تاریخ اسلامسیرت صحابہ

حضرت علیؓ: خدمات وکمالات!

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

مدت ِدراز تک آغوش ِنبوت میں پرورش پانے والے،حضور ﷺ  کی دعوتِ اسلام پر سب سے پہلے صدائے لبیک بلند کرنے والے، سخت گیر اور جاں گسل حالات میں سفرِہجرت کی رات فراش نبی کو اپنا بستر بنانے کی سعادت حاصل کرنے والے ، غزوہ تبوک میں مملکت ِاسلامیہ کے دارالخلافہ ’’مدینہ طیبہ‘‘میں نیابتِ نبی کے فرائض انجام دینے والے، فصاحت وبلاغت کے امام، علم وادب کے منبع ، حکمت ودانائی کے مخزن،جرأ ت وشجاعت اور ذہانت وفطانت کے حسین امتزاج ، جگرگوشہ ٔ رسول ’’فاطمۃ الزھرا‘‘ کے سرتاج، کمال ِتقویٰ اور غایت ِ زہد کے باوجود خندہ رو اور شگفتہ مزاج، سطوت وحکومت، جاہ وحشمت اور سامان کروفر کی بہتات وفراوانی کے زمانہ میں بھی حلۂ خسروی کے بجائے پیوند دار پیراھن، تاج ِسروری کے مقابلہ میں بوسیدہ عمامہ، اور مسند جہاں بانی کی جگہ فرش خاکی کو پسند کرنے والے، خلیفۂ رابع امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ۔

جو مختلف خصائل وفضائل کے حامل، متعدد محاسن واخلاق کا مجموعہ اور کئی ایک کمالات وصفات کا ایسا حسین پیکر تھے گویا ان کی ایک زندگی کئی زندگیوں کا خلاصہ ونچوڑ اورحیات کاہرشعبہ صفت ِکمال کا وہ نادر مرقع تھی ؛جس سے فضیلت وخصوصیت کے بے داغ خدوخال ابھر کر سامنے آتے تھے اور جس کے ہر کمال پر نظریں جم کر رہ جاتی تھیں

زفرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرم

کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جا است

عہد ِنبوی میں آپ کے کارناموں کا سرسری جائزہ:تقریباً دس سال کی عمر میں اللہ رب العزت نے معرفت ِحق اور پھر قبولیتِ حق کی دولت ِگراں مایہ سے سرفراز فرمایا ،پھر کیا تھا؟ دن ورات سرورکائنات ﷺ  کی معیت ِصادقہ میں گزرنے لگے، مشوروں کی مجلسوں میں ، تعلیم وارشاد کے مجمعوں میں ، کفار ومشرکین کے مباحثوں میں معبود ِحقیقی کی یادوں اور عبادتوں میں غرضیکہ ہرقسم کی صحبتوں میں شرکت کی سعادت سے بہرور ہونے لگے، خود حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ میں محسن ِانسانیت کے پیچھے ایسے چلتا تھا جیسے اونٹ کا بچہ اونٹ کے پیچھے چلتا ہے۔

مدینہ طیبہ آنے کے بعد  11  میں آں حضرتﷺنے حضرت علی ؓ کو دامادی کا شرف بخشا؛اس طرح جگر گوشۂ نبی حضرت فاطمۃ الزھراءؓ آپ کے نکاح میں آئیں ۔

مدنی زندگی کے تمام غزوات میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، حضور ﷺ کے دست ِراست بنے رہے، غزوہ بدر ، احد، خندق، بنی قریظہ، اور حنین وغیرہ میں آپ نے عزم وہمت جرأت وشجاعت اور بے باکی وجواں مردی کے ایسے جوہر دکھلائے کہ ’’اسد اللہ‘‘ آپ کے نام کا جزولاینفک ہوگیا، ان کے علاوہ متعدد سرایابھی آپ کی ماتحتی میں بھیجے گئے جنہیں آپ نے کامیابی کے ساتھ سرانجام دیا اور قدم قدم پر اسلام کی سربلندی واشاعت میں بھر پور حصہ لیا، صلح حدیبیہ کا معاہدہ آپ ہی نے تحریر کیا، معرکۂ خبیر کی فتح وظفر مندی تو آپ ہی کے نام سے معنون ہے اسی طرح مکہ پر چڑھائی کے وقت جاسوسی کا خط لے کر جانے والی عورت کا پردہ بھی آپ ہی نے فاش کیا، غزوہ تبوک کے موقع پر آپ ہی نے جانشین نبی کے فرائض انجام دیئے اور جب آں حضرتﷺ اس دار ِفانی سے پردہ فرماگئے تو آپ کے غسل اور تجہیز وتکفین کی سعادت بھی آپ ہی کے حصہ میں آئی۔

علاوہ ازیں خلفاء ثلثہ کے بابر کت زمانوں میں بھی آپ ان اکابر کے دست راست اور مشیر ِخاص رہے، وفات ِنبی کے بعد بنو ہاشم خلافت کو اپنا حق سمجھنے لگے،حتی کہ  رؤساء قریش نے تو حضرت کو آگے آنے کا باصرار مشورہ دیا مگر حضرت علیؓ نے دانائی اور دور اندیشی سے اس عظیم فتنہ کا خاتمہ فرمایا عہد فاروقی میں ایران پر چڑھائی کے وقت آپ ہی نے حضرت عمرؓ کو مدینہ نہ چھوڑنے کا صائب مشورہ دیا، ایک مرتبہ کسی شخص نے پیش رو خلفاء کے زمانہ میں پر امن حالات اور آپ کے زمانہ میں بپا شورش کا شکوہ کیا تو یوں ارشاد فرمایا کہ ہمیں مشورہ دینے والے تم ہو اور انہیں مشورہ دینے والے ہم تھے۔

حضرت عثمانؓ کی وفات کے بعد تقریباً ایک ہفتہ تک مسند ِخلافت خالی رہی ،کوئی بھی نامور شخصیت بار ِحکومت اٹھانے کو تیار نہ ہوئی ان حالات میں انصار ومہاجرین کے بزرگ جمع ہو کر آپ کے پاس تشریف لائے اور خلافت کے اس عظیم منصب کو ۔۔۔جس کےبلاشبہ آپ ہی حقدار تھے۔۔۔ قبول کرنے پر اصرار کیا، ابتداً آپ نے انکار کیا اور فرمایا کہ مجھے امیر بننے کے بہ نسبت وزیر بننا زیادہ پسند ہے، لیکن حالات کا بگاڑاور امت کا اجماع دونوں آپ ہی کی شخصیت پر جمع ہوگئے، تب آپ کی ہمت عالیہ نے ۲۴؍ذی الحجہ   ۳۵ ھ؁کو امت کی باگ ڈور سنبھالی اور پیش رو خلفاء کی سنت کے عین مطابق مسلمانوں کے مجمع سے خطاب فرمایا جس میں حمد وثنا کے بعد ارشادفرمایا کہ مسلمانوں کی جان ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے اس لئے تم سب متحد ومتفق ہوکر رہو، کیونکہ حقیقی مسلمان وہی ہے جس کے زبان وہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اس کے احکامات کی خلاف ورزی سے بچو، جہاں کہیں بھلائی کی بات دیکھو اسے قبول کرواورجہاں بدی نظر آئے اس سے پر ہیز کرو۔

جن حالات میں حضرت علیؓ سر یر آرئے خلافت ہوئے وہ غیر معمولی قسم کے نہایت پر آشوب حالات تھے ، ایک طرف قصاص عثمانؓ کا سنگین مسئلہ درپیش  تھاتو دوسری طرف امیر معاویہؓ کی معزولی نے ایک نئی شورش برپا کررکھی تھی، اس کے بعد بھی یکے بعد دیگرے سخت حالات آتے رہے مگر عزم واستقامت کا یہ کو ہ ہمالیہ انتہائی جرأت وشجاعت کے ساتھ دیوانہ واران کا مقابلہ کرتا رہا بالخصوص جنگ جمل اور جنگ صفین (جو مشاجرات صحابہ ؓ کے عنوان سے معنون ہے)میں جس زبردست دور اندیشی اور حکمت ودانائی سے کام لیا وہ واقعۃً آپ ہی کا حق تھا۔

جنگ جمل :حضرت عثمانؓ کی المناک شہادت کے وقت ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ مکہ معظمہ میں تھیں جب انہوں نے یہ اندوہناک خبر سنی تو غمگین ہوئیں ،کبار صحابہ ؓ نے قاتلین عثمانؓ سے قصاص کا مطالبہ کیا ،حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ غم واندوہ کی تصویر بنے ہوئے ام المؤمنین کی خدمت میں مکہ مکرمہ پہونچے ،باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بصرہ پہنچ کر حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا جائے کیونکہ وہاں اسباب ووسائل مہیاتھے اس لئے حضرت عائشہؓ اس قافلہ کے ہمراہ تشریف لے گئیں جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ام المؤمنین کے وجودِ باجود کے بناء پر لوگ ٹکراؤ اور تضاد سے باز رہیں ،لیکن جب یہ قافلہ بصر ہ پہنچاتو وہاں عثمان بن حنیف (جو حضرت علیؓ کی جانب سے بصرے کا گورنر تھا)ایک لشکر کی قیادت کرتاہوا مقابلہ کے لئے آدھمکا لیکن شکست سے دوچار ہونا پڑا، اس کو پکڑ کر حضرت عائشہؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو لجاجت کے ساتھ معافی مانگی اور باعزت رہا کردیاگیا، ان حالات کا علم جب حضرت علیؓ کو ہوا تو آپ ایک لشکر کے ساتھ بصر ہ پہونچے اور ام المؤمنین سے بصرہ آمد کا مقصد پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں تو صرف یہ چاہتی ہو ں کہ مظلوم خلیفہ عثمانؓ بن عفان کے قتل کا بدلہ لیا جائے حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں بھی اسی حق میں ہوں کہ قاتلان ِعثمانؓ سے قصاص لیا جائے مگر ابھی حالات سازگار نہیں ہے، سب سے پہلے مملکت ِاسلامیہ میں امن وسکون کی فضاء قائم ہونے دیں اور اتفاق ِرائے کے ساتھ استحکام ِخلافت کا اہم کام نمٹ جائے

حضرت عائشہؓ نے اس بات پر اتفاق کرلیا مگر کچھ شرپسند عناصر نے مل کر رات کی تاریکی میں اہل بصرہ پر حملہ کردیا اور مشہور یہ ہوا کہ حملہ کرنے میں فریق مخالف نے پہل کی تھی دونوں فریق ایک دوسرے سے بدظن ہوگئے اور تاریخ کا وہ اندوہناک واقعہ پیش آیا جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا چنانچہ بدحواسی کے عالم میں جنگ شروع ہوئی اور طرفین سے دس ہزار افرادموت کی آغوش میں چلے گئے ،حضرت عائشہؓ جس اونٹ پر سوار تھیں اس کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں ،حضرت طلحہؓ وزبیر ؓ بھی اسی کے نتیجہ میں شہید ہوگئے ، جب جنگ ختم ہوئی توحضرت علیؓ نے ام المؤمنین کو پورے اعزاز واکرام کے ساتھ چالیس خواتین کے جلومیں مدینہ منور ہ روانہ کیا اور مال کی بہت بڑی مقدار ان کے ہمراہ کردی کہ راستہ میں تکلیف نہ ہو۔

جنگ صفین:جب حضرت علیؓ جنگ جمل سے فارغ ہوئے توحضرت امیر معاویہؓ کو اپنی بیعت پر آمادہ کرنے کے لئے پیغام بھیجا، انہوں نے بیعت کرنے سے صاف انکار کردیا ساتھ ہی انہیں شام کی گورنری سے معزول کرنے کا حکم صادرفرمایا لیکن حضرت معاویہؓ نے تسلیم نہیں کیا، حضرت علیؓ نے۸۰ہزار مجاہدین کی قیادت کرتے ہوئے شام کی طرف پیش قدمی کی ،جب حضرت معاویہؓ کو پتہ چلاتو وہ بھی ساٹھ ہزار فوج لے کر دریا ئے فرات کے کنارے مقام صفین پر خیمہ زن ہوگئے، حضرت علیؓ کی فوج بھی دریا عبور کر کے میدان میں اتر آئی ، امیر معاویہؓ کا کہنا تھا کہ حضرت علیؓ نے قاتلین ِعثمان ؓ کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے کیونکہ حضرت علیؓ کے دست ِمبارک پر بیعت کرنے میں بلوائیوں نے بھی پیش قدمی کی تھی اور حضرت علیؓ کے لئے سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ قتل ِعثمانؓ میں ملوث افراد کی شناخت کیسے کی جائے؟ان کا تعین کر کے شرعی شہادت کی بنیاد پر ان کی گرفت یا ان پر قصاص کا اجراء ایک دشوار گذارامر بن چکاتھا ،حضرت علیؓ کا کہنا تھا کہ قتل عثمانؓ میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ؛بلکہ میں نے خود متعدد بار بلوائیوں کو سمجھایا ،میرے بیٹے قصر عثمانی کا پہرہ دیتے رہے وغیرہ، تین ماہ مسلسل دونوں فوجیں آمنے سامنے رہیں ، مصالحت کے متعددبار کوششیں کی گئیں جونتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں ، 27 ہجری ماہ شعبان کے اوائل میں دونوں فوجوں کے مابین خون ریز جنگ شروع ہوئی اور کئی دن بغیر کسی غلبۂ فریق کے جاری رہی، طرفین کے ہزاروں آدمی موت کی آغوش میں پہونچادئے گئے ، بالآخر حضرت عمروبن العاصؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کو مشورہ دیا کہ جنگ روکنے کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ نیزوں پر قرآن اٹھالیا جائے اور کتاب اللہ کو فیصل وحکم بنالیا جائے۔

جب مدمقابل قرآن حکیم کو سامنے دیکھا تو خاموش ہوگئے لڑائی سے ہاتھ روک لئے اور صلح کے لئے طرفین سے ایک نمائندہ مقررکردیا گیا، حضرت امیر معاویہؓ کی جانب سے حضرت عمروبن العاصؓ اور حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت ابوموسی اشعریؓ مصالحت کے لئے آگے آئے؛مگر حضرت علی ؓ کی فوج سے 12 ہزار افراد ان الحکم الاللہ کا نعرہ لگاکر الگ ہوگئے جو خارجی کے نام سے معروف ہوئے اور یہیں سے امت میں افتراق وانتشار کا سلسلہ شروع ہوگیا،حکمین میں شامیوں (حضرت معاویہؓ)کی جانب سے مقررکردہ حکم حضرت عمروبن العاصؓ ،حضرت معاویہؓ کو معزول کرنے پر راضی نہ ہوئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں حکم اپنی اپنی رائے پرڈٹے رہے اس موقع پر پھر کچھ صحابہ ؓ درمیان میں آگئے اور طئے کیا کہ دونوں اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کریں کوئی دوسرے کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کرے۔

آپ کی سیاسی خدمات پر ایک نظر: سابقہ تفصیلات سے اتنا معلوم ہوگیا کہ حضرت علی مرتضیؓ کو اندرونی شورشوں اور خانگی جھگڑوں کو دبانے سے اتنی فرصت نہ مل سکی کہ وہ فتوحات ِاسلامیہ کے دائرہ کو وسیع کرسکیں ، تاہم آپ بیرونی امور سے کبھی غافل نہ رہے چنانچہ سیستاں اور کامل کی سمت میں بعض عرب خودمختار ہو گئے تھے ان کو قابو میں کرکے قدم آگے بڑھایا اور ۳۸؁ھ میں بعض مسلمانوں کو بحری راستہ سے ہندوستان پر حملہ کرنے کی اجازت دی ، علاوہ ازیں انتظام مملکت میں حتی الوسع حضرت فاروق اعظم ؓ کے نقش ِقدم کی پیروی کی، اعمال کے محاسبے کا فاروقی نظام بحال کیا، رات کو شہروں کی گشت کا معمول بنایا، آپ سے پہلے جنگل سے کسی قسم کا مالی فائدہ نہیں لیا جاتا تھا آپ کے عہد میں جنگلات کو بھی محاصل ملکی کے ضمن میں داخل کیا گیا علاوہ ازیں حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی اخلاقی نگرانی کا بھی نہایت سختی کے ساتھ خیال رکھا،مجرموں کو عبرت انگیز سزائیں دیں ، ایران اور آرمینیہ میں بعض نو مسلم عیسائی مرتد ہوگئے تھے حضرت علیؓ نے نہایت سختی سے ان کی سرکوبی کی پھر خارجیوں اور ان سبائیوں کی بھی خوب خوب خبر لی، جنہوں نے حضرت علیؓ کی شان میں شدتِ غلو سے کام لیا ان سب کے باوجود آپ ایک بڑے تجربہ کار جنگ آز ما تھے، جنگی امور میں آپ کو بھر پور بصیرت حاصل تھی ، اس لئے اس سلسلہ میں آپ نے بہت سی فوجی اصلاحات کیں جو آپ کی نکتہ سنجی اور دقیقہ رسی کی بین دلیل ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ:بعض وہ حضرات جو مزاج ِقدرت سے ناآشنا اور اسلام کی ہمہ گیر یت وجامعیت سے ناواقف ہیں وہ خلافت راشدہ کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں ، پہلے دور کو اسلام کی ترقی وپیش قدمی اور دوسرے دور کوزوال وتنزلی سے تعبیر کرتے ہیں ،پہلے دور کا امام؛ صدیق اکبر ؓ اور فاروق اعظم ؓ کو مانتے ہیں جب کہ دوسرے دور کی قیادت حضرت عثمان وعلیؓ کے سپرد کرتے ہیں ، مفکر اسلام علی میاں ندویؓ نے اس تقسیم کو جسارت وجرأت قراردیتے ہوئے ارقام فرمایا ’’میرے نزدیک یہ چاروں حضرات فرداً فرداً خلافت ِنبوی کا مظہر اتم اور مصداق کامل تھے ، ذاتی فضائل ومناقب اور ان کی بناء پر تفاوت ِ درجات کو الگ کرکے خلافت ِ راشدہ کا مزاج اور اس کی روح ان میں سے ہر ایک میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی، میرے نزدیک اسلام کی زندگی میں پیش آنے والے تمام ادوار ومراحل کی نمائندگی خلافت ِراشدہ کے اس مختصر سے دور میں ۔۔۔۔جو 40 سال سے متجاوز نہیں ۔۔۔۔ کردی گئی ہے اور ہر آنے والے ناگزیر دور کے لئے اس میں رہنمائی کا سامان ہے،

آغاز ِکار اور اقبال وترقی کے زمانہ میں کس استقامت اور ایمان ویقین کا مظاہرہ کرنا چاہئے اس کی رہنمائی ہم کو ابوبکرؓ کی حیات طیبہ سے حاصل ہوتی ہے، عروج وشباب اور امن ونظام کے زمانہ میں کس استقامت اور ایمان ویقین کا مظاہرہ کرنا چاہئے اس کی رہنمائی ہم کو فاروق اعظمؓ کے دور خلافت سے ملتی ہے ، مخالفتوں ، شورشوں ،فتنوں ،بے نظمی اور انتشار کے وقت کس ثبات واستقامت،کس پا مردی اور دلیری اورکس ایمان ویقین کی ضرورت ہے اس کا نمونہ ہم کو حضرت عثمان ؓاور حضرت علیؓ کی زندگی میں ملتا ہے‘‘۔

وفات: مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی،یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا، بعد میں اس پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔

چناں چہ سترہ رمضان المبارک 40/ہجری بروزجمعہ فجرکے وقت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی اپنے دوساتھی شبیب اوروردان کے ہمراہ جامع مسجدکوفہ پہنچا اورتینوں مسجدکے ایک کونے میں چھپ گئے ۔جس وقت آپؓ نمازفجرکے لئے تشریف آئے تھے اس وقت شبیب نے آپؓ پرپہلاوار کیااوراس کے بعدعبدالرحمٰن ابن ملجم نے دوسراوارکیا،واردن یہ دیکھ کربھاگ کھڑاہواتھاشبیب بھی وارکرنے کے بعدبھاگ نکلا؛مگرخارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی پکڑاگیا۔

حضرت علی ؓ نے اپنے بھانجے حضرت ام ہانیؓ کے بیٹے حضرت جعدہ ؓکونمازپڑھانے کاحکم دیااس دوران سورج طلوع ہوچکاتھا،لوگ آپؓ کوزخمی حالت میں گھرلے گئے اورخارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی کوآپؓ کی خدمت میں پیش کیاگیاتوآپؓ نے اس بدبخت سے پوچھاکہ تجھے کس چیزنے مجھے مارنے پرآمادہ کیا؟خارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی نے آپؓ کے سوال کونظراندازکرتے ہوئے کہاکہ میں نے اس تلوارکوچالیس روزتک تیزکیااوراﷲ تعالیٰ سے دعاکی کہ اس سے وہ شخص مارا جائے جوخلق کے لئے شرکاباعث ہوآپؓ نے فرمایامیں دیکھ رہاہوں تواس تلوارسے ماراجائے گا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وفات سے پہلے کچھ وقت مل گیا؛ جسے آپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرنے  میں صرف کیا۔ جانکنی کے اس عالم میں بھی آپ نے جوباتیں ارشاد فرمائیں ، وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں ۔

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا: "میں تم دونوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ دنیا کے پیچھے ہرگز نہ لگنا خواہ دنیا تم سے بغاوت  ہی کیوں نہ کر دے۔ جو چیز تمہیں نہ ملے، اس پر رونا نہیں ۔ ہمیشہ حق بات کہنا، یتیموں  سے شفقت کرنا، پریشان کی مدد کرنا، آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہنا اور کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرتے رہنا۔ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت گھبرانا۔

 آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی حالت میں تھے یہاں تک کہ 21/ویں رمضان المبارک کی شب کا دو تہائی گذرنے پر مزیدطبیعت خراب ہو گئی اور اسی اثناءکلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی ۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close