تاریخ و سیرتسیرت نبویﷺ

واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

یوں تو چشم فلک نے چمنستان دہر میں ہزاروں سانحات  کا مشاہدہ کیا،چرخ نادرہ کار نے سیکڑوں دفعہ انسانیت کی بزم آرئی کی، عالم رنگ و بو میں بیسیوں عظیم الشان، تاریخ ساز اور انقلاب آفریں واقعات رونما ہوئے اور تاقیامت ہوتے رہیں گے؛ مگر سفر معراج کے مانند کوئی سفر،معجزۂ معراج کے مثل کوئی معجزہ اور واقعہ معراج کی طرح کوئی واقعہ  نہ کبھی پیش آیااور نہ پیش آسکتا ہے۔

اس حیرت انگیز واقعہ کی کچھ تفصیلات اور اس اہم ترین سفر کےبعض  مشاہدات کا سبق آموزی اور عبرت پذیری کےلیےاختصار کےساتھ یہاں ذکرکیاجارہاہے۔

معراج کامفصل ومستند واقعہ:

 حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ (تابعی ) حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ حضرت مالک ابن صعصہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء اور معراج کی رات کے احوال و واردات کی تفصیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اس رات میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا اور بعض موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "حجرہ” میں لیٹنے کا ذکر فرمایا۔ کہ اچانک ایک آنے والا ( فرشتہ ) میرے پاس آیا اور اس نے ( میرے جسم کے ) یہاں سے یہاں تک کے حصہ کو چاک کیا۔ یعنی میرا سینہ چاک کر کے میرے دل کو نکالا، اس کے بعد میرے سامنے سونے کا ایک دشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا اور اس میں میرے دل کو دھویا گیا، پھر دل میں ( اللہ کی عظمت ومحبت یا علم وایمان کی دولت ) بھری گئی اور پھر دل کو سینہ میں اس کی جگہ رکھ دیا گیا۔  اس کے بعد سواری کا ایک جانور لایا گیا جو خچر سے نیچا اور گدھے سے اونچا تھا، یہ جانور سفید رنگ کا تھا اور اس کا نام براق تھا ( اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ ) جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی وہاں اس کا ایک قدم پڑتا تھا، مجھے اس پر سوار کیا گیا، اور جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ میں آسمان دنیا ( یعنی پہلے آسمان ) پر پہنچا، جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو ( دربان فرشتوں کی طرف سے ) پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں جبرائیل ہوں پھر پوچھا گیا : اور تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا !محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس کے بعد سوال کیا گیا ! ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا ( یا از خود آئے ہیں ) جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا بلائے ہوئے آئے ہیں ۔ تب ان فرشتوں نے کہا : ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہیں ، آنے والے کو آنا مبارک ہو۔ اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور جب میں آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت آدم علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ تمہارے باپ ( یعنی جد اعلی، آدم ہیں ان کو سلام کرو۔ میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا ! میں نیک بخت بیٹے اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر  دوسرے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پھر وہی سوال ہوا کہ کون ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام  نے فرمایا:میں ہوں ۔ پھر پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر سوال کیا گیا : ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں ! تب دربان فرشتوں نے کہا : ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ آنے والے کو آنا مبارک ہو۔ اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور جب میں آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت یحیی اور عیسی علیہ السلام کھڑے ہیں جو ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے۔

جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ یحیٰی ہیں اور یہ عیسیٰ ہیں ان کو سلام کرو۔ میں نے دونوں کو سلام کیا اور دونوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا : نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر اوپر چلے اور تیسرے آسمان پر آئے انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو وہی سوال و جواب ہوا، اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور جب میں تیسرے آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام سامنے کھڑے ہیں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا :یہ یوسف ہیں ، ان کو سلام کرو میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا : میں نیک بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر اوپر چلے اور چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی سوال وجواب کے بعد  حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ ادریس ہیں ، ان کو سلام کرو میں نے ان کو سلام کیا، اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا : میں نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر اوپر چلے اور پانچویں آسمان پر آئے، وہاں بھی فرشتوں سے گفتگو کےبعد دروازہ کھولاگیا،جہاں حضرت ہارون علیہ السلام تشریف فرماتھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ ہارون ہیں ، ان کو سلام کرو میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا : میں نیک بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔

اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر اوپر چلے اور چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی فرشتوں کا وہی مکالمہ ہوا۔ اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور جب میں چھٹے آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ موسیٰ ہیں ، ان کو سلام کرو میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا : میں نیک بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس کے بعد جب میں آگے بڑھا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رونے لگے، پوچھا گیا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : ایک نوجوان جس کو میرے بعد رسول بنا کر دنیا میں بھیجا گیا اس کی امت کے لوگ میرے امت کے لوگوں سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔

بہر حال ( اس چھٹے آسمان سے گزر کر ) جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لئے اوپر چلے اور ساتویں آسمان پر آئے، انہوں نے آسمان کا دروزاہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں جبرائیل ہوں ۔ پھر پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر سوال کیا گیا : ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں ! تب ان فرشتوں نے کہا ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہیں ، آنے والے کو آنا مبارک ہو۔ اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور جب میں ساتویں آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سامنے کھڑے ہیں ، جبرائیل نے کہا :یہ تمہارے باپ ( مورث اعلی) ابراہیم علیہ السلام ہیں ، ان کو سلام کرو میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا : میں نیک بخت بیٹے اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔

اس کے بعد سدرۃ المنتہی تک پہنچایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس کے پھل یعنی بیر، مقام ہجر کے ( بڑے بڑے ) مٹکوں کے برابر تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، جبرائیل علیہ السلام نے (وہاں پہنچ کر) کہا : یہ سدرۃ المنتہی ہے ! میں نے وہاں چار نہریں بھی دیکھیں ، دو نہریں تو باطن کی تھیں اور دو نہریں ظاہر کی تھیں ، میں نے پوچھا : جبرائیل ! یہ دو طرح کی نہریں کیسی ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ باطن کی دو نہریں جنت کی ہیں اور یہ ظاہر کی دو نہریں نیل اور فرات ہیں ، پھر مجھ کو بیت المعمور دکھلایا گیا اور اس کے بعد ایک پیالہ شراب کا، ایک پیالہ دودھ کا اور ایک پیالہ شہد کا میرے سامنے لایا گیا ( اور مجھے اختیار دیا گیا کہ ان تینوں میں سے جس چیز کا پیالہ پسند ہو لے لوں) چنانچہ میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا، جبرائیل علیہ السلام نے ( یہ دیکھ کر کہ میں نے دودھ کا پیالہ کو اختیار کیا) کہا : دودھ فطرت ہے اور یقینا تم اور تمہاری امت کے لوگ اسی فطرت پر ( قائم وعامل) رہیں گے (اور جہاں تک شراب کا معاملہ ہے تو وہ ام الخبائث اور شر وفساد کی جڑ ہے ) اس کے بعد وہ مقام آیا جہاں مجھ پر ( ایک دن اور ایک رات کی ) پچاس نمازیں فرض کی گئیں ۔ پھر (جب ملاء اعلی کا میرا سفر تمام ہوا اور درگاہ رب العزت سے ) میں واپس ہوا تو ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے رخصت ہو کر چھٹے آسمان پر، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا (اور ان سے رخصت ہونے لگا) تو انہوں نے پوچھا : تمہیں کس عبادت کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے ان کو بتایا کہ ( ہر شب وروز میں) پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ( یہ سن کر) کہا تمہاری امت (نسبتاً کمزور قویٰ رکھنے کے سبب یا کسل وسستی کے سبب) رات دن میں پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی، اللہ کی قسم، میں تم سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں (کہ عبادت الٰہی کے راستہ میں مشقت وتعب براداشت کرنا ان کی طبیعتوں پر کس قدر بار تھا ) اور بنی اسرائیل کی اصلاح ودرستی کی سخت ترین کوشش کر چکا ہوں ( لیکن وہ اصلاح پذیر نہ ہوئے باوجودیکہ ان کے قوی تمہاری امت کے لوگوں سے زیادہ مضبوط تھے، تو پھر تمہاری امت کے لوگ اتنی زیادہ نمازوں کی مشقت کیسے برداشت کر سکیں گے لہٰذا تم اپنے پروردگار کے پاس جاؤ اور اپنی امت کے حق میں تخفیف اور آسانی کی درخواست کرو۔ چنانچہ میں (اپنے پروردگار کی بارگاہ میں) دوبارہ حاضر ہوا اور میرے پروردگار نے میرے عرض کرنے پر (دس نمازیں کم کر دیں ، میں پھر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا ( اور ان کو بتایا کہ دس نمازیں کم کر کے چالیس نمازیں رہنے دی گئی ہیں) لیکن انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا ( کہ میں پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں ، تمہاری امت کے لوگ چالیس نمازیں بھی ادا نہیں کر سکیں گے، اب پھر بارگاہ رب العزت میں جا کر مزید تخفیف کی درخواست کرو ( چنانچہ میں پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا اور ( چالیس میں سے) دس نمازیں کم کر دی گئیں ، میں پھر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا، چنانچہ میں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا اور ( تیس میں سے) دس نمازیں کم کر دی گئیں ، میں پھر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا، چنانچہ میں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا اور مزید پانچ نمازوں کی تخفیف کر کے مجھ کو ہر شب و روز میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا، پھر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ اب تمہیں کیا حکم ملا ہے؟ میں نے ان کو بتایا کہ اب مجھے رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حضرت موسی علیہ السلام نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تمہاری امت کے اکثر لوگ ( پوری پابندی اور تسلسل کے ساتھ ) دن رات میں پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھ پائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ میں تم سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کی اصلاح ودرستی کی سخت کوشش کر کے دیکھ چکا ہوں ( وہ تو اس سے بھی کہیں کم عبادت الٰہی پر عامل نہیں رہ سکے تھے ) لہٰذا تم پھر پروردگار کے پاس جاؤ اور اپنی امت کے لئے ( پانچ نمازوں میں بھی ) تخفیف کی درخواست کر و۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ اس موقع پر میں حضرت موسی علیہ السلام سے کہا ) کہ میں باربار اپنے پروردگار سے تخفیف کی درخواست کر چکا ہوں ، اور مجھ کو شرم آتی ہے ( اگرچہ امت کی طرف سے پانچ نمازوں کی بھی پابند نہ ہوسکنے کا گمان ہے مگر مزید تخفیف کی درخواست کرنا اب میرے لئے ممکن نہیں ہے ) میں اپنے پروردگار کے اس حکم کو ( برضاء ورغبت ) قبول کرتا ہوں ( اور اپنا اور اپنی امت کا معاملہ اس کے سپرد کردیتا ہوں کہ وہ اپنی توفیق ومدد سے امت کے لوگوں کو ان پانچ نمازوں کی ادائیگی کا پابند بنائے )۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام سے اس گفتگو کے بعد ) جب میں وہاں سے رخصت ہوا تو ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) یہ ندائے غیبی آئی : میں نے ( پہلے تو ) اپنے فرض کو جاری کیا اور پھر ( اپنے پیارے رسول کے طفیل میں اپنے بندوں کے حق میں تخفیف کر دی ( مطلب یہ کہ اب میرے بندوں کو نمازیں تو پانچ ہی پڑھنی پڑیں گی لیکن ان کو ثواب پچاس نمازوں کا ملے گا۔ ” ( بخاری ومسلم )

سفر معراج کےعبرت انگیز مشاہدات :

1:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ معراج کے لیے تشریف لے گیے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا، توآپﷺ نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہاگیا : یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، آپ اپنے سرکو بلند کیجئے اور دیکھیے: تویکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھاتھا، مجھ سے کہاگیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ کی امت میں ستر ہزار اور ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے،پھر آپﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ سے اس کی بابت نہیں پوچھ سکے اورنہ ہی آپ نے ان کے سامنے اس کی تفسیربیان کی، چنانچہ ان میں سے بعض صحابہ نے کہا: شاید وہ ہم ہی لوگ ہوں اور بعض نے کہا: شاید ہماری وہ اولاد ہیں جو فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوئیں ۔ لوگ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺباہر نکل آئے اور فرمایا:’ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدن پر داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑپھونک اور منتر کرواتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں ، وہ صرف اپنے رب پرتوکل واعتمادکرتے ہیں ‘، اسی اثناء میں عکاشہ بن محصنؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیامیں بھی انہیں میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا:’ ہاں ‘، (تم بھی انہی میں سے ہو) پھرایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا:’ عکاشہ نے تم پر سبقت حاصل کرلی ‘۔ (جامع ترمذی؛رقم الحدیث 2446 )

2:حضرت عمران بن حصینؓ نےبیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کردیکھا تو وہاں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا ( شب معراج میں ) تو وہاں عورتیں تھیں ۔ (رواہ البخاری ؛رقم الحدیث 6546)

3:سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جب مجھے معراج کرائی گئی تو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جو اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ ہیں جو دوسرے لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی عزتوں سے کھیلتے ہیں ۔ “(سنن ابو داؤود؛رقم الحدیث 4878 )

4: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی، (اس سفر کے دوران میں ) میرا گزر ایسے افراد کے پاس سے ہوا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح (بڑے بڑے) تھے، ان (پیٹوں ) میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ان کے پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ سود کھانے والے ہیں ۔ (رواہ ابن ماجہ؛رقم الحدیث 2273 )

5: آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچل جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہوجاتے تھے جیسے پہلے تھے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری تھا، ختم نہیں ہورہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ نماز میں کاہلی کرنے والے ہیں ۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج۔ شیخ مفتی عاشق الہی ؒ)

6:آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے ہیں اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے ہیں اور کانٹے دار و خبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں ۔ (ایضاً)

7: حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا: صدقے کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا۔ میں نے کہا: اے جبریل! کیا وجہ ہے کہ قرض صدقے ست بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ سائل (بعض اوقات) سوال کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس (اس کی ضرورت کا مال) موجود ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا ضرورت (اور مجبوری) کی حالت ہی میں قرض لیتا ہے (کیونکہ قرض کی واپسی تو ضروری ہے، اس لیے مجبوری کے وقت ہی لیا جاتا ہے)۔ (رواہ ابن ماجہ :رقم الحدیث 2431 )

اخیر میں اللہ پاک سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں ان سے عبرت حاصل کرنے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطاءفرمائے۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close