سیرت صحابہ

اہلِ بیتؓ سے محبت اور ان کے فضائل

ندیم احمد انصاری

ہمارے نزدیک تمام صحابہ کرامؓ کی عزت واحترام اور ان سے محبت رکھنا جزوِ ایمان ہے، ان میں سے کسی کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی سخت محرومی کا سبب ہے، البتہ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ صحابہ کرامؓ کے تعلق سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:

{محمد رسول اللّٰہ، والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم تراہم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللّٰہ ورضوانا، سیماہم فی وجوہہم من اثر السجود، ذلک مثلہم فی التوراۃ ومثلہم فی الانجیل}۔(الفتح:29)

حضرت محمد ا اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں (یعنی صحابہ کرامؓ وہ) کفار پر سخت ہیں (اور) آپس میں رحم دل ہیں، آپ انھیں دیکھیں گے کہ وہ رکوع، سجدے کرتے، اللہ کا فضل وخوشنودی تلاش کرتے ہیں۔ ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدے کا نشان ہے، ان کی نشانیاں تورات میں ہیں اور انجیل میں۔

علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر ان اولین مخاطین کے متعلق ارشاد فرمایا:

{رضی اللّٰہ عنہم ورضوا عنہ}

اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔

نیز رسول اللہ ا نے اپنے اصحاب کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

لا تسبوا أصحابی، فلو ان أحدکم أنفق مثل أحد ذھبا ما بلغ مد أحدہم ولا نصیفہ۔

میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اگر تم میں سے کوئی شخص (اللہ کے راستے میں)احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کردے، تو ان (صحابہ) کے خرچ کیے ہوئے ایک مد (مٹھی) یا اس کے آدھے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔(بخاری، مسلم)

بلکہ ایک حدیث میں تو یہاں تک فرمایا:

اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی، اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی، لا تتخذوہم غرضاً بعدی، فمن أحبہم فبحبی أحبہم، ومن أبغضہم فبغضی أبغضہم، ومن أذاہم فقد أذانی ومن أذانی فقد أذی اللّٰہ، ومن أذی اللّٰہ فیوشک أن یأخذہ۔

میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ میرے بعد انھیں ’نشانہ‘ مت بنالینا، کیوں کہ جو شخص ان سے محبت کرے گا، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا، جو ان سے بغض رکھے گا، وہ درحقیقت مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔ جس نے انھیں تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ جلد ہی اسے اپنی گرفت میں لے لے گا۔ (ترمذی)

خیال رہے کہ یہ حکم ان تمام نیک بندوں کو شامل ہے، جن کا شمار اصحابِ رسول اللہ ا کے زمرے میں ہوتا ہے اور ’’صحابی اسے کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ ا کی صحبت کا شرف حاصل کیا ہو اور اسی حالت میں وہ دنیا سے رخصت ہوا ہو۔‘‘ (تدریب الراوی فی تقریب النواوی)

اس وقت ہم چوں کہ اصلاًحضراتِ اہلِ بیتِ اطہار کے فضائل کا بیان کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اولاً صحابہ کے اجمالی فضائل بیان کر دیے کہ اہلِ بیت بھی اصحابِ رسول ا ہی میں سے ہیں، اس طرح انھیں گویا دوشرف حاصل ہیں‘ایک اصحابِ رسول ہونے کا اور دوسرا اہلِ بیتِ رسول ہونے کا۔اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آنحضرت ا کے ’اہلِ بیت‘ یعنی گھر والوں میں کون کون داخل ہے؟توصحیح بات یہی ہے کہ اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں، اہلِ بیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی آیا ہے، جن کو زکوٰۃ کا مال لینا حرام ہے یعنی بنو ہاشم اور ان میں آلِ عباس، آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عقیل شامل ہیں۔ بعض روایتوں میں آنحضرت ا کے اہل و عیال کو ’اہلِ بیت‘ کہا گیا ہے جن میں ازواجِ مطہراتؓ یقینی طور پر شامل ہیں۔قرآنِ کریم کی اس آیت{انما یرید اللّٰہ عنکم الرجس أہل البیت ویطہرکم تطہیراً} میں اس کے پہلے اور بعد میں بھی ازواجِ مطہراتؓ ہی کو مخاطب کیا گیا ہے، چناں چہ یہ آیت آنحضرت ا کی ازواجِ مطہرات کو شامل ہے کیوں کہ آیت کا سیاق و سباق پوری شدت سے اس کا متقاضی ہے، اس لیے یہ کہنا زیادہ بہتر و اولیٰ ہے کہ اہلِ بیت کا مصداق آنحضرت ا کی اولاداور ازواجِ مطہرات ہیں اور ان میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ بھی شامل ہیں نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ بھی آنحضرت ا سے خصوصی نسبت و تعلق اور خانگی قرب رکھنے کے سبب اہلِ بیت میں سے ہیں تاہم بعض مواقع پر اہلِ بیت کا اطلاق اس طرح بھی آیا ہے کہ جس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس کا مصداق صرف فاطمہ زہرا، علی مرتضیٰ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ہیں، جیسے حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ا جب نمازِ فجر کے لیے مسجد آتے تو راستے میں حضرت فاطمہؓ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے یوں فرماتے: الصلوٰۃ یا أہل البیت، انما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس أہل البیت و یطہرکم تطہیرا۔ اسی طرح ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک دن میں آنحضرت ا کے پاس (گھر میں) بیٹھی ہوئی تھیں کہ خادم نے آکر بتایا کہ علیؓ اور فاطمہ زہراؓ باہر دروازے پر کھڑے ہیں، آنحضرت ا نے یہ سن کر مجھ سے فرمایا کہ تم ایک کنارے ہو جاؤ، چناں چہ میں گھر کے ایک گوشے میں چلی گئیں، علیؓ اور فاطمہؓ اندر آگئے اور ان کے ساتھ حسنؓ اور حسینؓ بھی تھے، جو اس وقت ننھے منّے تھے۔ آنحضرت ا نے حسنؓ اور حسینؓ کو آغوشِ مبارک میں بٹھا لیا اور ایک ہاتھ سے علیؓ کو اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہؓ کو پکڑ کر اپنے بدن سے چمٹا لیا، پھر آپ ا نے اپنی وہ کالی کملی ان سب پر لپیٹی، جو اس وقت جسمِ مبارک پر تھی اور فرمایا: خداوندا! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، مجھے اور میرے اہلِ بیت کو اپنی طرف بلا نہ کہ آگ کی طرف۔

معلوم ہوا کہ ایک طرف تو وہ روایتیں ہیں جن سے بنو ہاشم اور آنحضرت ا کے اہل و عیال پر ’اہلِ بیت‘ کا اطلاق ثابت ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ روایتیں ہیں جن سے اہلِ بیت کا مصداق صرف حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓمعلوم ہوتے ہیں بلکہ ان ہی چہار تن پر اہلِ بیت کا اطلاق شائع اور مشہور بھی ہے، لہٰذا علماء نے ان تمام روایتوں میں تطبیق اور ان کے اطلاقات کی توجیہ میں یہ کہا ہے کہ ’بیت‘ کی تین نوعیتیں ہیں؛(1) بیتِ نسب(2)بیتِ سکنیٰ اور (3) بیتِ ولادت۔ پس بنو ہاشم یعنی عبد المطلب کی اولاد کو تو نسب اور خاندان کے اعتبار سے آنحضرت ا کا اہلِ بیت (اہلِ خاندان) کہا جائے گا،جیسے اردو میں بھی جب یوںکہا جاتا ہے کہ فلاں کا گھرانا بہت معزز ہے یا فلاں شخص شریف خاندان کا ہے تو گھرانہ یا خاندان سے اُس شخص کے باپ دادا کی اولاد مراد ہوتی ہے اور آنحضرت ا کی ازواجِ مطہراتؓ کو اہلِ بیتِ سکنیٰ (اہلِ خانہ) کہا جائے گا، چناں چہ عرفِ عام میں کسی شخص کی بیویوں کو اس کے اہلِ بیت یا گھر والی سے تعبیر کیا جانا مشہور ہی ہے اور آنحضرت ا کی اولاد کو اہلِ بیتِ ولادت کہا جائے گا اور اگرچہ آپ ا کی تمام ہی اولاد پر اہلِ بیتِ ولادت کا اطلاق کیا جانا چاہیے لیکن ان تمام میں حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضراتِ حسنینؓ کو جو خاص فضل و شرف اور آنحضرت ا سے جو کمالِ قرب و تعلق حاصل تھا اور یہ کہ ان کے فضائل و مناقب جس کثرت سے احادیث میں وارد ہوئے ہیں، اس کی بنا پر اہلِ بیت ِ ولادت کا خصوصی و امتیازی مصداق صرف یہی چار تن مانے جائیں گے۔(مظاہرِ حق جدیدملخصاً)

غور سے دیکھا جائے تو ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں، اس لیے کہ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ازواجِ مطہراتؓ کی شان میں نازل ہوئی اور اہلِ بیت سے وہی مراد ہیں، یہ اس کے منافی نہیں کہ دوسرے حضرات بھی اہلِ بیت میں شامل ہوں، اس لیے صحیح یہی ہے کہ لفظِ اہلِ بیت میں ازواجِ مطہراتؓ بھی داخل ہیں، کیوں کہ شانِ نزول اس آیت کا وہی ہیں اور شانِ نزول کا مصداقِ آیت میں داخل ہونا کسی شبہ کا محتمل نہیں اور حضرت فاطمہ و علی و حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی ارشادِ نبوی ا کے مطابق اہلِ بیت میں شامل ہیں۔ اس آیت سے پہلے اور بعد میں دونوں جگہ {نساء النبی} کے عنوان سے خطاب اور ان کے لیے مؤنث کے صیغے استعمال فرمائے گئے ہیں، سابقہ آیات میں {فلا تخضعن بالقول} سے آخر تک سب صیغے مؤنث کے استعمال ہوئے ہیں اور آگے پھر {واذکرن ما یتلی}ٰ میں بصیغۂ تانیث خطاب ہوا ہے، اس درمیانی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر بصیغۂ مذکر {عنکم}اور{یطہرکم} فرمانا بھی اس پر شاہدِ قوی ہے کہ اس میں صرف ازواج ہی داخل نہیں کچھ رجال بھی ہیں۔(معارف القرآنبتصرف) جن کا بیان مذکور ہوا۔تاہم ذیل میں ہم اہلِ بیتِ ولادت کے فضائل پر چند احادیث پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ

صحابیِ رسول حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ا نے حضرت علیؓ سے ارشاد فرمایا:

 قال (النبیﷺ): ألا ترضی أن تکون بمنزلۃ ہارون من موسیٰ، ألا أنہ لیس نبی بعدی۔

کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمھاری مجھ سے وہی منزلت ہے، جو ہارونؑ کو موسیٰؑ (علیہما السلام) سے ہے، فرق بس اتنا ہے کہ (حضرت ہارونؑ نبی تھے اور) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(بخاری، ابن ماجہ)

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں، اس ذات (یعنی اللہ) کی قسم! جس نے دانہ پھاڑا (نباتات نکالی) اور مخلوقات پیدا کیں:

لقد عہد الی النبی الامی ﷺ أنہ لا یحبک الا مؤمن، ولا یبغضک الا منافق۔ (ترمذی)

میرے ساتھ حضرت نبی کریم ا نے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے (علیؓ کے) ساتھ محبت صرف مومن ہی کرے گا اور (مجھ سے) بغض صرف منافق ہی رکھے گا،نیز جس وقت یہ آیت نازل ہوئی،تورسول اللہ انے حضرت علیؓ، فاطمۃ الزہراؓ، حسنؓ اورحسینؓکوبلاکردعاکی:{ندع ابناء نا وابناء کم }۔(آل عمران:61 )الٰہی!یہ میرے گھرکے لوگ ہیں۔ (ترمذی)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا زمانے بھر کی عورتوں کی سردار، حضرت نبی کریم ا کی جگر گوشہ اور نسبتِ مصطفائی، سید الخلق رسول اللہ ا کی صاحبزادی اور حضراتِ حسنینؓ کی والدہ ہیں(سیر اعلام النبلاء)، جن کے متعلق رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا ہے:

فاطمۃ بضعۃ منی، فمن أغضبہا أغضبنی۔(بخاری، مسلم )

 فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔

نیز وہ خود روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ا نے اپنی وفات کے وقت مجھے یہ بشارت دی تھی:

انی سیدۃ نساء أہل الجنۃ الا مریم بنت عمران۔

تم جنّتی عورتوں کی سردار ہو، سوائے مریم بنتِ عمران کے۔ (ترمذی)

حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما

رسول اللہ ا کے اپنے نواسوں سے محبت کے سیکڑوں واقعات بہت مشہور ہیں لیکن ہمیں چوں کہ مضمون کو طوالت سے بھی بچانا ہے، اس لیے چند احادیثِ مبارکہ کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

 ان الحسن والحسین سید الشباب اہل الجنۃ۔

حسن اور حسین اہلِ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔(ترمذی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،میں نے رسول اللہ ا کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:

من احبہا فقد احبنی، ومن ابغضہا فقد ابغضنی۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم )

جس نے ان دونوں (حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) سے محبت کی، یقینا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض کیا، یقینا اس نے مجھ سے بغض کیا۔

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

ہذا ابنای وابناء ابنتی، اللّٰہم أحبہما فأحبہما وأحب من یحبہما۔

یہ دونوں (حضرت حسنؓ اور حسینؓ) میرے بیٹے اور نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان دونوں سے محبت فرمائیے اور جو ان سے محبت کرے، ان سے بھی محبت فرمائیے۔(ترمذی)

مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close