تاریخ و سیرت

مطالعۂ تاریخ: اہمیت، ضرورت، تقاضے

مطالعۂ تاریخ
اہمیت، ضرورت، تقاضے

سنۃ اللہ فی الارض کے مطابق اس بوقلمونی دنیا میں اسباب وعلل اور اسراروحکم کا ایک باقاعدہ نظام ہے ؛جس میں ہر حادثہ کسی سابقہ حادثہ کا اثر اور ہر واقعہ کسی آئندہ واقعہ کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے ، چنانچہ جو حالات وواقعات بقید وقت لکھے جاتے ہیں ان کو ’’تاریخ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدونؒ اپنے مقدمہ میں’’تاریخ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں’’تاریخ دنیا کے تمام علوم وفنون کا سرچشمہ اور گزرے ہوئے زمانے کا ایسا آئینہ ہے جس میں بزرگانِ سلف کے حالات ، انبیائے کرام کی سیرتیں ، حکمرانوں اور بادشاہوں کا طرز جہاں بانی وجہاں گیری ، اقوام عالم کا طرز تمدن اور معلومات عامہ کو دیکھا جاسکتا ہے‘‘۔(تلخیص مقدمہ ابن خلدون)
مطالعہ تاریخ کی اہمیت وضرورت:
قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت اور اس کی قدر وقیمت وہی ہے ؛جو فرد واحد کی زندگی میں اس کے حافظہ اور یادداشت کی ہوتی ہے جس طرح ایک شخص کی یادداشت اس کی سوچ، شخصیت ،کردار، افکار اور نظریات پر سب سے زیادہ اثر اندازہوتی ہے ٹھیک اسی طرح ایک قوم کی اجتماعی زندگی اور مجموعی طرز ہائے عمل پر سب سے گہرا اثر اس کی تاریخ کا ہوتا ہے ، تاریخ ہی کے ذریعہ قوموں کے مدوجزر ، عروج وزوال اور ترقی وانحطاط کی راہیں متعین ہوتی ہیں ، اسی سے امم سابقہ کی لغزشوں ، کوتاہیوں ، کمز وریوں اور غلطیوں کا پتہ چلتا ہے اور ان کے اسباب ووجوہ معلوم ہوتے ہیں ، تاریخ کا مطالعہ دلوں میں ندامت وشرمندگی کا احساس پیداکرتا ہے اور اقوام وملل کو اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ کسی بھی لمحہ ان کی مجرمانہ غفلت وکوتاہی ان کو اوج ثریا سے تحت الثری تک پہونچا سکتی ہے ، مطالعۂ تاریخ ہی کے ذریعہ ارادوں میں استواری ، حوصلوں میں بلندی اور عزائم میں پختگی پیدا ہوتی ہے،گم کردہ راہوں کو دانائی، بصیرت ،دور اندیشی اور عزم واحتیاط کا درس ملتا ہے ، تاریخ کاطالب علم ہر آن اور ہر لحظہ اپنے آپ کو انبیاء ورسل ، اولیاء وامراء اور فاتحین وعلماء کی مجلسوں میں محسوس کرتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ہر زندہ اور باشعور قوم اپنی تاریخ رقم کرنے اس کو محفوظ رکھنے اور ممکنہ حدتک اس کی تبلیغ واشاعت کرنے کی پوری سعی وکوشش کرتی ہے ، تاریخ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہے کہ وہ کلام مقدس جو رشدوہدایت کا علم بردار، راہِ حق اور صراط مستقیم کا حقیقی معیار ہے اس کتاب الٰہی کا ورق ورق امم ماضیہ کے تذکروں،سلاطین ِعالم کی گمراہیوں اور غافل قوموں کی بے اعتدالیوں سے بھرا پڑا ہے ، چنانچہ مفسرین کرام نے جب قرآن مجید کے مجموعی مضامین اور مابہ الاشتراک موضوعات کا احاطہ کیا تو علم التذکیر بایام اللہ کو بھی نہایت اہمیت کے ساتھ جلی عنوان کے تحت ذکر کیا جس میں قو م نوح، قوم لوط، قوم عاد، اور قوم ثمود کا مفصل تذکرہ اور ان کے عاقبت وانجام کو بیان کیا گیا پھر ان فی ذلک لایات لقوم یسمعون، ان فی ذالک لعبرۃ لمن یخشی اور ان فی ذلک لایات لاولی الالباب جیسی آیتوں کے ذریعہ امت محمدیہ کو عبرت وموعظت کا درس دیا گیا ۔
آغاز تاریخ:
نزول ِ قرآن سے قبل علم یقینی کے حصول اور اخبارصادقہ تک رسائی کے جتنے ذارئع تھے وہ سب یا تومنقطع اور مقطوع تھے یا پھر موہوم ومشکوک ،البتہ یونانیوں اور رومیوں کے دور بالخصوص سکندر اعظم کی فتوحات سے تاریخ کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے جس نے دنیا کے اکثر ملکوں کے حالات کو اس طرح ہمارے سامنے پیش کیا کہ سلسلہ کو درمیان سے منقطع ہونے کی نوبت بہت کم آئی مگر حقیقی معنیٰ میں تاریخ کی ابتدا اور اس کا زریں نقطۂ آغاز، نزول قرآن سے ہوا جس کے نتیجہ میں ساری تہذیبیں عربی تہذیب کے آگے سرنگوں ہوگئیں ، اور فن تاریخ کو علم کے درجہ تک پہنچانے کا وہ عظیم الشان کا رنامہ وقوع پذیر ہوا ؛جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ، تدوین حدیث اور ترتیب اسماء الرجال کے علاوہ مسلم مؤرخین نے اپنی صاف وشفاف تاریخ کی بنیاد صحتِ روایت اور صدقِ واقعہ پر رکھی جو ہر طرح کی فرضی روایات ، افسانوی حکایات ، اور من گھڑت واقعات سے پاک اور بے غبارہے۔الاماشاءاللہ
تاریخ عصر حاضر کے تناظر میں:
کسی بھی قوم کی کمزور تاریخ یاپھر اپنی عظیم تاریخ کا کمزور شعور تخلیقی صلاحیتوں کو مردہ اور سارے نظام اقدار وخیالات کوتباہ وبرباد کردیتا ہے ، اور اقوام عالم میں صرف مسلم قوم ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تمام قوموں میں سب سے زیادہ روشن تاریخ اور شاندار ماضی رکھتی ہے، اور یہ ایسی ناقابل انکار حقیقت ہے جس کا غیروں نے بھی کھل کر اعتراف کیا ہے؛ مگر حیف صد حیف کہ مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی جو کسی درجہ میں بیدار اور ہوشیار کہاجاسکتا ہے اپنے درخشاں ماضی سے غافل اور اپنی تابناک تاریخ سے لا پرواہ نظر آتا ہے ، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر دانشوران مغرب یہ باور کرارہے ہیں کہ مسلمانوں کی اپنی کوئی تاریخ نہیں، صفحۂ ہستی پر ان کا کوئی ذاتی وجود نہیں ، سینۂ گیتی پر ان کی حیثیت حرف غلط کے مانند بھی نہیں، ان کی تاریخ کا ورق ورق ظلم وستم ، جنگ وجدال اور تشدد وانتہا پسندی سے عبارت ہے جن کا مقصد بزور شمشیر اپنے مذہب کا پرچار اور اپنے اسلام کا نفاذ ہے؛ اسی بناء پر انہوں نے آپ ﷺ کی شخصیت کو مجروح کیا، حضرت عمرفاروقؓ پر اعتراضات کئے ، محمد بن قاسم کو ڈاکو اور لٹیرا ثابت کیا، محمود غزنوی ،صلاح الدین ایوبیؒ، اور اورنگ زیب عالمگیرؒ جیسے منصف حکمرانوں کو ظالم اور غاصب جیسے القاب سے نوازا، جو علمائے مغرب کی مادی تربیت ، مذہبی عصبیت اور مغربی قومیت کا عظیم شاخسانہ ہے ، اور ہم مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت اور دنیائے اسلام کے لئے زبردست چیلنج ہے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
اور آج بھی ساری دنیا میں مسلمانوں کی تقریبا (۶۰ )حکومتیں ہیں ان میں اور دیگر ملکوں میں آباد مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سے متجاوز ہے ؛علاوہ ازیں انفرادی قوت اور متعدد قدرتی وسائل کے اعتبار سے بھی مسلمان سب پر غالب اور نمایاں ہیں پھر ان کا جغرافیائی محل وقوع بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے ان سب کے باوجود مسلم ممالک کی حیثیت صفر سے زیادہ نہیں، وہ ایک تودۂ خاک ہیں جو کسی طوفان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، وہ ایک چراغ رہ گزر ہیں جو بادِ نسیم کو تک برداشت نہیں کرسکتے ، وہ پر تموج بحر عمیق میں ہچکولے کھاتا ہوا جہاز ہے جس کے ساتھ پانی کی معمولی لہریں بھی اٹھکیلیاں کررہی ہیں ، وہ ایک گدائے بے نوا اور مسافر گم راہ ہیں جسےمنزل کی خبر ہے نہ راستے کا شعور۔
قارئین کرام:
یہ حقائق ہیں گو تلخ ہیں یہ واقعات ہیں گو کڑوے ہیں؛مگر ہماری مذکورہ حالت زار ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ کی مصداق محتاج وضاحت نہیں ۔
کیا وہ یہی مسلماں ہیں جنہوں نے بدرواحد کے معرکے سر کئے ؟قیصر وکسریٰ جیسی عظیم الشان سلطنتوں کو زیر نگیں کیا؟ چہار دانگ عالم پر اپنی عظمت ورفعت اور شوکت وسطوت کے پرچم لہرائے؟ آج اس کے برعکس ایسا کیوں ہے کہ ان کا خون مانند آب ارزاں ہوچکا ہے؟ انہیں گاجرمولی کی طرح بے دریغ کاٹا جارہا ہے ؟ ایک ایک مسلم ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
حالی مرحوم نے اس پر یوں مرثیہ خوانی کی ہے :

یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے
بھنور میں جہاز آکے جس کا گھرا ہے
کنارہ ہے دور اور طوفاں بپا ہے
گماں ہے یہ ہر دم کہ اب ڈوبتا ہے
نہیں لیتے کروٹ مگر اہل کشتی
پڑے سوتے ہیں بے خبر اہل کشتی
گھٹا سر پہ ادبار کی چھارہی ہے
فلاکت سماں اپنا دکھلارہی ہے
نحوست پس وپیش منڈلارہی ہے
چپ وراست سے یہ صدا آرہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہوگئے تم
ابھی جاگتے تھے ابھی سوگئےتم

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close