تاریخ و سیرتسیرت صحابہ

وہ جانِ حمیت، وہ جانِ وفا ہے!

عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

پیغمبر انقلاب ﷺ کی تاثیر صحبت، فیضانِ تربیت اور تعلیم کتاب وحکمت نے امت مسلمہ اور تاریخِ اسلام کو ایسے باصفا، باوفا، بااثر، باخبر، بلند ہمت، نیک طینت، پاک سیرت اور صاحبِِ بصیرت جانشین عطاکئے جنہوں نے آپ کے پسِ مرگ شجر اسلام کی نہ صرف آبیاری کی بلکہ اس کو نخلستانِ عرب سے نکال کر چاردانگِ عالم میں ایک لہلہاتے ہوئے، سرسبزو شاداب باغ کی صورت بخشی جس کے برگ وباراَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ کے مصداق روئے زمین کے چپہ چپہ میں اس طرح پھیل گئے کہ بقول حالی مرحوم ؂

بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے 
یہ سب پود انہی کی لگائی ہوئی ہے

ان ہی عظیم المرتبت، رفیع الشان، بلند پایہ اور برگزیدہ ہستیوں میں سب سے نمایاں نام اس قدسی صفات اور جامع الکمالات ہستی کا ہے جو پیکرِ جود وسخا، مجسمۂ صدق ووفا، منبعِ تسلیم ورضا، افضل البشر بعد الانبیاء،ثانی اثنین فی الغار، حب خداوعشق نبی سے سرشار، خلافت علی منہاج النبوت کی معمار، تحریکِ دعوت وجہاد کی علم بردار، یار غار ویار مزار، وزیر پیمبر، خلیفۂ اول صدیق اکبرؓ ہیں ؛ جن کے مکمل فضائل ومناقب اور اخلاق ومحاسن کا احصاء احاطۂ قلم سے باہر ہے، البتہ جس مرکزی وکلیدی صفت کی جانب مفکر اسلام حضرت علی میاں ندویؒ نے اشارہ کیا ہے وہ تمام اوصاف وکمالات پر فوقیت رکھتی ہے ارقام فرماتے ہیں کہ 146146حضرت ابوبکرؓ کس مرتبہ کے انسان تھے ؟ ان کی صفات، ان کی سیرت وسوانح کی کتابوں میں پڑھئیے! وہ کن کمالات کے حامل تھے ؟حضور ﷺنے ان کے بارے میں کیا فرمایا ؟ ان کو کس درجہ کی فضیلت حاصل ہے ان پر امت کو کتنا اتفاق ہے ؟

یہ سب حدیث وسیرت کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے ؛ لیکن ان کی سب سے بڑی اور غالب صفت جس کی پہلے مرحلہ میں سب سے بڑھ کر ضرورت تھی وہ ان کی دین کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی غیرت، ذکاوت حس، اس کے ایک ایک نقطہ کی حفاظت کا جذبہ اور منشائے رسول ﷺ کی تکمیل کا غیر متزلزل عزم وفیصلہ تھا، ان کا خدا کے ساتھ جو تعلق تھا وہ اپنی جگہ پر، ان کی راتوں کی گریہ وزاری، ان کی دعائیں اور خلق خدا پر ان کی شفقت او ران کا عدل وتقویٰ، ان کا زہدو ایثار، یہ وہ صفات وخصوصیات ہیں جو اپنی جگہ پر بڑی قدروقیمت کی حامل ہیں ؛ مگر حفاظتِ دین او راس کے بارے میں شدید غیرت، یہ ان کا وصفِ خاص او ران کی سیرت کی کلیدی صفت ہے جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ آج دین پر جو عمل ہورہا ہے، فرائض اور شرعی احکام زندہ ہیں ، دین تحریف اور امت کلی طور پر ضلالت سے جو محفوظ ہے یہ حضرت ابوبکرؓ کی اسی حفاظتِ دین کے جذبہ کا نتیجہ اور ظہور ہے اور میں کیا چیز ہوں ؟ میری کیا حیثیت ہے ؟ حضرت ابوہریرہؓ جن سے زیادہ حدیث کے راویوں میں کسی سے روایات منقول نہیں او رجن کی عدالت وصداقت پر امت کا اتفاق ہے وہ فرماتے ہیں :’’ واللہ الذی لا الہ الا ھو لولا ان ابابکر استخلف ماعبداللہ ‘‘لوگوں نے کہا دیکھئے آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے پھر یہی جملہ ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر حضرت ابوبکرؓ مسند خلافت پر متمکن نہ ہوتے تو دنیا میں خدا ئے واحد کی عبادت واطاعت کا سلسلہ جاری نہ رہتا۔ (خلفائے اربعہ)

المختصر :حضرت صدیق اکبرؓ کا عہد خلافت صرف سوادوبرس کی قلیل مدت پر محیط رہا ؛مگر اس مختصر عرصہ میں آپ نے بہ توفیق ایزدی جو عظیم الشان دینی، ملی، سیاسی، سماجی اور اصلاحی کارہائے نمایاں انجام دئیے وہ تاریخِ اسلام کا روشن، منور او رقابلِ فخر باب ہے۔ انہی خدمات میں سے چند کو یہاں اختصار کے ساتھ رقم کیا جاتا ہے :

وصال نبوی ﷺ: اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ المناک، کربناک اور اندوہناک حادثہ، حیاتِ صحابہ کا نہایت جاں گداز، دل دوز اور روح فرسا سانحہ، اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ وصال نبیﷺ کا جاں بلب واقعہ ہے جس نے تمام صحابہؓ پر سراسیمگی ودہشت طاری کردی، ہر کوئی ورطۂ حیرت میں مستغرق خاموش کھڑا ہے، شدتِ کرب والم سے جگر گوشۂ رسول فاطمہ الزھراؓ کا براحال ہے، ادھر حضرت عمرؓ ننگی تلوار لئے مسجد میں کھڑے ہیں کہ جو شخص بھی کہے گا کہ اللہ کے نبی فوت ہوگئے ہیں اس کی گردن اڑادوں گا، ایسے مشکل حالات میں حضرت ابوبکرؓ نے اپنی فراستِ ایمانی، دانشمندی اور اولوالعزمی کا جو ثبوت پیش کیا وہ صحابہ کرام میں صرف ان ہی کا حق تھا، وفات نبی کی اطلاع پاکر آپ سیدھے حضرت عائشہؓ کے مکان میں داخل ہوئے اور آقائے نامدارﷺکے نورانی چہرہ سے نقاب اٹھا کر جبین مبارک کا بوسہ دیا اور باہر آکر بآواز بلند لوگوں سے مخاطب ہوئے کہ اگر لوگ محمد ﷺکی پرستش کرتے تھے تو بے شک وہ وفات پاگئے اور اگر وہ خدا کی عبادت کرتے تھے تو وہ زندہ ہے کبھی نہ مرے گا پھر اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: ‘‘وَمَا مُحَمَّدالاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُل’’(آل عمران:۴۴۱)،یہ تقریر ایسی دلنشین تھی کہ ہر ایک کا دل مطمئن ہوگیا سب پرسکون کی کیفیت طاری ہوگئی، خصوصاً آپ نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کی تھی اس کے متعلق حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ! ہم لوگوں کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا یہ آیت ابھی نازل ہورہی ہے۔

جیشِ اسامہؓ کی روانگی:

جنگ موتہ اور غزوہ تبوک کے بعد آپ علیہ السلام کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اسلام اور مسیحیت کے بڑھتے ہوئے اختلاف اور یہود کی فتنہ انگیزیوں کے باعث اہل روم، عرب پر حملہ نہ کردیں ، ادھر رومیوں کی سرحدِ عرب پر پیش قدمی اور جنگ کی پرزور تیاریوں نے اس خطرہ کو مزید تقویت دیدی چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی دوراندیشی اور عاقبت بینی سے مرضِ وفات ہی میں حضرت اسامہؓ کی زیر قیادت سات سو جوانو ں پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا جو وفات نبی کی خبر سن کر مقام جرف سے واپس لوٹ آیا، حضر ت ابوبکرؓ نے بحیثیت خلیفہ سب سے پہلے یہ حکم جاری کیا کہ جیش اسامہؓ کی روانگی عمل میں لائی جائے اور سرکار دوعالم ﷺنے اپنی حیات طیبہ میں جس کا امر فرمایا اس کو روبہ عمل لانے میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے مگر وصال نبی کے بعد مملکت اسلامیہ کو درپیش داخلی وخارجی خطرات کے پیش نظر صحابہ کرامؓ کی اکثریت اس لشکر کی فوری روانگی کے حق میں نہیں تھی؛ کیونکہ ایک طرف جھوٹے مدعیان نبوت کی شرانگیزی حائل تھی تو دوسری طرف مرتدین اور مانعین زکوۃ نے علاحدہ شورش برپا کررکھی تھی، ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت مسلمان بکریوں کے اس گلہ کے مشابہ تھے جو جاڑوں کی سردرات میں بحالتِ بارش میدان میں بے گلہ باں کے رہ گئے ہوں ، ان صعوبات ومشکلات کے ساتھ حضرت اسامہؓ کا ان چیدہ وچنیدہ افراد کو لے کر جنگ کی مہم پر جانا دشمنانِ اسلام کے لئے لقمہ تر بن جانے کے مترادف تھا ؛لیکن ابوبکرؓ ڈٹے رہے ان کے پایۂ ثبات میں ذرہ برابر لغزش پیدا نہ ہوئی، مانعین زکوۃ سے اظہار برہمی کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر مجھ کو یہ گماں ہوتا کہ درندے مجھے اٹھالے جائیں گے تو بھی بہ تعمیلِ حکمِ رسول، اسامہ کا لشکر ضرور روانہ کرتا، اس کے بعدکسی کو ممانعت کی ہمت نہ ہو ئی، حضرت اسامہؓ کی جماعت حدود شام پہونچی اور نہایت کامیابی کے ساتھ اپنا مقصد پورا کر کے چالیس دن میں واپس ہوئی۔

مدعیان نبوت کا قلع قمع:

سرکار دوعالم اﷺکی زندگی ہی میں بعض مدعیان نبوت نے سرابھارا چنانچہ مسیلمہ کذاب، ۱۰ھ میں نبوت کا دعویدار ہوا اور آپ علیہ السلام کو منصب نبوت میں شرکت کا مفصل خط لکھا جس کا جواب آپ ﷺنے روانہ فرمایا :دھیرے دھیرے یہ مرض متعدی ہونے لگا چنانچہ نواح مدینہ میں طلیحہ بن خویلد نے، یمن میں اسود عنسی نے اور یمامہ میں خود مسیلمہ نے، مردتو مرد عورتوں میں سجاح بنت حارث نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور اپنے ہم نواؤں کے ساتھ مل کر وہ فساد برپا کیا کہ ہزاروں پر مشتمل ایک پورا لشکر ان کے ساتھ ہوگیا، حضرت ابوبکرؓ کی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی او رانہوں نے لشکر اسلام کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا اور ہر ایک پر ایک سردار مامور فرمایا اور ان فتنوں کی منظم سرکوبی کے ذریعے 146146 تحفظ ختم نبوت 145145کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔

مرتدین کی سرکوبی :ادھر مدینہ میں حضرت ابوبکرؓ کے دستِ اقدس پر صحابہ کرامؓ بیعت فرمارہے تھے ادھر قبائل عرب میں رسول اللہ ﷺکی خبر وفات آگ کی طرح پورے عرب میں پھیل گئی اور آناً فاناً ارتداد کی ایسی لہر چلی کہ سوائے دو قبیلوں (قریش، ثقیف)کے سبھی اس کی لپیٹ میں آگئے ارتدا د کا زیادہ زور یمن اور نواح مدینہ کے قبائل میں تھا کہ یہ سب جدید الاسلام تھے، اس لئے معرکہ طلب طبائع نے اپنے عروج وسرداری کا حیلہ ارتداد کی شکل میں ڈھونڈنکالا، حضرت ابوبکرؓ نے ان کے خلاف کمر کس لی اور مختصر مدت میں ارتدا د کامکمل خاتمہ فرمایا چنانچہ علاء بن حضرمیؓ کو بحرین روانہ فرماکر نعمان بن منذر کا قلع قمع فرمایا، حضرت حذیفہؓ بن محصن کی تلوار سے لقیط بن مالک کو کیفرِکردار تک پہونچایا، زیاد بن لبید کے ذریعہ ملوکِ کندہ کا صفایا فرمایا، اسی طرح اس مرد حق آگاہ نے 146146 أینقص الدین وأنا حی 145145کا نعرہ لگا کر مانعین زکوٰۃ کے خلاف ایک محاذکھڑا کردیا، او ر ان کا استیصال کر کے ہی دم لیا ان سب کے باوجود وہ ملکی نظم ونسق سے بھی غافل نہیں رہے بلکہ اپنی قوت ایمانی اور حمیت دینی کے ذریعہ اس نوزائیدہ خلافت اسلامیہ کو اتنی مستحکم بنیادوں پر قائم فرمایا کہ حضرت عمرؓ نے اس پر ایک شاندار محل تعمیر فرمایا مزید برآں عراق وشام جیسے اہم ترین علاقوں کی فتوحات بھی آپ ہی کے کاوشوں کی رہین منت ہے۔

جمع وتدوینِ قرآن :

آپ ﷺکے زریں عہد میں حفاظتِ قرآن کے ذرائع محدود تھے اسلئے قرآن کریم کے جتنے نسخے لکھے گئے وہ یا تو چمڑے، یادرخت کے پتے، یا ہڈیوں پر تھے اور سب کے سب مکمل بھی نہیں تھے، کسی صحابیؓ کے پاس ایک سورت کسی کے پاس چندآیات کسی کے پاس آیات کے ذیل میں تفسیری فوائد بھی درج تھے اس بناء پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے عہد خلافت میں یہ ضروری سمجھا کہ قرآن کریم کے ان منتشر حصوں کو یکجا کر کے محفوظ کردیا جائے، اس جذبہ کے محرکات واسباب کو بیان کرتے ہوئے حضرت زید بن ثابتؓ (کاتبِ وحی)فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے فوراً بعد ابوبکرؓ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر نے ابھی آکر یہ بات کہی ہے کہ جنگ یمامہ میں حفاظِ قرآن کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی، اگر مختلف مقامات پر حفاظِ قرآن اسی طرح شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے !!(بخاری)الغرض اس داعیہ کی بناء پر حضرت ابوبکرؓ نے درج ذیل تصریحات کے ساتھ اس کا آغاز فرمایا:

(۱)ہر سورت الگ الگ لکھی گئی، لیکن ترتیب بعینہ وہی تھی جو سرکار دوعالمﷺنے بتلائی تھی۔ (۲)اس نسخے میں وہ ساتوں حروف جمع تھے جس پر قرآن کا نزول ہوا۔

(۳)اس نسخہ کا خط حیری تھا۔

(۴)اس نسخہ میں صرف انہی آیات کی کتابت کا التزام کیا گیا جو غیر منسوخ التلاوۃ تھیں ۔

(۵)اس نسخہ میں قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پرلکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کردیا گیا۔ (الاتقان فی علوم القرآن )

الحاصل:

بنظر غائر سیرت صدیقؓ کا مطالعہ کرنے والے کو یہ بات عیاں نظر آئے گی کہ حضرت ابوبکرؓ کی پوری زندگی عشق مصطفوی کی آئینہ دارتھی ؛شہادت گہہ الفت میں قدم رکھتے ہی ہجوم بلا میں گھر گئے، گفتارصدق مایۂ آزار بن گیا، شہادت حق ورسالت پر کفار نے متعدد مرتبہ اپنی گرفت میں لے کر اتنا زدوکوب کیا کہ بے ہوش ہوکر گرگئے، سفر وحضر خلوت وجلوت، لیل ونہار، غرض ہردم وہر آن اس طرح حق رفاقت ادا کیا کہ زبان نبوت خود گویا ہوئی کہ میں نے ابوبکر کے علاوہ سب کے حقوق ادا کردئیے، تمام غزوات میں آپ ﷺکے ساتھ رہے اور اسلام کی بھرپور معاونت ونصرت فرمائی،اسی پس منظرمیں شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے یوں مدح سرائی کی ؂

بولے حضور: چاہئے فکر عیال بھی؟ 
کہنے لگا وہ عشق ومحبت کا راز دار 
ائے تجھ سے دیدہ مہ وانجم فروغ گیر 
ائے تیری ذات باعث تکوین روزگار
پروانہ کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس 
صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close