سیرت صحابہ

حضرت علیؓ ابن ابی طالب

حکیم محمد شیراز

( کشمیر یونیورسٹی، کشمیر)

 کبار صحابہ میں سے حضرت علی  رضی اللہ عنہ کا شمار ان تاریخ ساز، عہد آفریں اور نادرۂ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے جن کے ساتھ  بیشترمورخین نے انصاف نہیں کیا اور ان کے بہت سے کمالات و صفات پر جیسی روشنی ڈالنا چاہئیے تھی نہیں ڈالی۔ یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے اور  بقول مولانا علی میاں صاحب ؒ،یہ بات ان کے ماننے والوں اور عقیدت مندوں پر ایک اخلاقی و دینی و علمی قرض کی نوعیت رکھتی ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ قرض ماہ و سال کی مختصر مدت میں ادا ہو جاتا ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ صدیاں بیت جاتی  ہیں اور ان کے ادائے حقوق سے سبکدوشی کی نوبت نہیں آتی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کو رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا ثمرہ  اور اسلام کی صداقت کی دلیل و حجت تصور کیا جاتا اور جس معاشرہ میں وہ پیدا ہوئے اور پروان چڑھے  اس کا تجزیہ کیا جاتا، وہ کیا اصول تھے جن کے وہ سختی سے پابند رہے، وہ کیا اقدار تھے جن کو وہ تا زندگی حرز جان بنائے رہے، جو مشکلات سامنے آئیں اس کا کس اصول پسندی اور دینی و اخلاقی  معیار بلند سے مقابلہ کیا اور ان سے عہدہ بر آ ہوئے، انتظامی و سیاسی امور میں ان کا بنیادی فکر کیا تھا، جس میں کوئی لچک یا سمجھوتہ قبول کرنے کیلئے وہ تیار نہیں تھے، یہ وہ پہلو ہیں، جن کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔

حضرت ابو بکر صدیق ؓ  سے حضرت علی ؓ کا  مخلصانہ تعلق و تعاؤن:

ابن عساکر نے سوید بن غفلہ کے حوالہ سے نقل کیا ہیکہ:’’ابوسفیانؓ، حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنھما کے پاس آئے اور کہا:اے علی! اے عباس!کیا بات ہے کہ خلافت قریش کے اس قبیلہ میں گئی جو مرتبہ کے اعتبار سے پست اور تعداد کے لحاظ سے بہت کم ہے، بخدا اگر تم دونوں آمادہ ہو تو ہم مدینہ کو اپنے حامیوں اور مویدین کے لشکر سے بھر دیں، حضرت علی ؓ نے جواب دیا:’’خدا کی قسم میں ہرگز اس کی اجازت نہیں دے سکتا، اگر ہم نے ابو بکر ؓ کو اس خلافت کا اہل نہ سمجھا ہوتا تو ہم اس آسانی سے منصب خلافت ان کے حوالہ نہ کرتے، اے ابو سفیان! اہل ایمان کا شعار خلوص و صداقت ہے، وہ ایک دوسرے کے  خیر خواہ ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، خواہ ان کے مستقر اور ان کے اجسام میں مکانی طور پر کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو، قلب و زبان کا تفاوت اور قول و عمل کا تضاد منافقین  کا شیوہ ہے۔ ‘‘

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کا تعاؤن:

سیدنا علیؓ,حضرت عمر فاروق ؓ کے ایک خیر خواہ، قابل اعتماد رفیق و مشیر تھے، حکیمانہ انداز میں مشکل سے مشکل مسئلہ کو اس طرح حل کر دیتے کہ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہتی تھی، نیز تاریخ و ادب میں کی کتابوں میں یہ جملہ ضرب المثل بن گیا کہ ’’قضیۃ ولا ابا حسن لھا‘‘ (ایک پیچیدہ مسئلہ سامنے ہے مگر اس کے حل کے لئے ابولحسن نہیں )

امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ اور ان کی شہادت اور حضرت علی  کرم اللہ وجہ کا ان کی حمایت میں اعلیٰ ترین کردار:

جس وقت باغیوں نے حضرت عثمان ؓ کو گھر کے اندر محصور کر دیا اور ہر طرف سے ناکہ بندی اور گھیراؤ کر لیا، بہت سے صحابہ گھروں سے نکلے نہیں، صحابہ کرام کے صاحبزادوں کی ایک جماعت حضرت عثمان ؓ کے گھر گئی جس میں حضرات حسن، حسین، عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم تھے۔ وہ سب حضرت عثمان ؓ کے لئے سینہ سپر تھیکہ کوئی ان کے مکان کے اندر نہ جانے پائے۔ یہ محاصرہ آخر ذی ذیقعدہ سے 18 ذی الحجہ روز جمعہ تک ختم نہیں ہوا، اس سے ایک روز پہلے ان لوگوں سے جو ان کے مکان پر موجود تھے، جن میں مہاجر اور انصار دونوں تھے، اور ان کی تعداد سات سو کے قریب تھی، اور جن میں حضرات عبداللہ بن عمر ؓ، عبداللہ بن زبیر ؓ، حسنؓ، حسینؓ، ابو ہریرہ ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ اور ان کے غلاموں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جو باغیوں کو روکنے کے لئے کافی تھی، حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ جس پر بھی میرا کوئی حق ہے، اس کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اپنا ہاتھ روک لے اور اپنے گھر چلا جائے۔ روایت ہے کہ  حضرت عثمان غنی ؓ کی اس بات کے بعد آخری شخص جو ان کے پاس سے نکلا وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ تھے۔ (ابن کثیر ج 7) ص 128۔ 181)البلاذری نے ’’انساب الاشراف‘‘ میں لکھا ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تیر سے وار کیا جس سے حضرت حسن جو اس وقت ان کے دروازہ پر تھے، خون سے رنگین ہو گئے، اور حضرت علی  ؓ کے غلام زخمی ہو گئے۔

حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کی طرف سے مدافعت اور باغیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اجازت طلب کی تو حضرت عثمان ؓ نے کہا: میں خدا کا واسطہ اس شخص کو دیتا ہوں جو اللہ کو مانتا اور اس کو حق سمجھتا اور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ میرا اس پر کوئی حق بھی ہے، ایک پچھنے کے لگانے بھر بھی میری خاطر خون نہ بہائے، حضرت علی ؓ نے دوبارہ اجازت طلب کی اور انھوں نے دوبارہ یہی جواب دیا، پھر حضرت علی ؓ مسجد میں آئے، اذان ہوئی  لوگوں نے کہا:’’اباالحسن! آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے!‘‘حضرت علیؓ نے جواب دیا:’’امام جب کہ خانہ قید ہے، میں نماز نہیں پڑھاؤں گا، لیکن میں تنہا اپنی نماز پڑھوں گا‘‘چنانچہ تنہا  نماز پڑھ کر اپنے گھر واپس گئے۔ (المرتضیٰ۔ مصنف علی میاں ندوی ؒ۔ ص212)

حضرت عثمان ؓ کی ناکہ بندی اور بھی سخت ہو گئی، اور ان کے لئے باہر سے کسی بھی قسم کا رابطہ رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا، ان کے پاس جو پانی تھا، وہ ختم ہو گیا، مسلمانوں سے انھوں نے پانی طلب کیا، حضرت علی ؓ خود اپنی سواری پر گئے اور پانی کا مشکیزہ لے کر اندر داخل ہوئے، بڑی مشقت سے وہاں پہنچ سکے، باغیوں نے ان کو برا اور سست کہا اور ان کی سواری کے جانور کو بھگا دیا۔ (ابن کثیر ج ۷، 187ص)

حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ کے تاثرات، حضرت علی  رضی اللہ عنہ کی شہادت پر:

ابو صالح سے روایت ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ معاویہ ؓ نے ضرار بن ضمرہ سے کہا کہ بتاؤ علی ؓ کیسے تھے؟ ضرار نے کہا اگر آپ مجھے معاف رکھیں تو بہتر ہو گا، انھوں نے کہا، نہیں، بیان کرو، کہنے لگے، کیا آپ مجھے اس خدمت معاف نہیں کریں گے؟ کہا:نہیں، کہنا ہو گا، اس پر وہ بولے: اچھا تو سنئے! ان کی نظر انتہائی دور رس تھی، ان کے قویٰ انتہائی مضبوط تھے، بات دو ٹوک اور صاف صاف کہتے، اور فیصلے پورے عدل و انصاف کے ساتھ کرتے، ان کی شخصیت سے علم کے چشمے ابلتے تھے، دنیا اور دنیا کی دل آویزیوں سے متوحش رہتے، رات اور اس کیتاریکی سے دل لگاتے تھے، خدا گواہ ہے کہ  (راتوں کو عبادت میں ) ان کے آنسو تھمتے نہ تھے، دیر دیر تک فکر مند اور سوچتے رہتے، اپنے کف دست کو الٹتے پلٹتے اور اپنے آپ باتیں کرتے، موٹا جھوٹا پہنتے، روکھا سوکھا کھاتے، بخدا بالکل اپنے ہی ساتھیوں اور بے تکلف لوگوں کی طرح رہتے، جب کچھ پوچھا جاتا جواب دیتے، جب ان کے پاس جاتے تو خود بڑھ کر بات شروع کرتے، جب بلاتے تو حسب وعدہ آجاتے، لیکن ہم لوگوں کو (باوجود اس قربت اور رفاقت اور ان کی سادگی کے ان کا رعب ایسا تھا کہ) ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ ہوتی اور نہ کوئی گفتگو چھیڑتے، اگر وہ مسکراتے تو آپ کے دندان ایسے نظر آتے جیسے سفید موتیوں کی لڑی ہو، دینداروں کی توقیر کرتے، مساکین سے محبت کرتے کسی طاقتور انسان کی یہ جرات نہ تھی کہ ان سے باطل کی تائید میں توقع رکھتا اور کوئی کمزور ان کے عدل و انصاف سے مایوس نہ ہوتااور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان کی راتوں کے چند مناظر  دیکھے ہیں کہ حضرت علی ؓ محراب مسجد میں اپنی داڑھی ہاتھ سے پکڑے درد بھرے شخص کی طرح رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں :’’اے دنیا کیا تو مجھ سے چھیڑ چھاڑ کر رہی ہے یا مجھ سے کوئی امید رکھتی ہے؟ مجھ سے کچھ امید نہ رکھ، میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے، میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں، جس کے بعد تیری رجعت کی گنجائش ہی نہیں، تیری عمر کوتاہ، تیری دی ہوئی کامرانی حقیر، تیرے خطرات بھیانک اور بڑے، آہ! زاد راہ کتنا کم ہے، سفر کتنا طویل ہے، اور راستہ کس درجہ سنسان ہے‘‘راوی کہتے ہیں : یہ سن کر معاویہ ؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور اس کے قطرے ان کی داڑھی پر گرنے لگے، اپنی آستین سے وہ آنسو پونچھتے، اور رونے سے آواز حلق میں گھٹنے لگی، پھر معاویہ ؓ نے کہا: اللہ  ابولحسن پر رحم فرمائے، واقعی ان کا یہی حال تھا۔ ضرار! تم اپنا حال کہو ان کی جدائی سے کیا محسوس کرتے ہو؟  کہا: مجھے ایسا غم ہے جیسا اس عورت کو ہوگا جس کا بچہ اس کی گود میں ذبح کر دیا گیا ہو، نہ اس کے آنسو تھمتے ہوں، نہ غم ہلکا ہوتا ہو۔ ‘‘(صفۃ الصفوۃ۔ از ابن جوزی، ج ۱، ص 122۔ 121)

ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی سامنے لایا جائے جو  امت مسلمہ کی ڈوبتی نیاّ کے لیے ناخدا کا کام دے۔

مزید دکھائیں
Close