سیرت صحابہ

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ۔ ایک خداترس صحابی

سعید الرحمن بن نورالعین سنابلی
 یقینی طور پر انبیاء کرام اور رسل عظام کے بعد صحابہ کی مقدس جماعت کو اس دنیا کا سب سے پاک طینت اور راست باز گروہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ اس مبارک جماعت سے اس قدر خوش ہواکہ انہیں اپنی رضامندی کی سرٹیفکٹ عطا کیا۔ صحابہ کرام کی مقدس جماعت میں بہت سارے ایسے بھی باکمال افراد ہوئے ہیں جنہیں لمبی مدت تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ہے اور انہیں رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کا زیادہ موقع ہاتھ لگا ہے۔ انہی صحابہ کرام میں ایک اہم نام ابوذر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ویسے تو ابوذر رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے میں سبقت حاصل ہے۔ مورخین کی مانیں تو آپ نے پانچویں نمبر پر اسلام قبول کیا ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ایک لمبی مدت تک اپنی قوم میں دعوت و ارشاد کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ تشریف لائے اور پھر ہمیشہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت رہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی لغزشوں کی اصلاح و تربیت میں جو نرمی، لطافت اور گداز ملتا ہے، وہ آپ ہی کا نصیبہ ہے۔آپ پہلے وہ انسان ہیں جن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار سلام مسنون کیا،جیساکہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی صدق گوئی کے معترف اجلہ صحابہ ہیں۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کی صداقت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمین و آسمان نے آپ سے بڑا راست باز دوسرے کسی کو نہیں دیکھا۔(سنن ترمذی؍3801)بعض حدیثوں میں ابوذر رضی اللہ عنہ کو عیسی مسیح علیہ الصلاۃ والتسلیم کے مشابہ بھی بتایا گیا ہے۔ (سنن ترمذی؍3802)
ابوذر رضی اللہ عنہ کے انہی فضائل و مناقب کی وجہ سے یہ چند جملے قلمبند کئے جارہے ہیں تاکہ ہم اس عظیم صحابی کی خدا ترسی، زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی جیسے عمدہ اور بہترصفات کواپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کریں ۔ یقین جانیں کہ اگر ہم نے ان صفات کواپنی زندگی میں نافذ کرلیا اور انہیں اپنا حرز جاں بنالیا تو اس سے ہمارے بہت سارے مصائب و مشکلات حل ہوجائیں گے اور ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے گا اور دنیا میں اطمینان و سکون اور خوشحالی نصیب فرمائے گا اور قیامت کے روز سرخروئی سے نوازے گا۔
آپ کا نام و خاندان:
آپ کے نام کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔مشہور ترین قول کے مطابق آپ کانام جندب بن جنادہ ہے۔ بعض مورخین نے آپ کا نام یزید بن جنادہ تو بعض نے جریر بن جنادہ بتایا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ مورخین نے بریر بن جنادہ تو کچھ نے جندب بن سکن کہا ہے۔ اسی طرح سے ایک قول کے مطابق آپ کا نام ابن عشرقہ ہے۔ (ملاحظہ ہو: سیر اعلام النبلاء للذھبی2؍36، تہذیب التہذیب للحافظ ابن حجر العسقلانی 12؍90۔91، البدایۃ والنھایۃ۷؍171۔172)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ سنن ابن ماجہ(3724)میں نعیم بن مجمر عن طہفہ غفاری عن ابی ذر کی سند سے وارد ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اور وہ پیٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے تو آپ نے انہیں اپنے پاؤں سے ہلایا اور کہا: جنیدب! یہ جہنمیوں کے لیٹنے کا طریقہ ہے‘‘۔ ( اس روایت کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔)
اس روایت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا نام جندب ہی ہے۔ اس کی مزید وضاحت طبرانی اور ابونعیم کی روایت کردہ ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا : میں قبیلہ بنوغفار سے ہوں اور میرا نام جندب ہے۔ ویسے تواس روایت کی سند میں کلام ہے کیونکہ اس میں مرثد بن عبداللہ یزنی نامی ایک راوی ہے جنہیں امام ذہبی نے مجہول قرار دیا ہے۔امام عقیلی نے کہا ہے کہ ان کی حدیث کی متابعت موجود نہیں ہے۔(ملاحظہ ہو: میزان الاعتدال للذھبی4؍87)
بہرحال معروف یہی ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن جنادہ ہے۔حافظ ابن کثیر نے( البدایہ والنھایہ 5؍171)میں کہا ہے کہ مشہور ترین قول کے مطابق ان کا نام جندب بن جنادہ ہے۔
اسی کو ابن سعد رحمہ اللہ نے( الطبقات الکبری 4؍219)میں اور امام طبرانی نے راجح قرار دیا ہے جیساکہ حافظ ہیثمی نے (مجمع الزوائد 9؍330)میں ان سے نقل کیا ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ بنوغفار سے تھا۔قبول اسلام سے قبل یہ قبیلہ اپنی رہزنی اوربدقماشیوں کے لئے معروف تھا۔ اس قبیلہ کے لوگ قافلوں پر شب خون مارتے اور اسے لوٹ لیا کرتے تھے، خود ابوذر رضی اللہ عنہ کا حال یہی تھا کہ وہ رات کے آخری پہر راستوں میں چھپ کر بیٹھ جایا کرتے تھے اور گزرنے والے قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ان تمام برائیوں کے باوجود بھی ابوذر رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت ہی سے اللہ واحد کی عبادت کیا کرتے تھے۔بت پرستی سے پرہیز ہی نہیں کرتے تھے بلکہ جولوگ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے ، آپ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن صامت سے اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھتیجے! میں اسلام لانے کے تین سال پہلے ہی سے نماز پڑھا کرتا تھا۔عبداللہ نے پوچھا:آپ کس کے لئے نماز پڑھاکرتے تھے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ واحد کے لئے۔ انہوں نے پوچھا: آپ کس سمت رخ کیا کرتے تھے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ جس سمت اللہ تعالیٰ توفیق دیتا تھا۔
جہاں تک ابوذر رضی اللہ عنہ کے حلیہ کا مسئلہ ہے تو تاریخ کی کتابوں میں وارد ہے کہ آپ لمبے تھے، نحیف و کمزور تھے، آپ کا رنگ گندم گوں اور نقش تیکھا تھا۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا:دیکھو، مکہ جاؤ اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خبر لے کر آؤ جو خود کو نبی بتاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ تم جاکر ان کی باتیں خود سننا اور واپس لوٹ کر مجھے بتانا۔چنانچہ انیس وہاں سے روانہ ہوئے اور مکہ پہنچ کر از خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں۔ واپس لوٹے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے ان کی باتیں خود سنی ہیں۔ وہ لوگوں کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا ہے وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر نے کہا: جس مقصد کے لئے میں تم کو مکہ بھیجا تھا ، مجھے پوری طرح سے تشفی نہیں ہوئی۔انہوں نے خود توشہ باندھا۔پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ اپنے ساتھ لیا اور مکہ پہنچے۔مسجد حرام میں حاضری دی اور یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ابوذر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ کے بارے میں پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ کچھ رات گزری تو وہ لیٹ گئے۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر بھانپ لیا کہ آپ مسافر ہیں۔علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ چلیں میرے گھر پر آرام کریں۔ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔دونوں میں سے کسی نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد حرام میں پہنچ گئے۔یہ دن بھی یونہی گزرگیا اور ابوذر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔رات ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے کہ ایک بار پھر ان کے پاس سے علی رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اس جگہ دیکھ کر سمجھ لیا کہ ابھی تک انہیں اپنا ٹھکانہ نہیں ملا ہے۔وہ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے آئے لیکن آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔تیسرے دن بھی یونہی معاملہ پیش آیا تو علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ یہاں کس کام سے تشریف لائے ہیں؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ضرور ، اگر آپ میری رہنمائی کرنے کا وعدہ کریں تو میں آپ کو سب کچھ بتادوں گا۔علی رضی اللہ عنہ نے جب وعدہ کرلیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبردی۔علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یقینی طور پر وہ حق پر ہیں اور وہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کل صبح آپ میرے ساتھ پیچھے پیچھے چلنا۔ اگر میں راستے میں کوئی ایسی بات دیکھوں گا جس سے آپ کے بارے میں خطرہ ہوگا تو میں کھڑا ہوجاؤں گا(کسی دیوار کے قریب) گویا میں پیشاب کررہا ہوں۔اس وقت آپ میرا انتظار نہ کرنا۔پھر جب میں چلنے لگوں تو آپ میرے پیچھے چل پڑنا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔اس کے بعد میں جس گھر میں داخل ہوں گا، آپ بھی اس میں داخل ہوجانا۔ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیاحتی کہ علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔آپ کی باتیں سنیں اور فورا حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم اپنی قوم بنوغفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرے بارے میں بتاؤ۔جب تمہیں ہمارے غلبہ کا علم ہوجائے تو تم ہمارے پاس آجانا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔میں ان قریشیوں کے مجمع میں کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل کر مسجد حرام میں پہنچے اور بآواز بلند کلمہ شہادت کی گواہی دی۔یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ انہیں زمین پر لٹادیا۔اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے اور ابوذر کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر کہا: افسوس ! کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ بنوغفار کا ایک فرد ہے اور شام جانے والا تاجروں کاراستہ ان کے قبیلہ سے ہی ہوکر گزرتا ہے۔اس طرح سے عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں کفار و مشرکین کے شرو فساد سے بچایا۔دوسرے روز بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے مسجد حرام میں پہنچ کر اسی انداز میں اسلام کا اظہار کیا تو اس بار بھی کفار کے مظالم کو اسی طرح سے سہنا پڑا اور ایک بار پھر عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بچالیا۔آً چند دنوں تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے بعد اپنے قبیلہ میں واپس چلے گئے اور تقریبا تیرہ سال بعد خدمت نبوی میں حاضر ہوئے ۔دیر آید درست آید کے بمصداق آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگ گئے اور آپ کی اہلیہ محترمہ امہات المومنین کی خدمت میں لگ گئیں۔ ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ آئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو مخاطب کرکے پوچھا: ان اونٹوں کو کون چرائے گا؟ یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور آپ سے عرض کیا: میرا بیٹاذر۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذر کو صدقات کے اونٹوں کو چرانے پر مکلف کیا تو وہ اپنی اہلیہ لیلیٰ کے ہمراہ مدینہ کی چراگاہ غابہ میں پہنچ گئے اور وہاں صدقات کے اونٹوں کو چرانا شروع کردیا۔ادھرعبداللہ بن حسن بن حذیفہ بن بدر کو معلوم ہوا کہ مدینہ کی چراگاہ میں بہت سارے اونٹ چرتے ہیں اور ان پر صرف ایک ہی نگہبان ہے۔وہ بنوغطفان کے کچھ لوگوں کے ہمراہ چراگاہ پر حملہ آور ہوا اور چرواہے (ذر) کو قتل کردیا اور ان کی بیوی کو اٹھالیااور اونٹ ہانک کر لے جانے لگا، اس دوران سلمہ بن اکوع کی نظر اس پر پڑی جنہوں نے بہت کم وقت میں پورے واقعہ کو تاڑ لیا۔سلمہ رضی اللہ عنہ کی آواز انتہائی بلند تھی ۔وہ ایک چوٹی پر چڑھ گئے اور بآواز بلند چلائے کہ جلدی کرو، غطفانی حملہ آور ہوئے ہیں اور اونٹوں کو ہانک کر لے جارہے ہیں۔
جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے ان غطفانیوں کے تعاقب میں صحابہ کرام کو بھیجا جنہوں نے اونٹوں کو چھڑالیا اور لیلیٰ کو بھی واپس لے آئے۔ لیلیٰ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کیا: اللہ کے رسول ! میں گرفتاری اور قید کے دوران آپ کی چہیتی اونٹی عضباء پر سوار رہی، اس دوران میں نے یہ نذرمانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے نجات دے گا تو میں اسے ضرور ذبح کروں گی۔ یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گویا ہوئے کہ تم نے تو عضباء کو بہت بہتر بدلہ دیا۔ اس نے تمہاری جان بچائی اور تم نے اس کو ذبح کرنے کی نذر مان لی اور یہ بھی تو دیکھو کہ عضباء میری اونٹنی ہے، تمہاری نہیں۔ آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کی نذر ماننا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پرملال کے بعد ابوذررضی اللہ عنہ کی کیفیت:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ کو اتنی الفت تھی کہ آپ کی وفات ہوگئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ کی حالت انتہائی ناگفتہ یہ ہوگئی۔ حالت یہ تھی کہ جب آپ مدینہ کی گلیوں میں گزرتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ چیزوں کو دیکھ کر اس قدر زاروقطار سے رویا کرتے تھے کہ آپ کی حالت انتہائی خراب ہوجایا کرتی تھی۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر ام ذر رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام نے مدینہ چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں جانے کا مشورہ دیا۔چنانچہ آپ شام پہنچے اور وہاں سکونت اختیار فرمائی۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کچھ دنوں تک شام میں قیام پذیر رہے، ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے جہاں پہلے سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ ان دنوں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی اور انہوں نے ترکہ میں جو مال چھوڑے تھے ، اس کے بارے میں ہرجگہ چرچا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: عبدالرحمن بن عوف نے جو مال اپنے پیچھے چھوڑا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: اگر عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے رہے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ موقف چونکہ ابوذر رضی اللہ عنہ کے موقف کے مخالف تھا ، اس وجہ سے وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اپنی عصا لے کر بڑھے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ انسان کی ضروریات سے جو چیز بھی زائد ہو ، وہ کنز ہے۔ کسی بھی انسان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ مال سنجوکر رکھے۔ بہرحال امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے بیچ بچاؤ سے معاملہ نرم ہوا،اس موقع پر امیر معاویہ گویا ہوئے کہ ابوذر ! آپ نے ابھی جو کیا ہے، وہ اچھا نہیں تھا، نیز آپ نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے وہ بھی درست نہیں ہے۔بہتر تو یہی ہے کہ آپ دیگر صحابہ کرام سے اتفاق کریں اور پھر یہ بھی سوچیں کہ اگر پوری دولت ہی دینا درست ہوتو زکوٰۃ اور نصاب زکوٰۃ بے سود ہوں گے۔ اس مسئلہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ کا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی شدید اختلاف ہوگیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر کہا: اللہ کی قسم ! جب تک تم شام میں ہو، میں شام میں نہیں رہ سکتا۔
ادھر امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے پورے واقعہ سے عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر آگاہ کیا۔چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ دیکھو، تم ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہرگز نہ الجھنا ۔وہ انتہائی موقر اور بزرگ انسان ہیں۔چونکہ وہ قسم کھاچکے ہیں لہذا انہیں میری خدمت میں بھیج دو۔اس طرح ابوذر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مدینہ پہنچے۔ وہاں پہنچنے کے بعد بھی ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے موقف کی تبلیغ کرتے رہے۔جب عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہا: آپ کی شخصیت یقینی طور پر انتہائی قابل احترام ہے۔ آپ نے جو موقف اختیار کررکھا ہے، میری نظر میں آپ اس کا حق رکھتے ہیں لیکن بہرصورت آپ کو اس کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
امیرالمومنین کا نظریہ سمجھ کر ابوذر رضی اللہ عنہ نے تیسرے خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ آپ مجھے مدینہ کے علاوہ کسی دوسرے ایسے شہر میں رہنے کی اجازت دے دیں جہاں عوام نہ پہنچ سکے۔عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ربذہ کے مقام پر چلے جائیں۔اس طرح سے ابوذر رضی اللہ عنہ مقام ربذہ پہنچے اور وہیں اپنی پوری زندگی گزاردی۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کی سیرت:
ابوذر رضی اللہ عنہ ان چنندہ اور خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ایک ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق بخشی۔آپ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قوم میں دعوت و تبلیغ کے مقصد سے بھیج دیا ۔وہ ایک مدت تک اپنی قوم اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہے لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے بھی ہجرت کیا اور آپ سے آملے اور پوری زندگی آپ کے ہمراہ رہے اور آپ کے ہمراہ سبھی غزوات میں شرکت فرمائی۔(سیراعلام النبلاء2؍46)
ابوذر رضی اللہ عنہ نے لمبی مدت تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت فرمائی اور آپ سے اصول دین و شریعت سیکھا۔ آپ زہد و ورع کے پیکر تھے اورآپ کے اندر تقوی و خشیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، صدق و صفا میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا،اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ علم و فضل سے نوازا تھا، احکام الٰہی پر عمل آوری آپ کا شیوہ تھا، حق بات کہنے میں ادنی تامل نہیں کرتے تھے اور نہ اس تعلق سے کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا ہی فرماتے تھے۔ (سیراعلام النبلاء2؍46)
ابونعیم نے کہا ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہمہ وقت خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر رہا کرتے تھے۔آپ سے مسائل کے بارے میں سوالات کرتے اور اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لئے حریص رہا کرتے تھے۔ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اصول و فروع، ایمان و احسان، رویت باری تعالیٰ، رب کے نزدیک محبوب ترین کلام، لیلۃ القدر کی فضیلت اور اس طرح کی بہت سارے مسائل کے بارے میں سوالات کئے حتی کہ نماز میں کنکرکو ہٹانے کے بارے میں استفسار کیا۔(حلیۃ الاولیاء1؍169)
ابوذر رضی اللہ عنہ کی غزوات میں شرکت:مدینہ تشریف آوری کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ کسی غزوے سے پیچھے نہیں رہے، سوائے ان غزوات کے جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سر کوئی خصوصی ذمہ داری سونپ دی، جیساکہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ غزوہ ذات الرقاع اور غزوہ بنو المصطلق میں شریک نہیں ہوسکے ، کیونکہ رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ کا امیر متعین کردیا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام2؍285،401)
ابوذر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر ، غزوہ احد اور غزوہ خندق میں اس وجہ سے شریک نہ ہوسکے تھے کہ ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم میں دعوت و تبلیغ کے مقصد سے بھیج دیا۔ جب یہ غزوات وقوع پذیر ہوئے تو ابوذر رضی اللہ عنہ رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اپنی قوم ہی میں تھے۔جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ملی تو انہوں نے بھی مدینہ کی ہجرت کی۔(الطبقات الکبری لابن سعد2؍226)
غزوہ حنین میں قبیلہ غفار کا پھریرا آپ کے ہاتھوں میں تھا۔(سیراعلام النبلاء2؍57)
ابوذر رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک میں شرکت فرمائی تھی۔ ابن اسحق عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے نکلے تو بہت سے لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے۔ اس دوران لوگ آآکر آپ کو بتانے لگے کہ فلاں شخص پیچھے رہ گیا۔لوگوں کی باتوں کو سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے:’’جانے دو، اگر اس میں ذرہ برابر بھی بھلائی ہوگی تو وہ ضرور تم سے آملے گا۔اگر معاملہ اس کے برعکس ہوگا توگویا اللہ نے تمہیں اس سے آرام دیا‘‘۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی خبر دی گئی کہ ابوذر رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے۔ درحقیقت واقعہ یہ تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا اونٹ اڑ گیا تھا اور وہ چلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔جب یہ حالت دیکھی تو انہوں نے اپنا پورا سامان اپنی پشت پر لاد لیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ اس دوران کسی صاحب کی نظر پڑی تو وہ گویا ہوا: شاید کوئی آرہا ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: شاید یہ ابوذر ہوگا۔ لوگوں نے غور سے دیکھا تو کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ابوذر ہی ہیں۔ اس موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ ابوذر پر رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔یہ اکیلے چلتا ہے، اکیلے ہی وفات پائے گا اور اکیلے ہی مبعوث کیا جائے گا‘‘۔ (تاریخ طبری3؍145، دلائل النبوۃ للبیہقی5؍221۔222، مستدرک حاکم۳؍۵۰۔۵۱،سیراعلام النبلاء2؍56)
اس غزوہ کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں اپنے اونٹ کی کمزوری کی وجہ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا تھا۔

ابوذر رضی اللہ عنہ کا کمال زہد : زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی بات ہو اور ابوذر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہ ہو ،ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کے کمال زہد کا تذکرہ پڑھ کر عقلیں ششدر رہ جاتی ہیں کہ انہوں نے کس بے نیازی کے عالم میں زندگی گزاری، دنیا کے دھن دولت کو ٹھوکر ماردیا اور ایک چھوٹی سی کٹیا میں رہنے کو ترجیح دیا،بادشاہان اور حکمرانوں کی رفاقت چھوڑکر بادیہ نشینی کو ترجیح دی لیکن اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ دراصل ابوذر رضی اللہ عنہ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی نگہداشت میں پرورش پائی تھی اور آپ کے ایک ایک جملہ کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش فرمائی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ قیامت کے روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریب میں ہی ہوں گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری سنائی ہے کہ قیامت کے روز وہ شخص مجھ سے سب سے قریب ہوگا جو کہ دنیا سے اسی صورت میں سدھارجائے جس صورت میں اسے میں نے چھوڑا ہے۔مجھے امید ہے کہ میں اسی حالت پر باقی ہوں۔(مسند احمد5؍165)
ابوذر رضی اللہ عنہ کے کمال زہد کا اندازہ لگانا ہوتو مندرجہ ذیل آثار کو ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ اس بندہ خدا نے کس طرح سے تقوی و خشیت کو اپنی کامیابی کا ضامن سمجھا ۔زہد و ورع کو ترجیح دی اور دنیا کو ٹھکرادیا۔
ابواسماء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ابوذر رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جبکہ وہ مقام ربذہ میں تھے، ان کے پاس ان کی سیاہ فام صحت مند بیوی بھی تھی، لیکن اس پر بناؤ سنگھار یا خوشبو کے کوئی اثرات نہ تھے۔انہوں نے مجھ سے فرمایا: اس حبشن کو دیکھو، یہ مجھے کیا کہتی ہے؟ یہ کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں تو وہاں کے لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے پاس آئیں گے اور میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ جہنم کے پل پر ایک راستہ ہوگا جو لڑکھڑانے اور پھسلن والا ہوگا۔ اس لئے جب ہم اس پل پر پہنچیں تو ہمارے سامان میں کوئی وزنی چیز نہ ہونا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ ہم وہاں سامان کے بوجھ تلے دبے ہوئے پہنچیں۔(مسند احمد؍21746)
ایک مرتبہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا گزر ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا۔ انہوں نے ایک گھر تعمیر کی تھی۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا :یہ کیا ہے؟ آپ اس چیز کو تعمیر کررہے ہیں جسے ویران کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ بہتر ہوتا کہ ابھی جس حالت میں آپ ہیں اس کے مقابلے کسی گندگی میں لوٹ پوٹ کرتے ہوئے آپ کو دیکھتا۔(سیراعلام النبلاء2؍74)
عبداللہ بن خراش کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں دیکھا۔ آپ کے ہمراہ آپ کی کالی کلوٹی اہلیہ بھی تھیں۔ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا گیاکہ بہتر ہوتا کہ آپ اس سے بہتر خاتون سے شادی کرلیتے۔ یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں کسی ایسی خاتون کو اپنی بیوی بناؤں جو میرے لئے رفعت شانی کا ذریعہ بنے زیادہ بہتر ہے کہ کسی ایسی خاتون سے شادی کروں جو گناہ اور پستی کے دلدل میں ڈھکیلے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ7؍124)
ایک دن عطابن مروان نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک اونی چادر کا ازار بنائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۔پوچھا: ابوذر! کیا آپ کے پاس اس چار کے سوا کوئی دوسرا کپڑا نہیں ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی دوسرا کپڑا ہوتا تو اسے میرے اوپر پاتے۔ عطا نے کہا: میں نے چند دنوں پہلے آپ کو دو کپڑے زیب تن کئے ہوئے دیکھا تھا۔اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! وہ کپڑا میں نے اسے دے دیا جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند تھا۔عطا نے کہا: آپ ان دونوں کے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ ابوذر نے جوابا عرض کیا: اللہ ہماری بخشش فرما۔ تم دنیا کو اہمیت دے رہے ہو۔کیا تم مجھ پر یہ چادر نہیں دیکھ رہے ہو، میرے پاس مسجد کے لئے ایک دوسرا کپڑا بھی ہے۔ہمارے پاس بکریاں ہیں جن سے ہم دودھ پیتے ہیں، گدھے ہیں جن پر اپنے سامان ڈھوتے ہیں، خدام ہیں جو ہماری خدمت کرتے ہیں ۔ہم جن نعمتوں میں جی رہے ہیں ، بھلا ان سے بہتر کیا نعمت ہوسکتی ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کا عالم یہ تھا کہ ایک وقت کھاتے تو دوسرے وقت بھوکے سوجایا کرتے تھے حتی کہ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ خشک روٹیوں کو کھایا کرتے تھے۔آپ کا معمول تھا کہ آپ جو کھاتے اپنے غلاموں کو وہی کھلاتے تھے اور جو پہنتے وہی پہناتے تھے۔ زہد کی مثال پڑھنی ہو تو ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پڑھیں کہ انہوں نے ترکہ میں دو خچر، ایک گدھا اور چند سواریاں چھوڑی۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کا کمال علم:
علم و فقہ کے معاملہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہم پلہ تھے، جیساکہ امام آجری نے ابوداود کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب12؍90)
علی رضی اللہ عنہ سے ابوذر رضی اللہ عنہ کے علم و فقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:انہوں نے ایسے علوم بھی سیکھے جنہیں وہ برت نہیں سکے۔ وہ علم کے انتہائی حریص اوردین کے معاملہ میں متحمس تھے۔ وہ بے انتہا سوالات کیا کرتے تھے کبھی انہیں سوالوں کے جواب ملتے تو کبھی نہیں مل پاتے۔ حتی کہ انہیں وافر مقدار میں علم عطا کیا گیا۔(الطبقات الکبری 2؍232)
ابوذررضی اللہ عنہ سے 281حدیثیں مروی ہیں۔ان میں بارہ متفق علیہ ہیں۔دو حدیثیں صحیح بخاری میں موجود ہیں اور نو صحیح مسلم میں۔ (سیر اعلام النبلاء2؍75)
وفات:
ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات 32ھ میں مقام ربذہ میں ہوئی۔ آپ کی نماز جنازہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔جب ابوذر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ کے پاس موجود آپ کی اہلیہ محترمہ اور آپ کے خادم کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کفن دفن کا بندوبست کیسے ہوگا۔چنانچہ آپ نے کہا کہ جب میری موت ہوجائے تو میری جنازہ کو راستے پر رکھ دینا،مسلمانوں کا ایک قافلہ آئے تو انہیں کہنا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ جنازہ پڑا ہے، اسے دفن کرتے جاؤ۔آپ کی وفات ہوگئی تو آپ کی بیوی اور غلام نے مل کر آپ کو غسل دیااور کفن دے کر جنازے کو راستے پر لارکھا۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عراقیوں کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے تشریف لارہے تھے۔انہوں نے ایک خاتون کو راستے پر کھڑا دیکھا تو پوچھا کہ کون ہیں؟ جواب دیا: ام ذر۔ عبداللہ بن مسعود نے پوچھا: ابوذر رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ ۔انہوں نے کہا: یہ ان کا جنازہ پڑا ہے۔انہیں دفن کرتے جاؤ۔یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ زاروقطار روئے اور ان کو دفن کیا اور پھر اپنے ساتھیوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشین گوئی سنائی کہ ابوذر تو اللہ کی راہ میں اکیلا ہی سفر کرتا ہے، اکیلا ہی مرے گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا۔رضی اللہ عنہ و رضاہ۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کی چند پرحکمت باتیں:
*قیامت کے روز دودرہم کے مالک انسان کا حساب و کتاب زیادہ سخت ہوگا ایک درہم کے مالک انسان کے مقابلے۔(کتاب الزھد لاحمد ص؍204)
* اللہ کی قسم ! اگر تم لوگوں کو وہ سبھی باتیں معلوم ہوجائیں جو مجھے معلوم ہیں تو تم لوگ اپنی بیویوں سے ہم بستری کرنا اور بستروں پرجانا چھوڑدوگے۔اللہ کی قسم ! بہترہوتا کہ اللہ نے مجھے ایک درخت بنایا ہوتا ہے جس کے پھل کو توڑ کر لوگ کھالیتے ہیں۔ (حلیۃ الأولیاء1؍194)
* نیکیوں کے ساتھ اتنی دعا کافی ہوگی جتنی نمک کھانے کے لئے کافی ہوا کرتی ہے۔ (کتاب الزھد؍2013)
* لوگ مرنے کے لئے ہی اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں اور ویرانی کے لئے گھر تعمیر کرتے ہیں۔وہ فنا ہونے والی چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔خبردار ! دو ناپسند کی جانے والی چیزیں کیا ہی بہتر ہیں ایک موت اور دوسری فقیری۔ (کتاب الزھد؍215)
* بہتر دوست تنہائی سے بہتر ہے۔ تنہائی برے ساتھی سے اچھی ہے۔ بھلی باتیں کرنے والا خاموش انسان سے بہتر ہے اور شر و فساد کی باتیں کرنے والے انسان سے خاموش انسان عمدہ ہے….‘‘۔ (المصنف لابن ابی شیبۃ7؍124)
ان مواعظ اور پرحکمت اقوال سے ہم یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی زندگی کن اصولوں اور بنیادوں پر استوار تھی اور انہوں نے اپنی پوری زندگی انہی اصولوں اور بنیادوں پر گزاردی۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی دنیا کو اپنے قریب نہیں پھڑکنے دیا بلکہ ’’کنز‘‘کے تعلق سے آپ کا ایک الگ ہی موقف تھا۔کہا کرتے تھے کہ اگر کسی انسان کے پاس ایک وقت کے کھانے پینے سے زیادہ کی روزی ہے گویا وہ کنز ہے، جس کے بارے میں کتاب و سنت کے ذخیرے میں وعیدیں آئی ہیں۔بہرحال ابوذر رضی اللہ عنہ کی یہ انفرادی رائے تھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی رائے کے رکھنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی وجہ سے انہیں ربذہ مقام میں بھیج دیا تھا جہاں انہوں نے سکونت اختیار کی اور اسی جگہ وفات بھی پائی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close