باجی راؤ اور مستانی: معاشقہ اور تاریخی حقائق !

وقاص چودھری

مراٹھوں کے اثر اور دبدبے کو بڑھانے میں پیشواؤں کی بہادری، حکمت عملی اور دانش مندی نے بڑا کام کیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دہلی کا مغل بادشاہ اور شمالی ہندوستان کے دیگر نواب اور راجے اپنی حفاظت کے لیے مراٹھوں سے امداد لینے لگے اور مراٹھا سپاہیوں نے بھی ان کی امداد کی اور ان سے بطور معاوضہ خوب دولت کمائی۔ مراٹھوں کے حوصلے اتنے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے دہلی کی سلطنت پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنا شروع کردیا تھا۔ جس پیشوا نے مراٹھوں کے اثر کو بڑھایا، اسے ایک طاقتور گروہ بنایا وہ تھا پیشوا باجی راؤ اول۔

شیواجی نے تاجپوشی کے بعد اپنے خاص منتری (وزیر) کو ’’پیشوا‘‘ کا خطاب دے رکھا تھا۔ یہ پیشوا مراٹھا راج کا سب کام سنبھالتے تھے۔ ذات کے برہمن ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے ہوتے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مراٹھا راجا برائے نام حکمراں تھا، اصل حکمرانی پیشواؤں کے ہاتھوں میں تھی۔ اور انہوں نے پونا کو اپنی راجدھانی بنا رکھا تھا۔ باجی راؤ اول صرف پیشوا ہی نہیں تھا بلکہ وہ مراٹھا افواج کا کمانڈر بھی تھا۔ وہ ایک بہادر جرنیل تھا۔ اس کی شجاعت نے کئی کارنامے انجام دیے تھے۔ اس نے اپنی شجاعت اور عقلمندی سے ہندوستان کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔

اس کے رعب اور دبدبے سے مراٹھا افواج ہی نہیں برہمن بھی کانپتے تھے۔ وہ کبھی کسی کے آگے نہیں جھکا۔ لیکن یہی اولوالعزم اور بہادر باجی راؤ ایک رقاصہ کو دل دے بیٹھا اور اس کے عشق میں ایسا مدہوش ہوا کہ اپنی زندگی تباہ کرڈالی۔ باجی راؤ کی اس محبوبہ کا نام تھا، مستانی! اٹھارویں صدی کی تاریخ کا یہ واقعہ اپنے زمانے میں بھی مقبول تھااور آج بھی یہ قصہ ریاست مہاراشٹر میں اتنا ہی مقبول و مشہور ہے۔ مراٹھی زبان میں اس رومانی قصے پر مبنی کئی افسانے، ناول اور ڈرامے لکھے جاچکے ہیں ۔ دوردرشن پر مراٹھی میں ایک سیریل بھی پیش کیا جاچکا ہے۔

باجی راؤ اور مستانی کا معاشقہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور وہ دور پیشوائی تاریخ کا ایک ہنگامہ خیز دور رہا ہے مگر یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ پیشوائی عہد کے ریکارڈز اور تاریخ کے اوراق اس واقعہ کے باب میں خاموش نظر آتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس پر تاریکی کے پردے ڈال دیے گئے یا اسے قصداً چھپانے کی کوشش کی گئی۔ واقعہ آج سے 260 سال پہلے کا ہے، زیادہ پرانا بھی نہیں۔

پیشوائی عہد کے جو سرکاری کاغذات دستیاب ہوئے ہیں ان میں پیشواؤں کی روزمرہ زندگی اور مختلف تقریبات و تہواروں کا تفصیلی ذکر تو ملتا ہے، یہاں تک کہ ان کے شکار، شادی بیاہ کی رسموں اور گھریلو تقریبات کا ذکر تو موجود ہے لیکن کاغذوں کے اس ڈھیر میں ’’مستانی‘‘ کا ذکر توکیا اس کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ ایک عرصے تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مستانی کون تھی؟ کہاں کی رہنے والی تھی؟ہندو تھی یا مسلمان؟لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا پیشوائی دور کی تواریخ، ڈائریاں ، روزنامچے اور نثر و نظم کی بیاضیں منظر عام پر آنے لگیں ۔ باجی راؤ اور مستانی کے بارے میں مختلف النوع معلومات حاصل ہوتی گئیں ۔ محققوں کی رائے ہے کہ اس معلومات کا زیادہ تر حصہ تخئیلی(Imaginary) ہے۔

مستانی کون تھی؟

مراٹھی میں لکھی ابتدائی تواریخ کو بکھر کہا جاتا ہے۔ بیشتر مورخین کی رائے میں بکھر دراصل عربی لفظ خبر کی تقلیب (Metathesis) ہے۔ مراٹھی کے مشہور محقق و مورخ راجواڑے کہتے ہیں :

مسلمانوں کے میل جول اور ان کی تاریخوں سے متاثر ہوکر مراٹھی میں بکھر نویسی کا رواج شروع ہوا۔ (1) لیکن ان بکھروں کو تاریخی سند کے طور پر دوسرے درجے کی چیز قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے بعض نے انہیں ’تاریخی داستانیں ‘ کہا۔

مستانی کا تذکرہ سب سے پہلے جس بکھر میں ملتا ہے وہ ہے’’پیشوائی کی بکھر‘‘ جسے سوہنی نامی شخص نے 1850 میں تحریر کیا تھا مگر 1879 میں اس کے شائع ہونے کی نوبت آئی۔ اس بکھر میں مستانی کے بارے میں معلومات ملتی ہے:

’’مستانی۔ مغل سردار شجاعت خاں (کتاب میں جگہ جگہ غلطی سے شجاحت خاں تحریر ہے۔ ) کی کنیز تھی۔ جب مراٹھوں پر حملہ کیا تو وہ باجی راؤ کے چھوٹے بھائی چیماجی اپاکے ہاتھ لگی تھی۔ چیماجی نے مستانی کو یقین دلایا کہ وہ فکرمند نہ ہو۔۔ ۔  اس کے بڑے بھائی باجی راؤ جو بندیل کھنڈ گئے ہوئے ہیں وہ اس کی دیکھ بھال کریں گے۔ بعد ازاں چیماجی مراٹھا افواج کے ساتھ مستانی کو لے کر ’ستارا‘ لوٹ آیا۔ یہاں باجی راؤ پیشوا سے ملاقات ہوئی۔ چیماجی نے کہا:

ایک حسین رقاصہ مستانی کو لایا ہوں اور یہ وعدہ کرکے کہ آپ اسے اپنی پناہ میں لے لیں گے۔ وہ بھی یہی چاہتی ہے۔ ‘پیشوا باجی راؤنے مستانی کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ جب مستانی لائی گئی تو باجی راؤ اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ بس اس کے ماہتاب سے چہرے کو دیکھتا رہ گیا۔ اور اسی حالت میں باجی راؤ نے کہا۔ ’اب مستانی کی دیکھ بھال میں ہی کروں گا۔ ‘مستانی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ باجی راؤ کی یہ حالت دیکھ کر مستانی نے درخواست کی کہ’اگر پیشوا سے اسے اولاد نرینہ ہوئی تو وہ بھی حکومت کا حصہ دار ہوگا۔ ‘ باجی راؤ نے مستانی کی یہ درخواست بھی قبول کرلی۔ اس کے بعد مستانی باجی راؤ کے ساتھ اسی شان و شوکت کے ساتھ رہنے لگی جیسے وہ مغل سردار شجاعت خاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ‘‘

یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ’پیشوائی کی بکھر‘باجی راؤ کے انتقال کے قریب 100 سال بعد لکھی گئی ہے۔ اس سے اس کے معتبر و غیر معتبر ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

مستانی کے بارے میں معلومات کا دوسرا ذریعہ ناگیش و نائیک باپٹ کی کتاب ’باجی راؤ چرتر‘ ہے۔ یہ کتاب انیسویں صدی کے اواخر میں تحریر کی گئی تھی۔ اس میں بیان کردہ روایت کے مطابق مستانی کا تعلق نظام حیدرآباد کے ’عشرت خانہ‘ سے تھا۔

وہاں سے وہ مردوں کا بھیس بدل کر فرار ہوئی اور سدھے پیشوا باجی راؤ کی چھاؤنی میں آکر اس سے ملاقات کی تھی۔ جب اس نے اپنا اصل روپ دکھایا تو باجی راؤ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ اس کے حسن و جمال، توبہ شکن اداؤں اور نرم و شیریں گفتگو سے ایسا متاثر ہوا کہ اسے اپنے پاس رکھ لیا اور واپس جانے نہ دیا۔

ناگیش ونائیک باپٹ نے مذکورہ واقعہ کے ضمن میں یہ من گھڑت کہانی بھی بیان کی ہے کہ ’’مستانی نظام حیدرآبادکے ایک محافظ کی لڑکی تھی۔ وہ بڑی حسین تھی۔ زنان خانے کی دوسری بیگمات اس کے آنے سے بے چین ہوگئی تھیں ۔ ایک دن خبر لگی کہ بہادر مراٹھا جرنیل باجی راؤ کی افواج حیدرآباد کے باہر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں ۔ بیگمات میں سراسیمگی پھیل گئی۔ انہوں نے نظام کو مشورہ دیا کہ وہ باجی راؤ سے صلح کی بات کرے اور اس کے لیے ’مستانی کو بطور تحفہ نذر کرے۔ یہ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ تاریخ سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ یہ ایک گپ کے سوا کچھ بھی نہیں ۔

مستانی کے بارے میں معلومات کا تیسرا مآخذ مراٹھی زبان میں لکھی ہوئی مثنوی ’بھٹ ونش‘ (1893) ہے۔ اس کے شاعر بابو صاب کروندواڈکر ہیں ۔ اس مثنوی میں مستانی کو ایک طوائف اور شجاعت خان کی داشتہ بتایا گیا ہے۔

मस्तानी नामे भुवनैक रम्या
अन्यतरी दृष्टी सही अगम्या
स्वस्त्री सही किंबहुना सुनमया
वेश्या असे साजतखान गम्या (2)

’پیشوائی کی بکھر‘ اور ’باجی راؤ چرتر‘ کی بنیاد پر اس زمانے میں ڈرامے بھی لکھے گئے اور ناول لکھنے کا بھی ڈول ڈالا گیا۔ مراٹھی کے ممتاز ادیب و مصلح ’لوک ہت وادی‘ کی اس رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو انہوں نے مستانی کے واقعہ کے بارے میں دی ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔

باجی راؤ کا مستانی سے عشق کرنا، نظام سے ملاقات اور اس زمانے کے سیاسی و سماجی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک اعلیٰ درجے کا تاریخی ناول لکھا جاسکتا ہے۔ ‘ کہتے ہیں کہ لوک ہت وادی کے پاس باجی راؤ۔ مستانی کے چند خطوط بھی تھے جن میں مستانی کی طرف سے شراب اور دیگر مشروبات کے بھیجے جانے کا ذکر تھا۔ مگر یہ خطوط بعد میں تلاش بسیار کے بعد بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔

مندرجہ بالا کہانیوں میں ایک مراٹھی مورخ نے یہ اضافہ کیا کہ ’مستانی شجاعت خاں کی کنیز تھی اور جب وہ خودکشی کرنے جارہی تھی کہ چیما جی اپا وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے اسے موت کے منہ سے بچالیا۔ پھر چیماجی نے مستانی کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ باجی راؤ کی کنیز بن جائے۔ یہ بیان بھی بعید از قیاس ہے۔

غرض کہ انیسویں صدی کے اواخر میں باجی راؤ۔ مستانی کے بارے میں مختلف ذرائع سے (جو)معلومات سامنے آتی ہے ان میں تخیل زیادہ ہے اور حقیقت کم۔ اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ مستانی ہندو تھی یا مسلمان! یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستانی کے ارد گرد ایسی دھند چھائی ہوئی ہے کہ اصل چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ایک سچائی جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ کہ ’باجی راؤ اور مستانی کا معاشقہ من گھڑت نہیں ہے۔ ‘ انیسویں صدی کے اختتام تک تو مستانی کی حقیقت معلوم نہ ہوسکی لیکن بیسویں صدی میں مورخوں اور محققوں نے کافی چھان بین کرکے حقیقت کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔ اور مستند تاریخی حوالوں کی روشنی میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔

 مستانی کی حقیقت

اب یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ گئی ہے کہ باجی راؤ۔ مستانی کا واقعہ پیشوائی تاریخ کا ایک سچا واقعہ ہے۔ باجی راؤ، مستانی کے بغیر ایک لمحہ نہیں رہتا تھا۔ مستانی، پونا میں پیشوا کے محل (شنی وار واذا)میں قریب دس سال رہی، وہیں باجی راؤ سے اسے ایک لڑکا بھی ہوا۔

نئی تحقیقات کے مطابق ’مستانی بندیل کھنڈ کے راجا چھترسال کی اولاد تھی۔ جب مغل سردار محمد خاں بنگش نے بندیل کھنڈ پر حملہ کرکے اسے قابض کیا تو راجا چھتر سال نے مصیبت کے اس موقعہ پر پیشوا باجی راؤ سے مدد چاہی۔ باجی راؤ نے بندیل کھنڈ آکر بنگش سے لڑائی کی اور اسے شکست دی۔ بنگش کو بندیل کھنڈچھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس طرح باجی راؤ کی مدد سے راجا چھتر سال کو دوبارہ اپنی گدی ملی۔ اس کے عوض راجہ چھترسال نے نہ صرف اپنی ریاست کا ایک حصہ نذر کیا بلکہ اپنی خوبصورت لڑکی مستانی بھی تحفتاً دی۔ یہ واقعہ 1730 میں وقوع پذیر ہوا۔

راجہ چھتر سال کے ایک درباری شاعر لال کوی کی ایک نظم’چھترپرکاش‘سے بھی اس واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ نظم لال کوی نے راجا کی ایما پر ہی لکھی تھی۔ اس لحاظ سے یہ ایک معتبر حوالہ ہے۔

شاعر کہتا ہے:

’جب باجی راؤ بندیل کھنڈ سے رخصت ہونے لگا تو اس کے ہمراہ مسلم دوشیزہ مستانی بھی تھی۔ ‘

اس واقعہ کے بارےمیں مزید شہادت ہمیں بندیل کھنڈ کی تاریخ سے ملتی ہے۔ ڈاکٹر بھگوان داس گپتا نے 1958میں ایک کتاب ’بندیل کھنڈ کیسری۔ مہاراجہ چھترسال بندیلہ‘کے نام سے شائع کی تھی۔ اس کتاب میں راجہ چھتر سال کے خاندان کے بارے میں مستند حوالوں کے ساتھ معلومات درج تھی۔ چنانچہ اس کتاب کو ایک معتبر تاریخ کا درجہ حاصل ہے۔

اس کتاب میں درج معلومات کے مطابق راجا چھتر سال کا خاندان کافی بڑا تھا۔ اس کی کئی رانیاں تھیں ۔ وہ لڑائیوں میں شکست کھانے والے دشمنوں کی لڑکیوں سے شادیاں کرکے ان سے دوستانہ تعلقات قائم کرتا تھا تاکہ وہ آئندہ دشمنی کے لیے سر نہ اٹھا سکیں ۔ یہ شادیاں سیاسی نوعیت کی ہوا کرتی تھیں ۔ اس کا مقصد ریاست بندیل کھنڈ کو ایک طاقتور اور خوشحال ریاست بنانا تھا۔ راجہ چھتر سال کی ریاستوں کا تعلق ہر مذہب اور ذات سے تھا۔ ان میں اعلیٰ ذات کی بھی تھیں اور پست ذاتوں کی بھی۔ ہندو بھی تھیں اور مسلمان بھی۔
مسلم رانیوں میں ایک باندہ کے مسلم نواب کی بیٹی بھی تھی۔ اس کے بطن سے مستانی پیدا ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے مستانی راجہ چھتر سال کی جائز اولاد تھی۔ لیکن بیشتر معاصر تاریخوں میں اسے ’ناجائز اولاد‘ بتایا گیا ہے۔ لیکن سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ باندہ کے مسلم نواب کی لڑکی (کی اولاد) تھی۔

1857 میں باندہ کے نواب نے جھانسی کی رانی اور پیشوا نانا صاحب کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف لڑائی کی تھی۔ انگریزوں نے انہیں شکست دی اور باندہ کی ریاست پر قبضہ کرلیا۔ نواب کو ہٹا کر اور اسے پنشن دے کر اندور بھیج دیا۔ نواب اور ن کے وارث ریاست اندور ہی میں رہنے لگے۔ ریاست ساگر کے صوبیدار کے یہاں سے باندہ کے نواب کے وارثوں کا جو شجرہ ملا ہے اس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مستانی کے آبا و اجداد باندہ کے نواب تھے اور اسے راجہ چھتر سال نے پیشوا باجی راؤ کو نذر کیا تھا۔ شجرہ کے الفاظ ملاحظہ کیجیے۔

‘पेसवा साहब की सवारी आयकर परनार्क (पन्न्रार्क) उपर लड़ाई करके बॅंग्स को भगा दिया, और राजा छत्र्साल को गाड़ी पर कायम किया, उस वक़्त टीन हिस्से राज के कर के एक हिस्सा पेसवा साहब को दिया और महाल से मस्तानी औरत काबुल सूरत थी, सो राजा ने पेसवा साहब को दी! ‘ (3)

اس کی تصدیق جنرل برگس کی تیارکردہ پتریکا سے بھی ہوتی ہے۔ پیشوائی کے خاتمہ کے بعد ستارا کے دربار میں موجود انگریز کپتان جنرل برگس نے اصل اور قدیم دستاویزات کی بنیاد پر پیشوائی دور کے سرداروں کے خاندان کا جو شجرہ ایک پتریکا کی صورت میں تیار کیا تھا اس میں باندہ کے نواب کو بھی ایک سردار بتایا گیا تھا۔ اس پتریکا میں مستانی کا بھی ذکر ملتا ہے۔

پتریکا میں لکھا ہے:

’’راجا چھتر سال نے اپنی ریاست کی سالانہ آمدنی میں سے ساڑھے تینتیس لاکھ اور بندیل کھنڈ کے ہیرے کی کان سے ہونے والی آمدنی کا تیسرا حصہ باجی راؤ کو نذر کیا تھا۔ علاوہ ازیں راجا نے اپنی مسلم رانی کے بطن سے ہوئی ناجائز اولاد مستانی بھی باجی راؤ کو نذر کردی تھی۔ (4)

مستانی راجا چھترسال کی اولاد تھی۔ اور راج گھرانے ہی میں اس کی راجا چھتر سال کے مذہبی اور سماجی عقائد کے مطابق تعلیم و تربیت ہوئی تھی۔ وہ نہ طوائف تھی نہ رقاصہ۔ وہ ایک راج کنیا تھی۔ اس نے اگرچہ ایک ہندو راجا کے یہاں جنم لیا تھا مگر اس نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں کسی کے ساتھ مذہب اور ذات کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مستانی کے دو بھائیوں کے نام شمشیر خان اور خاں جہاں تھے۔ باجی راؤ سے مستانی کو جو لڑکا ہوا اس کا نام شمشیر بہادر تھا۔ آج بھی ہمارے یہاں ایسی شادیوں کا رواج ہے کہ شوہر اپنے مذہب پر قائم رہتا ہے اور بیوی اپنے مذہب پر۔ اس قسم کی شادیاں سیکولر اور ترقی پسندوں میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ مستانی کی شخصیت اور کردار کو سمجھنے کے لیے ہمیں راجا چھترسال کے مذہبی عقائد اور سماجی تصورات کو سمجھنا ضروری ہے۔

 پرنامی پنتھ کے عقائد:

راجا چھتر سال کے یہاں جو مذہبی رواداری ملتی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ’پرنامی پنتھ‘ کا ماننے والا تھا۔ اس پنتھ کا بانی دیوچندر تھا۔ اس کے ایک مرید کا نام ’پران پنتھ‘ تھا جو راجا چھتر سال کا سیاسی و روحانی گرو تھا۔ ڈاکٹر بھگوان داس گپتا کی کتاب میں مذکور ہے کہ ایک دن راجا چھتر سال مہو کے جنگل میں شکار کے لیے گیا تھا، وہیں اس کی ملاقات پران ناتھ سے ہوئی۔ پران ناتھ نے اسے اپدیش دیا اور پرنامی پنتھ کی دکشا دی۔ پران ناتھ بندیل کھنڈ کو آزاد کرانے میں راجا کی رہنمائی کی اور اس کی تاجپوشی کی رسم بھی ادا کی۔ بندیل کھنڈ کو متحد کرنے میں مدد کی۔ راجا چھتر سال ’پرنامی پنتھ‘ کا کٹر پیرو تھا۔ اس نے اس کی تبلیغ و اشاعت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کی فوج کے بیشتر سپاہی اس پنتھ کے ماننے والے تھے۔

یہ ایک ایسا فرقہ تھا جو ذات پات کی تفریق کا قائل نہ تھا۔ اسی طرح اس میں مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ نہیں کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پنتھ کے ماننے والے ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ اس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ مساوات اور مذہبی رواداری اس فرقہ کے بنیادی اصول تھے۔ پرنامی پنتھ میں داخل ہونے کے بعد ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔ وہ اپنے مذہب کے مطابق پرستش کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اس پنتھ کے ماننے والے ’توحید‘ کے قائل تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ قرآن اور وید دونوں خدا کے ایک ہونے کی تعلیم دیتے ہیں ۔

پھر ہندو اور مسلمان میں تفرقہ کیسا؟

اس پنتھ کے ماننے والے کرشن بھگت ہوتے تھے۔ اس لیے جنم اشٹمی کا تہوار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ مندروں کی دیواریں کرشن لیلاؤں کے مناظر سے سجائی جاتی تھیں ۔ شری کرشن کے علاوہ وہ حضرت محمدﷺ کو بھی مانتے تھے۔ ان عقائد کا اثر تھا کہ راجا چھتر سال کی ہر مذہب و ذات کی بیویاں تھیں اور ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔ خود راجا نے اپنے رعایا کے ساتھ مذہب اور ذات کی بنیاد پر بھید بھاؤ نہیں کیا۔ نہ کسی پرظلم و ستم ڈھایا نہ کسی کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راجا چھتر سال ایک سیکولر، غیر متعصب اور مساوات کا علمبردار حکمراں تھا۔

اپنے حرم سرا کی ہر عورت سے ہونے والی اولاد کو راجا نے اپنی جائز اولاد سمجھا اور انہیں وہی حیثیت دی جو راج گھرانے میں دی جاتی ہے۔ ان کی بہترین انداز میں پرورش کی اور اپنے عقائد کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت کی۔ مسلم بیگم سے ہونے والی اولاد (مستانی) کانام بھی ایسا رکھا جن سے اس کی صحیح شناخت نہ ہوسکے کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان! دراصل یہ نام پرنامی پنتھ کے عقائد کے مطابق تھا۔ کہتے ہیں کہ پران ناتھ کا ایک مسلمان مرید تھا جس کا نام ’مستان ‘ تھا۔ شاید اسی کے پیش نظر راجا چھتر سال نے اپنی لڑکی کا نام مستانی رکھا ہو؟

 مستانی کی پونا آمد

ایک کہانی یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ بندیل کھنڈ ہی میں باجی راؤ مستانی کے عشق مبتلا ہوا۔ اسے مستانی کے بغیر چین نہ آتا تھا۔ خود اس نے راجا چھتر سال سے مستانی کو مانگا تھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ باجی راؤ شادی شدہ ہے اور پونا میں اس کی بیوی کاشی بائی اس کی راہ دیکھ رہی ہے۔ صرف احسان کا بدلہ چکانے اور پیشوا سے اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے خیال سے راجا چھتر سال نے اپنی بیٹی مستانی کا ہاتھ باجی راؤ کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ دونوں کی شادی بندیل کھنڈ ہی میں پرنامی پنتھ کے عقائد کے مطابق ہوگئی تھی۔ بیاہ ہونے کے بعد باجی راؤ، مستانی کو لے کر پونا آگیا۔

جب مستانی پونا آئی، اس وقت اس کی عمر سولہ سترہ سال کی تھی۔ پونا کے برہمنوں اور پیشوا باجی راؤ کے خاندان والوں نے باجی راؤ کے اس اقدام کو پسند نہیں کیا۔ مستانی کی پرزور مخالفت ہونے لگی۔ برہمنوں اور پروہتوں نے یہ بات مشہور کردی کہ مستانی ایک مسلم طوائف کے بطن سے پیدا ہوئی ناجائز اولا دہے۔ باجی راؤ نے اسے اپنا کر زبردست پاپ کیا ہے جو برہمنوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ مگر پیشوا باجی راؤ نے ان مخالفتوں کی مطلق پروا نہ کی۔ وہ مستانی کا ایسا دیوانہ تھا کہ اس نے نہ صرف اسے پونا بلایا بلکہ اسے محل میں اونچا مقام بھی دیا۔ شنی وار واڈا میں اس کی رہائش کے لیے ایک علیحدہ حویلی تعمیر کی جو آگے چل کر ’مستانی محل‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی محل میں مستانی قریب دس سال رہی۔ یہیں باجی راؤ سے اسے ایک خوبصورت لڑکا بھی ہوا جس کا نام اس نے شمشیر بہادر رکھا۔

 خاندانی سازشیں

مستانی کی سب سے زیادہ مخالفت پیشوا باجی راؤ کے خاندان نے کی۔ باجی راؤ کی ماں (رادھا بائی)برادر خورد چیماجی اپا اور کاشی بائی سے ہوا لڑکا نانا صاحب مستانی کی مخالفت اور دشمنی میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے مستانی کو باجی راؤ سے جدا کرنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کیں مگر کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ باجی راؤ کی پہلی بیوی کاشی بائی اور مستانی کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے کاشی بائی، مستانی کی پونا آمد سے مطلق ناراض نہیں تھی۔ مستانی، کاشی بائی کو ’تائی‘ کہتی تھی۔ دونوں اسی طرح رہتی تھیں جیسے دو بہنیں ہوں ۔

یہ وہ زمانہ تھا جب باجی راؤ کی بدولت مراٹھوں کو دکن اور شمالی ہندوستان میں عروج حاصل ہوگیا تھا۔ وہ جس شہر یا ریاست کو فتح کرتے وہاں سے ’چوتھ‘(آمدنی کا چوتھا حصہ)حاصل کرتے تھے۔ جہاں جاتے فتح و کامرانی ان کے قدم چومتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے کونے کونے سے دولت جمع ہو کر پونا پہنچنے لگی۔ پیشوا کے قدموں میں زرد جواہر کے انبار لگ گئے۔ دولت کی فراوانی نے باجی راؤ کو شراب اور عورت کا رسیا بنا دیا تھا۔ وہ دن رات مستانی کے ساتھ عیش و عشرت میں پڑا رہنے لگا۔ اسے مستانی کے بغیر ایک پل چین نہ آتا تھا۔

اس نے شراب کے ساتھ گوشت کھانا بھی شروع کردیا تھا۔ پیشوا باجی راؤ کی ان حرکات سے پروہت اور خاندان کے افراد سخت ناراض تھے مگر کسی میں باجی راؤ کے سامنے شکایت کرنے کی ہمت نہ تھی۔ پیشوا کے رشتہ داروں کا خیال تھا کہ باجی راؤ کونارکارہ بنانے میں مستانی کا ہاتھ ہے۔ جب تک مستانی باجی راؤ کے ساتھ ہے اس کا بری عادتوں سے نجات پانا مشکل ہے۔ رشتہ داروں نے بہت سمجھایا۔ باجی راؤ شراب چھوڑنے پر تو آمادہ ہوگیا لیکن مستانی کو اپنے سے علیحدہ کرنے پر راضی نہ ہوا۔ بالآخر چیماجی اپا اور نانا صاحب نے باجی راؤ کو مستانی سے جدا کرنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں رچیں اور کارستانیاں کیں ۔

چیما جی اپا اور نانا صاحب نے سب سے پہلے یہ سخت قدم اٹھایا کہ مستانی کے محل پر پہرا بٹھادیا۔ دل برداشتہ ہو کر باجی راؤ نے پونا چھوڑ دیا اور پاٹس نامی گاؤں جا کر رہنے لگا۔ مستانی، باجی راؤ کی جدائی برداشت نہ کرسکی۔ آخر ایک رات وہ محل سے فرار ہوگئی اور سیدھے باجی راؤ کے پاس پہنچ گئی۔ دونوں پھر رنگ رلیوں میں مصروف ہوگئے۔ اس صورت حال سے نپٹنے کے لیے رادھا بائی نے ایک مرہٹہ سردار مادھو جی پنت کو پاٹس روانہ کیا۔ مادھو جی کے سمجھانے بجھانے پر باجی راؤ نے قسم کھائی کہ وہ شراب کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اور پھر دونوں پونا لوٹ آئے۔

جب باجی راؤ پونا سے بہت دور کسی جنگی مہم پر چلا گیا تو چیماجی اور نانا صاحب نے ایک بھیانک سازش رچی۔ سازش یہ کی گئی کہ نانا صاحب، مستانی سے تعلقات بڑھائے گا اور پھر اسے ’پریم سمبندھ‘ قرار دے کر پورے شہر میں اس افواہ کو پھیلایا جائے گا۔ اور اس طرح جب کوئی باجی راؤ کو اس افواہ سے باخبر کرے گا تو یقیناً اسے سن کر باجی راؤ کے د ل میں مستانی سے نفرت پیدا ہوجائے گی۔ انجام کار پیشوا، اپنی محبوبہ مستانی کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا۔ چنانچہ اس سازش کے تحت نانا صاحب نے مستانی کے یہاں آنا جانا شروع کردیا۔ پھر وہ اپنی ماں کو لکھے گئے خطوط میں ان تعلقات کا ذکر کرنے لگا۔

وہ کبھی لکھتا۔ ’تائی! اب تو لوگ نانا اور مستانی کا چرچا کررہے ہیں ۔ ‘کبھی لکھتا۔ ’تائی! سوامی (باجی راؤ) کو خبر بھجوا دو کہ نانا اور مستانی میں تعلقات بڑھ گئے ہیں ۔ جو حقیقت ہے اسے بیان کررہا ہوں ۔ ‘لیکن کوئی ان ’افواہوں ‘ کو باجی راؤ تک پہنچانے کی ہمت نہ کرسکا۔ کچھ دنوں بعد مستانی کو اس گھناؤنی سازش کا پتہ چلا تو اس نے نانا صاحب سے ملنا بند کردیا بلکہ اس سے بات چیت کرنا بھی بند کردیا۔

اس سازش کے ناکام ہونے پر چیماجی اپا اور نانا صاحب نے کسی بہانے سے مستانی کو گرفتار کرکے اسے کوتھڑایا دھن گڑھ کے تنگ و تاریک قلعہ میں بند کردیا۔

یہ ایک ایسا قلعہ تھا جہاں سے کسی کا زندہ بچ کر نکلنا مشکل تھا مگر یہاں کسی قیدی کو رکھنے کے لیے چھترپتی شاہو مہاراج کی اجازت ضروری تھی۔ شاہو مہاراج سے اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے یہ عذر کیا گیا کہ باجی راؤ مستانی کے عشق میں اس قدر ڈوب گیا ہے کہ وہ اپنے فرائض سے لاپروائی برتنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناصر جنگ مراٹھا سرحد پر حملہ آور ہوا ہے۔ باجی راؤ کو مستانی کے چنگل سے نجات دلانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر مراٹھا سلطنت کے مفاد میں ہم نے مستانی کو گرفتار کرلیا ہے اور اسے یہاں سے دور قلعہ میں نظر بند رکھنے کے لیے آپ کی اجازت چاہتے ہیں ۔

شاہو مہاراج اپنے بہادر جرنیل اور پیشوا باجی راؤ کی وفاداری اور شجاعت سے اچھی طرح واقف تھے اور مستانی سے اسے جو لگاؤ تھا اس بات کو بھی وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ انہوں نے اجازت دینے سے اانکار کیا اور فوری طور پر حکم جاری کیا کہ مستانی پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے پائے، کوئی ظلم نہ کیا جائے۔ اسے فوراً رہا کیا جائے۔ ادھر یہ کارستانیاں ہورہی تھیں اور ا دھر باجی راؤ پونا سے دور نربدا ندی کے اس پار اپنے دشمن ناصر جنگ سے برسر پیکار تھا۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی اور ناصر جنگ میدان جنگ سے فرار ہوگیا۔

باجی راؤ نے ناصر جنگ سے کھر گون کا علاقہ چھین لیا۔ لڑائی کے دوران پونا سے چیماجی اپنی فوج لے کر پہنچ گیا تھا۔ اس کے آنے سے پہلے باجی راؤ مستانی کے خلاف کی گئی سازش کا پتہ چل گیا تھا اور یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ اس سازش میں کون کون شامل ہے۔ اس لیے اسے چیماجی سے محبت کی جگہ نفرت ہوگئی۔ اب اسے اپنے خاندان والوں سے ہی نفرت ہوگئی تھی۔ اس لیے اس نے پونا نہ لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ چیماجی کو پونا جانے اور مستانی کو فوری طور پر ’راویر کھیڑی‘ روانہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ مگر نانا صاحب نے مستانی کی بجائے کاشی بائی کو بھیج دیا۔

 باجی راؤ اور مستانی کا انجام:

باجی راؤ نربدا کے کنارے ’راویر کھیڑی‘ کے مقام پر اپنی محبوبہ مستانی کے لیے تڑپتا رہا۔ خراب آب و ہوا اور مستانی سے جدائی کے غم نے اسے بیمار کردیا۔ مستانی کو نہ پاکر اس کا دل ٹوٹ گیا۔ چند دنوں بعد باجی راؤ پر دل کا دورہ پڑا اور پھر مستانی۔ مستانی کی رٹ لگاتے ہوئے وہ 28 اپریل 1740 کو اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انتقال کے وقت اس کی عمر چالیس سال تھی۔ مرہٹوں کے اتنے بڑے جرنیل اور بہادر سپاہی کا یہ انجام عبرت ناک تھا۔ جس عورت کے لیے اس نے اپنی زندگی قربان کردی وہ موت کے وقت بھی اس کے قریب نہ تھی۔ یہ ایک زبردست سانحہ تھا۔

ادھر جب مستانی کو اپنے عاشق صادق کی بیماری اور تڑپ کا علم ہوا تو وہ بے چین ہوگئی۔ کسی طرح اس نے قید سے رہائی پائی اور سیدھے باجی راؤ سے ملنے کے لیے راویر کھیڑی روانہ ہوگئی۔ وہ پونا سے تیس میل دور ہی پہنچی تھی کہ اسے اپنے عاشق باجی راؤ کے مرنے کی خبر ملی۔ اس صدمہ کو وہ برداشت نہ کرسکی اور وہیں وہ دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئی۔

بعض مورخین کہتے ہیں کہ اس نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ جس مقام پر اس کی موت واقع ہوئی وہ مستانی کی جاگیر’پایل ‘ تھا۔ آج بھی اس گاؤں میں مستانی کے نام سے ایک گڑھی اور ایک مسجد ہے۔ مسجد کے احاطے میں مستانی کی قبر ہے جو محبت کی ایک یادگار مانی جاتی ہے۔ آج بھی پونا کے بعض عاشق مزاج ’پایل گاؤں ‘ آتے ہیں اور باجی راؤ اور مستانی کی محبت کی یاد کو تازہ کرتے ہیں ۔ مرتے وقت مستانی کی عمر چھبیس۔ ستائیس سال تھی۔

 مستانی کا لڑکا شمشیر بہادر:

مستانی کو باجی راؤ سے ایک لڑکا ہوا تھا جس کا نام ’شمشیر بہادر‘ تھا۔ وہ پونا میں 1734 میں پیدا ہوا۔ باجی راؤ اور مستانی کے انتقال کے وقت اس کی عمر چھ سال تھی۔ لیکن پیشوائی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے۔ مستانی جسے پیشوا گھرانے اور برہمن طبقہ نے مرتے دم تک اپنایا نہیں ۔ طرح طرح کی ایذائیں دیں ، اسے بدنام کرنے کی کوشش کی، اس کے خلاف نفرت پھیلائی مگر اس کے مرتے ہی دلوں میں کیا انقلاب آیا کہ اس کے اکلوتے لڑکے شمشیر بہادر کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک کیا گیا۔ اسے پیشوا کا وارث سمجھ کر حکومت میں حصہ داری دی گئی۔ اس کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی اسے دل و جان سے زیادہ عزیز سمجھا گیا اور اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا کہ اسے اپنے یتیم ہونے کا احساس نہ رہا۔

ان تمام باتوں کا ذکر ہمیں پیشوائی دفتر کے کاغذات میں بکھرا ہوا ملتا ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے مستانی جس پنتھ سے تعلق رکھتی تھی وہ کرشن بھگت تھا۔ حیرت اس پر ہے کہ شمشیر بہادر کے ساتھ محبت و شفقت کا سلوک کرنے والے مستانی کے دشمن چیما جی اپا اور نانا صاحب تھے۔ پیشوا نانا صاحب نے شمشیر بہادر کی تعلیم و تربیت اپنی ذاتی نگرانی میں کی۔ اس کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا۔ پیشوا خاندان کے دوسرے لڑکوں کی طرح اس کے ساتھ برابری کا سلوک کیا۔ دراصل اس کی شکل و صورت باجی راؤ سے ملتی جلتی تھی اور وہ اپنے باپ ہی کی طرح بہادر بھی تھا۔ آٹھ سال کی عمر میں اسے ’سردار‘ بنادیا گیا تھا۔ اور وہ مراٹھا سلطنت کا ایک جانباز سپاہی اور وفادار سردار تھا۔ اس نے مرتے دم تک اپنی وفا داری کو نبھایا۔

شمشیر بہادر مراٹھوں کی ہر مہم پر گیا اور ہر لڑائی میں اپنی بہادری کا سکہ دلوں پر بٹھایا۔ کوکن، راجپوتانہ اور شمالی ہندوستان کی مہموں میں وہ ایک بہادر مرہٹہ سردار کی طرح لڑتا رہا۔ اودگیر کی لڑائی میں بہادری دکھانے پر اسے انعام سے بھی نوازا گیا۔ صلابت جنگ کے ساتھ لڑائی میں اس کا گھوڑا توپ کی زد میں آگیا تھا مگر وہ بچ نکلا۔ چھترپتی شاہو مہاراج اور پیشوا نانا صاحب اس کی بہادری سے بے حد خوش تھے۔ خود نانا صاحب نے شمشیر بہادر کی شادی بڑے دھوم دھام سے کی تھی۔ ناسک کے قریب ریاست پیٹھ کے دلوی گھرانے کی ایک خوبصورت لڑکی لالی کتور سے 14جنوری1749 کو (اس کی) شادی ہوئی تھی۔ لیکن چار سال بعد اس کا انتقال ہوگیا۔ کوئی اولاد نہ ہوئی۔ شمشیر بہادر کی دوسری شادی 18اکتوبر 1753 کو ایک مسلم گھرانے میں ہوئی۔ دوسری بیوی سے اسے ایک لڑکا ہوا تھا جس کا نام علی بہادر تھا۔

جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ شمشیر بہادر نے مرتے دم تک مرہٹہ سلطنت اور پیشوا نانا صاحب سے اپنی وفاداری نبھائی۔ پانی پت کی جنگ میں بھی وہ شریک تھا۔ احمد شاہ ابدالی کی فوجوں سے اس نے نہایت بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بڑے بڑے مراٹھا سردار میدان جنگ سے فرار ہوگئے لیکن شمشیر بہادر نے پیٹھ نہ دکھائی۔ وہ احمد شاہ ابدالی کی فوجوں کا بہادری سے مقابلہ کرتا رہا۔
آخر وہ لڑتے لڑتے زخمی ہوگیا اور اسی حالت میں وہ بھرت پور کی سمت روانہ ہوا۔ سورج مل جاٹ نے اسے بچانے کی بے حد کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر زخموں کی تاب نہ لاکر بھاؤ بھاؤ کہتا ہوا شمشیر بہادر چل بسا۔ مرتے وقت اس کی عمر چھبیس سال تھی۔ اس کی تدفین بھرتپور مں ے ہوئی۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا لڑکا علی بہادر بندیل کھنڈ چلا گیا اور وہیں ایک لڑائی میں مارا گیا۔

اس طرح باجی راؤ۔ مستانی کی محبت اور وفاداری کی یہ داستان تاریخ کے صفحات کی زینت بن کر رہ گئی ہے۔ آج بھی بعض اس واقعہ کو ایک فرضی داستان سمجھتے ہیں مگر یہ ایک تاریخی سچائی ہے۔

ممتاز مورخ ظہیرالدین ملک کہتے ہیں :

‘Baji Rao I, the Maratha Peshwa of unrivalled Military capabalities, was passionately attached to Mastani, a dancing girl, presenting to him as gift by Chatrasal Bundela in 1729, she was skilled in riding and handling the sword and accompanied the Peshwa almost on every campaign and like a devoted wife. She looked after his comfort and took interest in his problems. She had a son Shamsher Bahadur and grandson Ali Bahadur, both army generals, who fought in battles as respected members of the Peshwa family.’
(Women in Indian History ed. By Kiran Pawar page 113-114)

 حواشی

1۔ مقدمۂ تاریخ (مراٹھی)حصہ اول۔ صفحہ 2
2۔ بحوالۂ مستانی(مراٹھی)د۔ گ۔ گوڈسے، پاپولر پرکاشن، بمبئی۔ 1991، صفحہ 4
3۔ ایضاً، صفحہ5
4۔ ایضاً، صفحہ6



⋆ وقاص چودھری

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

عام ادویات کی حادثاتی تاریخ

کارٹی سون اور اس کے نتیجے میں بننے والے ہائیڈروکارٹی سون (ایڈرینل کارٹیگل سٹیرائیڈ جو زندگی کے لیے لازم جزو ہے) دوسری جنگِ عظیم کی افواہ کے بعد بنائے گئے تھے تاکہ شدید قسم کے ذہنی دباؤ کے سدِباب کے لیے جرمن پائلٹوں کو سٹیرائیڈ ہارمون اکے انجکشن لگائے جاسکیں۔ اس تصور نے امریکی افواج کو اس کے مقابلے کی دوا پر تحقیق کرنے کی حوصلہ افزائی بخشی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے