تاریخ اسلامتاریخ و سیرت

فتح سندھ اور فاتح سندھ کی رواداری

سلیمان سعود رشیدی

تیرہ سو سال پہلے ایک ایسا خطہ جو  مغرب میں مکران اور جنوب میں بحرعرب و گجرات اور مشرق میں موجودہ مالوہ کے وسط اور شمال میں ملتان سے ہوتا ہوا جنوبی پنجاب تک پھیلا ہوا تھا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار سال پہلے جب آریہ قوم اس خطہ میں آئ تو اسکا نام "سندھو” رکھا ۔ لیکن گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ یہ نام "سندھ” کہلانے لگا۔ یہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں سال گزرجانے کے بعد بھی اسکا نام سندھ ہی ہے۔

سندھ پر حملے:

اس سندھ کو فتح کرنے کا سلسلہ حضرت عمر رضی اللہ کے دور خلافت میں ہی شروع ہو چکا تھا  15ھ میں سب سے پہلے عثمان ابن ابی العاص جو کہ بحرین کے والی تھے۔ انہوں نے اپنے بھای حکم بن ابو العاص کو اس خطہ کے طرف روانہ کیا تھا جو بنا کسی اقدام و دفاع کے واپس ہو گئے۔ لیکن خلیفہ وقت نے اسے پسند نہیں کیا پھر عثمانی دور میں حضرت عثمان رضی اللہ نے اپنے کچھ نمائندے اس علاقہ میں بھیجےیہاں کے حالات سے واقفیت کے لئے۔ اس دفعہ بھی کسی حملہ اور جھاد کی نوبت نہیں آئ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ کے دور میں حضرت حارث بن  مرہ عبدی نے اپنی خودی سے سندھ کے فصیلوں پر حملہ کیا جو کامیاب بھی رہے ۔ بل آخر 44ھ امیر معاویہ کے دور میں مہلب بن ابی صفرہ کابل اور قندھار کی بغاوت کو سر کرنے کے لئے اس جانب آئے اور فتح کا پرچم لہراتے ہوئے ملتان تک گئے ۔ اس اعتبار سے مہلب بن ابی صفرہ پہلے فاتح شمار ہوتے ہیں۔

اموی دور میں سندھ:

سرحدی بغاوتوں کی سرکوبی و باغیوں کے تقاقب کے سلسلہ میں چھوٹے چھوٹے حملہ اور وقتی ہنگامی فتوحات تو پہلے ہی سے جاری تھے مگر مستقل طور پر سندھ فتح کرنے کے لئے منظم حملہ  کی ابتدا ۸۹ھ میں اموی فرمارواں ولید بن عبدالملک کے حکم سے عمل میں آئ۔ جس کی باگ دوڑ حجاج بن یوسف الثقفی نے اپنے ہاتھوں رکھی تھی۔ اس حملہ کے اسباب و محریکات کچھ اس طرح ہیں۔

اسلامک اسٹڈیز کے مجوزہ نصاب میں مذکور ہے:

  1. سندھ ساسانی حکومت کا صوبہ ہونے کی وجہ سے عرب مسلمانوں کی یلغار کا قدرتی ہدف تھا۔
  2. جنگ نہاوند میں سندھ کے فوجی دستے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے تھے۔
  3. سندھ کے معاندانہ رویے کی وجہ سے مکران و بلوچستان کی سرحد پر اسکے سپاہیوں سے مسلمانوں کے جھڑپیں ہوتی رہتی تھی۔[1]

اسکے علاوہ داہر نے ان عرب قاتلوں کو جنہوں نے مکران کے گورنر سعید بن اسلم کا قتل کیا تھا،پناہ دیکر عرب حکومت سے مخالفت کی بیج بوئ تھی، لیکن خلیفہ وقت نے فوج کشی ضروری نہ سمجھی، اس کے چند سال بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو اصل بنیادی سبب بنا جسکی تفصیل تاریخ سندھ پر دستاویزی حقیت رکھنے والی کتاب "چچہ نامہ” اور دیگر کتب تاریخ کی روشنی میں پیش کرونگا۔

اس بات سے کون ناواقف ہے کہ عرب و ہند کے تعلقات کتنے گہرے تھے جب عرب نور اسلام سے منور ہوا  تو یہ تعلقات منقطع نہیں ہوے بلکہ عرب تاجر و ملاح اپنے آبا و اجداد کا پیشہ برقرار رکھا وہ اپنی کشتیاں اور تجارتی سامان لے کر عرب سے ہند اور لنکا کے ساہل تک آتے جاتے تھے، یہ تجارتی اور معاشی تعلقات بڑھتے بڑھتے سیاسی تعلقات بھی شروع ہونے لگے۔اسی تجارت کے غرض سے آئے ہوئے عربی سوداگر سراندیپ میں فوت ہو گئے انکے اہل و عیال  یہیں رہ گئے۔سراندیپ کا راجہ مسلم حکمرانوں کی فتوحات سن کر مرغوب ہوچکا تھا۔اب مسلمانوں سے اظہار یگانت  کی غرض سے کسی حیلہ کا متلاشی تھا، چنانچہ اس نے ان تجار کے اہل و عیال کو بڑی ہی عزت و احترام کے ساتھ نہایت ہی قیمتی تحائف کے ساتھ حجاج کے پاس روانہ کیااس امید سے کہ وہ حجاج کے سامنے اسکی تعریف کرئینگے۔

فتح نامہ سندھ (چچ نامہ) میں مذکورہے.

"سراندیپ کے حاکم جزیرہ یواقیت سے کشتیوں کے ذریعہ حجاج کے پاس بہت سے ہدایہ اور تحفے بھیجے ،ساتھ ہی ساتھ انواع و اقسام کے موتی ق جواہر، حبشی غلام اور کنیزیں اور دیگر بے مثل اشیا کے نادر تحائف دارالخلافہ کو روانی کے”۔[2]

اس قافلہ میں کچھ مسلمان عورتیں بیت اللہ کی زیارت اور تخت گاہ کو دیکھنے کے شوق میں کشتیوں پر سوار ہوگِی، راستے میں بادمخالف کے طوفان نے ان کشتیوں کودیبل کے بندر گاہ پر لاڈالایہاں سندھ کے راجا داہر کے سپاہیوں نے ان کشتیوں کو  لوٹ لیا اور مسافرین کو غلام بنالیا، اہل سراندیپ نے بہت سمجھایا کہ یہ تحائف بادشاہ کے لیے ہیں لیکن سندھیوں نے ایک نہ سنی۔

جب اس واقعہ کی خبر حجاج کو ملی تو اس نے اتمام حجت اور صورت حال کو  پرامن حال میں نپٹانےکے لیے حاکم سندھ کو لکھ بھیجا کہ” مسافرین اور مال مسروقہ واپس کریں” لیکن داہر مال مقبوضہ کے نشہ میں نا معقول جواب روانہ کیا۔

راجا داہر کا جواب کچھ اس طرح تھا:

"یہ لوگ قزاق میں ان سے زیادہ کوئ طاقتور نہیں اور وہ ہماری اطاعت بھی نہیں کرتے”۔

راجا داہر کے اس خط کے بعد حجاج بن یوسف الثقفی جو  جوابی خط ارسال کیا اس کا مضون کچھ یوں تھا:

"ہمیں لشکرکشی کا معاملہ اس لیے پیش آیا کہ تم نے سراندیپ سے آئے ہوئے مال و اسباب کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو قید کیا جب تم نے ایسی معیوب چیز کو جائز سمجھا، تب مجھے دارالخلافہ سے تم پر چڑھائ کا حکم دیا گیا،میں اللہ کے مدد سے تجھے مغلوب کر کے رسوا کرونگا اور تیرا سر عراق کی طرف روانہکرونگا یا خود جام شہادت نوش کرونگا۔”

حجاج کے طرف سے بھیجے ہوئےاس جوابی خط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حملہ کی وجہ مظلوموں کی داد رسی تھی ناکہ املاک کے حصول اور اپنی حکومت کی توسیح پسندی۔

سندھ پر پہلی مہم:

حجاج نے فوری طور پر اپنے ایک  سپہ سالار عبداللہ اسلمی کے سربراہی میں چھ ہزار سپاہیوں کے ساتھ دیبل روانہ کیا۔راجا داہر اور عبداللہ اسلمی کے درمیان دیبل میں  شدید لڑائ ہوئ،لیکن عبداللہ اسلمی کے شہید ہونے پر مسلمان اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

سندھ پر دوسری مہم:

اس مہم کی ناکامی کے بعد حجاج نےبدیل بن طہفہ کے سرکردگی میں فوج کو دیبل پہنچنے کا حکم دیا جو اس وقت عمان میں تھا،دوسری طرف اسنے مکران کے حکمران "ہارون نمری” کو دو ہزار سپاہی اسکی مدد کے لے دیبل بھیجنے کا حکم دیا ،بدیل اپنی سپاہیوں کو لیکر مکران پہنچے پھر وہاں سے فوجی مدد حاصل کرکے دیبل روانہ ہوئے، ادھر راجا داہر کومخبروں کے زریعہ پتہ چلا تو اسنے اپنے بیٹے جئے سنگھ کے ہاتھو 4 ہزار فوج جو اونٹ اور گھوڑوں پر سوار تھے روانہ کیا،جئے سنگھ کے دیبل پھنچنے سے پہلے بدیل پہنچ کر دیبل کے سالار کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

جب داہر کا لشکر جئے سنگھ کی قیادت میں دیبل پہنچا تو انکا سخت مقابلہ شروع ہوا.سوئےاتفاق بدیل کا گھورڑا ایک ہاتھی کو دیکھ کر بھڑکا جس سے بدیل گھوڑے سے گرگیا۔ پھر داہر کے لشکریوں نے بدیل کو شہید کردیا۔

حجاج کو دیبل کی چھوٹی سی فتح سے ایک آس جو پیدا ہوئ تھی وہ یاس میں تبدیل ہونے لگی۔ بے حد صدمے سے یہ سونچنے پر مجبور ہوگیا کہ سندھ پر معمولی حملوں سے کام نہیں چلےگا اور اسی سونچ میں گم تھا:

اکبر شاہ نجیب آبادی تحریر فرماتے ہیں:

"حجاج نے اول عبداللہ اسلمی کو چھ ہزار فوج کے ساتھ روانہ کیا عبداللہ سندھ پہنچ کر راجا داہر سے مقابلہ کرتا ہوا امار آگیا اور یہ مہم ناکام رہی ۔ دوسری مرتبہ جحاج نے بدیل نامی سالار کو مامور کیا وہ بھی چھ ہزار فوج لیکر دیبل پہنچ گیا ۔۔۔ مگر مقابلہ میں لڑتا ہوا گھوڑے سے گر کر شہید ہوگیا”۔[3]

محمد بن قاسم نیا سپہ سالار:

کافی دیر سونچنے کے بعد حجاج نے محمد بن قاسم کو سندھ پر لشکر کشی کی مہم کا نیا سپہ سالار بنانے کا فیصلہ کیا ۔ محمد بن قاسم ان دونوں "رائے” پر حملہ کی تیاریوں میں مصروف تھے، انھیں حکم ملا کہ رائے چھوڑ کر سندھ روانہ ہو اور شیراز پہنچ کر اس بات کا انتظار کریں جو میں خشکی کے راستہ سے بھیجنے والا ہو،پھر مکران کو عبور کرتے ہوئے دیبل کےسامنے پہنچنا اور اس بات کی تاکید کی کہ تب تک انتظار کرنا جب تک میرے بھیجے ہوئے جہاز تم تک  نہ پہنچ جائے ، تیز خط و کتابت دست بدست پہنچنےکے لے میں ڈاک کے نظام کو اتنا مستحکم کیا ہوں کہ ہر پانچ میل کے فاصلہ پر ایک چوکی جس میں دو  سپاہی موجود ہونگے جن کی مدد سے ہر تیسرے روز ہم ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہونگے۔

محمد بن قاسم فورا شیراز روانہ ہوئے ، وہاں جا کر چھ ماہ تک حجاج کے اگلے قدم کا انتظار کیا، حجاج سندھ پر حملہ کے لیے چھ ہزار تربیت یافتہ سپاہ کا انتخاب کر کے  جو اشیائےخوردنی کے ساتھ اشیاْ ضروریہ سے لیس تھیںروانہ کیا  جسے لیکر محمد بن قاسم مکران کے راستہ سے نکل پڑااور مکران کے ساہل سے "پنچگور” پہنچ کر اسے فتح کرلیا ۔اسی طرح خشکی سے ارمن بیلہ پہنچ گیا اسکے محاصرہ اور فتح کے بعد چند ماہ قیام کیا، اسی مقام پر مکران کے والی محمد بن ہارون حجاج کو ہدایت پر اپنی فوج کے ساتھ آملے اتفاق سے والی مکران انتقال کر گئے ،اب دونوں فوجوں کی قیادت محمد بن قاسم کے ہاتھ آئ، اب فوج مغربی سندھ کے سب سے مشہور شہر دیبل کا رخ کیا۔

دیبل کے بارے میں:

دیبل سندھ کا تجارتی مرکز تھا۔ یہاں کی بندرگاہ  بڑی اہمیت کی حامل تھی ،ایران،عراق،عرب آفریقہ  کے جہاز یہاں لنگر انداز ہوتے تھے، پیمائش  میں بھی کافی وسیع تھا جسکی آبادی بہت زیادہ تھی شہر کے بیچ میں ایک عالیشان مندر تھا جسکا گنبد بڑا اور بلند تھا جس پر ایک پرچم لہرا رہا تھا،جو سارے شہر کو اپنے سایہ میں لئے ہوئے تھا۔ یہاں کے باشندوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک یہ پرچم لہراتا رہے اس پر کوئ قبضہ نہیں کر سکتا اور  اس مندر میں ساتھ سو پوجاری تھے،جسکے ارد گرد  فصیل بنی ہوئ تھی۔[4]

دیبل کا محاصرہ:

ارمن بیلہ میں ہی محمد بن قاسم اپنے تمام سپہ سالاروں کو بلا کر مشورہ کیا اور پوری فوج کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ۔ جن میں سی خود ایک کا دوسرے کا خریم بن عمر  اور  تیسراکا ذکوان بن علوان کو کمانڈر مقرر کیا ، لشکر کی تقسیم کے کچھ دن بعد ارمن بیلہ میں قیام کیا ،پھر جب حجاج کا ہدایت نامہ جنگ ملا  جس میں واضح کیا گیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے ارد گرد خندقیں کھودیں۔

اس ہدایت کے بعد محمد بن قاسم لشکر ی ترتیب  کے ساتھ دیبل کی جانب کوچ کیا ۔

فتح نامہ سندھ { چچ نامہ} میں مذکور ہے:

"جب دیبل کے حد میں منزل کرو تو ۔۔۔ خندق۔۔۔ بارہ گز چوڑی ،چھ گز گہری کھودینا آخر جمہ کے

دن 93ھ محرم کے مہینہ میں دیبل آپہنچا۔[5]

انکے دیبل پہنچتے پہنچتے بحری جہازوں میں کئی مجنیق اور دوسرے ساز و سامان مل گئے۔انہیں میں سے ایک کا نام عروس تھا جسے پانچ سو آدمی حرکت میں لاتے تھے دیبل کے لشکری تمام کے تمام قلعہ بند ہوگئے ، وقتا فوقتا شہر سے باہر آتے اور حملہ کر کے واپس شہر میں چلے جاتے، محمد بن قاسم کو حجاج کے حکم  کا انتظار تھا وہ خاموش ان حملوں کو پسپا کر رہا تھا۔

جیسے ہی حجاج کا حکم نامہ ابتدائے جنگ کا ملا تو اپنی فوج کے سالاروں کو ہر سمت  سے حملہ کرنے  کا حکم دیا۔ ابھی یہ معاملہ ہو ہی رہا تھا کہ قلعہ کا ایک برہمن نکلا اور قلعہ کو فتح کرنے کا راز بتایا۔

{فتح نامہ سندہ {چچ نامہ} میں مذکور ہے:

"آخر آٹھویں دن اجازت کا پروانہ آیا محمد بن قاسم نے لشکر درست کر کے حملہ کیا۔۔۔اچانک ایک برہمن قلعہ کے اندر سے نکل آیا اور امان طلب کر کے کہنے لگا ہمارے مذہب کے کتابوں میں اس طرح حکم ہے کہ ملک سندھ لشکر اسلام کے ہاتھوں فتح ہوگا. اس لیے اس بت کے چوٹی مسمار کرنی چاہئے تاکہ اسکا جھنڈا پارہ پارہ ہو جائیں اور فتح حاصل ہوجائے”۔[6]

محمد قاسم فوری طور پر تمام حالات سے حجاج کو آگاہ کر ایا،اس منصوبے کی اجازت حجاج نے دیدی اور مزید یہ ہدایت دی کہ عروس نامی منجنیق کو مشرق کے سمت گاڑو اور ایک پایہ کم کر کےمندر کے گنبد کا نشانہ بنا کر اس پر سنگ باری کرو۔

دیبل پر زوردار حملہ:                        

دیبل پر محاصرہ کے نویں دن حجاج کے حکم کے مطابق طلوع آفتاب کے وقت دیبل پر حملہ کر دیا گیا،عروس کے پہلے پتھر سے گنبد ٹوٹ کر زمین پر گرا جس سے سارے  شہر میں ہچل مچ گئ اور لشکریوں نے ایک جٹ ہو کر سپاہیوں پر حملہ کیا حملہ کا جواب دینے کے کیے سب سے پہلے محمد بن قاسم نے پہل کی، ایک پہر تک شدید لڑائ کے بعد دیبل کے لشکریوں نے شہر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔تین روز کے شدید لڑائ کے بعد دیبل نے گھٹنے ٹیک دئے،

محمد بن قاسم شہر میں قیام امن کے لئے پیمائش کے بعد سات برابر حصوں میں تقسیم کر کے مسلمان گھرانےآباد کیے اور مسجد تعمیر کی یہ پورے سندھ میں اسلام کی پہلی مسجد تھی۔

دیبل کے فتح کے بعد سراندیپ کے صرف دو قیدی ملے بقیہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اروڑ میں راجہ داہر کے زیر تسلط ہیں۔

یہاں کے سارے مال غنیمت کو اکھٹا کیا اور ارمن بیلہ کے تمام مال کو ایک جا کر کے اسکے پانچویں حصہ کو الگ کر کے اسے فوری طور پر حجاج کے خدمت میں بھیج دیا۔

نیرون کی طرف پیش قدمی:   

اب محمد بن قاسم حجاج کے ہدایت کے مطابق نیرون کی طرف بڑھے منجنیقوں اور دوسرے عسکری سازوسامان کو کشتیوں کی مدد سے لایا گیا۔

(نیرون کا حکمران "راجہ سندرداس ” تھا جو بدھ مذہب کے پیروکار تھا۔اس نے پہلے مسلمانوں کے فتوحات سے مرعوب ہو کر حجاج بن یوسف سے خط و کتابت کرلی تھی جسکی خبر خود اسکے خاص مثیروں تک کو نہ تھی، کیونکہ ظاہری اعتبار سے راجا داہر کا ساتھی بنا ہوا تھا)۔ اس دوران راجہ سندرداس راجی داہر کے دعوت پر اسکے دربار میں تھا۔

سندرداس کی اطاعت:

جب محمد ن قاسم نیرون پہنچے تو شہر کا محاصرہ کیا،اہل نیرون قلع بند تھے اور اپنے راجہ سندرداس کا انتظار کر کہے تھے،وہ وقت بھی  آیا کہ سندرداس داہر کی ملاقات سے سیدھے محمد بن قاسم کے پاس آکر معذرت خواہی کے ساتھ اپنے کو حوالہ کردیا۔

فتح نامہ سندھ(چچ نامہ) میں مزکور ہے:

"دوسرے دن جب صادق تاریکی کے پردے سے اطلسی لباس پہن کر نمودارہوا  تب قیمتی بے انداز تحفوں اور بے شمار نذرانوں کے ساتھ محمد بن قاسم کے دربار میں حاضر ہوا اور رضامندی کی خلعت پہن کر شہر کے دروازے کھول دے محمد بن قاسم کی دعوت کی یہاں تک کہ لشکر کو فراخی کے ساتھ غلہ ملنے لگا۔[7]

اہل نیرون اور سندرداس پورے طور پر مسلمان کے ماتحت آگئے،محمد بن قاسم نیرون میں بھی ایک مسجد بنیاد رکھی۔امام مقرر کیے اور پنج وقتہ نمازوں کے قیام کا فرمان جاری کیا۔

سیوستان کے طرف پیش قدمی:

سیوستان یہ نیرون سے 90 میل کے فاصلہ پر تھا،اسکے تابع ایک شہر ‘موج’ تھا بعض  کتاب "بہرج”نام بھی آیا ہے۔ یہاں کے لوگ بد مذہب کے پیروکار تھے انہوں نے بلاچوں چراں اسلامی سپہ سالار کی اطاعت  قبول کرلی اور اپنا ایک ایلچی سیوستان کے دربار میں بھیجا۔

"ہم لوگ بودھی ہیں ہمارا مذہب میں خو نریزی رواں نہیں آپ کی طرح ہم لوگ بھی محفوظ نہیں اس لیے ہم مجبور ہو کر اطاعت قبول کر لیتے ہیں اس معاملہ میں آپ ہم کو معذور سمجھیں۔[8]

محمد بن قاسم جب چھوٹے سے معاملہ سے فارغ ہو کر سیوستان کی طرف پہنچے تو یہاں کا راجہ "بجھ رائے "جو داہر کا بھتیجہ  تھا،قلعہ بند ہوگیا اور ساری فوج کو فصیل پر لا کھڑا کیا،جبکہ اہل سیوستان کسی بھی صورت میں اہل اسلام سےلڑنے کے لیے تیار نہیں تھے اور بجھ رائے پر محمد بن قاسم سے صلح کرنے کے لیے زور دیرہے  تھے،لیکن وہ اپنی ضد پر اڑا رہا، شہریوں نے خفیہ طور پر ایک شخص کو نمائندہ بنا کر محمد بن قاسم کی طرف روانہ کیا۔

فتح نامہ سندھ چچ نامہ میں مذکور ہے:

"ساری رعایا جیسا کہ کسان،دستکار،تاجر اور عام آدمی بجھ رائے سے منحرف ہو کر الگ ہو گے ہیں اور اسکی بیعت نہیں کی،بجھ رائے  کے پاس اتنا سازوسامان بھی نہیں کہ وہ تم سے مقابلہ کریں۔۔۔تقریبا ایک ہفتہ کے اندر اہل قلعہ سے جنگ سے دستکش ہوگے،بجھ رائے نے جب دیکھا کہ اہل قلعہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں تو جب دینا تار کول جیسی سیاہی میں چھپ گی تھی شمالی دروازے سے دریا پار کر کے بھاگ گیا۔[9]

دوسری طرف شہری ،ڈرے سہمے ہوئے کھڑے تھے۔لشکر اسلام نے کسی کے ساتھ کو زیادتی نہیں کی طلوع آفتاب کے بعد سب نے ہتھیار ڈال کر اطاعت قبول کرلی ۔اس جنگ میں 94 مسلمان شہید ہوئے۔

مال غنیمت کا پانچواں حصہ دارالخلافہ بھیج دیا گیا۔۔۔یہاں کچھ دن قیام کیا گیا اسی دوران ایک مسجد تعمیر کروائ گئی اور ایک نمائندہ کو یہاں کے لیے مقرر  کر کے سیسم کی راہ لی۔

فتح سیوستان کے بعد حجاج کا خط:

حجاج بن یوسف امیر سندھ کی طرف اس قدر متوجہ تھا جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ ہر تیسرے روز اسکی ڈاک سندھ پہنچتی تھی، انہیں خطوط  میں سے ایک خط جس میں محمد بن قاسم کو سیاست اور دیانت کے اصول بتا کر اسکا پابند رہنے کا حکم کر رہا ہے۔

مفتی محمد صاحب، پالنپوری تحریر فرماتے ہیں:

"جو کوئ تم سے جاگر و ریاست طلب کرئے اسے ناامید مت کرو اور التجاوْ کو قبول کرو،امان اور عفو سے رعایا کومطئن کرو،سلطنت کے چار ارکان ہیں،اول مدارات و درگزر محبت،دوم سخاوت و انعام۔ سوم رشتوں کی مزاج سناسی،چہارم قوت و شہامت….جب کسی کو سفیر بنا کر بھیجو تو  اسکی عدل و امانت کو جانچ لو….۔[10]

سیسم کی طرف پیش قدمی:

محمد بن قاسم اپنے لشکر کے ساتھ سیوستان سے سیسم کی طرف روانہ ہوا راستہ میں دو چھوٹے شہروں کو فتح کرتے ہوئے سیسم کی طرف بڑھے۔

سیسم کا راجہ "کاکا” ایک اڈہیر عمر کا با حوصلہ اقبال مند آدمی تھا۔بجھ رائے جو سیوستان کا راجہ تھا بھاگ اسی کے پاس امان لی ہئ تھی،”کاکا” بجھ رائے سے مسلمان لشکر کی ساری تفصیل معلوم کرلیااور مسلمانوں کے ارادہ سے بھی واقف ہوگیا {کیونکہ بجھ رائے کا مسلمانوں سے واسطہ پڑھ چکا تھا}ابھی ان دونوں کے درمیاں بات چل رہی تھی کسی نے آکر خبر دی کہ محمد بن قاسم "نیلبان” کو فتح کر چکا ہےجو سیسم سے چند میل کے فاصلہ پر تھا،جس سے”کاکا” حواس باختہ ہو کر اپنے وزرا، اور بجھ رائے سےمیٹنگ طلب کی جس میں "کاکا” کے سپاہیوں نے مشورہ دیا کہ مسلمان سے حملہ کرنا اچھا نہیں ہے،صلح میں بہتری ہے،لیکن بجھ رائے کا اکھڑپن کےبنا پر "کاکا” کو بجھ رائے کے مشورہ پر عمل کرنا پڑا، جو کہ تقدیر الہی کی وجہ سے ناکام ہوگیا۔اگلے دن محمد بن قاسم بنانہ بن حنظلہ کے سرکردگی میں ایک چھوٹا سا لشکر دے کر قلعہ سیسم کی طرف روانہ کیا۔دوسری طرف "کاکا” اپنے وزیر اور تین سو آدمیوں کو لیکر لشکر اسلام کی طرف نکلا راستہ میں دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا "کاکا”سارا واقعہ سنایا،بنانہ بن  حنظلہ”کاکا” کو لیکر محمد بن قاسم کے پاس آئے۔

"کاکا” اور محمد بن قاسم کے مابین متعدد امور پر گفت و شنید ہوئ، پھر "کاکا” صلح کی پہل کرتے ہوئے اطاعت قبول کرلی۔محمد بن قاسم انکے رسم و رواج کے مطابق”کاکا” کو امتیازی نشانی کرسی اور ریشمی کپڑا سر پر باندھنے کے لیے دیا۔

قلعہ سیسم کی طرف روانگی:

قلعہ سیسم کی طرف روانگی  دوپہر کے وقت محمد بن قاسم اور اسکی فوج "کاکا” کی ہمراہی میں قلعہ سیسم کے سامنے پہنچے،لیکن قلعہ کا دروازہ بند اور سپا ہیوں کو فصیلوں پر تیر کمان لیے کھڑے دیکھ کر "کاکا” بدحواس ہوا۔

فتح نامہ سندھ {چچ نامہ} میں مذکور ہے:

"دودن کے جنگ کے بعد خدا تعالیٰ نے اسے فتح اور کافروں کو شکست دی۔داہر کا چچازاد بھائ بجھ رائے۔۔۔بھاگ گئے”۔[11]

سیسم کی فتح کے بعدمحمد بن قاسم یہاں ایک والی مقرر کیا ارو چند روز قیام کے بعد حجاج کے ایما پر  نیرون روانہ ہوا۔

نیرون کی طرف پیش قدمی

نیرون پہنچ کر محمد بن قاسم نے حجاج کو خط لکھا جس کا مضمون اس طرح تھا "اےامیر، آپ کے حکم سے نیرون آکر ایک قلعہ کے قریب ڈیرے ڈال دئے،یہ قلعہ بہت ہی بلند ہے اور نیرون کا قلعہ اروڑ کے بالکل قریب ہے ، آپ کو اس بات سے بھی مطلع کرنا ہے کہ سندھ کے مشرقی جانب سمندر کا جزیرہ ہے جو کہ بیٹ کہلا تا ہے اور وہاں کا والی داہر کا  مطیع خاص ہے”۔

عزم مصمم:

حجاج کا جوابی خط ملا جس میں محمد بن قاسم کو کچھ انتظامی امور سے آگاہی کے ساتھ ہمت سے کام لینے کی تلقین کی گئ تھی اور اروڑھ کی فتح کا خواب دیکھایاگیا تھاجس سے  محمد بن قاسم عزم نو کیا کہ وہ ہر صورت میں راجہ داہر سے ٹکرا ئے گا، لیکن راجہ داہر سےمقالبہ کے کیے تین بڑی رکاوٹیں تھی۔

  1. قلعہ اشبہا جہاں داہر کی بڑی زبردست فوج مکمل تیاری کے ساتھ تھی۔
  2. قلعہ بیٹ جہاں پر دیبل کا شکست خوردہ حاکم اپنی فوج کے ساتھ تھا اور داہر کی طرف سے بھی ایک لشکر بھیجا گیا تھا۔
  3. سورتھ کا حاکم "موکہ” جس نے داہر کے اشارہ پر فوج اکٹھا کر رکھی تھی۔

جب تک محمد بن قاسم مذکورہ رکاوٹوں کو سر نہ کرتے تب تک انکا اروڑھ کی طرف بڑھنا مشکل تھا۔

رکاوٹوں کا خاتمہ:

  1. قلعہ اشبہا ایک بڑا قلعہ تھا جس کے چاروں طرف ان لوگوں نے خندقیں کھود رکھی تھی جوحملے کے امکانات کو کم کرتے تھے،محمد بن قاسم حکم کے مطابق قلعہ کے باہر خیمہ زن ہوگئے،کچھ دنوں کے مقابلہ کے بعد اہل قلعہ طوفانی بگولے کے مانند نکلے۔لشکر اسلام پیچھے ہٹکر مکمل فوج کو باہر آنے دیا،پھر ایک جٹ ہوکر قہر کی بجلی بن کر دشمن پر تینوں طرف سے حملہ کردے، جس سے دشمن اس طرح بد حواس ہوے کہ آپس میں ہی قتل ہونا شروع ہو گئےاس طرح قلعہ اشبہا بغیر کسی نقسان کے بآسانی فتح ہوگیا۔
  2. محمد بن قاسم مقصد کو آگے بڑھاتے ہوئےکئی روز کی سافت طے کر کے قلعہ بیٹ پہنچے یہاں حملہ کی تیاریاں چل ہی رہی تھی کہ راجہ "موکہ” سوسواروں کی معیت میں صلح کے لیے آگیا چند شرائط کے ساتھ صلح نامہ پر دستخط ہوئ قابل ذکر یہ تھی کہ”محمد بن قاسم کو دریائےسندھ عبور کرنے کے لیے کشتیاں فراہم کرنا، اس طرح اہل بیٹ بھی اطاعت قبول کرلی۔
  3. اسکے بعد محمد بن قاسم سورتھ کے حاکم پیغام بھیجا کہ خلیفہ کی اطاعت قبول کرلیں بڑے غور و غرض کے بعد اطاعت کا اعلان کر دیا۔

{فاصلاتی} اسلامک اسٹڈیز کے مجوزہ نصاب میں مذکور ہے:

"چناچہ ابن قاسم نے اب راجہ داہر کی راجدھانی کے لیے تیاری شروع کردی،اس موقع پر سپہ سالار نے مناسب سمجھا کہ ایک وفد راجہ داہر کے پاس روانہ کریں،چنانچہ شام کے ایک

معزز شخص کے ہمراہ ایک سندھی نومسلم "مولانا اسلامی” کو بھیجا گیا ۔یہ سفارت کار دربار پہنچے اور پیغام پہنچایا، راجہ داہر جنگ کی ٹھان لی تھی اور جنگ کی تیاری شروع

کردی،ادھر حجاج نے درمیان میں آنے والے دریائےمہران کو  عبور کرنے کی اجازت بھی دیدی، رات کی تاریکی میں عرب فوج دریا عبور کرلیا، جنگ مختلف مرحلوں سے گزرتی رہی،بالآخر ۱۰/ رمضان بروز جمعرات ۹۳ھ کو راجہ داہر اور محمد بن قاسم کے درمیان جئے پور کے مقام پر جنگ ہوئ،مسلمانوں نے بھر پور مقابلہ کیا اور اسلحہ میں بطور خاص آگ لگانے والے تیروں کے زریعہ سندھی ہاتھوں میں بھگدڑ مچادی،اس طرح راجہ داہر کا ہاتھی اپنے سوار سمیت دریا میں ڈوب گیا اور محمد بن قاسم مکمل سندھ کو تسخیرکرلیا،عسکری اور جنگی لحاظ سے یہ جنگ حیران تھی،میدان جنگ میں صورت حال افرادی قوت کی اعتبار سے یہ جنگ جیتنا دشوار گزار تھا مگر محمد بن قاسم کی عسکری حکمت عملی اور جنگی تجربات اور مسلم فوجوں کے بلند حوصلوں نے فتح و کامیابی سے ہمکنار ہوا”۔[12]

اروڑھ پر قبضہ:                    

اگلے دن محمد بن قاسم اروڑھ کے برہمن شہریوں کا ایک فود آکر امان طلب کی۔ محمد بن قاسم ایک شرط کے ساتھ امان نامہ پر دستخط کردی، شرط یہ تھی کہ”راجہ داہر اور اسکے رشتےدار جہاں بھی ہو  انکو اسکے {محمد بن قاسم}  سپرد کردیا جائے۔” جس سے بچے کچے رشتہ دار بھی محمد بن قاسم کے حوالہ ہوگئے۔ نیز داہر کی لاش بھی برآمد کرلی گئ۔

محمد بن قاسم شہر میں داخل ہو کر تمام باغیوں کو سولی پر لٹکا دیا،باقی کو مکمل امان اور آزادی دی گئ ۔یہاں سے مال غنیمت کے طور پر بے حساب مال بےشمار قیدی ہاتھ آئے جنکو ” داہر کے کٹے ہوئے سر کے ساتھ حجاج کے پاس روانہ کیا اس جنگ میں صرف تین سو مسلمان شہید ہوئے

برہمن آباد کے طرف پیش قدمی:

شوال میں محمد بن قاسم برہمن آباد کے لئے نکلے، محمد بن قاسم راستہ میں دو قلعہ [۱] بہرور [۲]دہلیلہ کو بھی فتح کرتے ہوئے چلے،جب دہلیلہ فتح ہوا تب  داہر کا ایک وزیر ان تمام مسلمان قیدی اور عورتیں حوالہ کئے اور امان طلب کی۔

برہمن آباد پہنچ کر حملہ کی ساری تیاریاں کرلی گی دوسرے روز دشمن ایک ہزار لشکر کے ساتھ جئے سینہ کی قیادت میں آیا لیکن بہت سے لاشوں کو چھوڑ کر قلعہ بند ہوگیا،جئے سینہ کو خلاف توقع کامیابی کے بجائے شکست کا سامنہ تھا، چنانچہ دہ بھی میدان جنگ سے بھاگ گیا، جئے سینہ کی اس شکست نے قلعہ برہمن آباد کے مکینوں کو بھی بذدل کردیا، چنانچہ وہ لوگ صلح پر راضی ہو گئے۔

فاتح سندھ کی رواداری:

محمد بن قاسم خددار صلاحیتوں سے مالامال ایک قابل لیڈر تھا جسکی فاتحانہ سرگری اور مجاہدانہ کارنامہ پر قدر تفصیل سے بحث ہو چکی ہے،اب اب مفتوح علاقوں کے ساتھ اسکے روئے کو لیکر بات کرینگے۔

محمد بن قاسم اپنی فوج اور انتظامی کامیابی کے سبب ہندستان میں مسلم تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے،اس نے فتح کے بعد سندھ کے کسی بھی علاقہ کے موجودہ نظام کو خراب نہیں کیا،اسنے اندرونی معاملات کا نظام وہاں کے باشندوں پر چھوڑ دیا،مال گزاری کا کام بھی انہیں کے سپرد کیا،  جس سی اسکی رعایہ نہ صرف خوش تھی بلکہ جہاں بھی جاتے محمد بن قاسم کے عفود درگزر کا تذکرہ کرتے، کیونکہ اسنے یہ اعلان کیا تھا کہ جو لوگ مسلمان ہونا چاہتے تو انکے مسلمان ہونے پر مسلمان کے برابر ساری حقوق کے حقدار ہونگے۔جو اپنے مذہب پر رہینگے انہیں کسی بھی قسم کی زیادتی کا سامنا نہ ہوگا ، لیکن ایسے لوگوں کے  لئےجذیہ  مقرر کیا۔

  • امیر اور دولت مند سالانہ اڑتالیس درہم
  • متوسط طبقہ فی کس چوبیس درہم
  • غریب طبقہ فی کس بارہ درہم

اس طرح محمد بن قاسم عوام کے دل موہ لئے اور بہت سے لوگوں نے بخوشی اسلام قبول کیا۔

شیخ اکرام تحریر فرماتے ہیں :

"محمد بن قاسم پرانے نظام کو حتی الوسع تبدیل نےکیا راجہ داہر کے وزیر کو وزارت کے عہدہ پر برقرار رکھا اور اسکے مشورے پر عمل کرتے ہوئے تمام نظام سلطنت ہندوں کے ہاتھ میں رہنے دیا، عرب فقط فوجی اور سپاہیانہ انتظام کے لئے تھے ،مسلمانوں کے فیصلے قاضی کرتے تھے، لیکن ہندوں کے لئے انکی پنچایتیں بدستور قائم رہیں۔[13]

برہمن آباد جب فتح ہوا تو مندروں کے پجاری محمد بن قاسم کےپاس آکر کہے کہ ہندو مسلمان سپاہیوں کے ڈر سے مندروں میں آنا کم کردے ہیں،یہ سن کر محمد بن قاسم نے خلیفہ سے بذریعہ خط استصبواب کیا،پھر جب جواب آیا تو اعلان کیا۔

تاریخ ملت میں مزکور ہے:

"جو اپنے باپ دادا کے مذہب پر چلے اس سے کوئ تعرض نہیں کیا جاَگا،نہ انکے مندروں اور عبادت خانوں میںکسی بھی قسم کی مداخلت کی جائیگی”۔[14]

نیز سرکاری مال گزاری میں سے تین روپیے برہمن کے لئے الگ خزانہ میں جمع کئے جسکو برہمن جب چاہے اپنی مندروں کے لئے سکتے تھے اور انکے سب سے بڑے پنڈت کو "رانا” کا خطاب دیکر مذہبی امور کاافسر اعلیٰ بنایا۔

اسی طرح جب الور کو فتح کرلیا گیا تو محمد بن قاسم نے دیکھا کہ ایک بڑاے بت خانہ میں بہت سے لوگ  بت کے آگے پڑے ہئے ہیں محمد بن قاسم مندر کے اندر گئے اور واپس آئے ،کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا ،بلکہ  یہ اعلان کیا "اس شہر کے باشندے  ہر قسم کے مکیس اور محصول سے معاف کئے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ مجموئ اعتبار سے کاشت کاروں، تجارت پیشہ لوگوں صنعت کاروں  اورمزاریوں کی فہرست بنائ گئ اور انہیں معزرین ملک میں گرادنہ گیا،برہمنوں نے بھی درخواست کی کہ وہ بھی خاندانی اعتبار سے ملک کے عوام و خواص میں اپنا  اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور انہیں ہمیشہ لائق و تکریم قرار دیا حیا، جس کے نتیجہ میں برہمنوں کو بھی بڑا اعتزاز حاصل ہوا۔

شیخ محمد اکرام ڈاکٹر تارا چند کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:

"چچ ایک متعصب حاکم تھا،اسنے اپنی رعایا کےایک حصہ کےلیے کا سخت قوانین نافذکیے، انھیں ہتھیار رکھنے ریشمی کپڑے پہننے، گھوڑے پر زین دال کر سوار ہونے کی ممانعت کردی اور حکم دیا کہ ننگے پاوں اور ننگے سر کتوں کو  ساتھ لیکر چلے”۔

محمد بن قاسم کے متعلق وہ لکھتے ہیں :

” مسلمان فاتح نے مفتوحوں کے ساتھ عقلمندی اور فیاضی کا سلوک کیا ،مال گزاری کا پرانا نظام قائم

رہنے دیا،قدیمی ملازموں کو برقرار رکھا…..”۔[15]

محمد بن قاسم یہاں کے غیر مسلم رعایا کو وہی حیثیت دی جو صحابہ کرام نے اہل فارس کو دی تھی،یعنی انکو شبہ اہل کتاب شمار کیا،انکے مندروں کی حثیت ایران کے ان آتش کدوں کی طرح رکھا گیا۔

محمد بن قاسم ہند میں مستقل سلطنت کے لئے بنیادیں استوار کی سلم بستیاں اور مساجد تعمیر کیے،عوام کو انکے حقوق سے آشنا کر دیا،محمد بن قاسم عمر کے اس حصہ میں فتح سندھ کا یہ عظیم کارنامہ انجام دیا جو لوگوں کے کھیل کود کا وقت ہوتا ہے۔

محمد بن قاسم کے بعد کوئ ہم پلہ حکمران مامور نہ کیا گیا،نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی پیش قدمی رک گئی،تاہم اتنا ضرور ہوا کہ سندھ کے زریعہ ہند میں اسلام متعارف ہوا۔

ہزاروں برسوں کے سندھیوں سے محمد بن قاسم سندھیت نہیں چھینی یہ وہ بے مثال رواداری ہے کہ سندھیوں کی نظر میں محمد بن قاسم محبوب بن گئے جن کی آواز پر وہ جان دینے کو ہمیشہ تیار رہتے تھے،جب انہیں قید کر کے واسط کے جیل میں بھیجا جا رہا تھا تو یہاں کے لوگوں نے غم میں آنسو بہائے اور جب انتقال ہوا تو یادگار میں انکا مجسمہ بنایا۔

ابن قاسم  کی معزولی:

محمد بن قاسم صرف تین سال اس نواح میں رہے 93ھ مین وہ اس طرف آئے اور 95 ھ میں فتح سندھ کی تکمیل ہوئ نظام خلافت میں ایک گونہ اختلال کے سبب محمد بن قاسم کو پیش قدمی سے روک دیا گیا اور قید و معزولی کے ذریعہ انکی تمام ترتوجہ منحطف کردی گئ۔

علامہ ابن عبدالرحمٰن ابن خلدون تحریر فرماتے ہیں :

"اس زمانہ میں محمد بن قاسم ہی سندھ کا گورنر تھا،حتیٰ کہ سلیمان بن عبدالملک تخت خلافت پر بیٹھا اور اسنے محمد بن قاسم کو معزول کر کے یزید بن ابی کثبہ کو اسکی جگہ مقرر کیا یزید بن ابی کثبہ نے محمد بن قاسم کو قید کر کے اعراق بھیج دیا…. صالح بن عبدالرحمٰن نے واسط کے قیدخانہ میں ڈال دیا اور وہ حجاج کے اعزاز و اقارب کے ساتھ اسکو بھی تکلیف دینے لگا”[16]

خلاصہ:

سندھ پر فوج کشی کی ابتدا حضرت عمر کے دور سے ہی ہوگئ تھی،راجہ داہر جسکے غیر منصفانہ رویہ کے سبب تمام رعایا بیزار تھی ،اسکے علاوہ  اسکے غیِر اخلاقی عمل” [1] خلافت کے باغیوں کو پناہ دینا۔      [2] مسلمان قافلوں کو لوٹا "ان وجوحات کے سبب حجاج نے محمد بن قاسم کو روانہ کیا جسنے پورہ ملک سندھ کو فتح بھی کیے اور اسلامی و شرعی نظام کے ماتحت ایک نہایت مستحکم اور قابل تقلید سلطنت بھی قائم کردی۔جس سے برصغیر میں ایک انقلابی دور کا آغاز ہوا اسکے بعد ہندستان پر مختلف دور آئے لیکن مسلمانوں نے تین سو برس تک پھر کوئ حملہ نیں کیا۔

[1] (اسلامک اسٹڈیز کا فاصلاتی سے شائع ہونے والا پرچہ5…صفحہ: 37)

[2] چچ نامہ :صفحہ نمبر 114 سندھی ادبی بارڑ حیدرآباد سندھ 2008

[3] تاریخ اسلام:2/ 106جوہر رحمانیہ پرنٹرز لاہور

[4] ماخوز تاریخ ابن خلدون 3/  477 دارالاشاعت کراچی ،پاکستان 2009

[5] چچ نامہ: 123 ،124 سندھی ادبی بورڑ حیدرآباد،سندھ

[6] چچ نامہ 126 سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد سبدھ 2008

[7] چچ نامہ:137 سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد،سندھ

[8] اصلاتی سے شائع شدہ اسلامک اسٹڈیز کے پرچہ : صفحہ:

[9] چچ نامہ:138 سندھ ادبی بورڈ حیدرآباد،سندھ

[10] تاریخ ہند:صفہ: 25، الامین کتابستان دیوبند

[11] چچ نزمہ:142،سندھی ادبی بورڈ،حیدرآباد سندھ 2008

[12] شعبہ اسلامک اسٹڈیز کا فاصلاتی سے شائع ہونے والا پرچہ 5 صفحہ 40

[13] آب کوثر:26نقوش پریس لاہور،پاکستان 2006

[14] تاریخ ملت3/386 ادار اسلامیات لاہور،کراچی،1991ء

[15] آب کوثر:20تا 26،نقوش پریس لاہور 2006

 [16](تاریخ ابن خلدون 3 /485 دارالاشاعت ،کراچی،2009)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close