تاریخ و سیرتسیرت صحابہ

ہمت وشجاعت کے پیکرحضرت علیؓ

آپؓ خلفاء راشدین میں سے خلیفۂ چہارم وجانشینِ سیدعالم، نورمجسم، شاہ بنی آدم، نبی محتشم، شافع اُمم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔

محمد صدرِعالم قادری مصباحیؔ

پروردۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اقلیم ولایت کے شہنشاہ، صاحب سرلافتی، مقتداء اولیاء واصفیاء، منبع علم وعرفان، محبوب خداکے رازداں ، اہل بلا کے مشکل کُشا، مخزن صدق وصفا، عالم شجاعت کے شہنشاہ، علم رسول کی ودیعت گاہ، آسمان فضائل کے مہرعالمتاب، عبادت وریاضت میں مسلمانوں کے امام و پیشوا، ہمت وشجاعت کے عظیم تاجدار، معرکۂ خیبرکے شہسوار، حضرت خاتون جنت کے شوہرنامدار، سرداران جنت کے والدگرامی، حضرت علی حیدر، اسداللہ الغالب کرّم اللّٰہ تعالیٰ وجھہ الکریم، آپؓ کا اسم گرامی علی اورکنیت’’ابوالحسن ‘‘و’’ابوتراب‘‘ہے۔ آپؓ وادی بطحاء کے نامورسرداراوراہل حرم میں معززترین فردابوطالب کے فرزندارجمندہیں اورآپ ؓکی والدہ کانام نامی فاطمہ بنت اسدبن ہاشم ہے۔ آپ ؓسابقین اولین اورعلماء ربانین میں انتہائی مکرم ومعظم اورمہاجرین اولین اورعشرۂ مبشرہ میں اپنے مراتب و درجات کے لحاظ سے بہت  زیادہ ممتازاوراعلیٰ واکرم ہیں ۔ آپ ؓحضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالیٰ عنہاکے شوہرِنامدار، حسنین کریمین کے پِدربزگوار، حیدرکرَّار وصاحب ذ والفقارہیں اورجس طرح سخاوت وشجاعت میں مشہورخلائق ویگانۂِ روزگارہیں ، اسی طرح زہدواِتقااورعبادات وریاضت میں بھی سیدالاخیاروسیدالابرارہیں ۔

فصاحت وبلاغت اورموعظۂ وخطابت میں عدیم النظیراورجودوسخا، علم وحلم، تفکروتدبر، صبروتحمل میں بھی بے مثال، غرض ہرمیدانِ فضل وکمال کے شہسوارہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک تمام دنیاآپؓ کو ’’مظہرالعجائب والغرائب اسداللہ الغالب علی ابن ابی طالب‘‘  پکارتی اوریادکرتی رہے گی۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں !

مرتضیٰ شیرحق اشجع الاشجعین    

ساقیٔ شیروشربت پہ لاکھوں سلام

  شیرشمشیرزن شاہ خیبرشکن       

پَرتَوِدَستِ قُدرت پہ لاکھوں سلام   

       (حدائق بخشش)

آپؓ خلفاء راشدین میں سے خلیفۂ چہارم وجانشینِ سیدعالم، نورمجسم، شاہ بنی آدم، نبی محتشم، شافع اُمم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔

 ولادت باسعادت وپرورش:

عام الفیل کے   30  ؁ برس بعد جبکہ حضورسرورکائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمرمبارکہ 30؍سال کی تھی۔ 13؍رجب المرجب بروزجُمعَۃُ المُبَارکہ23؍سال قبل از ہجرت خانۂ کعبہ کے اندر بزم ہستی میں رونق افروزہوئے۔

سرکاردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت علیؓ کے والدین سے جواُنس ومحبت تھی اس کایہ تقاضاتھاکہ آپ ﷺنے زمانہ ٔ  قحط میں اپنے محسن چچاابوطالب کی تنگدستی کوملاحظہ کرتے ہوئے اُن کامعاشی بوجھ ہلکاکرنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنی کفالت میں لے لیا، اُس وقت آپ ؓکی عمرمبارک ۵؍سال تھی۔ ظاہری طورپرتوابوطالب کی تنگدستی کی بناء پرحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسرورکائنات ﷺ نے اپنی کفالت میں لے لیامگرمعنوی طورپراس حقیقت سے انکارکیسے ممکن ہے کہ مشیت ایزدی نے جامع اورہمہ گیرصفات سے متصف ہونے والے کم سن علی ؓکی نہایت شائستہ پرورش کے لئے ام المؤمنین حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی گودکاانتخاب کیا جس سے مقدس ترکوئی گودنہ تھی۔ اورراہ سلوک کی منزل طے کرنے اورمرتبۂ اخلاص پر فائز ہونے کے لئے جس تربیت وتزکیہ کی ضرورت تھی اس کے لئے بارگاہ رسالت میں ہمہ وقت کی باریابی سے فزوں ترکوئی وظیفہ نہ تھا۔ تاکہ بارگاہ رسالت سے فیض یاب ہوکرآپؓ امام الاولیاء کے منصب جلیل پرفائز ہوسکیں اورعلم وعرفان کی راہوں پرایسے نقوشِ پاچھوڑیں جو تاقیامت اہلِ ذوق کے لئے مثلِ قندیل فروزاں رہیں ۔ حقیقت میں یہی تقرب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تمام فضائل ومناقب کی بنیادہے، آپ ؓنے آغوشِ رسالت میں ہر غم اورہرفکر سے آزادپرورش پائی، آپؓ کے نفسِ قُدسیہ پرانوارِرِسالت کی پیہم برسات ہوتی رہی،

دَرِاَقدس پرحاضرہونے والے سائل نے جوطلب کیااسے وہ شئے مل کررہی، توپھرکاشانۂ اقدس کے اندرنورانی تجلیات کی وادیٔ سینامیں شب وروز بسرکرنے والابھلاکون سی اورکس قسم کی نعمت سے محروم رہاہوگا۔ آپؓ کی صورت وسیرت، ذات وصفات، اخلاق وآداب، ظاہروباطن غرضیکہ ہرہر صفحۂ حیات پراَنوارِنبوت جھلک رہے ہیں ۔

اس تربیت وپرورش کاہی یہ اعجازتھاکہ آپؓ دورجاہلیت کی کسی آلودگی میں ملوث نہ ہوئے۔ نشوونمااورقوت وتوانائی میں اپنے ہم عمربچوں سے آگے نکل گئے۔ ایام طفولیت میں بھی حق وفضیلت کی کوئی بات آپ سے ضائع نہ ہوئی۔ سنِّ شعورسے قبل دس سال کی عمرمیں ہی آپؓ کوفہم وفراست کا وہ بلندمعیارحاصل ہوچکاکہ آپ ؓمقصدِرِسالت کے اسرارورموز کوسمجھ پائے اوردعوتِ نبی ﷺ کوحق تسلیم کرتے ہوئے حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے اورحضورنبی رحمت ﷺ کی اقتداء میں اقامتِ صلوٰۃ کواپناشعاربنایا۔

اُخُوَّتِ رَسُوْل:  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ بھی ایک بڑی خاص خصوصیت ہے کہ آپؓ رسول اکرم، نورمجسم، سیدعالمﷺ کے چچازادبھائی ہونے کے علاوہ ’’عقدمواخاۃ‘‘میں بھی آپ ؐکے بھائی ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماروایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام ؓمیں ’’بھائی چارہ ‘‘کرایااورایک صحابی کودوسرے صحابی کابھائی بنایا، توحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آبدیدہوکربارگاہ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضرہوئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہﷺ!آپ ؐنے تمام صحابۂ کرام کو’’عقدمواخاۃ‘‘میں ایک دوسرے کابھائی بنادیامگرمیں یونہی رہ گیااورآپ ؐنے مجھے کسی کابھائی نہیں بنایاتورسول ِخداﷺ نے نہایت ہی الفت ومحبت سے فرمایاکہ:’’انت اخی فی الدنیاوالآخرۃ‘‘یعنی تم دنیااورآخرت میں میرے بھائی ہو۔ ‘‘(مشکوٰۃ شریف، ص564)

آپؓ کاحُلیَۂ مُبَارکہ:

  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جسم کے فربہ تھے۔ اکثرخوداستعمال کرنے کی وجہ سے سرکے بال اُڑے ہوئے تھے۔ آپؓ نہایت قوی اور میانہ قدمائل بہ پستی تھے۔ آپؓ کابطن ِمبارک دیگراعضاء کے اعتبارسے کسی قدربھاری تھا۔ مونڈھوں کے درمیان کاگوشت بھراہواتھا۔ بطنِ مبارک سے نیچے کاجسم بھاری تھا۔ رنگ گندمی تھا۔ تمام جسم پرلمبے لمبے بال، آپؓ کی ریشِ مبارک گھنی اوردراز تھی۔ مشہورہے کہ ایک یہودی کی داڑھی بہت مختصرتھی ٹھوڑی پرصرف چندگنتی کے بال تھے اوروہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگاائے علی!(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)تمہارایہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں سارے علوم ہیں اورتم بابِ مَدِینۃُ العِلْم ہوتوبتاؤ قرآن مجید میں تمہاری گھنی داڑھی اورمیری مختصرداڑھی کابھی ذکرہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ سورۂ اعراف میں ہے’’والبلدالطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خَبُثَ لایخرج الانکداالخ‘‘اورجواچھی زمین ہے اس کاسبزہ اللہ کے حکم سے نکلتاہے اورجوخراب ہے اس میں نہیں نکلتامگرتھوڑابمشکل‘‘(ترجمہ:کنزالایمان، سورۃ الاعراف، پارہ8، آیت نمبر58)معلوم ہواکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاعلم بہت وسیع تھاکہ اپنی گھنی داڑھی اوریہودی کی مختصرداڑھی کاذکرآپؓ نے قرآن کریم میں سے ثابت کردکھایااوریہ بھی ثابت ہواکہ قرآن کریم سارے علوم کاخزانہ ہے مگرلوگوں کی عقلیں اس کے سمجھنے سے قاصرہیں ۔

ابوتراب: 

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک کنیت ’’ابوتراب ‘‘بھی ہے جب کوئی شخص آپؓ کو’’ابوتراب‘‘کہ کرپکارتاتھاتوآپؓ بہت خوش ہوتے تھے۔ اوررحمت دوعالم ﷺ کے لطف وکرم کے مزے لیتے تھے اس لئے کہ کنیت آپؓ کوحضورﷺ ہی سے عنایت ہوئی تھی۔ اس کاواقعہ یہ کہ ایک روز آپ ؓمسجد میں آکرلیٹے ہوئے تھے اورآپؓ کے جسم اقدس پرکچھ مٹی لگ گئی تھی کہ اتنے میں رسول اکرم، نورمجسم، شاہ بنی آدم، نبی محتشم ﷺمسجدمیں تشریف لائے اوراپنے مبارک ہاتھوں سے آپ ؓکے تنِ اقدس کی مٹی کوجھاڑتے ہوئے فرمایا’’قُمْ یَااَبَاتُرَاب‘‘یعنی ائے مٹی والے! اُٹھو اُس روز سے ہی آپؓ کی کنیت ’’ابوتراب‘‘ہوگئی۔

قبولِ اسلام میں سبقت:حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوعمرلوگوں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ چنانچہ خودآپؓ کابیان ہے کہ دوشنبہ کے دن  رسول اکرم، نورمجسم، شاہ بنی آدم، نبی محتشم، شافع اُمم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پروحی اتری اورمَیں منگل کے دن مسلمان ہوا۔ جس وقت آپؓ اسلام لائے آپؓ کی عمرشریف دس سال یااس سے کچھ کم یازیادہ تھی جیساکہ خود آپؓ کاایک مشہورومعروف شعرہے۔  ؎

سَبَقْتُکُمْ اِلیٰ اِسْلَامِ طُرّا

غُلَاماًمَابَلَغْتُ اَوَان حُلَّتِیْ

یعنی میں نے تم سب لوگوں میں سب سے پہلے اسلا م کو قبول کیاجب کہ میں لڑکاتھااورحدبلوغ تک نہیں پہونچاتھا، جس طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بُت پرستی کے ساتھ ملوث نہیں ہوئے۔ اُسی طرح حضرت مولائے کائنات، علی مرتضیٰ، شیرخدارضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چھوٹی عمرشریف میں بھی کبھی بُت پَرستی نہیں کی۔

ہمت وشجاعت کے پیکر:

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے مثال ہمت وشجاعت اورجرأ ت وبہادری کی لازوال داستانوں کے ساتھ سارے عرب وعجم میں آپؓ کے زور بازوکے کافی چرچے تھے، آپ ؓکے رعب ودبدبہ سے بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے تھے۔ جنگ تبوک کے موقع پرسرکاراقدسﷺنے آپؓ کو مدینہ طیبہ پراپنانائب مقررفرمادیاتھااس لئے اس میں حاضرنہ ہوسکے باقی تمام غزوات وجہادمیں شریک ہوکربڑی جانبازی کے ساتھ کُفَّارکامقابلہ کیااوربڑے بڑے بہادروں کواپنی تلوارسے موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ جنگ بَدرمیں جب حضرت ہمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسودبن عبدالاسدمخزومی کوکاٹ کرجہنم میں پہنچادیاتواُس وقت کافروں کے لشکرکاسردارعُتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اوراپنے بیٹے ولیدبن عتبہ کوساتھ لے کرمیدان میں نکلااورچلاکرکہاائے محمد!(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)اَشراف قریش میں سے ہمارے جوڑکے آدمی بھیجئے۔ حضورﷺ نے یہ سُن کرفرمایاائے بنی ہاشم!اُٹھواورحق کی ہمایت میں لڑوجس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ؐکوبھیجاہے۔ حضورﷺ کے اس فرمان مقدس کوسُن کرحضرت ہمزہ، حضرت علی اورحضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم دشمن کی طرف بڑھے۔ لشکر کے سردارعتبہ حضرت ہمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابل ہوااورذِلَّت کے ساتھ ماراگیا۔ ولیدجسے اپنی بہادری پربہت بڑانازتھاوہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ کے لئے مست ہاتھی کی طرح جھومتاہواآگے بڑھااورڈینگیں مارتاہواآپؓ پرحملہ کیامگرشیرخدا، علی مرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے تھوڑی ہی دیرمیں اُسے مارگرایااورذوالفقارحیدری نے اُس کے گھمنڈ کوخاک وخون میں ملادیا۔ اس کے بعدآپؓ نے دیکھاکہ عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوزخمی کردیاہے توآپؓ نے جھپٹ کراُس پرزبردست حملہ کیااوراُسے بھی جہنم میں پہنچادیا۔ جنگِ اُحَدمیں ایسی جانبازی کے ساتھ کفارکے نرغے میں لڑتے رہے کہ سولہ(16) زخم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم ِمبارک پرلگے۔ مگراِس حال میں بھی ذوالفقارحیدری چلاتے ہی رہے۔ جنگ خندق میں عمرو بن عبدود جوایک ہزاربہادروں کے برابرماناجاتاتھا۔ آپ ؓنے اس کے سرپرایسی تلوارماری کہ اس کی کھوپڑی کوکاٹتی ہوئی جبڑے تک پیوست ہوگئی۔ عمروبن عبدودکے بعدضراراورجبیرہ آگے بڑھے۔ لیکن جب ذوالفقارکاہاتھ بڑھاتویہ دونوں سرپرپیررکھ کربھاگ نکلے، نوفل بھی کفار کا بڑا بہادر شہسوار تھا مگریہ بھی ذوالفقارحیدری کی ماردیکھ کرفرارہوگیااوربھاگتے ہوئے خندق میں گڑپڑا۔ تواسداللہ الغالب خندق میں کو دپڑے  اورذوالفقارحیدری نے اس مغرورکابھی خاتمہ کردیا۔

ٓآپؓ کے فضائل ومناقب:

  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل ومناقب کایہ عالم ہے کہ قرآن مجیدکی بہت سی آیتیں آ پؓ کی شانِ اقدس میں نازل ہوئیں اورآپؓ کے فضائل میں بکثرت حدیثیں واردہوئی ہیں ۔ ترمذی، نسائی اورابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ حضورسرکارِدوعالم ﷺ نے جناب مولائے کائنات علی مرتضیٰ کے بارے میں ارشادفرمایاکہ:’’عَلِیٌ مِنِّی وَاَنَامِنْ عَلِیٍّ‘‘یعنی علی مجھ سے ہے اورمیں علی سے ہوں ۔ ‘‘اِس حدیث پاک سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاکس قدرکمالِ قرب بارگاہ نبوت میں ہے ظاہرہوتاہے۔ اِسی طرح مسلم شریف کی ایک حدیث شریف ہے کہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ ٗ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشادفرمایاکہ میں اُس ذات کی قسم کھاتاہوں کہ جس نے دانے کوپھاڑکراُگایااورجس نے روح کوپیداکیاکہ مجھے نبی عربی فداہ امی وابی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ بتایاہے کہ مجھ سے ایماندارلوگ محبت رکھیں گے اورمنافق بغض رکھیں گے، اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضورسیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ’’علی کرم اللہ وجہہٗ کے چہرے کودیکھناعبادت ہے‘‘اورحضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکاردوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایاہے کہ’’جس نے علیؓ کوایذادی اُس نے مجھ کوایذادی۔ ‘‘

مقام علم وفضل:

رسول اکرم، نورمجسم، شاہ بنی آدم، نبی محتشم، شافع اُمم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جوہرشناس نگاہوں نے حضرت علیؓ کی خدادادقابلیت واستعدادکاپہلے ہی اندازہ کرلیاتھااورآپؐ کی زبان اقدس سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوباب العلم کی سندمل چکی تھی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے جب بھی آپ ؓسے کسی مسئلہ کودریافت کیاتوہمیشہ درست ہی جواب پایا۔ حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے سامنے جب حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہٗ الکریم کاذکرہوا توآپ ؓنے فرمایاکہ حضرت علیؓ سے زیادہ مسائل شرعیہ کاجاننے والاکوئی اورنہیں ہے۔ اورحضرت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں علم ِفرائض اورمقدمات کے فیصلے کرنے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ علم رکھنے والاکوئی دوسرانہیں تھا۔ اورحضرت سعیدابن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے صحابہ میں سوائے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کوئی یہ کہنے والانہیں تھاکہ جوکچھ پوچھناہومجھ سے پوچھ لو۔ (تاریخ الخلفاء)

 آپ ؓنے حضور نبی کریم ﷺ سے تقریباپانچ سوچھیاسی (586)احادیث طیبہ روایت کی ہیں ۔ آپؓ کے علمی نکات، فتاویٰ اوربہترین فیصلوں کاانمول مجموعہ اسلامی علوم کے خزانوں کاقیمتی سرمایہ ہے۔ آپؓ کمالِ علم وفضل، جمالِ فصاحت وبلاغت، پُرتاثیرمواعِظ وخطابت، بے مثال فیاضی وسخاوت، بے نظیرجرأت وشجاعت اورقرابتِ رسول ﷺ میں تمام صحابۂ کرام میں ممتازفضیلت کے مالک تھے۔

جاں نثاری وامانت داری:

حضورسیدعالم ﷺ نے جب اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کاارادہ کیاتوحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایاکہـ:’’مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ہجرت ِمدینہ منورہ کاحکم ہوچکاہے اورمیں آج ہی مدینہ طیبہ روانہ ہوجاؤں گا۔ ‘‘تم میرے بسترپرمیری چادراُوڑھ کرسوجاؤ اورصبح قریشِ مکہ کی ساری اَمانتیں اوروَصیتیں اُن کے مالکوں کے سپردکرکے تم بھی مدینے چلے آنا‘‘۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیرکسی خوف وخطر کے حضوراقدس ﷺکے بسترمبارک پر سوگئے۔ صبح ہوئی تو کُفَّارِمکہ جورات بھرکاشانۂ نبوی ﷺ کاسخت محاصرہ کئے ہوئے تھے برہنہ تلواریں لے کراندرداخل ہوگئے لیکن جب بسترنبوی ﷺ پرحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسوتے دیکھا تووہاں سے ناکام واپس چلے گئے۔

حضورﷺ کی حُسْنِ کِفَالَت:

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدگرامی ابوطالب چوں کہ کثیرالعیال اورمالی ومعاشی طورپرپریشان تھے، اس لئے رحمت دوعالم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کفالت کی ذمے داری لے لی۔ چنانچہ آغاز طفولیت ہی سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورخاتم الانبیاء ﷺ کی آغوش ِپرورش میں رہے اس لئے آپ قدرتاًمحاسن اخلاق اورحُسنِ تربیت کابہترین نمونہ تھے۔ گویاحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضوررحمت دوعالم ﷺکے چمن ِمبارک کے باغ وبہارہیں ۔ آپؓ کوبچپن سے ہی درسگاہ نبوت میں تعلیم وتربیت حاصل کرنے کاموقع ملاجس کا سلسلہ ہمیشہ قائم ودائم رہا۔

آپؓ اس پرفخروناز کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں کہ:’’میں رُوزصبح کوآپ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہواکرتاتھااورتقرب کایہ درجہ میرے علاوہ کسی اورکو حاصل نہ تھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپؓ کوحضوراکرم ﷺ کے تحریر ی کام کرنے کی سعادت بھی حاصل تھی، کاتبانِ وَحی میں آپؓ کابھی نامِ مبارک شامل ہے۔ ’’صُلْحِ حُدَیْبِیَّہ ‘‘آپ ہی نے تحریرکیاتھا۔

آپؓ کے فیصلے:

آپ ؓکے فیصلے ایسے عجیب وغریب اورنادِرِرُوزگارہیں کہ جنہیں پڑھ کربڑے بڑے عقلمندوں اوردانشوروں کی عقلیں حیران وششدر ہیں اوریہ سرکاردوجہاں ﷺکے دَستِ نبوت اورآپؐ کی دُعائے مبارکہ کی برکت ہے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ دوعورتیں ایک لڑکے کے متعلق جھگڑاکرتی ہوئی آپؓ کی پاس آئیں دونوں کاکہناتھاکہ یہ لڑکاہماراہے۔ آپ ؓنے پہلے اُن دونوں کو بہت سمجھایالیکن جب اُن کی ہنگامہ آرائی جاری رہی توآپؓ نے حکم دیا’’آرہ‘‘ لاؤ۔ انہوں نے پوچھاآرہ کس لئے منگارہے ہیں ؟آپ ؓنے فرمایاکہ اِس لڑکے کے دوٹکڑے کرکے دونوں کوآدھاآدھادونگا۔ حقیقت میں جواس لڑکے کی ماں تھی یہ سُن کربے قرارہوگئی اوراُس کے چہرے سے غمگینی، بے چینی اوربیقراری کی کیفیت ظاہرہوئی۔ اُس نے نہایت عاجزی سے عرض کیاکہ یَااَمیرَالمُؤمنین !میں اس لڑکے کونہیں لیناچاہتی۔ یہ اسی عورت کاہے آپؓ اُس کودے دیجئے مگرخداکے واسطے اس کوقتل نہ کیجئے۔ آپ ؓنے وہ لڑکااسی بے قراروبے چین عورت کودے دیااورجوعورت خاموش کھڑی رہی آپ ؓنے اُس سے فرمایاکہ تم کوشرم آنی چاہئے کہ  تم نے میرے اجلاس میں جھوٹابیان دیا۔ یہاں تک کہ اُس عورت نے اسی مجلس میں اپنے جرم کااقراربھی کرلیا۔ (عشرۂ مبشرہ)

آپؓ کی کرامتیں :

امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہٗ الکریم سے بہت سی  کرامتوں کاظہورہواہے جن میں سے چندکرامتیں مندرجہ ذیل ہیں !

(1)حضرت امام جعفرحسین صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دیوارکے سائے میں ایک مقدمہ کافیصلہ فرمانے کے لئے بیٹھ گئے۔ درمیان مقدمہ میں لوگوں نے شورمچایاکہ یا امیرالمؤمنین !یہاں سے اُٹھ جائیے یہ دیوارگررہی ہے۔ آپ ؓنے نہایت ہی سکون واطمینان کے ساتھ فرمایاکہ مقدمہ کی کاروائی جاری رکھو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بہترین حافظ وناصرونگہبان ہے۔ چنانچہ اطمینان وسکون کے ساتھ آپؓ اس مقدمہ کافیصلہ فرماکر  جب وہاں سے چل دئے توفوراً ہی وہ دیوارگرگئی۔ (ازالۃ الخفاء، مقصد2، ص273)

(2)علی بن زازان کابیان ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ کوئی بات ارشادفرمائی توایک بدنصیب نے نہایت ہی بے باکی کے ساتھ یہ کہ دیاکہ ائے امیرالمؤمنین آپؓ جھوٹے ہیں ۔ آپ ؓنے فرمایاکہ ائے شخص!اگرمیں سچاہوں تو ضرورتوقہرالٰہی میں گرفتارہوجائے گا۔ اُس گستاخ نے کہ دیاکہ آپؓ میرے لئے بدعاکردیجئے۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے اُس کے منہ سے اِن الفاظ کانکلناتھاکہ بالکل ہی  اچانک وہ شخص دونوں آنکھوں سے اندھاہوگیااوراِدھراُدھرہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ (ازالۃ الخفاء، مقصد2، ص273)

(3)جنگ خیبر میں جب گھمسان کی جنگ ہونے لگی توحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گرپڑی تو آپؓ نے جوشِ جہادمیں آگے بڑھ کرقلعۂ خیبرکاپھاٹک اُکھاڑڈالااوراُس کے ایک کِواڑکوڈھال بناکراُس پردشمنوں کی تلواروں کو روکتے تھے۔ یہ کواڑ اتنابھاری اوروزنی تھاکہ جنگ کے خاتمے کے بعدچالیس(40) آدمی مل کربھی اس کو نہ اٹھاسکے۔ (زرقانی، ج2، ص230)

آپؓ کی شہادت: 

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک طویل مدت تک اہلِ ایمان کے قلوب واذہان کوقرآن وحدیث اورعلم وعرفان سے فیض یاب فرمایا۔ اسلام کی راہ میں آخرعمرتک کُفَّارسے برسرِپیکاررہے۔ دین اسلام کی بے مثال تبلیغ اورخدمت ہرقدم پراپنے سابق خلفائے راشدین اورصحابۂ کرام کی ہرممکن راہ نمائی فرمائی، اسلام کی راہ میں اپنامال ومتاع، تن، من، دھن سب کچھ قربان کردیااورآخراسلام کی خاطراپنی پیاری جان بھی قربان کردی، آپؓ فجرکی نماز کی ادائے گی کے لئے اپنے دولت خانے سے لوگوں کوآوازدیتے ہوئے مسجدکی کی طرف چلے، راستہ میں ابن ملجم چھپاہواتھااُس نے دھوکے سے ناگہاں آپ ؓکی پیشانی اقدس پرایسی تلوارماری کہ آپؓ کاچہرۂ مبارک کنپٹی شریف تک کٹتاچلاگیااورتلواردماغ پرجاکررُکی۔ شمشیرلگتے ہی آپؓ نے فرمایا’’فُزت بِرب الکعبۃِ‘‘رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا‘‘۔ پھرچاروں طرف سے لوگ اُس بدبخت قاتل پردوڑپڑے اورآخروہ بھاگتے ہوئے پکڑاگیااورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس زخم کی حالت میں 19؍رمضان المبارک جمعہ کی رات میں زخمی ہوئے اور اکیس(21) رمضان المبارک شبِ یکشنبہ         40؁ھ فجرکی نمازمیں عین حالت سجدہ میں آپؓ شہادت کے عظیم منصب پرفائز ہوئے اوریوں علم وفضل، زہدوتقویٰ، فیاضی وسخاوت، جرأ ت وبہادری، شجاعت ودلاوری اوررشدوہدایت کاروشن وتاباں آفتاب غروب ہوگیا۔

حضرت امام حسن وامام حسین وحضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپؓ کوغسل دیااورحضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپؓ کے دفن سے فارغ ہوکرحضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیرالمؤمنین کے قاتل عبدالرحمٰن بن ملجم بدبخت کے ہاتھ پیرکاٹ کرایک ٹوکرے میں ڈال دیااوراس میں آگ لگادی جس سے اُس (بدبخت وجہنمی) کی لاش جل کرراکھ ہوگئی۔ (تاریخ الخلفاء)

چار4؍برس آٹھ8؍ ماہ نو9؍دن آپ ؓنے خلافت فرمائی اورتریسٹھ (63)سال کی عمرشریف میں رحلت فرمائی’’اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُون‘‘۔

آپؓ کامزارِمبارک:

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کورات کے وقت دفن کیاگیااورایک مصلحت سے آپؓ کامزارمبارک لوگوں پرظاہرنہیں کیاگیااس لئے وہ کہاں ہے اس میں اقوال مختلف ہیں ۔ ابوبکربن عیاش کہتے ہیں کہ آپؓ کی قبرشریف کواس لئے ظاہرنہیں کیاگیاتھاکہ خارجی بدبخت کہیں اس کی بے حرمتی نہ کریں ۔ شریک کہتے ہیں کہ آپؓ کے فرزندحضرت امام حسن مُجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ؓکے جسم مبارک کودارالامارہ کوفہ سے مدینہ طیبہ کی طرف منتقل کردیاتھا۔ مبردنے محمدبن حبیب کے حوالہ سے لکھاہے کہ ایک قبرسے دوسری قبرمیں منتقل کی جانے والی پہلی نعش حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی۔ اورابن عساکرسعیدبن عبدالعزیز سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہیدہوگئے توآپؓ کے جسم مبارک کومدینہ منورہ لے جانے لگے تاکہ وہاں رسول اکرم ﷺ کے پہلوے مبارک میں دفن کریں نعشِ مبارک ایک اونٹ پررکھی ہوئی تھی رات کاوقت تھاوہ اونٹ راستہ میں کسی طرف کو بھاگ گیا اُس کاپتہ نہیں چلااسی لئے اہل عراق کہتے ہیں کہ آپؓ بادلوں میں تشریف فرماہیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تلاش وجستجوکے بعد وہ اونٹ سرزمین طے میں مل گیااورآپؓ کے جسمِ اقدس کواسی سرزمین میں دفن کردیاگیا۔ (تاریخ الخلفاء، ص120)

آپؓ کی بیویاں اوراولاد:

خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ِمبارکہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف وقتوں میں آٹھ عورتوں سے نکاح کیااس طرح آپ کی کل نو(۹)بیویاں ہوئیں جن سے پندرہ(15) صاحبزدگان اورسترہ (17)صاحبزادیاں پیداہوئیں ۔ ان سب کے اسمائے مبارکہ مندرجہ ذیل ہیں !

بیویاں :

(۱)سیدہ فاطمہ، (۲)خولہ، (۳)لیلہ، (۴)ام البنین، (۵)ام ولد، (۶)اسماء، (۷)ام حبیب، (۸)امامہ، (۹)ام سعد۔

صاحبزدگان:

(۱)حسن، (۲)حسین، (۳)محسن، (۴)محمداکبرالمعروف محمدبن حنفیہ، (۵)عبداللہ اکبر، (۶)ابوبکر، (۷)عباس اکبر، (۸)عثمان، (۹)جعفر، (۱۰)عبداللہ اصغر، (۱۱)محمداوسط، (۱۲)یحیٰ، (۱۳)عون، (۱۴)عمراکبر، (۱۵)محمداصغر۔

صاحبزادیاں :

(۱)ام کلثوم، (۲)زینب الکبریٰ، (۳)رقیہ، (۴)ام الحسن، (۵)رملۃ الکبریٰ، (۶)ام ہانی، (۷)میمونہ، (۸)رملۃ الصغریٰ، (۹)ام کلثوم صغریٰ، (۱۰)فاطمہ، (۱۱)امامہ، (۱۲)خدیجہ، (۱۳)ام الخیر، (۱۴)ام سلمہ، (۱۵)ام جعفر، (۱۶)جمانہ، (۱۷)تقیہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

آپؓ کے اقوال زَرّیں :

آپؓ کے بہت سے اقوال ہیں جوآب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ ان میں سے چندیہاں پیش کئے جاتے ہیں ۔

(۱)عِلم مال سے بہترہے۔ عِلم تیری حفاظت کرتاہے اورتومال کی۔ عِلم حاکم ہے اورمال محکوم، مال خرچ کرنے سے گھٹتاہے اورعِلم خرچ کرنے سے بڑھتاہے۔

(۲)عالِم وہی شخص ہے جوعلِم پرعمل بھی کرے اوراپنے عمل کوعلِم کے مطابق بنائے۔

(۳)حلال کی خواہش اُسی شخص میں پیداہوتی ہے جوحرام کمائی چھوڑنے کی مکمل کوشش کرتاہے۔

(۴)تقدیربہت گہراسمندرہے اس میں غوطہ نہ لگاؤ۔

(۵)خوش اخلاقی بہترین دوست ہے اوراَدب وتہذیب بہترین میراث ہے۔

(۶)جاہلوں کی دوستی سے بچوکہ بہت سے عقلمندوں کوانہوں نے تباہ کردیاہے۔

(۷)اپنارازکسی پرظاہرنہ کروکہ ہرخیرخواہ کے لئے کوئی خیرخواہ ہوتاہے۔

(۸)جب تم دنیاکی مفلسی سے تنگ آجاؤ اوررزق کاکوئی راستہ نہ نکلے توصدقہ دے کراللہ تعالیٰ سے تجارت کرو۔

(۹)جس انسان کوسال بھرمیں کوئی تکلیف، کوئی رنج نہ پہنچے تووہ جان لے کہ مُجھ سے میرارب ذوالجلال ناراض ہے۔

(۱۰) جب آنکھیں نفس کی پسندیدہ  ومحبوب چیزیں دیکھنے لگے تودل انجام سے اندھاہوجاتاہے۔

(۱۱)دنیادارکی صحبت اختیارنہ کرو، اگرتم تنگ دست ہوجاؤگے تویہ تمہیں چھوڑدیں گے اوراگرمالدارہوجاؤ گے توتم سے حسد کریں گے۔

(۱۲)اگرتم کسی کوچھوٹادیکھ رہے ہوتوتم اُسے دورسے دیکھ رہے ہویاغرورسے دیکھ رہے ہو۔

(۱۳)انسان دُکھ نہیں دیتے، انسانوں سے واسطہ و اُمیدیں دُکھ دیتی ہیں ۔

(۱۴)تم اچھاکرواورزمانہ تم کوبُراسمجھے یہ تمہارے حق میں بہترہے، بجائے اِس کے کہ تم بُراکرواورزمانہ تمہیں اچھاسمجھے۔

(۱۵)دنیااس کویتیم سمجھتی ہے جس کے ماں باپ نہیں ہوتے، مگرمَیں اُس کویتیم سمجھتاہوں جس کے پاس علم وادب نہ ہوں ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close