سیرت صحابہ

حضرت ابی بن کعبؓ

حضرت ابی بن کعبؓ بڑے جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں۔ ان کا شمار ان فقہائے صحابہ میں ہوتا ہے جو زمانۂ نبوی میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔1؂ ان کے متعلق خود حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایاہے:
’’ابی سے بڑھ کر کوئی قاری نہیں یکھا‘‘2؂

نام و نسب:
نام ابی، والد کا نام کعب اور کنیت ابو المنذر وابو الطفیل ہے۔ سید القراء، سید الانصار اورسید المسلمین القاب ہیں۔ آپ مدینہ کے قبیلہ نجار (خزرج ) کے خاندان ماریہ سے ہیں جو بنی خویلد کے نام سے مشہور تھا۔ خویلد ماریہ کی والدہ کا نام تھا جو جشم بن خزرج کی اولاد میں تھیں۔3؂
امام احمد بن حنبلؒ اور امام ابن اثیر جزریؒ (م630ھ)نے آپ کا نام و نسب یوں بیان کیا ہے:
’’ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار‘‘4؂
ذہبیؒ (م748ھ) نے بیان کیا ہے کہ آپ انصار کے مشہور قبیلہ بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے۔5؂
یہ وہ مقدس گھرانا تھا جس کی شان خود آں حضرت ﷺ نے یوں بیان فرمائی:
’’انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار ہیں‘‘6؂
حضرت ابیؓ کی والدہ کانام صہیلہ تھا جو حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کی حقیقی پھوپھی تھیں۔ اس بناپر حضرت ابو طلحہؓ اور حضرت ابی بن کعبؓ پھوپھی زاد بھائی تھے۔7؂
کنیت والقاب:
ذہبیؒ فرماتے ہیں:
’’آپ کانام ابی بن کعب، کنیت ابو المنذر اور لقب سیدا لقراء ہے‘‘ 8؂
علامہ ولی الدین تبریزیؒ (م742ھ) صاحب مشکوٰۃ المصابیح فرماتے ہیں:
’’حضور انور ﷺ نے آپ کی کنیت ابو المنذر اور حضرت عمر فاروقؓ نے ابوالطفیل رکھی تھی۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ’سید الانصار‘ کا لقب دیاتھا اور سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے’سید المسلمین‘ کے خطاب سے نوازاتھا‘‘۔9؂

حلیہ:
حافظ ابن کثیرؒ (م774ھ) نقل فرماتے ہیں:
’’آپ میانہ قدسفید ریش اور سفید سر تھے۔ اور سفیدی کو تبدیل نہیں کرتے تھے‘‘۔10؂
ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’آپ کا قد درمیانہ، رنگ گندمی اور ڈاڑھی وسر کے بال سفید تھے‘‘ 11؂

علم وفضل:
حضرت ابی بن کعبؓ کی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ علم کے لیے وقف تھا۔ جس وقت مہاجرین وانصار تجارت وزراعت میں لگے ہوئے تھے اس وقت حضرت ابی مسجد نبوی میں نور نبوت کے علمی جواہرات سے اپنے علوم فنون کی دوکان سجارہے تھے۔ انصار میں ان سے بڑا کوئی عالم نہ تھا۔ قرآن کے فہم اور حفظ وقرأت میں مہاجرین و انصار دونوں میں ان کی برتری مسلم تھی۔ یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ ان سے قرآن مجید پڑھواکر سنتے تھے۔
کتب قدیمہ سے بھی انھیں خاطر خواہ واقفیت تھی۔ تورات وانجیل کے عالم تھے۔ نیز نبی کریم ﷺ کے متعلق ان کتابوں میں جو بشارتیں مذکور ہیں، وہ انھیں خاص طور سے معلوم تھیں۔ اسی علمی جلالتِ شان کی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ ان کی عزت وتعظیم فرمایا کرتے اور خود ان کے گھر پر جاکر مسائل دریافت کیاکرتے تھے۔12؂
ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’امیرا لمومنین حضرت عمر فاروقؓ ان کابے حد احترام کرتے تھے، ان سے فتویٰ پوچھتے تھے‘‘۔13؂
حضرت ابی بن کعبؓ اگر چہ مختلف علوم وفنون کے جامع تھے، لیکن وہ مخصوص فن جن میں ان کو امامت واجتہاد کا منصب حاصل تھا وہ قرآن، تفسیر، شانِ نزول، ناسخ منسوخ اور حدیث وفقہ تھے۔14؂

حفظ قرآن مجید:
قرآن کریم حفظ کرنے کا خیال انھیں شروع ہی سے رہا۔ جس قدر آیتیں نازل ہوتیں، وہ حفظ کرلیتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے آپ ﷺ کی زندگی میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیاتھا۔
علامہ تبریزیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابیؓ ان چھ صحابہ کرام میں سے ہیں جنھوں نے زمانۂ نبوی میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا‘‘ 15؂
علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابی بن کعبؓ نے نبی کریم ﷺ سے قرآن حکیم حفظ کیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سا علم حاصل کرکے جامع بین العلم والعمل کہلائے۔ قدرت نے آپ کی شخصیت میں بہت سے خوبیاں ودیعت کی تھیں‘‘16؂
حضرت ابیؓ نے قرآن کریم کا ایک ایک حرف رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کیا تھا اور آپ ﷺ بھی ان کے ذوق وشوق کی وجہ سے ان کی تعلیم کی طرف خاص توجہ مبذول فرماتے تھے۔ نبوت کا رعب جلیل القدر صحابہ کو سوال کر نے میں مانع ہوتا تھا، لیکن حضرت ابی بن کعبؓ بے جھجک جو سوال چاہتے کیا کرتے تھے۔ انکے اس شوق کی بناپر بعض اوقات حضور اقدس ﷺ خود ابتداء فرماتے اور انھیں بغیر پوچھے بتاتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابیؓ سے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی سورہ بتاتاہوں جس کی نظیر تورات وانجیل میں ہے نہ قرآن میں۔ پھر آپ ﷺ باتوں میں مصروف ہوگئے۔ حضرت ابی کہتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ آپ ﷺ بیان فرمائیں گے، اس لیے جب آپ گھر جانے کے لیے اٹھے تو میں بھی ساتھ ہولیا۔آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر گفتگو شروع کر دی اور یوں ہی گھر کے دروازہ تک چلے آئے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ سورہ بتادیجیے۔ تب آپ نے وہ سورت بتائی‘‘ 17؂
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے نماز فجر پڑھائی ۔ اس میں ایک آیت تلاوت سے رہ گئی۔ حضرت ابی اس نماز میں شروع سے شریک نہ تھے، بیچ میں شریک ہوئے تھے۔ نماز ختم کرکے حضور پرنور ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا کسی نے میری قرأت پر خیال کیاتھا؟ تمام لوگ خاموش رہے۔ پھر پوچھا: کیا ابی بن کعب ہیں؟ حضرت ابی نماز ختم کرچکے تھے، بولے کہ آپ نے فلاں آیت نہیں پڑھی۔ کیا وہ منسوخ ہوگئی یا آپ پڑھنا بھول گئے؟ حضور اکرم ﷺنے فرمایا:’’ نہیں میں پڑھنا بھول گیا‘‘۔اس کے بعد فرمایا:’’ میں جانتا تھا کہ تمہارے سوا اور کسی کی توجہ ادھر نہیں گئی ہوگی ۔18؂
حضرت عبد الرحمن بن ابی ابزی جو حضرت ابی بن کعبؓ کے شاگرد تھے، انھوں نے استاد کا یہ واقعہ سنا تو پوچھا: اے ابو المنذر! اس وقت آپ کوخاص مسرت ہوئی ہوگی فرمایا:کیوں نہیں؟خدا وند قدوس خود فرماتا ہے:قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْےَفْرَحُوْا ہُوَخَےْرٌ مِمَّا ےَجْمَعُوْنَ ۔یونس:58( کہو یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے۔ یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جنھیں لوگ سمیٹ رہے ہیں)

فن قراء ت:
حضرت ابیؓ کا خاص فن ’قرأت‘ تھا۔ اس فن میں انھیں کمال حاصل تھا۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں بعض بزرگ صحابہ کے کمالات کی خود حاملِ وحی ﷺ نے تصریح کر دی تھی۔حضرت ابی بن کعبؓ کی نسبت ارشاد فرمایا: واقرأ ہم ابی بن کعب‘‘19؂ (میرے اصحاب میں قرأت قرآن میں سب سے بڑھ کر ابی بن کعب ہیں)
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میری امت میں، میری امت پر سب سے زیادہ رحیم و کریم ابو بکرؓ ہیں اور اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ سخت عمرؓ ہیں اور ان سب میں سچے حیا والے عثمانؓ ہیں اور سب سے زیادہ فرائض (یعنی حلال و حرام کا) علم رکھنے والا زید بن ثابتؓ ہیں اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعبؓ ہیں۔‘‘20؂
ملا علی قاریؒ (1014ھ) اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’حضرت ابی بن کعبؓ ، علم تجوید (قرأت ) کے امام ہیں۔21؂
علامہ تبریزیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابیؓ صحابہ میں بڑے قاری تھے‘‘۔22؂
ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’حضرت ابی بن کعبؓ اقرأ الصحابہ اور سید القراء جیسی ممتاز صفات سے متصف تھے۔ انھوں نے خود نبی کریم ﷺ سے قرآن پڑھاتھا‘‘۔23؂
حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اس جملہ ’’واقرأہم ابی بن کعب‘‘ کی یاد کئی مواقع پر تازہ کی۔ ایک مرتبہ مسجد نبوی کے منبر پرکہا کہ’’ سب سے بڑے قاری ابی ہیں‘‘۔ شام کے مشہورسفر میں مقام جابیہ کے خطبہ میں فرمایا’’من اراد القرآن فلےأت ابیا۔24؂ (یعنی جس کوقرآن کا ذوق ہو وہ ابی کے پاس آئے)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سناہے کہ چار آدمیوں سے قرآن کریم سیکھو: عبد اللہ بن مسعودؓ، سالم مولیٰ ابوحذیفہؓ، ابی بن کعبؓ، اور معاذ بن جبلؓ ۔25؂
اس فن میں حضرت ابیؓ کی جلالت شان کا انداز اس بات سے بھی بخوبی ہوتاہے کہ خود رب کائنات جلّ وعلا نے اپنے مقدس رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ ﷺ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کریں۔حضرت انس بن مالکؓ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعبؓ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن مجید پڑھوں۔ انھوں عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے میر انام لیا تھا؟آپ نے فرمایا:ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے تمہار ا نام لیا ہے۔ راوی کہتے ہیں (یہ سن کر ) حضرت ابی بن کعبؓ رونے لگے۔26؂
اس طرح ایک اور حدیث میں ہے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعبؓ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورہ ’’لَمْ ےَکُنِ الَّذِےْنَ کَفَرُوْا‘‘ پڑھوں۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ آپ نے فرمایا :ہاں!(یہ سن کر ) حضرت ابی بن کعبؓ رونے لگے ۔27؂ ایک اور سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت منقول ہے۔28؂
شارح صحیح مسلم حضرت علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:
’’ان احادیث سے حضرت ابی بن کعبؓ کی عظیم فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابیؓ کو قرآن مجید سنایا اور باقی صحابہ میں سے کوئی دوسرا آدمی حضرت ابی بن کعبؓ کا شریک نہیں ہے۔ نیز حضرت ابی بن کعبؓ کی ایک اور فضیلت یہ ہے کہ خود رب تبارک وتعالیٰ نے ان کا نام لیا ‘‘۔29؂
علامہ سعیدی آگے تحریر فرماتے ہیں:
’’یہاں حضرت ابی بن کعبؓ کو قرآن مجید سنانے کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے، تاکہ اس بات پر دلیل قائم ہو کہ قرأت اور تجوید میں حضرت ابی بن کعبؓ تمام صحابہ میں فائق تھے‘‘۔30؂

فن تفسیر:
حضرت ابیؓ مفسرین صحابہ کرام میں سے ہیں۔ ان سے اس فن کا ایک بڑا حصہ مروی ہے۔ اس کے راوی امام ابو جعفر رازی علیہ الرحمہ ہیں۔ تین واسطوں سے یہ سلسلہ ابیؓ تک پہنچتا ہے۔
فن تفسیر میں حضرت ابی کے متعدد شاگرد تھے، جن کی روایات عموماً تفسیر کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ اس کا بڑا حصہ ابو العالیہؒ کے واسطہ سے ہم تک پہنچا ہے۔ ابو العالیہؒ کے شاگرد ربیع بن انسؒ تھے جن پر امام رازیؒ کے سلسلۂ روایات کا اختتام ہوتا ہے۔
اس تفسیر کی روایتیں ابن جریرؒ اور ابن ابی حاتمؒ نے کثرت سے نقل کی ہیں۔ حاکمؒ کی مستدرک اور امام احمدؒ کی مسند میں بھی بعض روایات موجود ہیں۔ حضرت ابیؓ سے اس فن میں دوقسم کی روایتیں منقول ہیں:
پہلی قسم ان سوالات کی ہے جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیے تھے اور آپ ﷺ نے ان کے جوابات عنایت فرمائے تھے۔
دوسری قسم میں وہ تفسیریں آتی ہیں جو خود حضرت ابیؓ کی جانب منسوب ہیں۔
حضرت ابی کی تفسیر کا پہلا حصہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے کہ وہ حامل وحی ﷺ سے منقول ہے۔ آپ سے زیادہ قرآن کا مطلب کون سمجھ سکتا ہے؟ دوسرا حصہ حضرت ابیؓ کی آراء کا مجموعہ ہے۔ اس کی مختلف حیثیتیں ہیں۔ بعض آیتوں میں تفسیر القرآن بالقرآن کا اصول کار فرما نظر آتا ہے۔ بعض میں خیالات عصریہ کی جھلک ہے۔ کسی میں اسرائیلیات کا رنگ ہے اور کہیں کہیں ان سب سے الگ مجتہدانہ روش اختیار کی ہے۔ علم تفسیر میں یہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ حضرت ابیؓ سے شانِ نزول کی متعدد روایتیں ہیں جو تفسیری کتابوں میں مندرج ہیں ۔31؂

فن حدیث:
امام ذہبیؒ ’تذکرۃ الحفاظ ‘ میں لکھتے ہیں:
’’وکان أحدمن سمع الکثیر‘‘ 32؂
یعنی حضرت ابیؓ ان بزرگوں میں سے ہیں جنھوں نے حضور ہادی برحقﷺسے احادیث کا کثیر حصہ سماعت فرمایا۔ اسی وجہ سے بہت سے صحابہ جو اپنی مجالس درس میں مسند روایت پر متمکن تھے، حضرت ابی کے حلقۂ تعلیم میں استفادہ کرتے نظر آتے ہیں۔
حضرت ابی بن کعبؓ کے حلقہ میں تابعین سے زیاہ صحابہ کا مجمع ہوتا تھا جوان سے علم حدیث میں استفادہ کرتے تھے۔ جیسے حضرت عمر بن خطابؓ، حضرت ابو ایوب انصاریؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ،حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت سہل بن سعدؓ اور حضرت سلیمان بن صرورؓ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ 33؂
روایت حدیث میں حضرت ابیؓ بڑے حزم و احتیاط سے کام لیتے تھے، باوجود اس کے کہ وہ حامل نبوت ﷺ کے بڑے مقرب تھے۔ ان کی روایات کی مجموعی تعداد 164 سے متجاوز نہیں ہے۔34؂

فن فقہ واجتہاد:
صحابہ میں کئی بزرگ ایسے تھے جو اجتہاد کے منصب پر فائز تھے اور مختلف مسائل کا حل بیان کرتے تھے۔ حضرت ابی بن کعبؓ کا بھی ان میں شمار ہوتا تھا۔ حتی کہ وہ رسول پاک ﷺ کی مقدس زندگی ہی میں مسند افتاء پر جلوہ افروز ہوچکے تھے۔
علامہ تبریزیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابی ان فقہائے صحابہ میں سے ہیں جو زمانۂ نبوی میں فتویٰ دیتے تھے۔35؂
حضرت ابیؓ خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے دورِ خلافت میں بھی اہل الرائے واہلِ فقہ میں شامل رہے۔ اور لوگ ان سے استفتاء کیا کرتے تھے ۔ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطابؓ وخلیفہ سوم حضرت سیدناعثمان غنیؓ کے دور خلافت میں بھی یہ منصب عظیم ان کو حاصل رہا۔36؂
آفاقِ عالم سے استفتاء آتے تھے۔ مستفتیوں میں صحابہ کے نام بھی شامل تھے۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ بڑے پائے کے صحابی تھے۔ وہ نماز میں تکبیر کہتے اور سورہ پڑھنے کے بعد ذرا توقف کرتے تھے۔ لوگوں نے اس پر اعترض کیا۔ انھوں نے حضرت ابیؓ کے پاس استفتاء لکھ کر بھیجا کہ مجھ پر حقیقت واضح نہیں ہے، اس کے متعلق تحریر فرمائیے۔ حضرت ابیؓ نے نہایت مختصر جواب تحریر فرمایا اور لکھا کہ آپ کا طریق عمل شریعت کے مطابق ہے اور معترضین غلطی پر ہیں۔37؂
حضرت ابیؓ کا استنباطِ مسائل کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے قرآن مجید میں غور وخوض فرماتے، پھر احادیث میں ان کا حل تلاش کرتے اور جب ان دونوں میں کوئی واضح ہدایت نہ ملتی تو قیاس فرماتے تھے۔38؂
ذیل کی چند مثالوں سے ان کی فقہی ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔
امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک عورت آئی اورکہا کہ میرا شوہر مر گیا۔ اس وقت میں حاملہ تھی۔ اب وضع حمل ہوا ہے، لیکن عدت کے ایام ابھی پورے نہیں ہوئے۔ اس صورت میں(نکاح ثانی کے لیے)آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا:میعاد معین تک رکی رہو۔ وہ عورت وہاں سے حضرت ابی بن کعبؓ کے پاس آئی اور حضرت عمرؓ سے اپنا سوال اور ان کا جواب ان کے گوش گزار کیا ۔ حضرت ابی نے فرمایا: جاؤ اور عمرؓ سے کہو کہ ’’ابی کہتے ہیں کہ عورت حلال ہوگئی‘‘۔ اگر وہ مجھے پوچھیں تو یہیں بیٹھا ہوں، آکر بلالینا۔ وہ عورت حضرت عمرؓ کے پاس آگئی۔ اور حضرت ابیؓ کا فرمان ان تک پہنچادیا۔ انھوں نے کہا: بلالاؤ۔ حضرت ابی آئے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: آپ نے یہ فتویٰ کہاں سے دیا؟انھوں نے جواب دیا: قرآن سے۔ اور یہ آیت پڑھی:وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ الطلاق :4(اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے) جو حاملہ بیوہ ہوگئی ہو، وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق حدیث سنی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے اس عورت سے کہا: جو یہ کہہ رہے ہیں، اس کو سنو۔39؂
اسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ ہے۔ حضرت عباسؓ عم رسول ﷺ کا گھر مسجدنبوی کے متصل تھا۔ حضرت عمرؓ نے مسجد کو وسیع کرنا چاہا تو ان سے کہا کہ اپنا مکان فروخت کردیجیے، میں اس کو مسجد میں شامل کر وں گا۔ حضرت عباسؓ نے کہا: یہ نہیں ہوگا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:اچھا تو ہبہ کر دیجیے۔ انھوں نے اس سے بھی انکار کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تو آپ خود مسجد کی توسیع کردیں اور اپنا مکان اس میں داخل کردیں۔ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بات تو آپ کو ماننی ہوگی۔ حضرت عباسؓ نے کہا: میں ایک بات بھی نہیں مانوں گا۔ آخر دونوں صحابہ نے حضرت ابی بن کعبؓ کو حکم بنایا۔ انھوں نے حضرت عمرؓ سے کہا: بلا رضامندی آپ کو ان کی چیز لینے کا کیا حق ہے؟ حضرت عمرؓ نے پوچھا: اس کے متعلق آپ نے قرآن مجید کی روٗ سے حکم نکالا ہے یا حدیث سے ؟ حضرت ابیؓ نے کہا: حدیث سے۔ وہ یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بیت المقدس کی عمارت بنوائی تو اس کی ایک دیوار،جو کسی دوسرے کی زمین پر بنوائی تھی، گرپڑی۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ اس سے اجازت لے کر بنائیں۔ حضرت عمرؓ خاموش ہوگئے۔ لیکن حضرت عباسؓ کی غیرت اس کو کب گوارا کر سکتی تھی۔ انھوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ میں اس کو مسجد میں شامل کرتا ہوں۔40؂
ایک اور واقعہ ہے۔ حضرت سوید بن غفلہؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں سلمان بن ربیعہ اور زید بن ضوحان کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھا۔ مجھے ایک کوڑا ملا۔ کسی نے کہا کہ اسے پھینک دو۔ میں نے کہاں: نہیں، اس کا مالک مل جائے گا تواسے دے دوں گا ورنہ خود فائدہ اٹھا ؤں گا۔ جب ہم واپس لوٹے تو حج کیا، پھر مدینہ منورہ گئے۔ میں نے (اس کے متعلق) ابی بن کعبؓ سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک تھیلی پائی، جس میں سو دینار تھے۔ میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ نے فرمایا: اس کی ایک سال تک تشہیر کرو۔ چناں چہ میں نے اسے سال بھر مشتہر کیا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا تو فرمایا کہ اسے ایک سال اور مشتہر کرو۔ میں نے مشتہر کیا۔ پھر حاضرِ خدمت ہوا تو فرمایا کہ مزید ایک سال مشتہر کرو ۔ جب چوتھی بار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اس کی تعداد اور اس کا بندھن اور برتن یاد رکھو۔ اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ہے، ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔41؂
حضرت ابی بن کعبؓ قرآن مجیدپر بھی مجتہدانہ انداز سے غور کرتے تھے۔ چناں چہ اس کے متعلق خود ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟ میں نے عرض کیا: اَللّٰہُ لَااِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابومنذر!تمہیں یہ علم مبارک ہو۔42؂

درس وتدریس:
خلافت فاروقی میں حضرت ابیؓ مستقل طور پر مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ زیادہ تر درس وتدریس کا کام رہتا تھا۔ جب مجلس شوریٰ منعقد ہوتی یا کوئی اہم مسئلہ پیش آتا تو حضرت عمرؓ ان سے استصواب فرماتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے مکمل عہد خلافت میں آپ مسند افتاء پر متمکن رہے، اس کے علاوہ حکومت کا کوئی منصب انھیں نہیں دیاگیا۔ ایک مرتبہ انھوں نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ آپ نے مجھے کسی جگہ کا عامل کیوں نہیں مقرر فرمایا؟ وہ بولے کہ میں آپ کے دین کو دنیا میں ملوث نہیں دیکھنا چاہتا۔43؂
حضرت ابیؓ کا مدرسہ قراء ت اس وقت مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ عرب و عجم کے طلبہ مدینہ طیبہ کا سفر کرتے اور ان کی درس گاہ قراء ت سے فیض یاب ہوتے۔ تلامذہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔ مزاج تیز تھا، اس لیے تلامذہ کوئی سوال کرتے تو خوف رہتا تھا کہ کہیں خفا نہ ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مجلس لایعنی سوالات سے پاک ہوتی تھی۔ لیکن معقول سوالات سے خوش ہوتے تھے اور ان کا جواب مرحمت فرماتے تھے۔
آپ سے حضرت ابو ایوب انصاریؓ،حضرت ابن عباسؓ، حضرت سوید بن غفلہؓ اورحضرت ابوہریرہؓ جیسے حفاظ صحابہ رضی اللہ عنہم ودیگر مختلف طبقات نے کتاب وسنت کا علم حاصل کیا۔44؂
حضرت ابیؓ کے اوقاتِ درس اگر چہ متعین تھے ، تاہم ان کے علاوہ بھی باب فیض مسدود نہ ہوتا تھا۔ چناں چہ جب مسجد نبوی میں نماز کے لیے تشریف لاتے اور اس وقت بھی کسی کاکوئی سوال ہوتا تو اس کی تشفی فرماتے تھے۔45؂
ایک مرتبہ قیس بن عباد مدینہ طیبہ میں صحابہ کی دیدار سے مشرف ہونے کے لیے آئے تو خود ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعبؓ سے بڑھ کر کسی کو (علم کا مرجع) نہ پایا۔ نماز کا وقت تھا ، لوگ جمع تھے اور حضرت عمرؓ بھی تشریف فرما تھے۔ اس وقت کسی چیز کی تعلیم کی ضرورت تھی۔ نماز ختم ہوئی تو یہ محدث جلیل اٹھا اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارک لوگوں کو سنائی۔ ذوق وشوق کا یہ عالم تھا کہ تمام لوگ ہمہ تن گوش تھے۔ حضرت قیس پر حضرت ابیؓ کی اس شان عظمت کا بڑا اثر پڑا۔46؂

غزوات میں شرکت:
علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابیؓ بدر اور بعد کی تمام جنگوں میں شریک ہوئے‘‘47؂
امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی ’مسند‘ میں نقل فرمایا ہے:’’حضرت ابیؓ دور رسالت کے غزوات میں غزوۂ بدر سے غزوۂ طائف تک تمام معرکوں میں شریک رہے۔ غزوہ احد میں ایک تیر ہفت اندام (رگ) میں لگا تھا ۔ نبی کریم ﷺ نے ایک طبیب بھیجا، جس نے وہ رگ کاٹ دی ۔ پھر اسے آپﷺ نے اپنے دست اقدس سے داغ دیا‘‘۔48؂

کتابتِ وحی:
حضرت ابیؓ کو ابتداء ہی سے قرآن مجید سے غیر معمولی شغف تھا۔ چناں چہ جس وقت رسول اکرم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو سب سے پہلے جس نے وحی لکھنے کا شرف حاصل کیا وہ حضرت ابیؓ ہی تھے۔ علامہ واقدیؒ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے سب سے پہلے کاتب بھی حضرت ابی بن کعبؓ تھے اور سب سے آخری کاتب بھی وہی تھے۔ جب حضرت ابی بن کعبؓ موجود نہ ہوتے تو حضرت زیدبن ثابتؓ لکھتے تھے۔49؂

تدوین قرآن:
11ھ میں حضور کا وصال ہوا تو حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔ ان کے عہد میں قرآن کریم کی ترتیب و تدوین کا اہم کام شروع ہوا۔ صحابہ کرام کی جو جماعت اس خدمت پر مامور کی گئی تھی اس کے سر گروہ حضرت ابی بن کعبؓ ہی تھے۔ وہ قرآن کریم کے الفاظ بولتے تھے اور لوگ اس کو لکھتے جاتے تھے۔ یہ جماعت چوں کہ ارباب علم پر مشتمل تھی اس لیے کسی کسی آیت پر مذاکرہ ومباحثہ بھی ہوا کرتا تھا۔ چناں چہ جب سوۂ براء ۃ(توبہ) کی آیت ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّےَفْقَہُوْنَ لکھی گئی تو لوگوں نے کہا یہ آیت سب سے اخیر میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے کہا کہ نہیں،اس کے بعد دو آیتیں مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے مزید پڑھائی تھیں۔ سب سے آخری آیتلَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ہے ۔50؂
صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے مبارک زمانہ میں چار خوش نصیب حضرات نے قرآن کریم جمع کیا۔ وہ چاروں انصار میں سے تھے۔(ا) ابی بن کعبؓ (2) معاذ بن جبلؓ(3) ابوزیدؓ اور (4)زید بن ثابتؓ ۔51؂
حضرت عمربن خطابؓ کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کے دورخلافت میں قرآن مجید میں لب و لہجہ کا اختلاف عام ہوگیا تو اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے حضرت عثمانؓ نے انصارو قریش کے بارہ اشخاص کو یہ اہم کام سپرد کیا، جن کو قرآن حکیم پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اور حضرت ابی بن کعبؓ کو اس مجلس کا رئیس مقرر کیا۔ وہ قرآن پاک کے الفاظ بولتے تھے اور مزید لکھتے تھے۔ آج قرآن مقدس کے جس قدر نسخے ہیں وہ سب حضرت ابیؓ کی قراء ت کے مطابق ہیں۔52؂

امامت تراویح:
خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے دور خلافت میں نماز تراویح باجماعت کا باقاعدہ آغاز فرمایا تو حضرت ابی بن کعبؓ کو اس کی امامت کے لیے منتخب کیا۔ چناں چہ حضرت عبد الرحمن بن القاریؒ فرماتے ہیں کہ میں رمضان المبارک کی ایک شب حضرت عمرؓ کے ہمراہ مسجد میں گیا تو لوگوں کو الگ الگ نماز پڑھتے دیکھا۔ کہیں ایک شخص نماز پڑھ رہا تو کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میرے خیال میں انھیں ایک ہی قاری کی اقتداء میں جمع کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ چناں چہ ان سب کو ابی بن کعبؓ (کی اقتداء) میں جمع کردیا۔ پھر میں ان کے ساتھ دوسری شب گیا تو لوگ قاری(ابی بن کعبؓ ) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا ’’نعمۃ البدعۃ ہذہ‘‘(یہ اچھی بدعت ہے)53؂

عامل صدقات:
9ھ میں جب زکوٰۃ فرض ہوئی اور نبی کریم ﷺ نے صدقات وصول کرنے کے لیے عرب کے مختلف صوبہ جات میں عمال روانہ فرمائے تو حضرت ابی بن کعبؓ بھی خاندان بنی عذرہ اور بنی سعد میں عامل صدقہ مقرر ہوئے۔ انھوں نے نہایت دیانت داری کے ساتھ یہ خدمت انجام دی۔54؂

مجلس شوریٰ کی رکنیت:
حضرت صدیق اکبرؓ کے بعد حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے اپنے عہد خلافت میں سینکڑوں مفید باتوں کا اضافہ فرمایا جس میں ایک مجلس شوریٰ کا قیام بھی ہے۔ یہ مجلس مہاجرین و انصار کے مقتدر اصحاب پر مشتمل تھی۔ اس مجلس میں قبیلۂ بنی خزرج کی طرف سے حضرت ابی بن کعبؓ شریک تھے۔55؂

محبت رسول اللہ ﷺ:
حضرت ابیؓ کی محبتِ رسول کا یہ عالم تھا کہ اسطوانۂ حنّانہ کو اپنے گھر میں بطور تبرک رکھ لیا تھا اور جب تک دیمک نے چاٹ کر اس کو ختم نہ کردیا، اسے مکان سے علیٰحدہ نہ کیا۔56؂

خوفِ خدا:
حضرت ابی کا قلب مزکیّٰ صغائر کی خفیف سی گرد کا بھی متحمل نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ایک شخص نے سوال کیا کہ یارسول اللہ ! (ﷺ) ہم لوگ بیمار ہوتے ہیں یا اور تکلیف اٹھاتے ہیں، اس میں کچھ ثواب ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔حضرت ابیؓ موجود تھے، پوچھا: کیا چھوٹی تکلیف بھی گناہ کا کفارہ ہوجاتی ہیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ایک کانٹا تک کفارہ ہے۔حضرت ابیؓ کا جوش ایمان اب اندازہ سے باہر تھا۔ اسی بے اختیاری کے عالم میں زبان سے نکلا۔’’کاش مجھے ہمیشہ تپ چڑھی رہتی، صرف حج، عمرہ، جہاد، اور نماز باجماعت ادا کرنے کے قابل رہتا‘‘ دعاصمیمِ قلب سے نکلی تھی، حریمِ اجابت تک پہنچی۔ حرارت کی خفیف سی مقدار رگ و پے میں سرایت کر گئی۔ چناں چہ جب جسد خاکی پر ہاتھ رکھا جاتا تھا تو حرارت محسوس ہوتی تھی۔57؂

وفات:
علامہ تبریزیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابی بن کعبؓ نے مدینہ منورہ میں 19ھ میں (خلافت فارقی میں) وفات پائی۔58؂ حضرت ہیثم بن عدیؒ نے بھی یہی سنہ وفات بتایا ہے۔ علامہ واقدیؒ ، ابن نمیرؒ اور ذہلیؒ وغیرہ کے قول کے مطابق آپنے 22ھ میں وفات پائی۔ 59؂
جب آپ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا:
’’آج سید المسلمین وفات پاگئے‘‘ 60؂

حواشی و مراجع
1۔ولی الدین تبریزی، رسالہ اکمال، باب الالف،صحابہ کرام، حالاتِ ابی بن کعب۔مرقاۃ شرح مشکوٰۃ۔
2۔طبقات ابن سعد، قسم دوم ،جلد سوم، ص59۔
3۔سیر الصحابہ جلد سوم ص 138
4۔مسند احمد، جلد 5 ص 138۔ ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد اول ص49۔
5۔ذہبی، تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص 38۔
6۔صحیح بخاری، کتاب الادب، باب قول النبی ﷺ خیر دور الانصار
7۔سیر الصحابہ جلد سوم ص138۔
8۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص37۔
9۔رسالہ اکمال، باب الالف، صحابہ کرام، حالاتِ ابی بن کعب۔
10۔ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 5 باب 60 ص581
11۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص38۔
12۔سیر الصحابہ جلد سوم ص144۔
13۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص37۔
14۔سیر الصحابہ جلد سوم ص144۔
15۔ رسالہ اکمال ، باب الالف، صحابہ کرام، حالاتِ ابی بن کعب۔
16۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص 38۔
17۔مسند احمدجلد 5 ص114۔
18۔مسند احمد جلد 5ص123۔124۔
19۔طبقات قسم دوم جلد سوم ص59
20۔رواہ احمد والترمذی۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
21۔مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، باب مناقب العشرۃ رضی اللہ عنہم، الفصل الثانی۔
22۔رسالہ اکمال باب الالف صحابہ کرام، حالاتِ ابی بن کعب۔
23۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ۔
24۔مسند احمد جلد 5 ص 123۔
25۔صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔
26۔صحیح مسلم ، کتاب فضائل القرآن، باب استحباب قرأۃ القرآن علی اہل الفضل وان کان القاری
افضل من المقرو علیہ وصحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل ابی ابن کعبؓ وجماعۃ من الانصار۔
27۔صحیح بخاری، کتاب المناقب،باب مناقب ابی ابن کعبؓ ،کتاب التفسیر،باب تفسیر لم یکن
(سورہ بینہ) صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب استحباب قرآۃ القرآن علی اہل الفضل وان کان القاری افضل من المقرو علیہ
28۔صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن،باب استحباب قرآۃ القرآن علی اہل الفضل وان کان القاری
افضل من المقرو علیہ
29۔شرح صحیح مسلم، جلد ثانی ص579
30۔ایضاً ص580۔
31۔سیر الصحابہ جلد سوم ص152۔
32۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ۔
33۔سیر الصحابہ جلد سوم ص153۔
34۔مسند احمد جلد 4 ص113۔
35۔رسالہ اکمال باب الالف صحابہ کرام، حالاتِ ابی بن کعب۔
36۔سیر الصحابہ جلد سوم ص153۔154
37۔علی متقی ہندی،کنز العمال ،جلد 4 ص 251،سیر الصحابہ، جلد سوم ص154۔
38۔سیر الصحابہ جلد سوم ص154۔
39۔کنز العمال، جلد 15 ص166۔
40۔کنز العمال، جلد 4 ص260، سیر الصحابہ جلد سوم ص155۔
41۔صحیح بخاری، کتاب فی اللقطۃ، باب ہل ےأخذ اللقطۃ
42۔صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ الکہف وآےۃ الکرسی۔
43۔کنز العمال جلد 3 ص 163
44۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص38۔
45۔سیر الصحابہ جلد سوم ص153۔
46۔مسند احمد جلد 5ص140۔
47۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص38۔
48۔مسند جابر بن عبد اللہ جلد 3 ص303۔
49۔اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد اول ص49۔
50۔مسند احمد جلد 5ص134۔
51۔صحیح بخاری، کتاب المناقب،باب مناقب زید بن ثابت، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ،
باب من فضائل ابی ابن کعب وجماعۃ من الانصار
52۔کنز العمال، جلد 1ول ص282،سیر الصحابہ جلد سوم ص140۔
53۔صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان
54۔مسند احمد جلد 5ص142۔
55۔کنز العمال، جلد 3 ص 13۔
56۔سیر الصحابہ، جلد سوم ص158۔
57۔ایضاًص159۔
58۔رسالہ اکمال باب الالف صحابہ کرام، حالاتِ ابی بن کعب۔
59۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص38۔
60۔تذکرۃ الحفاظ، جلد اول طبقہ اول ص38۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close