سیرت صحابہ

شہید مدینہ حضرت سیدنا عثمان غنیؓ

صحابی رسول، خلیفۂ راشد، ذوالنورین، شہید مدینہ، حضرت سیدناعثمان غنی رضی اﷲ عنہ

فضائل- سیرت- دورِخلافت-شہادت

مولانا محمد جہان یعقوب

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سرکارِدوعالم  ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی تعریف اور ان کے مقام کے حوالے سے کچھ عرض کریں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی تعریف:

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ان مقدس ہستیوں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے حالتِ ایمان میں حضور اکرم ا کی صحبت (اگرچہ ایک لمحہ کے لیے ہو) پائی اور ان کی وفات بھی حالتِ ایمان پر ہوئی ہو۔ (مقدمہ ابن الصلاح، نخبۃ الفکر، اسد الغابہ)

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا مقام:

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جس مقدس گروہ کا نام ہے وہ امت کے عام افراد کی طرح نہیں، بلکہ وہ رسول ا اور امت کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام اور عام امت سے امتیاز رکھتے ہیں۔ یہ مقام اور امتیاز ان کو قرآن و سنت کی نصوص و تصریحات کا عطا کیا ہوا ہے اور اسی لیے اس پر امت کا اجماع ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سچے، عادل اور نمونہ ہدایت ہیں۔ اس اجماعی عقیدے کو تاریخ کی راویات کے انبار میں گم نہیں کیا جاسکتا۔ محققین کا قول ہے کہ اگر کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں بھی ان کے اس مقام اور شان کے خلاف نظر آتی ہوتو اسے بھی قرآن و سنت کی نصوص واضحہ اور اجماع کے مقابلہ میں متروک تصور کیا جائے گا۔ ویسے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مقام کو تاریخ کی روشنی میں جانچنا ایسا ہے جیسے ہیرے کا وزن لکڑی کے ٹال والے سے کروایا جائے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تاریخی نہیں قرآنی شخصیات ہیں۔ اہل سنت والجماعت کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ بنی آدم میں انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد فضیلت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہی کا درجہ ہے۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اگرچہ معصوم نہیں ہیں مگر ان سے جو بھی کام ان کے اپنے شایان شان نہیں تھے اور ان سے صادر ہوگئے تھے، وہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرماکر انہیں اپنی رضا کا پروانہ عطا فرما دیا ہے۔ قرآن و سنت میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  کے فضائل کا تقاضا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ بلکہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا ذکر صرف خیرہی کے ساتھ کیا جائے۔ اس  لیے کہ ان پر تنقید نبی علیہ السلام کے تزکیۂ نفوس پر اعتراض ہے جس کا کوئی مسلمان بقائمی ہوش و حواس تصور بھی نہیں کرسکتا۔

اب آئیے! تیسرے خلیفۂ راشد شہید مدینہ جامع القرآن حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی سیرتِ طیبہ کے اوراق پلٹتے ہیں، کہ ان نفوسِ قدسیہ کا تذکرہ اہلِ ایمان کے ایمانی جذبات میں مزید تازگی پیدا کرتا ہے۔

ولادت:

 حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پیدائش عرب کے مشہور شہر مکہ معظمہ میں ہوئی۔آپ رسول ا کی ولادت (عام الفیل) کے چھہ سال بعد   76؁ء میں پیدا ہوئے۔

نام و نسب:

 عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان بن ابی العاص بن امیہّ بن عبد شمس اموی قریشی۔(ابن عساکر بحوالہ حضرت عثمان ذی النورین صفحہ ۲۵)

القاب:

(۱)آپ کا ایک لقب ذی النور ین ہے۔ ذی النور ین کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں نبی علیہ السلام کی یکے بعد دیگرے دو شہزادیاں آئیں۔ پہلے آپ کے نکاح میں  حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں جب ان کا انتقال ہوگیا تو آپ ا نے حضرت ام کلثومرضی اللہ عنہ کا نکاح آپ کے ساتھ کردیا۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی چھ سال بعد وفات پاگئیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری چالیس (اور ایک روایت کے مطابق سو) بیٹیاں بھی ہوتیں اور وہ یکے بعد دیگرے انتقال کرتی رہتیں تو بھی میں اپنی بیٹیوں کو یکے بعد دیگر عثمان کے نکاح میں دیتا رہتا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس شرف کی وجہ سے ذی النورین کہلاتے ہیں۔

 آپ رضی اللہ عنہ کی شادی رسول ا کی دو بیٹیوں سے یکے بعد دیگرے ہوئی اور اولاد آدم میں کسی شخص کو بھی یہ اعزاز میسر نہیں کہ دوبیٹیاں کسی نبی کی اس کے عقد میں آئی ہوں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملائے اعلیٰ (یعنی فرشتوں کے مجمع) میں ذوالنورین کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

 اس کی ایک وجہ یہ بھی کہی جاتی ہے کہ آپ نے دو دفعہ ہجرت کی ایک حبشہ کی طرف دوسری مدینہ کی طرف اس لیے آپ ذی النورین کہلائے۔

(۲)  ایک لقب آپ کا غنی بھی ہے وجہ یہ ہے کہ حضرت عثمان غنیرضی اللہ عنہ عرب میں سب سے زیادہ دولت مند تھے اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فیاض طبع بھی بنایا تھا چنانچہ آپ نے اپنی فیاضی اور اپنے مال و دولت سے اس وقت اسلام کو فائدہ پہنچایا جب اس امت میں کوئی دوسرا ان کا ہمسر موجود نہ تھا۔(حضرت عثمان ذی النورین)

حلیہ مبارک:

            آپ کا قد درمیانہ تھا۔ چہرے پر چیچک کے ہلکے داغ تھے۔ رنگ گندمی ہونے کے باوجود آپ  رضی اللہ عنہ حسن و جمال کا پیکر تھے۔ داڑھی گھنی اور لمبی تھی۔ اس کو زرد خضاب سے رنگین رکھتے تھے، جوڑ بڑے بڑے اور مضبوط تھے، ہڈی چوڑی تھی۔ سر پر بال گھنے اور گھونگر یالے تھے۔ دونوں شانوں میں زیادہ فاصلہ تھا۔ جلد مبارک نرم تھی، دانت بہت خوبصورت تھے۔ (ابن عساکر)

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ کے فضائل:

(۱)  اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے۔

لَقَدْ رَضِی اَللّٰہُ عن المُؤ مِنین اِذْیُباَ یِعُونکَ تَحْتَ الثَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَافِیْ قُلُوْ بِہُم فَاَنْزَل السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاثَا بَہُمْ فَتْحاً قَریباً(سورۃ فتح آیت ۱۸)

ترجمہ:  ’’بالحقیق اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہوا جبکہ وہ آپ ا سے درخت کے نیچے (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے تک جہاد کرنے کی) بیعت کررہے تھے سو اُن کے دلوں میں جو کچھ تھا اللہ کو معلوم تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اطمینان نازل فرمادیا اور ان کو لگے ہاتھ ایک فتح دے دی‘‘۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی۔ جب یہ افواہ اڑی کہ قاصد رسول ا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کفار مکہ نے شہید کردیا ہے۔ اس پر حضور ا نے 1400 صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بیعت لی۔ کہ جب تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ نہیں لیں گے واپس نہیں جائیں گے اور آپ ا نے اپنے ایک ہاتھ کو عثمان کا ہاتھ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیعت پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو رضا کا پروانہ عطا فرمایا۔

اس کے علاوہ خلفائے راشدین، سابقون الاوّلون، کاتبین وحی، مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، مجاہدین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، اہل بدر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے حوالے سے جتنی آیات ہیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سب کا بھی مصداق ہیں کیونکہ آپرضی اللہ عنہ  خلیفہ راشد ثالث اور سابقون الاولون صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے تھے۔ دوبار دین کی خاطر ہجرت فرمائی اور ہر جہاد میں بھی پیش پیش رہے۔

(۲)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عثمان( رضی اللہ عنہ) میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار اور سخی ہے‘‘۔(ابو نعیم)

 اس کے علاوہ بھی متعدد احادیث میں حضور اکرم ا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیا اور سخاوت کی تعریف فرمائی ہے۔

(۳)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان بن عفان دنیا و آخرت میں میرے دوست ہیں۔(ابویعلیٰ)

(۴)  ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے آپ نے فرمایا کہ ہر شخص اپنے برابر اور دوست و ساتھی کی طرف اٹھ کر چلے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف تشریف لے گئے، ان سے بغل گیر ہوئے اور فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو۔  (ابن ماجہ)

(۵)  حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور میرا رفیق جنت میں عثمان( رضی اللہ عنہ) ہے۔(ترمذی شریف)

(۶)  حضرت ابو سعیدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اول شب سے طلوع فجر تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے  لیے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرتے رہے اور فرماتے تھے:

اے اللہ! میں عثمان( رضی اللہ عنہ )سے راضی ہوں تو بھی عثمان( رضی اللہ عنہ) سے راضی رہ۔(البدیہ والنہایہ جلد7 صفحہ 212)

اس کے علاوہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں احادیث وارد ہوئی ہیں۔

(۷)  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: امت میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔

(۸)  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس امت میں ابو بکررضی اللہ عنہ کے بعد عمر فارو ق رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، پھر عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ  پھر میں۔

(۹)حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہم سب سے افضل تھے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت: 

            اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خوب مال عطا فرمایا تھا اور وہ اس مال میں سے بہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس  لیے اللہ کے رسول ا نے آپ کو غنی کا لقب عطا فرمایا۔ انکی سخاوت کے بے شمار واقعات ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

(۱)  جب مسلمان ہجرت کرکے مدینہ آئے تو وہاں کا پانی انھیں موافق نہیں آیا اور لوگوں کو پیٹ کی تکلیف رہنے لگی۔ شہر کے باہر میٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا جس کو ’’بئر رومہ‘‘ کہتے تھے اس کا مالک ایک یہودی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ کنواں خرید لیا جائے تاکہ سب مسلمان اس کا پانی استعمال کریں لیکن سوال یہ تھا اس کی قیمت کہاں سے آئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ جو شخص بیر رومہ کو خریدے گا اس کے  لیے جنت ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہمت کی اور کنواں خریدنے کے  لیے یہودی سے بات چیت کرنے گئے۔ یہودی نے کہا میں کنواں الگ نہیں کرسکتا کیوں کہ میری کھیتی باڑی اور کھانے پینے کا سب دارو مدار اس پر ہے۔ تمھاری خاطر اس کا آدھا پانی قیمت سے دے سکتا ہوں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم میں آدھا پانی خرید کر وقف عام کردیا۔ ایک دن یہودی پانی لیتا اور ایک دن مسلمان لیتے۔ مسلمانوں کی باری آتی تو وہ دو دن کا پانی نکال لے جاتے۔ اگلے روز یہودی کے پاس کوئی نہ جاتا اور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہتا اس سے یہودی مجبور ہوگیا اور ان نے آٹھ ہزار درہم مزید لیکر سارا کنواں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ فروخت کردیا۔

(۲)  مسجد نبوی کی توسیع کے  لیے نبی اکرم ا نے ایک موقع پر فرمایا: وہ کون ہے جو فلاں مویشی خانہ کو خریدلے اور ہماری مسجد کے  لیے وقف کردے تاکہ اللہ اس کو بخش دے، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیس  یا پچیس ہزار درہم میں یہ زمین کا ٹکڑا خرید کر مسجد نبوی کے  لیے وقف کردیا۔

(۳)  شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب ازالۃ الخفاء میں سالمؒ  بن عبداللہ بن عمرؓ   کی ایک روایت نقل کی ہے کہ تبوک کے سفر میں جتنی بھوک پیاس اور سواری کی تکلیف درپیش آئی اتنی کسی دوسرے غزوے میں نہیں آئی۔ دران سفر ایک مرتبہ کھانے پینے کا سامان ختم ہوگیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپرضی اللہ عنہ نے مناسب سامان اونٹوں پر حضور ا کی خدمت میں روانہ کیا۔ اونٹوں کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ انکی وجہ سے دور سے تاریکی نظر آرہی تھی، جس کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمھارے واسطے بہتری آگئی ہے، اونٹ بٹھائے گئے اور جو کچھ ان پر لدا تھا اتارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ’’میں عثمان رضی اللہ عنہ سے را ضی ہوں اے اللہ! تو بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے راضی ہوجا‘‘ یہ فقرہ حضور نے تین مرتبہ فرمایا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  رضی اللہ عنھم رضی اللہ عنہ سے کہا تم بھی عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کرو۔ (ازالۃ الخفائ)

(۴)  حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں دو بار مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مزید توسیع کی، اپنی خلافت کے دوسرے سال 26ھ میں اور پھر 29ھ میں دوسری مرتبہ تراشیدہ پتھروں سے اس کی تعمیر کی، ستون پتھر کے بنوا لیے اور چھت میں ساگوان لگوایا۔ اسی طرح آپرضی اللہ عنہ نے مسجد الحرام کی بھی توسیع و مرمت کروائی۔

(۵)  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کو ایک اونٹ ذبح کرا کر اس کا گوشت راہ خدا میں غربا کو تقسیم کرتے تھے۔

(۶)  آپ حج کے موقع پر ۸ ذیقعد کو منیٰ میں اپنی طرف سے تمام حجاج کے کھانے کی دعوت فرماتے تھے۔

(۷)  آپ رمضان شریف میں اپنی طرف سے متعدد مقامات مثلاً حرم کعبہ، مدینہ منورہ، کوفہ، بغداد وغیرہ میں کھانے کا انتظام فرماتے تھے۔

یہ تو چند ایک واقعات تھے۔ تفصیلات کے  لیے بڑی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔

خلافت:

جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنھم حملے میں شدیدزخمی ہوگئے اوران کے انتقال کاوقت قریب آنے لگاتولوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے آپ سے درخواست کی کہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کردیں۔ پہلے تو آپ تیار نہ ہوئے مگر لوگوں کے زور دینے پر آپ نے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی،جس کے ارکان میںحضرت عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر  رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ (حضرت نبی ا نے ان تمام حضرات  کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے)شام تھے اور فرمایا کہ ان میں کسی ایک شخص کو منتخب کرکے امیر بنالو۔اس کے بعدحضرت مقدادرضی اللہ عنہ بن اسود کو حکم دیا کہ جب مجھے دفن کرکے فارغ ہوجائیں تو ان چھ آدمیوں کو ایک مکان میں جمع کرنا تاکہ یہ اپنے آپ میں سے کسی کو امیر منتخب کرلیں۔اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہما )کے بارے میں بطورخاص وصیت فرمائی کہ دوسروں کی طرح انھیں بھی رائے دینے کے لیے بلا لینا لیکن امارت سے ان کو کوئی سرو کارنہ ہوگا، فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔ چنانچہ ان حضرات نے حضرت عبدالرحمن بن عوف  رضی اللہ عنہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ جسے چاہیں خلیفہ مقرر کردیں، انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتدا یکم محرم 24ھ مطابق 7 نومبر 644ء سے ہوئی۔جس آزادنہ طریقہ سے بلا جبر و اکراہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب خلافت ہوا اس کی مثال دنیائے اسلام میں نہ اس سے قبل اور نہ بعد میں ملتی ہے۔ آپ کو عوام نے کھلے طور پر بھی منتخب کیا۔ اور نامزد کمیٹی کے فیصلہ کی تائید کی۔ بیعت خلافت سے کسی شخص نے بھی ان کار نہیں کیا بلکہ بیعت کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا:  ’’ہم نے اپنے میں سے افضل ترین شخص کی بیعت کی اور ہم نے (افضل کے انتخاب میں) کوتاہی نہیں کی‘‘۔

دور عثمانی ؓ کے نمایاں کارنامے

(۱)  اسلام میں اول وقف عام مسلمانوں کے  لیے بیر رومہ خرید کرکیا۔

(۲)  بیت المال سے مؤذنین کے  لیے وظائف کا تقرر فرمایا۔

(۳)  پولیس کا محکمہ قائم فرمایا۔

(۴)  تمام مسلمانوں کو ایک قرأت پر متفق کیا، اسی وجہ سے آپرضی اللہ عنہ  ’’جامع القران‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔

(۵)  جگہ جگہ ضرورت کے تحت سڑکیں اور پل تعمیر کرائے۔

(۶)  مفتوحہ علاقوں اور ملکوں میں مساجد اور دینی مدارس قائم کیے۔

(۷)  ملک شام میں سمندری جہازوں کے بنانے کا کارخانہ قائم کیا۔ جہاں لبنان کے جنگلات سے لکڑی لائی جاتی تھی۔

(۸)  مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند تعمیر کرایا۔

(۹)  جگہ جگہ پانی کی نہریں نکلوائیں۔ مدینہ اور دوسرے شہروں میں نئے کنویں کھدوائے۔ غرض تعمیرات عامہ کے پیش نظر دوسرے شہروں میں بھی سرکاری عمارتیں، سڑکیں وغیرہ تعمیر کرائیں۔ آپرضی اللہ عنہ نے رفاہ عامہ کے بہت کام کرائے۔

(۱۰)  عرب میں اسلام سے پہلے سونے اور چاندی کے ایرانی اور رومی سکے رائج تھے۔ آنحضرت ا اور خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے وقت میں یہی سکے چلتے تھے۔ جب ایران فتح ہوگیا تو 18؁ھ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے حکم سے ایرانی سکوں کے نمونوں پر مختلف وزن کے درہم ڈھالے گئے اور نقش میں تبدیلی کردی گئی کسی پر لاالہ الا اللّٰہ اور کسی پر محمدرسول اللّٰہ اور کسی پر صرف عمرؓ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں جو درہم و دینار ڈھالے گئے ان کا نقش ’’اللّٰہ اکبر‘‘ تھا۔

خلیفۂ راشد کے خلاف زیرزمین سازش

            کوفہ کی ایک جماعت جس میں اشتر نخعی، ابن ذی الحبکہ، جندب، صعصعہ بن الکوار، کمیل اور عمیر بن ضابی وغیرہ خاص طور پر شامل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ملک کی امارت اور سیاست پر صرف قریش کا حق نہیں۔ دوسرے مسلمانوں نے بھی ملک فتح کیے ہیں۔ اس  لیے وہ بھی اس کے مستحق ہیں۔ اسی طرح بصرہ میں بھی ایک سازشی جماعت تھی۔ مفسدین کا سب سے بڑا مرکز مصر تھا جہاں ایک یہودی النسل عبد اللہ بن سبا نے الگ فرقہ بنایا ہوا تھا۔ یہ سب گروہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے اور بنوامیہّ کے خاتمے پر متفق تھے۔ عبداللہ بن سبانے ان سب جماعتوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت پر متحد کردیا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ اقدام کیا کہ انھوں نے تمام گورنروں کو مدینہ منورہ میں طلب کیا اور مجلس شوریٰ بلائی گئی جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مختصر تقریر کے بعد سب کی رائے طلب کی۔ ملک کے مختلف حصوں میں حالات کی تحقیق کے  لیے وفود روانہ کیے۔ تمام ملک میں ہں گامی اعلان جاری کیا کہ جس کسی کو گورنر سے شکایت ہو وہ حج کے موقع پر خلیفہ سے بیان کرے۔ حج سے چند دن پہلے بصرہ، کوفہ اور مصر کے فتنہ پر دازوں نے آپس میں طے کرکے اپنے اپنے شہر سے حاجیوں کے روپ میں مدینہ منورہ کا رخ کیا۔ شہر سے باہر قیام کرکے اپنے چند سرکردہ افراد کو باری باری حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زیبررضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ (تاریخ طبری۔ البدایہ والنہایہ)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مفسدین کے اجتماع کی خبر سنی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو راضی کرکے واپس بھیج دیں۔ میں ان کے جائز مطالبات تسلیم کرلوں گا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سمجھانے پر وہ واپس چلے گئے، لیکن پھر بعد میں مسلّح ہوکر مدینہ میں داخل ہوگئے ان کی تعداد 500 کے قریب تھی۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ازواج مطہراترضی اللہ عنہ حج پر گئے ہوئے تھے۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم موجود تھے انہیں بھی خلیفۂ وقت کی طرف سے مقابلے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ سخت ممانعت تھی ۔باغی انتقام انتقام کے نعرے لگارہے تھے۔ انھوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے خلافت سے دست برداری کا بھی مطالبہ کردیا۔آپرضی اللہ عنہ نے مفسدین سے فرمایا :

’’جب تک مجھ میں جان باقی ہے میں اس خلعت (خلافت) کو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے خود اپنے ہاتھوں سے نہیں اتاروں گا اور حضور ا کی وصیت کے مطابق میں اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک صبر کروں گا‘‘۔

 حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت سے کنارہ کشی کا مطالبہ مسترد کردیا تاکہ دستور اسلامی کی حفاظت ہوسکے، تو مفسدین نے ان کے گھر کا محاصرہ کرلیا جو چالیس روز سے زائد تک جاری رہا، اس عرصہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کا کھانا پینا بند کردیا اور ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا  ، حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کو بھی یہ چیزیں نہ لے جانے دیں۔ باغیوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیررضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بھی ایک نہ سنی اورجب خلیفہ راشدکے ان ساتھیوں نے جو اس وقت قصر خلافت میں ایک بڑی تعداد میں موجود تھے، مفسدین سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا:

 ’’میں باہر نکل کر ان سے جنگ کروں تو میں وہ پہلا خلیفہ نہیں بننا چاہتا جو امت محمدی کی خونریزی کرے‘‘۔

 پھر فرمایا ’’اگر ایک شخص کا بھی ارادہ ہو تو میں اس کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ وہ میرے  لیے اپنا خون نہ بہائے‘‘۔

 گورنر شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام چلے آنے کی درخواست بھی مسترد کردی کہ میں دیارِ رسول کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔

جمعرات کو آپ رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت ا اور حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ و حضرت عمررضی اللہ عنہ تشریف فرما ہیں اور ان سے فرمارہے ہیں: عثمان! جلدی کرو ہم تمھارے منتظر ہیں۔ (البدایہ والنہایہ)

خلیفۂ راشد کی شہادت کا جاں سوزواقعہ:

            باغیوں کو خطرہ تھا کہ حج کے ایام ختم ہونے والے ہیں، حجاج کی واپسی کے بعد ان کے لیے اپنے مقصد کی تکمیل ممکن نہ رہے گی، چنانچہ بالآخر انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھر پر حملہ کردیا۔ حضرت زیاد، حضرت مغیرہ اور حضرت نیار اسلمی رضی اللہ عنھم شہید ہوگئے، حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ، محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ مروان اور حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جو دروازے پر متعین تھے، مدافعت میں شدید زخمی ہوئے۔ چار باغی دیوار سے اندر کود گئے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ پر پے درپے وار شروع کردیے۔ آپ کی بیوی نائلہؒ نے آگے ہاتھ کیا جس سے ان کی بھی تین انگلیاں کٹ گئیں، بالآخر بروز جمعہ بوقتِ عصر روزے کی حالت میں تلاوت قرآن کے دوران ۱۸ ذی الحجہ  ۳۵؁ھ کو انتہائی مظلومانہ طریقے سے خلیفہ ثالث جامع القرآن کامل الحیاء والعرفان حضرت سیدناعثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریباً 84 سال کی عمر میںشہادت ہوگئی۔شہادت کے وقت قرآن مجید کھلا ہوا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ سورۃ بقرہ کی تلاوت فرمارہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ کے جسم اطہر سے فواروں کی طرح نکلنے والے خون کے پہلے قطرے کو قرآن مجید نے اپنے اندر جذب کیا اور اس آیت پر آپ کا لہو مبارک گرا: ’’فسیکفیکہم اللہ‘‘ (اور اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے کافی ہوجائے گا) شہادت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ آخری کلمہ نکلا:’’بسم اللّٰہ توکلت علی اللّٰہ‘‘(اللہ کے نام کی برکت سے،میں نے اللہ تعالیٰ پربھروساکیا)۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سن کر بڑے افسوس سے فرمایا:’’ اے لوگو! اب تم پر ہمیشہ تباہی رہے گی‘‘۔

ان کی یہ بات محض ان کے ظن وتخمین کی پیداوارنہ تھی بل کہ مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے خودبھی اس بات کی نشان دہی فرمائی تھی کہ    ۳۵؁ھ میں اسلام کی چکی گھومے گی اوریہ بھی فرمایاتھاکہ جب ایک بارمسلمانوں کے درمیان تلوارچل پڑے گی تووہ پھرکبھی نیام میں نہ جاسکے گی۔

حضرت زبیررضی اللہ عنہ یا حضرت جبیررضی اللہ عنہ بن مطعم نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے باغ میں دفن کردیے گئے۔(رضی اللّٰہ عنہ وارضاہ)

مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close