تاریخ ہند

بنگال میں فرائضی تحریک

اسامہ شعیب علیگ

اٹھارہویں صدی کے ہندوستان میں مسلمان سیاست میں ناکامی کی وجہ سے مایوس ہو چکے تھے چناں چہ انہوں نے خانقاہوں کا رخ کیا اور آہستہ آہستہ عوامی سطح پر ایک ایسے صوفیانہ خانقاہی نظام کو رواج ملا جو مایوسی، ناامیدی، بے عملی اورتقدیر پرستی کو روحانی اقدار کا نام دیتا تھا۔کچھ ایسا ہی حال بنگال کے مسلمانوں کا تھا ۔ایک طرف وہ ہندواور انگریز زمین داروں اور تاجروں کے ہاتھوں معاشی طور پر برباد ہو چکے تھے، دوسری طرف دین سے دوری کی وجہ سے صحیح اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ تھے ۔ان کے مذہب میں ہندوانہ عقائد اور رسوم و رواج اس قدر خلط ملط ہو چکے تھے کہ ان میں اور ہندوؤں میں تمیز کرنا مشکل تھا۔
ان حالات میں اصلاحی تحریکوں میں سے ایک تحریک بنگال کی سرزمین پر مولانا شریعت اللہ بنگالی (1781ء۔1840ء)کی قیادت میں اٹھی،جو ’’فرائضی تحریک‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کی ساکھ بہت حد تک بحال ہوئی۔بقول شیخ محمد اکرام:
’’انیسویں صدی میں اسلامی بنگال کی روحانی علیحدگی کا خاتمہ ہوا اور ہندوانہ اثرات کا جادو ٹوٹا۔اس کی اصل وجہ نئی اسلامی تحریکیں تھیں۔‘‘(1)
اس تحریک کا نام’ فرائضی تحریک‘ اس لیے پڑا کہ اس کے ماننے والے اسلام کے عائد کردہ فرائض کی بجاآوری کا عہد کیے ہوئے تھے ۔ اس لیے’’فرائضی‘‘ کہلانے لگے۔معین الدین خان لکھتے ہیں:
’’آپ (حاجی شریعت اللہ)فرائض کی ادائیگی پر بہت زور دیتے تھے اور ہندوانہ رسومات کو ترک کرا کے شعائرِ اسلام پر عمل کرانا چاہتے تھے۔اس لیے آپ کی تحریک ’’فرائضی‘‘ کے نام سے موسوم ہو گئی۔‘‘(2)
حاجی شریعت اللہ بنگالی 1781ء کو ضلع فرید پور کے ایک گاؤں بہادر پور میں پیدا ہوئے۔(3) آپ اٹھارہ برس کی عمر میں حج کے لیے مکہ معظمہ گئے۔جہاں شیخ طاہر السنبل الشافعی المکی کے حلقہ ادارت میں شریک ہو کر تقریباً بیس برس وہیں مقیم رہے۔اس دوران بقول جگدیش نرائن سرکارآپ وہابی تحریک سے بہت متاثر ہوئے تھے،اگرچہ اس کے بعض سیاسی افکار سے اتفاق نہیں رکھتے تھے اور عملی طور پر فرائض کی انجام دہی میں آپ کا رجحان حنفی مسلک کی طرف تھا۔(4)لیکن بعض مؤرخین نے اس سے اختلاف کیا ہے ،چناں چہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھا :
’’کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اصلاحات کے معاملے میں وہابیوں سے استفادہ کیا تھا مگر یہ صحیح نہیں معلوم ہوتا،انہوں نے مکہ میں ایسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی تھی جو وہابی مذہب کے خلاف تھے۔بہرحال،انہوں نے اپنے وہابی ہونے کا کبھی اعلان نہیں کیا۔اسلام میں جن رسوم واعمال کی اجازت نہیں ہے ،ان کو ترک کرنے کی تلقین کرنے والوں کے لیے وہابی ہونا ضروری نہیں ہے۔‘‘(5)
حاجی شریعت اللہ بنگالی 1802ء میں ہندوستان واپس آئے ۔(6)اس وقت تک آپ بحیثیت متقی،عالم اور ایک مناظر کے مشہور ہو چکے تھے۔یہاں پر آپ کئی سال تک اپنے وطن دیہات میں نہایت خاموشی سے درس و تدریس اور تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے۔پھرانہوں نے 1804ء میں ’فرائضی‘ کے نام سے ایک جماعت بنائی۔(7)ابتدا میں یہ تحریک ڈھاکہ،فرید پور،باقر گنج اور میمن سنگھ میں شروع ہوئی اور رفتہ رفتہ باریسال کے اضلاع کے دیہاتی مسلمانوں کی اکثریت اس تحریک میں شامل ہوگئی۔
فرائضی تحریک کو عوام الناس میں مقبولیت اس لیے حاصل ہوئی کہ اس تحریک کے ممبران نے عوام میں مساوات اور برابری کا دعویٰ پیش کیا اور خصوصاً مفلس ترین طبقوں کو گلے سے لگایا۔ ذات پات ،چھوت چھات اور طبقاتی امتیازات کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا۔انہیں پر عمل کرتے ہوئے آپ کے درس و تدریس کے حلقے میں امیر و غریب کی تفریق نہیں کی جاتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ کسانوں ،انصاریوں ،تیلیوں اور دوسرے پچھڑے ہوئے طبقات میں یہ تحریک تیزی سے پھیلی۔
حاجی شریعت اللہ نے عوام الناس کو صحیح العقیدہ مسلمان بننے،غیر اسلامی رسوم ورواج کو چھوڑنے کی تلقین کی اوران تمام چیزوں کو مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا سبب بتایا۔آپ کی تعلیم یہ تھی کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ غیر اسلامی رسوم و رواج کو ترک کر دے،صرف اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا معبود سمجھے، اسی کی بندگی کرے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے،احکام شریعت پر عمل کرے ، ارکانِ دین کی پابندی کرے اور تمام مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھے۔آپ کی اس دعوت و تبلیغ سے رفتہ رفتہ عوام متاثر ہونے لگی اور کچھ ہی عرصہ میں مسلمانوں کی اخلاقی و مذہبی صورت حال بہت حد تک تبدیل ہو گئی۔ ایک مورخ،جگدیش نرائن سرکار(Jagadish Narayan Sarkar) لکھتے ہیں:
’’اس تحریک نے سنت کے اتباع واحیاء ا ور معتقدین میں پاکی و طہارت اور دین داری پیدا کرنے پر زور دیا۔گناہوں اور معاصی سے اجتناب کرنے اور ان سے توبہ کرنے کی تلقین کی۔توحید کو اختیار کرنے پر اپنی تمام طاقت صرف کر دی،شرک اور کفر کی نجاستوں سے عوام کو الگ کیا۔بدعات وخرافات،فاتحہ خوانی،پیری مریدی وغیرہ تمام غیر اسلامی رسوم اور طور طریقوں کا بائیکاٹ کیاگیا۔فرائض پر سختی سے عمل کرنے اور انہیں اپنی عملی زندگی میں برتنے کی جدوجہد کی گئی۔فقیروں اور سادھوسنتوں کی پرستش،عرس کا انعقاد،محرم کے تہوارمیں شمولیت کو غیر اسلامی قراد دیا گیا۔چھٹی چلہ اور بچوں کی پیدائش پر رائج دوسرے تمام رواجوں کو ختم کرکے عقیقہ کو اہمیت دی گئی۔حاجی شریعت اللہ نے فرمایا کہ ہمارے رسوم ورواج اور مذہبی تقریبات کو اسلام سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔‘‘(8)
حاجی شریعت اللہ نے اس دور کی بعض مروجہ اصطلاحات میں بھی تبدیلی کی۔ آپ محرم کے تعزیے وغیرہ کے خلاف تھے ،بلکہ اسے دیکھنے والوں کو بھی گناہ گار سمجھتے تھے۔ پیرومرشد کی قدیم اصلاح ترک کر کے استاد اور شاگرد کا لفظ استعمال کیا گیااوربیعت لیتے وقت ہاتھ میں ہاتھ لینے کی رسم بھی ختم کردی گئی۔وہ اپنے پیروکاروں سے گزشتہ گناہوں کی توبہ کراتے اور اس امر کا اقرار لیتے کہ وہ آئندہ نیکو کاری اور خداترسی کی زندگی بسر کریں گے۔اسی بنا پر یہ لوگ’’توبار‘‘(توبہ کرنے والے) بھی کہلاتے تھے۔(9)توبار بنگلہ زبان کا لفظ ہے جو لفظ ’توبہ‘ سے نکلا ہے۔
فرائضی تحریک کی مقبولیت کے بعد علامہ شریعت اللہ نے اس میں بعض سیاسی مقصد بھی شامل کیے اور عوام الناس میں انگریزوں کے خلاف جذبہ جہاد پیدا کیا۔شاہ عبدالعزیزؒ کی طرح آپ نے بھی اعلان کیا کہ ہندوستان’ دارالحرب‘ ہے اور اس سرزمین پر عیدین اور جمعہ کی نماز پڑھنا اس وقت تک درست نہیں جب تک وہ اس کو’ دارالسلام‘ میں تبدیل نہ کر لیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی یادداشت میں لکھا ہے کہ فرائضی تحریک سے ہندو اورانگریز خاص کر زمین دار طبقہ بہت خوف زدہ ہو گیا تھا ،کیوں کہ مسلمانوں کا طبقہ اس تحریک کی وجہ سے متحد ہو چکا تھا اور ان لوگوں نے ہندوانہ رسوم ورواج کو ترک کر دیا، ان ٹیکسوں کی ادائیگی سے بھی انکار کر دیا جو ہندو زمینداروں نے ان پر اپنی مذہبی تہواروں کے لیے عائد کر رکھے تھے۔ایسے ہی ان کی بہو بیٹیوں نے بھی ان زمینداروں کے گھروں میں کام کاج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔(10)
ان تمام باتوں کوخصوصاً آپ کے ’اسلامی اخوت‘ کے اصول کو ہندو زمیندار اور انگریز برداشت نہیں کر سکے اور لڑائی فساد اور طاقت کے ذریعہ اس تحریک کو کچلنے کی کوشش شروع ہو گئی۔ چناں چہ 1831ء میں متعدد فرائضیوں کو دو دو سو روپئے جرمانہ اور ایک ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔حاجی صاحب پر بھی مقدمہ چلا لیکن ناکافی ثبوت کی وجہ سے حکومت کو انہیں رہا کرنا پڑا۔اس کے بعد حاجی شریعت اللہ نیاباری (Nayabari)( ضلع ڈھاکہ )چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں واپس آگئے اور یہیں 1840ء میں ان کاانتقا ل ہوا۔ آپ نے آخری عمر تک اپنی ذمہ داری ادا کی اور مختلف مورخین کے مطابق فرید پور،باقرگنج،ڈھاکہ اور میمن سنگھ کے ضلعوں کے 1/6 مسلمانوں نے ان کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ (11)
حاجی شریعت اللہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محسن الدین احمد عرف ’’دودومیاں‘‘ نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔(12)
محسن الدین احمد کی عمر اس وقت بائیس برس سے زیادہ نہ تھی لیکن آپ نے اسے اتنے منظم طریقے سے چلایا کہ یہ تحریک جو حاجی صاحب کے دور میں چند اضلاع تک ہی محدود تھی رفتہ رفتہ فرید پور،باقر گنج،پبنا،ڈھاکہ،نوکھالی،براسیٹ اور مالدہ سمیت پورے مشرقی بنگال اور مغربی بنگال کے بعض حصوں میں پھیل گئی۔جب انہوں نے اس کی قیادت سنبھالی اس وقت بنگال کی سیاسی،زرعی اور معاشی حالت حاجی شریعت اللہ کے دور سے زیادہ خراب ہو چکی تھی۔اسی زمانے میں فارسی زبان کو ہٹا کر انگریزی زبان کو عدالتی اور دفتری زبان بنا دیا گیا،جس سے مسلمانوں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔”Miss Katherine Mayo (1867-1940)” اپنی کتاب میں لکھتی ہیں:
’’ایک چھوٹا سا بیج بویا گیا اور اس کے پھل سے ہم اب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یہ عدالتی زبان کی تبدیلی تھی۔فارسی کی جگہ انگریزی رائج کر دی گئی۔ہندوستان کی تعلیم کو مغربیت کا رنگ دینے کے لیے یہ لازمی امر تھا۔بظاہر یہ تبدیلی معمولی معلوم ہوتی تھی اور اس کے نتائج بھی معمولی نظر آتے تھے،لیکن مسلمانوں نے اس تبدیلی پر سخت احتجاج کیا اور فی الواقع یہ ان کے لیے سخت تباہ کن تبدیلی تھی۔‘‘(13)
ایسی صورتِ حال میں دودومیاں نے اپنی ذہانت اور ہوشیاری سے اس تحریک کومنظم کیا اور مشرقی بنگال کو مختلف حلقوں میں تقسیم کیا ۔ ہر حلقے میں مریدوں کے مسائل کی نگرانی کے لیے اپنا ایک خلیفہ مقرر کیا۔خلیفہ اپنے حلقے کی ذرا ذرا سی بات سے دودو میاں کو باخبر رکھتا تھا۔یہ لوگ خطوط کے ذریعے مسلسل خفیہ رپورٹ دودومیاں کو بھیجتے رہتے اور ان سے ہدایات حاصل کرتے رہتے تھے۔یہ خطوط ’’احمد نامہ‘‘کہلاتے اور ان کے نیچے ’’احمدنام ،نامعلوم‘‘لکھا ہوتا،لیکن انہیں مقدس صحیفہ کی طرح پڑھا جاتا اور ان پر سختی سے عمل بھی کیا جاتا تھا۔(14) خلیفہ ہی مقامی مریدوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتا تھا۔آپ کی سوچ یہ تھی کہ بنگال میں اسلامی حکومت نہیں ہے تو مسلمانوں کو خود پر منحصر رہنا چاہیے۔اس سلسلے میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی لکھتے ہیں:
’’ان کا(دودومیاں) کا استدلال یہ تھا کہ اگر بنگال میں ایسی مسلم حکومت نہیں ہے جسے مسلمان جائز طور پر تسلیم کرسکیں تو انہیں اپنی زندگی کے بعض ضروری وظائف کی ادائیگی کے لیے قوم کو منظم کرنا ضروری ہے۔اس لیے اخوات کے اعلیٰ مقصد پر بہت زور دیا گیا اور برادری کے ہر رکن کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ اس کا جو بھائی کسی مصیبت میں گرفتار ہووہ اس کی مدد کرے،اس برادری کے ارکان میں جو نزاعات پیدا ہوں انہیں وہ قانونی عدالتوں میں فیصلے کے لیے نہ لے جائیں بلکہ دادومیاں خود ان کا فیصلہ کریں۔‘‘(15)
اسی دوران دودومیاں نے ’’الأرض للہ‘‘(زمین اللہ کی ملکیت ہے ) کا نعرہ لگایا اور فرمایا کہ کسی کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اس پر بطور وراثت قابض ہو اور نہ ہی وہ مالیہ وصول کر سکتا ہے۔کاشت کار کے لیے زمیندار کو ٹیکس ادا کرنا ضروری نہیں البتہ حکومت کو بطور نظم و نسق کچھ واجبات دینے ضروری ہیں۔اس کے علاوہ دودو میاں نے ہندو بنیوں کے قرضوں اور سود درسود کے خلاف بھی آواز اٹھائی اور آپ نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ ’’خاص محل‘‘کے اراضی پر آباد ہو جائیں، جن کا انتظام براہ راست حکومت کے ہاتھوں میں تھا کیوں کہ اس طرح سے وہ حکومت کے عائد کردہ لگان کے سوا باقی تمام محاصل سے آزاد ہو جائیں گے۔
کسان اس امید پر کہ انہیں ٹیکسوں کے بوجھ اور زمینداروں کے ظلم وستم سے نجات مل جائے گی،جوق درجوق اس تحریک میں شامل ہوتے چلے گئے حتی کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈامپیر(Dampier)کے مطابق دودومیاں نے کم از کم اسّی (80)ہزار سرگرم کارکن جمع کر لیے تھے اور عام خیال تھا کہ وہ انگریزوں کو بنگال کی سرزمین سے نکال باہر کر کے مسلمانوں کی حکومت قائم کریں گے۔(16)
ان تمام اسباب کی وجہ سے ہندو زمینداروں اور انگریزوں نے یکساں طور پر اس تحریک کی سختی سے مخالفت کی اور اس کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں اورتحریک کے قائد پر مختلف الزامات لگائے گئے اور گرفتار کیا گیا۔عزیزالرحمٰن ملک لکھتے ہیں:
’’ہندو زمینداروں نے بھی مسلم کسانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ہر ممکن طریقے سے اس تحریک کو ختم کرنے اور اس میں انہیں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔بطور سزا ان کی داڑھیاں ایک ساتھ باندھ دی جاتیں اور انہیں سرخ مرچ پسی ہوئی تمباکو کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا۔ دودو میاں پر 1838ء میں لوگوں میں اشتعال پھیلانے اورکئی گھروں کو لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔1841ء میں ایک قتل کے الزام میں عدالت میں حاضری دینے پر مجبور کیاگیا۔1844ء میں قفل شکنی اور بلااجازت کسی کے مکان میں مداخلت کے الزام اورغیر قانونی اجتماع کے جرم میں مقدمہ دائر کیا گیا۔‘‘(17)
1846ء میں دودومیاں نے ایک انگریز تاجر ’ڈنلوپ‘ کے نیل کے کارخانہ جو ’پنچور‘ میں واقع تھا،اسے نذرِ آتش کردیا اور ہندو منیجر کو قتل کر دیا۔اس پر دودومیاں اور ان کے باسٹھ(62) ساتھیوں کوگرفتار کر لیااور مقدمہ قائم کیا لیکن آخر میں عدالتِ عظمیٰ نے انہیں رہا کردیا۔ 1857ء میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی تو علی پور جیل اور فرید پور جیل میں نظربند کر دیا گیا۔بالآخر 1859ء میں آپ بیماری کی حالت میں رہا ہوئے اور 1862ء میں آپ کا انتقال ہوگیا۔(18)ان کا مزار آج بھی ڈھاکہ میں موجود ہے۔(19)
غرض اس تحریک کے کارکنان نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔جن میں حاجی شریعت اللہ،حاجی محمد محسن، مولوی کرامت علی جون پوری، مولوی عنایت اللہ عظیم آبادی،مولوی امام الدین اور صوفی نور محمد چاٹگامی وغیرہ اہم ہیں۔ان قربانیوں نے ہی بنگالی مسلمانوں میں اسلامی بے داری پیدا کی اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کا بیج بویا،جس کا اعتراف سب ہی نے کیا ہے ۔چناں چہ شیخ محمد اکرام اس تحریک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس تحریک نے نہ صرف ہندوانہ رسوم کا خاتمہ کر کے مقامی مسلمانوں کو ایک نیا وقار اور عزِ نفس عطا کیا بلکہ ان کے گہرے روحانی تعلقات شمالی ہند کے مسلمانوں سے استوار کیے اور برصغیر کے تمام مسلمانوں میں ایک روحانی ہم آہنگی پیدا کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب سید صاحب کے جانشینوں نے سرحد پر جہاد جاری رکھا تو مسلمانانِ بنگالہ اس میں پیش پیش تھے اور جب بیسوی صدی کے وسط میں پاکستان کا مطمح عمل قوم کے سامنے رکھا گیا تو ہزار میل کے بعد کے باوجود بنگال اور پنجاب کے مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔‘‘(20)
انگریز بھی اس تحریک سے کم متاثر نہیں ہوئے۔ڈھاکہ کے ڈاکٹر وائز بنگالی مسلمانوں کے متعلق اپنی انگریزی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’انیسویں صدی کے اوائل میں احیاء اسلام کی تحریک جدید ہندوستان کی تاریخ کے سب سے اہم ترین واقعات میں سے ہے ۔چند غیر معروف انسانوں نے جو بیج بویا، وہ ایک تناور درخت ہو گیااور اس وقت سارے مشرقی بنگال پر چھایا ہوا ہے۔‘‘(21)
ڈاکٹراشتیاق حسین قریشی اس تحریک کے اثرات کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’حاجی شریعت اللہ نے جو کام کیا اس کے نتیجے میں اسلام کی پابندی زیادہ سختی کے ساتھ کی جانے لگی اور یہ غریب لوگ بالکل ایمان دار اور قابل اعتماد بن گئے۔ان میں خود داری کا ایک نیا احساس پیدا ہو گیا۔‘‘(22)
لیکن بعض مؤرخوں نے حاجی شریعت اللہ کو سیاسی و سماجی رہنما نہ تسلیم کر کے صرف ایک’ مصلح دین‘ قرار دیا ہے،وہ بھی ایسا مصلح جس کا اثر و رسوخ صرف ایک خطہ تک ہی محدود رہا اور یہ گروہ بنگال میں احیائے اسلام کی اولین تحریک کی نیک نامی بھی سید احمد شہید ہی کو دیتا ہے۔
****

حواشی و حوالہ جات

(1)شیخ محمد اکرام،موج کوثر،،محمد اشرف ڈار،برائے ادارہ ثقافت اسلامیہ،لاہور،نویں اشاعت،1975ء،صفحہ58
(2)معین الدین احمد خان،A History of the Faraidi Movement in Bengal،کراچی،1965ء،حصہ اول،دوم،صفحات12۔11
(3)محمد خالد مسعود،مقدمہ،اٹھارہویں صدی عیسوی میں برصغیر میں اسلامی فکر کے رہنما،ادارہ تحقیقات اسلامی،بین الاقوامی یونیورسٹی،اسلام آباد،2008ء،صفحہ57
*اردو دائرۃ معارف اسلامیہ نے حاجی شریعت اللہ کی پیدائش 1870ء لکھی ہے۔(اردو دائرۃ معارف اسلامیہ،ناشر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال، رجسٹرار،دانش گاہ پنجاب، لاہور،طبع اول،1966،ج 15،صفحہ 222)جب کہ یہ غلط ہے کیوں کہ آپ کی وفات 1840ء میں ہوئی ہے ۔اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ آپ کی پیدائش 1781ء میں ہوئی تھی۔جگدیش نرائین سرکار نے بھی آپ کی پیدائش 1781ء ہی لکھی ہے ۔جگدیش نرائن سرکار،Islam in Bengal،رتنا پرکاشن،کلکتہ،1972ء،صفحہ52۔البتہ قیام الدین احمد نے حاجی شریعت اللہ کی پیدائش 1764ء لکھی ہے۔قیام الدین احمد،The Wahabi Movement in India،فرما،کے ایل،موکھوپادیای،کلکتہ،(Firma, K.L. Mukhopadhyay, 6/1A,Banchharam, Akrur Lane, Culcutta-12)1964ء،صفحہ87۔
ایسے ہی حاجی شریعت اللہ کی وفات کے سن میں بھی اختلاف ملتا ہے۔عزیز احمد نے آپ کی وفات کی تاریخ 1830ء لکھی ہے۔عزیز احمد،Studies In Islamic Culture in the Indian Environment،آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،لندن،1964ء،صفحہ216۔
(4)جگدیش نرائن سرکار،Islam in Bengal،رتنا پرکاشن،کلکتہ،1972ء،صفحات55۔54
(5)ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ، برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ،مترجم ،ہلال احمد زبیری ،ناظم ،شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ ،کراچی یونیورسٹی ،کراچی،اشاعت چہارم ، 1999ء،صفحہ 270
(6)سید طفیل احمدمنگلوری ،مسلمانوں کا روشن مستقبل،مکتبہ الحق ماڈرن ڈیری،جوگیشوری،ممبئی،2001ء،صفحہ126۔دائرہ معارف اسلامیہ میں حاجی شریعت اللہ کی ہندوستان واپسی کی تاریخ 1820ء لکھی ہے۔اردو دائرۃ معارف اسلامیہ،حوالۂ سابق،15/ 222۔جب کہ عزیز احمد نے ان کی ہندوستان واپسی کی تاریخ 1802ء لکھی ہے۔عزیز احمد،Studies In Islamic Culture in the Indian Environment،آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،لندن،1964ء،صفحہ216۔اے باوسانی(A.Bausani)نے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں لکھا ہے کہ حاجی شریعت اللہ کی ہندوستان واپسی مختلف ذرائع کے مطابق1807ء،1822ء یا 1828ء میں ہوئی اور انہوں نے دو بار مکہ کا سفر کیا۔اے باوسانی،The Encyclopaedia of Islam،1991ء،2/783
(7)مسلمانوں کا روشن مستقبل،حوالۂ سابق،صفحہ126۔قیام الدین احمد نے سماجی اصلاح کی تحریک کے آغاز کی تاریخ 1802ء لکھی ہے۔The Wahabi Movement in India،حوالۂ سابق،صفحہ87
(8)Islam in Bengal،حوالۂ سابق،صفحات54۔53
(9)اردو دائرۃ معارف اسلامیہ، حوالۂ سابق،15/ 223
(10)اردو دائرۃ معارف اسلامیہ،حوالۂ سابق،15/ 223
(11)Islam in Bengal،حوالۂ سابق،صفحہ56
(12)حاجی شریعت اللہ کے بیٹے کے نام اور عرفیت کے سلسلے میں تاریخ نگاروں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے نام محسن الدین احمد اور عرفیت ’دادومیاں‘لکھی ہے۔برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ،حوالۂ سابق،صفحہ 270 ۔سید طفیل احمدمنگلوری نے نام محسن الدین احمد اور عرفیت ’دودہومیاں‘ لکھی ہے۔مسلمانوں کا روشن مستقبل،حوالۂ سابق،صفحہ126۔جگدیش نرائن سرکار نے آپ کا نام حاجی محمد محسن یا محسن الدین احمد لکھا ہے اور عرفیت ’دودومیاں‘یا’دودھومیاں‘ لکھا ہے۔Islam in Bengal،حوالۂ سابق، صفحہ 56 ۔ قیام الدین احمد نے ان کا نام مولوی محمد مسلم اور عرفیت ’دودومیاں‘ لکھی ہے۔The Wahabi Movement in India،حوالۂ سابق،صفحہ88۔اے باوسانی (A.Bausani)نے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں آپ کا نام محمد محسن عرف ’دودھومیاں‘لکھا ہے۔The Encyclopaedia of Islam،حوالۂ سابق،2/784۔عزیز احمد نے ان کی عرفیت ’ودود میاں‘ لکھی ہے۔Studies In Islamic Culture in the Indian Environment،حوالۂ سابق،صفحہ216
(13)کیتھرین مایو،Mother India،بلیو ریبن بکس،نیویارک،1927ء
(14)سید محمود قاسم،اسلام کی احیائی تحریکیں اور عالم اسلام،الفیصل ناشران و تاجران کتب،لاہور،2012ء،صفحہ134
(15)برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ،حوالۂ سابق،صفحہ 271
(16)اردو دائرۃ معارف اسلامیہ،حوالۂ سابق، 15/ 225
(17)عزیز الرحمٰن ملک، British Policy and Muslim in Bengal 1757-1856،بنگال اکیڈمی،ڈھاکہ،صفحات،86۔81
(18)غلام رسول مہر نے دودومیاں کاسن وفات 1860ء لکھا اور وہ لکھتے ہیں کہ فضلی صاحب،سیکریٹری حکومت پاکستان ،نے بتایا کہ ان کو زہر دیا گیا تھا۔غلام رسول مہر،سرگزشت مجاہدین،کتاب منزل لاہور،1956ء،صفحہ 215 ۔قیام الدین احمد نے بھی ان کی وفات کا سن 1860ء لکھا ہے۔The Wahabi Movement in India،حوالۂ سابق،صفحہ88۔عزیز احمد نے بھی ان کی وفات کا سن 1860 لکھا ہے۔Studies In Islamic Culture in the Indian Environment،حوالۂ سابق،صفحہ216۔البتہ جگدیش نرائن سرکار نے آپ کی وفات کی تاریخ1862ء لکھی ہے ۔Islam in Bengal،حوالۂ سابق، صفحہ 56 ۔
(19)اسلام کی احیائی تحریکیں اور عالم اسلام،حوالۂ سابق،صفحہ134
(20)موج کوثر،حوالۂ سابق، صفحہ61
(21)موج کوثر، حوالۂ سابق،صفحہ61
(22)برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ،حوالۂ سابق،صفحہ 270
****

مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Close