تاریخ و سیرت

غزوۂ بدر اور اس کا پیغام

حالات کتنے ہی ناموافق اور نامساعد کیوں نہ ہوں تمہارے سامنے اور تمہارے مقابلے میں دشمن کی تعداد کتنی ہی بڑھ کر کیوں نہ ہو، کبھی گھبرانا مت اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہنا اور اسی حالت میں موت کو گلے لگا لینا

محمد قاسم ٹانڈوی

اسلامی ھجری سال کے نویں مہینے یعنی رمضان المبارک کی 17/تاریخ (سترھواں روزہ) اپنے اندر ایک بہت ہی وسیع مفہوم اور ناقابل فراموش عبرت و نصیحت سے پر ایک واقعہ کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے یہ دن اور تاریخ غیر ایام اور دیگر اسلامی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کے حامل گردانے جاتے ہیں یعنی یہی وہ دن ہے جس میں ظہور اسلام کے بعد احقاق حق کی بالادستی قائم کرنے اور ابطال باطل کی شرح سستی کرنے کے واسطے اللہ رب العزت نے حق کو باطل پر فوقیت عطا کرنے اور اہل دنیا کو اس بات کا پیغام دینے کےلئے کہ اسلام ہی وہ سچا مذہب ہے جس کو بہر صورت غالب ہونا ہے کفار چاہے کتنا ہی شور و غوغہ اور مکر و فریب کیوں نہ کر لیں؟

چنانچہ اسی ماہ مبارک کے سترھویں روز اسلام کی پہلی جنگ ہوئ جس کو ‘معرکہ جنگ بدر’ سے موسوم و منسوب کیا جاتاہے (واضح رہے کہ ‘بدر’ یہ وادی عرب میں مکہ و مدینہ کے درمیان ایک میدان اور آبادی کا نام ہے، جو شہر مکہ سے تقریبا 303/کلو میٹر اور شہر مدینہ سے 138/کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے)

مذہب اسلام جو اپنے قیام کے روز اول سے امن و سلامتی، امانت و دیانت، عدل و انصاف اور روءے زمین پر آباد پوری انسانی برادری کے لئے رحمت و شفقت، جود و سخا اور اخوت و ہمدردی کے ابر عمیق لےکر آیا تھا، جو اپنے ماننے والوں کے ساتھ ساتھ اغیار و اجنبی، منکرین خدا و رسول اور دشمنان اسلام کو بھی اپنے دامن وسیع میں پناہ دینے کا حامی و مدعی تھا جو پوری انسانی برادری اور معاشرے کو ایک خدا کا کنبہ قرار دیتا آیا تھا، اس نے پورے انسانی معاشرے کو ایک جسم کے بطور تعبیر کیا تھا اور مذہب اسلام آج بھی اپنی انہیں خصوصیات و امتیازات کے ساتھ روز بروز ترقی کی طرف گامزن ہے جس کی وجہ سے دینا میں رائج دیگر ادیان و مذاہب کے مقابلے اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، لیکن جب ظلم و ستم، سرکشی و طغیانی اور شیطنت و خباثت کی تمام حدیں عبور کردی گئیں (جس میں رسول محترم کو (نعوذ باللہ) قتل کردینے کی سازش بھی شامل پلاننگ تھی) تو ایسے ناگفتہ بہ حالات میں بہ حکم الہی، محبوب خدا محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے آبائی اور پیدائشی وطن؛ مکہ المکرمہ سے مدینہ المنورہ (زادھا اللہ شرفا و عظما) ہجرت فرمائ، گویا آپ نے یہ قدم اٹھاکر اپنی اور اپنے جانباز و جان نثار صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) کے جان و مال کے تحفظ کے واسطے اسی مدینہ پاک کو مستقر بنا ڈالا، جس کی طرف بہ ذریعہ وحی اشارہ فرمایا گیا تھا۔ پہر کیا تھا بس آپ کے اسی اقدام کی وجہ سے کفار مکہ کے قلوب حسد کی آگ میں بھڑک اٹھے_ چنانچہ مکہ المکرمہ میں جو لوگ آپ کی دعوت پر مسلمان ہو چکے تھے جو توحید کی امانت اپنے سینوں میں رچا بسا چکے تھے؛ انہیں مشرکین مکہ نے اول اول تو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر انہیں اپنے پرانے عقیدے اور دین پر لوٹنے کو کہا لیکن اسلام کے متوالے اور دین برحق کے ماننے والوں نے ان کی ایک نہ سنی تو ان کمزوروں اور نہتے مسلمانوں کو بھی گھربار چھوڑ نے پر مجبور کیا گیا یہاں تک کہ مرکز توحید و ایماں اور منبع رسالت و نبوت خانہ خدا "بیت اللہ” کے طواف کرنے پر بھی مابقیہ توحید کے متوالوں اور شمع رسالت کے پروانوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، اور تو اور انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے نشہ میں چور اور اپنی تعداد اشخاص پر  مغرور ہوکر خانہ خدا کو ‘بت خانہ’ میں تبدیل کردیا۔ ایسے میں رحمت الہی جوش میں آتی ہے جس سے کہ خود بہ خود حالات اس جانب رخ کرنے لگتے ہیں کہ ایک طرف اہل مکہ (کفار و مشرکین) اور دوسری طرف اہل مدینہ (مسلمان) اپنے اپنے طور پر جنگ کی تیاری میں مشغول ہوجاتے ہیں، چنانچہ اہل مکہ کی قیادت وقت کا ہی نہیں بلکہ تاریخ کا سب سے بڑا جاہل اجہل ‘ابو جہل’ انجام دیتا ہے اور اہل مدینہ کی سرداری و راہنمائ کے فرائض محسن انسانیت رحمہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم بحسن خوبی فرماتے ہیں۔ عالم یہ ہےکہ ایک طرف چند نفوس قدسی جن کی تعداد بمشکل 300/ سے کچھ ہی زائد ہوگی جو سامان جنگ و حرب سے بھی خالی اور تہی دامن ہیں وہیں دوسری طرف فوج کا لشکر جرار ہے جس کی تعداد بھی باقوال مختلف ہزاروں سے بھی زائد ہے جو ہر طرح کا ساز و سامان، اشیاء خورد و نوش سے لیس اور اہم جنگی آلات و اسباب یعنی سواریوں کا بھی وافر مقدار میں انتظام ہے۔  ادھر نہتے مسلمان ہیں جو ایک خدائے وحدہ لاشریک لہ کی ذات پر بھروسہ اور اپنے نبی پاک کی عقیدت و محبت سے اپنے قلب و جگر کو سرشار کئے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور بالآخر آج ہی کے روز یعنی 17/رمضان المبارک 2/ھجری مطابق 23/مارچ کو میدان بدر میں صف آرا ہو جاتے ہیں۔ حق و باطل کے مابین معرکہ آرائی ہوتی ہے جس میں تلواروں کی گھن گرج، گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی آوازیں صاف سنائ پڑتی ہیں، دونوں طرف جوش و خروش اپنے آخری انجام کو دیکھ لینا چاہتا ہے ایک طرف طاقت و قوت کا غرور اپنا بھرپور مظاہرہ کرنے میں دلچسپی لے رہا تو ایک طرف نبی محترم رسول عربی نصرت الہی اور مدد غیبی کے حصول کی خاطر گوشہ نشیں ہوکر دست بہ دعا دراز فرمائے ہوئے ہیں۔

لہذا جس وقت مقابلہ کی نوبت آتی ہے تو ہر کلمہ گو شخص کی کیفیت اور نوعیت یہ تھی کہ ہر ایک شخص اپنی جان کھلی ہتھیلی پر رکھے ہوئے تھا اور پوری جانفشانی و جانفروشی کے ساتھ دشمن کے مقابلے اڑا ہوا اور ڈٹا ہوا تھا آخر کار مسلمانوں کی یہ جانفروشی اور نصرت خداوندی رنگ لاتی ہے اور میدان جنگ بھرپور انداز سے گرمانے کے بعد جب سرد ہوتا ہے تو کل 13/اہل ایمان اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ راہ خدا میں پیش کرکے جام شہادت نوش فرما چکے ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کا حال یہ ہےکہ اس طرف دشمن کے ستر افراد واصل جہنم ہو جاتے ہیں جن میں قریش کے سردار اور وقت کے سرغنہ ابوجہل، عتبہ، عتیبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف وغیرہ بھی ہیں، جن کو دیکھ کر دشمن کے ھتھکنڈے ڈھیلے اور نرم ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ دشمن کی فوج میں افرا تفری کا ماحول قائم ہو جاتا ہے اور بھگدڑ سی مچ جاتی ہے۔ اور اتنی ہی تعداد میں مسلمانوں نے کفار کے آدمی گرفتار کئے جس میں ان کے چند بڑے لیڈران بھی تھے چناچہ ‘نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط’ کو واپس از بدر راستہ میں قتل کر دیا جاتا ہے اور بقیہ گرفتاران جنگ اور حاصل شدہ مال غنیمت کو مسلمان اپنے ہمراہ لےکر بمعیت آفتاب رسالت و مہتاب نبوت، مدینہ واپس ہوتے ہیں (جن کو آگے چل کر اصحاب بدر یا بدریین صحابہ کے مبارک لقب سے نوازا گیا؛ خدا رحمت کند ایں پاک طینت را)

اب ذرا اس کے بعد کے حالات پر غور فرمائے اور باشندگان مدینہ کے جذبات و احساسات کا ادراک کیجئے کہ کس طرح سے انہوں نے اپنے نبی محترم رسول معظم کا شایان شان خیرمقدم اور استقبال کیا اور آپ کی بہ خیر و عافیت واپسی پر دلی اطمینان اور لشکر اسلام کی اس زبردست پہلی کامیابی، مسلمانوں کی وفاداری اور جانفروشی پر خوشی، فرحت و انبساط کا دل کھول کر اظہار کیا۔ یہ ہے وہ قابل مبارکباد کارنامہ جس کی وجہ سے یہ دن جس میں اسلام کے اولیں سپوت اور معرکہ جہاد کے قابل رشک شہسواروں نے اپنے جان، مال، عزت و آبرو اور آل اولاد سے بھی زیادہ عزیز ترین شخصیت کی ہمراہی میں تاقیام قیامت سنہری تاریخ مرتب کی اور اپنی جانشینی و خلافت و وراثت کا دم بھرنے والوں کو سبق دیا تھا کہ:

دیکھو۔۔۔۔!

"حالات کتنے ہی ناموافق اور نامساعد کیوں نہ ہوں تمہارے سامنے اور تمہارے مقابلے میں دشمن کی تعداد کتنی ہی بڑھ کر کیوں نہ ہو، کبھی گھبرانا مت اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہنا اور اسی حالت میں موت کو گلے لگا لینا اور ایک لمحہ کےلئے بھی احساس کمتری کا شکار ہوکر دشمن کو اپنے اوپر فتح یاب ہونے کا موقع مت دینا، اور کم ہمتی کا ثبوت مت دینا۔”

یاد رکھو مسلمانوں ۔۔۔! یہی اسلام کا پیغام ہے، یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی رسول عربی اور ان کے سچے پکے متبعین کا اسوہ اور تجربہ ہے؛ مانا کہ حالات آج بھی کوئی زیادہ اطمینان بخش نہیں ہیں ہمارے اور ہر جگہ تفریق و تقسیم کا سامنا کرنا پڑ رہا مسلمانوں کو خاص کر وطن عزیز ہندوستان میں آباد کچھ زیادہ ہی مسائل در پیش ہیں مگر معرکہ بدر کا یہ خاکہ اور جنگ آزادی کا پورا کا پورا منظر نامہ ہمارے ارادوں کو تقویت بخشنے کے واسطے کافی ہونے چاہئیں اور اس بات پر یقین کامل ہونا چاہئے کہ جس طرح پروردگار عالم نے اس سے پہلے اپنے نبی پاک اور صحابہ کرام کی مقدس جماعت کو باطل پرستوں پر اور ہمارے اکابر و بزرگ حضرات کو دشمن دین و وطن انگریزوں کے مقابلے میں فتحیاب فرمایا تھا وہ خدا آج بھی ہماری مدد و نصرت کے لئے کافی ہے جو کبھی بھی اپنے ماننے والوں کو رسوا و ذلیل نہیں کرےگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close