر کرکے میں اس بحث کو ختم کروں گا۔  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کیلئے روانہ ہوتے ہیں تو سراقہ بن مالک کا واقعہ پیش آتا ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرکے اہل مکہ کے سپرد کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن بعض معجزات پیش آئے جن کے باعث سراقہ بن مالک نے معافی مانگی۔  معافی ملی تو اپنے علاقے سے گزر سکنے کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احسان مندانہ کچھ سہولتوں کی پیشکش کے بعد سراقہ بن مالک نے کہاکہ ’’اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے ایک پروانہ امن دے دیجئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہمراہیوں میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہیں کہ ایک پروانہ امن لکھو۔ گویا سفر میں آپ کے ہمراہ اور چیزوں کے علاوہ قلم، دوات اور کاغذ بھی موجود ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج ترقی کرنے لگا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اہمیت سے خاص کر واقف تھے۔ مدینہ آنے کے بعد آپ نے سب سے پہلا کام عبادت گاہ کی تعمیر کے سلسلے میں کیا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ’اوس‘ کے علاقہ ’’قباء‘‘ میں پہنچے تو یہاں پر ایک مسجد بنائی گئی۔ جب قباء سے نکل کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) بن خزرج کی شاخ بنو نجار کے علاقے میں آئے تو وہاں کی پرانی مسجد کی توسیع کرکے مسجد نبوی کی تعمیر ہونے لگی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ کے کمرے بھی تھے۔ اس بڑی مسجد کی تعمیر میں کچھ عرصہ لگا۔

 یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مسجد کا ایک حصہ تعلیم گاہ کے طور پر مخصوص کر دیا گیا۔ اسی مقام کو ہم ’’صفہ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ صفہ پلیٹ فارم، ڈائس یا بلند مقام کو کہتے ہیں۔ یہ مقام اس غرض کیلئے مخصوص کیا گیا کہ دن کو درس گاہ کا کام دے اور رات کو ان لوگوں کیلئے جن کا کوئی گھر نہیں ہے، سونے کا کام دے۔ ایک زمانے میں ’’سیرت النبیؐ ‘‘کی تالیف کے سلسلے میں مجھے تمنا ہوئی کہ عہد نبویؐ میں مسجد جیسی تھی، اس کا نقشہ بناؤں۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس امر میں ایک الجھن ہے۔ وہ یہ کہ جب مسجد نبویؐ تعمیر ہوئی تو قبیلہ بیت المقدس کی طرف تھا جو مدینے کے شمال میں ہے اور کچھ عرصہ شاید 17 ماہ بعد جیسا کہ تاریخ میں ذکر آتا ہے ، قبلہ کعبۃ اللہ قرار پایا جو مدینے کے جنوب میں ہے۔ اس کیلئے مسجد میں تبدیلی ضروری تھی۔ یوں اگر آج مسجد نبویؐ میں صفہ کا مقام قبلہ کے جنوب میں نظر آتا ہے تو عہد نبویؐ یعنی ہجرت کے ابتدائی ایام میں شمال میں ہونا چاہئے اور جب قبلہ کا رخ بدلا تو صفہ جو مسجد کے پچھلے حصے میں تھا، سامنے کے حصہ میں آگیا۔ اس لئے اسے ختم کر دیا گیا اور وہاں نماز پڑھی جانے لگی، جبکہ وہ حصہ جہاں پہلے نماز ہوتی تھی وہ پچھلے حصے میں آگیا اور وہاں نئے سرے سے ’’صفہ‘‘ بنایا گیا۔ بہر حال مسجد نبویؐ اور مسکن نبویؐکا یہ نقشہ ماہنامہ ’’الرشاد‘‘ اعظم گڑھ میں اگست 1981ء میں بھی چھپا ہے۔

یہ ’’صفہ‘‘ جیسا کہ میں نے گزشتہ لیکچروں میں اشارہ کیا ، وہ مقام ہے جسے موجودہ زبان میں رہائشی جامعہ (Residential University) کہتے ہیں؛ یعنی طلباء کے رہنے کا بھی انتظام ہے اور تعلیم کا بھی۔ رہنے کے سلسلے میں ہمیں کئی اور وضاحتیں بھی ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ واقعہ کہ اہل مدینہ اپنی انتہائی فیاضی کے باعث یہ کرتے کہ جب انصار کی کھجوروں کی فصل تیار ہوتی تو ہر شخص کھجوروں کا ایک ایک خشہ تحفے کے طور پر لاتا اور اسے مسجد نبویؐ کے اندر ’صفہ‘میں لٹکا دیتا۔ جب کوئی کھجور پک کر گرتی تو صفہ میں رہنے والے غریب والے مسلمان اسے کھاتے۔ ان خوشوں کی حفاظت کیلئے بھی ایک شخص مقرر کیا گیا تھا۔ لکھا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب اپنی انتہائی فیاضی کے سبب مقروض ہوگئے اور قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں انھیں مکان تک فروخت کر دینا پڑا تو انھیں بھی رہنے کیلئے ’’صفہ‘‘ میں جگہ دی گئی اور علاوہ اور چیزوں کے ان پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ ان خوشوں کی نگرانی کریں۔ بہر حال آپ رہائشی جامعہ کا بھاری بھرکم لفظ قبول کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ صفہ میں تعلیم پانے والے طالب علم دو قسم کے تھے، کچھ تو وہ تھے جو شہر میں رہتے تھے اور پڑھ کر چلے جاتے تھے لیکن کچھ ایسے تھے جن کا کوئی گھر نہیں تھا اور وہ رات بھی وہیں گزارتے تھے۔ ان کی تعداد ظاہر ہے گھٹتی بڑھتی رہی ہوگی۔ ان طالب علموں میں ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوگا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ’صفہ‘ میں کیوں رہتے تھے؟ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ رنہ نے اپنے مواخاتی بھائی کے ہاں قیام کیا ہوگا اور ان کے ہاں اتنی جگہ نہ ہوگی کہ ان کے مواخاتی بھائی اور ان کے خاندان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے علاوہ اپنے جوان اور بالغ بیٹے کو بھی جگہ دلاسکیں۔ اس کی ایک دوسری توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خود علم کے شوق کے باعث نہیں چاہتے تھے کہ قباء میں رہیں جو مدینے میں گزارنا چاہتے ہوں گے تاکہ ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مواعظ سے استفادہ کرسکیں۔

            بہر حال وہاں کچھ لوگ ایسے تھے جو صرف دن کو تعلیم پاتے تھے اور کچھ ایسے تھے جو تعلیم بھی پاتے تھے اور رات کو رہتے تھے بھی۔ اس سلسلے میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کچھ تو ان چیزوں پر بسر اوقات کرتے تھے، جو انھیں بطور تحفہ دی جاتی تھیں۔ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان سے ، کبھی مختلف صحابہ کرامؓ کی فیاضیوں کے باعث۔ مثلاً ایک بار کا ذکر ہے کہ اہل صفہ کے اَسی (80) آدمیوں کو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔ اس سے دو چیزیں ہمیں معلوم ہوتی ہیں، ایک تو وہ تعداد جو کم و بیش صفہ موجود ہوتی تھی، دوسرے یہ کہ گزر بسر کا کیا انتظام تھا اور وہ کس طرح کھاتے پیتے تھے۔ ان دوباتوں کے علاوہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کیلئے سرکاری خزانے سے بھی کچھ عطا فرماتے اور صحابہ رضی اللہ عنہ کی فیاضی کے سبب ان کو مختلف اشیاء ملتیں۔ ایک اور چیز کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ دوسروں پر بوجھ بننے کے بجائے خود محنت کرتے تھے۔ یہ محنت اس لئے نہیں ہوتی تھی کہ پیسے جمع کرسکیں یا مالدار بنیں بلکہ صرف اس لئے کہ اپنا سدرمق حاصل کریں اور باقی پورا وقت علم کے حصول میں صرف کریں۔ ایک واقعہ کا ذکر ملتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ صفہ میں رہنے والے ایک طالب علم کی وفات ہوئی۔ جب اسے غسل دیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کے پاس دو دینار ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بہت ناراض ہوئے کہ ایسے شخص کو جس کے پاس دو دینار جیسی خطیر رقم تھی، خیرات  پر پرورش پانے کا کوئی حق نہ تھا۔ بہر حال انسانی فطرت کی ایسی مثالیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر محمد حمیداللہ… ترتیب: عبدالعزیز

تبصرے