سیرت صحابہ

شہادت امیر المئومنین عمر فاروقؓ

عتیق الرحمن

خلیفہ عادل امیر المئومنین وہ شخصیت یہ ہے کہ وہ مجاہد و متقی اور قلب ورع و خشوع و خضوع سے لبریز تھے،امت مسلمہ کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ اول تھے،ان کا دور خلافت دین اسلام ،عقیدہ صحیحہ اور منصب ولایت کی تفویض کے بعد تاریخ کا روشن و چمکتاہوا جھومر ہے۔اسلام کے عظیم قائد اول تھے ،فقہ میں دسترس رکھتے تھے،تمام صحابہ ان کی رائے پر سر تسلیم خم کردیتے تھے،قرآن حکیم میں ان کے مئوقف کی تائید میں آیات کا حجم عظیم،بہترین منصف جج،شفیق و رحیم باپ جس کی محبت و مودت کا دائرہ ملت اسلامیہ کے چھوٹے اور بڑے کو محیط تھا،طاقتور و کمزور سبھی پر بیک وقت معاونت کرتے تھے،امیر و فقیر سبھی کی نگہداشت کرتے تھے،اللہ اور اس کے رسولؐ سچے بندے تھے،ادارتی نظم و ضبط میں یکتاماہر تھے،انہی کے زمانہ خلافت میں فارس و روم کی بڑی دونوں سلطنتیں مسلمانوں کے زیر نگیں آگئی۔وہ فتنہ و فساد اور اسلام کے خلاف ہونے والی مکروہ و منحوس سازشوں کے سامنے سد سکندری تھے کہ جس سے ان کی سازشیں ناکام و نامراد ہوگئیں۔اسلامی نظام خلافت منڈلاتے ہوئے بد شگون بادل عمر فاروق جیسے سچے و طاقتور انسان شیاطین کے سامنے مضبوط قلعہ کی طرح ثابت قدم رہے۔
دعائے فاروقی
سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں سعید ابن المسیبؓ سے مروی ہے کہ 23ہجری میں انہوں نے 10سالہ دورحکومت نبھانے کے بعد تھک ہارچکے تھے اور خود کو مزید اس ذمہ داری کے قابل ناسمجھتے ہوئے عرش بریں کی طرف رخ کرتے ہوئے دعاکی کہ ائے اللہ میری قوت و عمر آج ڈھل چکی ہے اور اب بار خلافت نہیں اٹھاسکتا،ارض خلافت وسیع ہوچکا ہے ،مجھے اپنے دربار میں طلب کرلیا جائے تاکہ منصب خلافت کے اہل و مضبوط اور طاقتور اور مضبوط شخصیت کو اس منصب پر فائز فرمائیے،اور پھرے جانب مدینۃ النبی روانہ ہوگیا۔سیدنا زید بن اسلمؓ اپنے باپ سے اور حضرت عمرسے روایت ہے کہ ’’ائے اللہ شہادت کی موت اپنی راہ میں عطافرما،مجھے موت شہادت مدینۃ النبی میں عنایت ہو،شیخ ابن مبرد یوسف بن الحسین بن عبدالہادی سیدناعمر کی دعائے شہادت پر تعلیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمنائے شہادت مستحب ہے جبکہ موت کی تقدیم درست امر نہیں ہے اور یہاں حضرت عمر ؓ نے جو شہادت اللہ کی راہ میں میسر آنے کی دعافرمائی جس کا مقصد بہتر و الہ اور اس کے نبی کے نزدیک عظیم ترو مقرب اور فضیلت والی شہادت و موت کی دعاکی اور یہ بہر صورت درست و جائز ہے۔
حضرت عمرؓ کا آخری خطبہ
عبدالرحمن بن عوفؓ فرماتے ہیں سیدنا عمرؓ نے 21ذولحجہ 23ہجری کو خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں دیتے ہوئے فرمایا کہ میں محسوس کرتاہوں اب میرا وقت آخر قریب تر ہوچکا ہے لہذا میں چاہتاہوں کہ دنیا سے پردہ فرمانے سے قبل اپنے جانشین اور منصب خلافت کے امین کا تعین کر جائوں اور اسی کا مطالبہ امت کے رہنماء بھی رکھتے ہیں جس کے نتیجہ میں میں عشرہ مبشرہ میں سے ان 6حضرات کا تعین فرماتاہوں کہ نبی آخر الزماں نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو ان سے راضی تھے۔
تاریخ شہادت
امام ذہبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا یوم شہادت کا دن بدھ 27ذولحجہ ہے جب ان کی عمر 63سال تھی،اور ان کا زمانہ خلافت 10سال کچھ ماہ و ایام پر مشتمل ہے ۔تاریخ ابن ابی زرعہ میں جریر بن عبداللہ البجلی فرماتے ہیں جب حضرت عمر شہید ہوئے تو اس کی اطلاع جناب امیر معاویہؓ کو ملی تو انہوں نے فرمایا کہ خاتم الانبیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رفیق اعلیٰ کی جانب سفر فرمایا تو ان کی عمر 63سال تھی اور اسلام کے مجاہد اول ،منکرین زکوٰۃ و مدعیان نبوت کے فاتح اور خلیفہ اول جن کی صداقت و سچے ہونے کی گواہی خود حضور اکرم ؐ کے زبان مبارک نے دی سیدناابوبکر نے جب وفات پائی تو ان کی عمر بھی 63سال کی تھی اور اب حق و باطل میں فرق ظاہر کرنے والی عظیم ہستی جس کو دیکھ کر شیاطین بھی کانپ اٹھتے تھے اور اپنے راستے تبدیل کرلیتے تھے کا یوم شہادت کے وقت کی عمر بھی 63سال ہے اور یہ عظیم و خوشخبری والا حسن اتفاق ہے۔
شان عمرؓ بزبان علیؓ
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی شہادت کے بعد ان کی میت پر مختلف صحابہ و مسلمین آکر دعاو صلات پڑھ رہے تھے ایسے میں کیا دیکھاتاہوں کہ سیدناعلی المرتضیؓ ان کی میت کے قریب آبدیدہ ہوکر آُ پر سلام پڑھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو بھی آپ کی سنت و طریقہ سے روگردانی اختیار کرنے کی توفیق نہ دے ،میری خواہش ہے کہ یوم محشر آپ کی میعت اللہ کے حضور ملے کیوں کہ میں زبان نبوی ؐ سے متعدد بار سنا کہ میں (رسول اللہ،ابوبکراور عمر گئے،میں (رسول اللہ )ابور بکر اور عمر کے ساتھ داخل ہوے،اور میں (رسول اللہ )،ابوبکر اور عمر باہر آئے َمعیت نبوی وہ شرف عظیم ہے کہ دنیا میں بھی نبی و صدیق ایک ساتھ رہے،اب روضہ انور میں بھی نبی و صدیق اور عمر ایک ساتھ ہیں اور روز محشر بھی نبی و صدیق اور عمر ایک ساتھ ہوں گے۔
شہادت عمر کے مسلمانوں پر اثرات
یہ بات ثابت و طے شدہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق ؓ کی حیات میں کوئی فتنہ و سازش اسلام اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل نہ ہوسکی جس کے سبب اسلام دشمن عناصر ششدر و حیران و پریشان تھے مگر شہادت عمر کے بعد جہاں ان کی سازشوں کو جلاملنے کی امید ہوچلی اور جس کی تاریخ شاہد و دال ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد عرب و عجم،قیصر و کسرا کے مسلمان بے سرو سامان ہوگئے کیوں کہ امت مسلمہ پر امتحان و مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جس کا ہر ایک فرد چھوٹا ہویا بڑا امیر ہو یا غریب طاقتور ہویا کمزور سبھی لوگوں پر غم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔چونکہ حضرت عمر ہی سچ اور جھوٹ کے درمیان حد فاصل تھے جو اب نہ رہی۔
سیدناعمر فاروق ؓ کی صحبت میں مجتمع امت مسلمہ ان کی شہادت سے دل برداشتہ ہوکر کھانے پینے سے مجتنب ہوئے تو حضرت ابن عباس نے مسلمانوں سے خطاب کیا کہ اس امر میں شبہ نہیں کہ سیدنا عمر کی معیت میں گذارے گئے اوقات ستاتے ہیں اور ان کی معیت میں اداکی گئیں نمازیں پر لطف تھیں جو اب نہیں مگر یہ یاد رہے کہ وجہ کائنات ،انبیا کے سردار اور دونوں جہانوں کے پیغمبر نبی اکرمؐ کے وقت ملاقات رفیق اعلیٰ پر بھی انسانوں نے فاقہ نہیں کیا اور انبیا کے بعد سب سے محترم و مکرم اور افضل صحابی رسول سیدنا ابوبکر کی وفات کے بعد بھی یہ عمل نہیں ہوا لہذا اب شہادت فاروق پر بھی یہ بھوک اختیار کرنے کا عمل درست نہیں ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جناب عمرؓ اس طرح رقیق القلب ہوکر جناب باری میں روتے تھے کہ ان کہ آ نسوں مبارک کے گر نے سے ان کے گرد موجود پتھروں کے ذرے بھی تر ہوجاتے تھے ،حضرت عمر اسلام کے ایسا مضبوط قلعہ تھے کہ جس میں دخول کے بعد نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی۔سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح فرماتے تھے کہ حضرت عمر کی وفات کے بعد اسلام و مسلمان غلامی سے دوچار ہوجائیں گے اور شرق و غرب اس بات کی گواہی دیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close