سیرت صحابہ

امت کا رہنما طبقہ: صحابہ کرام!

اللہ جل شانہ نے صحابہ کرام کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اشاعت کے لیے منتخب کیا تھا، اس لیے ان کی فضیلت کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی جائے۔ اسلامی عقائد اور انسانی اخلاق کی اصلاح ویسے ہونی چاہیے جیسے صحابہ نے محنت کر کے ساری دنیا میں اپنے عمل سے واضح کی۔

مزید پڑھیں >>

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ۔ ایک خداترس صحابی

سعید الرحمن بن نورالعین سنابلی  یقینی طور پر انبیاء کرام اور رسل عظام کے بعد صحابہ کی مقدس جماعت کو اس دنیا کا سب سے پاک طینت اور راست باز گروہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ اس مبارک جماعت …

مزید پڑھیں >>

حضرت خدیجہؓ بنت خویلد

ترتیب: عبدالعزیز شیخ ابوالحسین احمد بن محمد بن نقور البزار نے ابو طاہر محمد بن عبدالرحمن المخلص کی وساطت سے ابوالحسین رضوان بن احمد کی روایت نقل کی۔ ابوالحسین رضوان نے کہاکہ ابو عمر احمد بن عبدالجبار عطار دی نے …

مزید پڑھیں >>

حضرت عمرؓ کی زندگی میں خواتین کا کردار (پہلی قسط)

تحریر: پروفیسر بدرالدین۔۔۔ ترتیب: عبدالعزیز علامہ اقبالؒ نے عورت کی عظمت و اہمیت اور ضرورت پر اس مصرع میں کیا بھر پور اشارہ فرمایا ع ’’وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ اس مفہوم کو تاریخی اوراق میں پھیلے …

مزید پڑھیں >>

شہید مدینہ حضرت سیدنا عثمان غنیؓ

جب مسلمان ہجرت کرکے مدینہ آئے تو وہاں کا پانی انھیں موافق نہیں آیا اور لوگوں کو پیٹ کی تکلیف رہنے لگی۔ شہر کے باہر میٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا جس کو ’’بئر رومہ‘‘ کہتے تھے اس کا مالک ایک یہودی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ کنواں خرید لیا جائے تاکہ سب مسلمان اس کا پانی استعمال کریں لیکن سوال یہ تھا اس کی قیمت کہاں سے آئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ جو شخص بیر رومہ کو خریدے گا اس کے لیے جنت ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہمت کی اور کنواں خریدنے کے لیے یہودی سے بات چیت کرنے گئے۔ یہودی نے کہا میں کنواں الگ نہیں کرسکتا کیوں کہ میری کھیتی باڑی اور کھانے پینے کا سب دارو مدار اس پر ہے۔ تمھاری خاطر اس کا آدھا پانی قیمت سے دے سکتا ہوں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم میں آدھا پانی خرید کر وقف عام کردیا۔ ایک دن یہودی پانی لیتا اور ایک دن مسلمان لیتے۔ مسلمانوں کی باری آتی تو وہ دو دن کا پانی نکال لے جاتے۔ اگلے روز یہودی کے پاس کوئی نہ جاتا اور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہتا اس سے یہودی مجبور ہوگیا اور ان نے آٹھ ہزار درہم مزید لیکر سارا کنواں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ فروخت کردیا۔

مزید پڑھیں >>