تاریخ ہند

جنگ آزادی میں اساطین ملت کا کردار

محمد صدرِعالم قادری مصباحیؔ

جب پڑاوقت گلستاں پہ توخون ہم نے دیا  

جب بہارآئی توکہتے ہیں تیراکام نہیں

ہندوستان ہمارامحبوب وپیاراملک ہے۔ اس کوحاصل کرنے کے لئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اسی لئے اس کے اہم دن ہم بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ ان دنوں میں یوم آزادی بہت اہم ترین دن ہے۔ آزادی ہندسے پہلے پورے برّے صغیرپرتقریباًسوسال تک انگریزوں کاقبضہ رہا۔ انگریزوں کے قبضے سے پہلے برّصغیرپرمسلمانوں کی حکومت تھی۔ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلمان مسلسل کوشش کرتے رہے۔ خدائے وحدہٗ لاشریک محنت شاقہ کاپھل ضرورعنایت فرماتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی قربانیاں دینے کے بعدآخرکار15؍اگست1947؁ء کو ہندوستان انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔ اس کامیابی کی مسرت وخوشی میں ہم ہرسال 15؍اگست کوتمام دن خاص تقریبات منعقدکرتے ہیں۔ ان علماء کرام و بزرگوں کی انتھک کوششوں وجُہدِمسلسل کی یاد تازہ کرنے کے لئے تقریریں کرتے ہیں جنہوں نے عظیم قربانیاں دے کرہمیں انگریزوں کے ظلم وجبرسے نجات دلائی۔ ان تقریروں میں اس بات پرخاص زوردیاجاتاہے کہ ہم ان کی قربانیوں کوضائع نہ ہونے دیں گے اورمُلک کے گوشے گوشے کی حفاظت کریں گے۔ یوم آزادی کی خوشی میں ہرسال عام تعطیل ہوتی ہے البتہ مدارس اسلامیہ، اسکول اورکالج صبح کوکچھ دیرکے لئے کھلتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ، اسکول اورکالجوں کے طلباء خاص قومی پروگرام کانہایت ہی شان بان کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں۔ وطن عزیز کی محبت کے نغمے گاتے ہیں، اورمجاہدین آزادی کی قربانیوں کوپوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پرسارے ملک کے شہروں، قصبوں اوردیہاتوں میں صفائی وستھرائی کاخاص خیال رکھاجاتاہے۔ تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پرتقاریب کاانعقاد کیا جاتا ہے اورساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کااہتمام بھی ہوتاہے۔ لوگ جوق درجوق گھروں سے باہرآجاتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ، اسکول، کالج، چوک چوراہوں اورسرکاری نجی عمارتوں پرقومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ گھروں میں بچوں، جوانوں اوربوڑھوں کاجوش و خروش توقابل دیدہوتاہے۔ رہائشی علاقوں، ثقافتی اداروں اورمعاشرتی انجمنوں کے زیراہتمام تفریحی پروگرام توانتہائی شاندارطریقے سے منائے جاتے ہیں۔ مساجدمیں ملک وقوم اورتمام امّہ کی ترقی وخوش حالی، بھٹکے ہوئے لوگوں کوصراط مستقیم کی توفیق اور سلامتی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ آزادی کے اس پربہارموقع پردوسرے ممالک کے سربراہان صدرِہند ووزیراعظم کومبارک بادی کاپیغام بھیجتے ہیں اورنیک خواہشات کااظہاربھی کرتے ہیں۔ یومِ آزادی اوردیگرایام، ہندوستان کی آزادی سالمیت اوراستحکام کی یادتازہ کرتے ہیں۔ ہم اس عہد کودہراتے ہیں کہ وطن عزیز کی خاطرتن، من، دھن سب کچھ قربان کردیں گے۔ اس کانام روشن کریں گے اوراس کی ترقی کے لئے ہمیشہ صدق دل سے کوشش کریں گے۔

انگریزوں کااصلی مُلک اوروطن انگلینڈہے، انگلینڈمیں زمانۂ قدیم سے بادشاہی چلی آرہی ہے۔ وہاں کی حکومت کانام برطانوی حکومت ہے جسے انگریزی زبان میں برٹش گورنمنٹ کہتے ہیں جب انگریز ساہوکاراپنے وطن انگلینڈسے ہندوستان آئے تویہاں انہوں نے تجارتی کاروبارکاسلسلہ قائم کیااوراس میں خوب ترقی کی پھربعدمیں انہوں نے مغل بادشاہوں کی بے بسی اورکمزوریوں سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسٹ انڈیاکمپنی کے نام سے اپنی انگریزی حکومت قائم کرلی۔ انگلینڈکی حکومت بَرطانیہ نے اگرچہ ایسٹ انڈیاکمپنی کی اس نئی حکومت کوجائز قراردیاتھااورہندوستان کانظام درست رکھنے کے لئے کمپنی کے نام ہدایات وفرمان بھی بھیجتی رہی، لیکن خوداس نے ہندوستان کی انگریزی حکومت کے اختیاراپنے ہاتھ میں نہیں لئے بلکہ کمپنی ہی کے ہاتھ میں رہنے دیاجس کے باعث کمپنی کے کرتادھرتااورحکام آزادبن کرہندوستان میں اپنی من مانی حکومت کرتے رہے۔

چونکہ کمپنی کے دورحکومت میں انگریز افسران ہندوستانیوں کے ساتھ نوکروں اورغلاموں جیسابرتاؤ کرتے تھے۔ ہندوستانیوں کوحقیروذلیل نگاہوں سے دیکھتے تھے، ان پرطرح طرح کاظلم وستم کرتے تھے، اس لئے عام ہندوستانیوں کادل کمپنی راج سے بہت پک گیاتھاجس کے نتیجے میں سب سے پہلے میرٹھ، چھاؤنی میں ہندوستانی فوج نے16؍رمضان المبارک1273؁ھ مطابق 10؍مئی   1857؁ئکواتوارکے دن ایسٹ انڈیاحکومت کے خلاف بغاوت کااعلان کیااورانگریز فوجی افسروں کوقتل کیا، پھرباغی فوج میرٹھ سے راتوں رات چل کرصبح سویرے 17؍رمضان المبارک1273؁ھ مطابق 11؍مئی   1857؁ء کودہلی پہنچی اورانگریز حکمرانوں کوموت کے گھاٹ اتارکرسراج الدین بہادرشاہ ظفرکی بادشاہت اورحکومت کااعلان کیا۔ میرٹھ اوردہلی کی طرح یوپی کے دوسرے اضلاع بریلی، کانپور، جھانسی، لکھنؤ، گورکھپور، اعظم گڑھ وغیرہ میں بھی بغاوت کی آگ مکمل طورسے پھیل گئی۔ جگہ جگہ انگریز حکام وافسران مارڈالے گئے۔ کئی ایک ضلع سے کمپنی کاراج مکمل ختم ہوگیا۔

انقلاب 1857؁ء میں علماء کرام نے مذہبی فریضہ کے طورپرانگریزوں کے خلاف جہادکے فتاویٰ جاری کئے اورعملی طورپربھی جنگ میں شریک ہوکرمجاہدین کے حوصلے بڑھائے اورانقلابیوں کی بھرپورقیادت کی جن میں مولاناسیداحمدشاہ مدراسی کانام سب سے نمایاہے جواپنے پیرومرشدمحراب شاہ قلندرگوالیاری کے حکم پرتقریباً1846؁ء سے انگریزوں کے خلاف مہم چلارہے تھے۔ دیگرمشہورعلمائے انقلاب  1857؁ء میں چندسربرآوردہ حضرات کے نام یہ ہیں :۔ مفتی صدرالدین آزردہ دہلویؒ، علامہ مولانافضل حق خیرآبادیؒ، مولانا فیض احمدبدایونیؒ، مولاناکفایت علی کافیؔ مرادآبادیؒ، مولاناوہاج الدین مرادآبادیؒ، مفتی عنایت احمدکاکورویؒ، مولانارحمت اللہ کیرانویؒ، مولاناڈاکٹروزیرخان اکبرآبادیؒ، مولاناامام بخش صہبانی دہلویؒ، مولانارضاعلی خان بریلویؒ(جداعلیٰ اعلیٰ حضرت فاضل بریلویؒ)۔ تاریخ انقلاب پرلکھی گئی کتابوں کے عام اندازہ کے مطابق لگ بھگ پندرہ ہزار(15000) علماء کرام جنگ آزادی  1857؁ء میں شہیدکئے گئے تھے۔

مذکورہ علماء کرام کوجن علماء عظام ومشائخِ سلف سے کسی نہ کسی شکل میں فکری وعملی رہنمائی ملی ان میں چنداہم اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :

(۱)حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ(۲)حضرت مرزامظہرجانِ جاناں مجددی دہلویؒ(۳)حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (۴)حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ(۵)حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ(۶)حضرت مفتی محمدعوض بریلویؒ(۷)حضرت مفتی شرف الدین رامپوریؒ۔

آج پوراملک جنگ آزادی کا جشن منارہاہے اورسارے ہندوستانی باشندے اپنے جاں بازانقلابیوں اورسرفروش مجاہدوں کوخراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔ اس موقع پران چندمشاہیرعلماء کرام کانہایت اختصارواجمال کے ساتھ تعارف کرایاجارہاہے جن کی انتھک کوششوں، جہدمسلسل اورعظیم قربانیوں کے بعدہندوستان آزادہواتاکہ ان کی یاد سے ہماری روح میں تازگی وتوانائی اورحرارت وتپش کی لہریں دوڑ جائیں۔

مفتی صدرالدین آزردہ دہلویؒ: 

مفتی صدرالدین آزردہ دہلویؒ(متولد1240ھ؍1789ء-متوفی1285ھ؍1868ء)کشمیری نسل کے دہلوی عالم وفاضل تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اورعلامہ فضل امام فاروقی خیرآبادی سے آپؒ نے تعلیم حاصل کی تھی۔ 1827ء سے 1846ء تک صدرالصدوررتھے۔ انگریزی عہدحکومت میں دہلی کاصدرالصدورہوناکسی مسلمان عالم کے لئے سب سے بڑاعہدہ تھا۔ آپؒ کادولت کدہ دہلی کے علماء وفضلاء وادباء وشعراء کامرکزاورمرجع تھا۔ سرسیداحمدخان نے اپنی مشہورتاریخی کتاب ’’آثارالصنادید‘‘(ص534) مطبوعہ دہلی میں آپ کواپنے زمانے کاجامع الصفات عالم وفاضل لکھاہے۔ 1857؁ء میں علماء کرام نے انگریزوں کے خلاف جہادکاکئی باراورکئی جگہ فتویٰ دیاتھا۔ ایک فتویٰ پرمفتی صدالدین آزردہ کادستخط ہے جو اخبارالظفردہلی میں چھپاپھراس کی نقل صادق الاخباردہلی مورخہ 26؍جولائی 1857ء  میں شائع ہوئی۔ یہ اخبارنیشن آرگائیوزنئی دہلی میں محفوظ ہے۔ انقلاب کے دوران مفتی صدرالدین آزردہ لال قلعہ میں بہادرشاہ ظفرکے پاس آتے جاتے رہے اورانقلابی مجاہدین بھی آپ سے ہدایت حاصل کرنے آپ کے گھرآتے جاتے رہے(روزنامچہ منشی جیون لال مطبوعہ دہلی وروزنامچہ عبداللطیف مطبوعہ دہلی)

شاہجہانی جامع مسجددہلی کے جنوب میں مغل بادشاہ شاہجہاں نے دارالبقاکے نام سے ایک مدرسہ بنوایاتھاجوگردش زمانہ سے ویران ہوگیاتھااُسے مفتی صدرالدین آزردہؒ نے بہادرشاہ ظفرسے لے کرآبادکیااورتعلیم کاسلسلہ ازسرنوشروع کیا۔ (آثارالصنادید، مؤلفہ سرسید، ص283)

مولاناابوالکلام آزادکے والدمولاناخیرالدین دہلوی اورداداشیخ محمدہادی دہلوی مفتی آزردہ کے شاگردتھے۔ اسی طرح مفتی سعداللہ مرادآبادی، مولانافیض الحسن سہارنپوری، نواب یوسف علی خان والی ریاست رامپور، نواب ضیاء الدین خان نیر، نواب مصطفی خان شیفتہ، مولوی سمیع اللہ دہلوی، مولوی فقیرمحمدجہلمی اوربعدکے ہونے والے اکابرعلماء دیوبندمولانامحمدقاسم نا نوتوی، مولانارشیداحمدگنگوہی وغیرہ آپ کے شاگردہیں۔ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔ عربی فارسی کے علاوہ اردوزبان کے آپ بہترین شاعرتھے۔ انقلاب 1857ء میں جب انگریز غالب آگئے توآپ کے خلاف مقدمۂ بغاوت چلابڑی کوشش پیروی اورقیدوبندکے بعدکسی طرح آپ کونجات ملی۔ مگرجائدادکابڑاحصہ ضبط ہوگیا۔ اپنے ذاتی سرمایہ سے آپ نے تین لاکھ روپے کی نہایت اہم اورنادرکتابیں اپنی ذاتی لائبریری میں جمع کی تھیں جوانقلاب کے دوران ضائع ہوگئیں۔ جامع مسجددہلی کوانگریزوں نے انقلاب کی ناکامی کے بعدقبضہ کرکے اُسے اصطبل بنادیاتھا۔ مفتی آزردہ نے عمائد شہرکے ساتھ مل کراُس کی واگذاری کی مسلسل کوشش کی جس کے نتیجے میں نوممبر1863ء میں ایک معاہدہ کے تحت انگریزوں نے اُسے واگذارکیا۔ (غدرکے چندعلماء، مؤلفہ انتظام اللہ شہابی، مطبوعہ دہلی، ص48)۔ مکاتیب غالبؔ میں بھی مسجدکی واگذاری کاذکرہے۔

مفتی آزردہ کاایک بڑاکارنامہ یہ ہے کہ1846ء میں انہوں نے اپنے خط کے ساتھ مولانا شاہ مدراسی کوآگرہ بھیجاجہاں انہوں نے ’’مجلس علماء‘‘قائم کرکے

 انگریزوں سے ہندوستان کوپاک کرنے کی مسلسل تحریک چلائی اورانقلاب1857ء میں ان علماء کرام نے مختلف محاذ پرانگریزوں سے جم کرمقابلہ کیا۔ اکیاسی(81)سال کی عمرمیں ۲۴؍ربیع الاول شریف 1285ھ؍16 ؍جولائی 1868ء دہلی کے اندرآپ نے وفات پائی اورچراغ دہلی میں آپ کوسپردخاک کیاگیا۔

علامہ فضل حق خیرآبادیؒ: 

حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی(متولد1212ھ؍1797ء-متوفی1861ء) فرزندامام فضل امام فاروقی خیرآبادی علوم اسلامیہ میں شاہ عبدالقادرمحدث دہلوی وشاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی اورعلوم عقلیہ میں اپنے ناموروالدماجدکے شاگردتھے۔ تیرہ سال کی عمرمیں تکمیل علوم وفنون کے بعددرس وتدریس میں مصروف ہوئے اور1815ء میں سرکاری ملازمت اختیارکرلی۔ دہلی میں ایک عرصہ تک آپ رہے۔ دوسال تک سہارنپورمیں بھی کسی عہدہ پرفائز رہے۔ آپ نے کئی معرکۃ الآراکتابیں بھی لکھیں اورآپ کے کئی ایک شاگراپنے دورکے مشاہیرعلماء وفضلاء میں شمارہوتے ہیں۔ مفتی آزردہ دہلوی وعلامہ فضل حق خیرآبادی اورمرزااسداللہ خان غالب کے درمیان بہت گہری دوستی تھی۔ انقلاب 1857ء شروع ہواتوعلامہ فضل حق خیرآبادیؒ ریاست الورسے دہلی کئی بارآئے گئے۔ بہادرشاہ ظفرسے ملاقاتیں کیں۔ یہ سلسلہ مئی سے جاری رہا۔ پھر۲۶؍جون یاپہلی جولائی کوجنرل بخت خان روہیلہ جب بریلی سے چودہ ہزارفوج لے کردہلی پہنچاتومفتی ذکاء اللہ دہلوی کے بیان کے مطابق: علامہ نے بعدنمازجمعہ جامع مسجددہلی میں علماء کرام کے سامنے میں تقریرکی۔ استفتاء پیش کیا۔ مفتی صدرالدین آزردہ، مولوی عبدالقادر، قاضی فیض اللہ دہلوی، مولانافیض احمدبدایونی، ڈاکٹرمولوی وزیرخان اکبرآبادی، سیدمبارک شاہ رامپوری نے دستخط کئے۔ اس فتویٰ(فتوائے جہاد) کے شائع ہوتے ہی ملک میں عام شورش بڑھ گئی۔ دہلی میں نوے ہزارسپاہ جمع ہوگئی۔ (تاریخ عروج عہدانگلشیہ، ازذکاء اللہ، مطبوعہ دہلی)

دہلی پرانگریزوں کاقبضہ ہونے کے بعدکسی طرح یہاں سے نکل کرآپ اودھ پہنچے۔ 1859ء میں آ پ پربغاوت کامقدمہ چلا اورکالاپانی کی سزاہوئی۔ آپ نے اپنامقدمہ خودلڑااورعدالت میں کہاکہ جہاد کافتویٰ میرالکھاہواہے اورمیں آج بھی اپنے اس فتویٰ پرقائم ہوں۔

علامہ کے سوانح نگاراورالثورۃ الہندیہ(باغی ہندوستان)کے مترجم مولاناعبدالشاہدشیروانی علی گڑھی لکھتے ہیں کہ:  مولاناعبدالحق خیرآبادی نے وصیت کی تھی کہ جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تومیری قبرپرآکراس کی اطلاع دے دی جائے چنانچہ سیدنجم الحسن رضوی خیرآبادی نے مولاناکے مدفن درگاہ مخدومیہ خیرآبادضلع سیتاپوراودھ میں ایک جم غفیرکے ساتھ 15 ؍اگست 1947ء کوحاضرہوکرمیلادشریف کے بعدقبرپرفاتحہ خوانی کی (مقدمہ زبدۃ الحکمۃ، ص12، مطبوعہ علی گڑھ1949ء)علامہ فضل حق خیرآبادیؒ کاجزیرۂ انڈمان (کالاپانی)میں 1861ء میں انتقال ہوااوروہیں مدفون ہوئے۔ (ماہنامہ جام نور، اگست2007، ازمولانایٰسین اخترمصباحیؔ)

مولانااحمداللہ شاہ مدراسیؒ:

  دلاورجنگ مولانااحمداللہ شاہ مدراسی(متولد1204ھ؍1778ء-شہید1274ھ؍1858ء)چنیاپٹن تعلقہ پورناملی جنوب ہندکے نواب محمدعلی مشیروصاحب سلطان ٹیپو کے فرزند تھے۔ عہدشباب ہی میں آپ پرفقروتصوف کاغلبہ ہوااورریاضت ومجاہدہ کے لئے گھربارچھوڑکرحیدرآباددکن اورمدراس وغیرہ ہوتے ہوئے انگلستان پہنچ گئے۔ وہاں سے مصرگئے اورپھرحجاز پہنچ کرحج وزیارت کے بعدترکی وایران وافغانستان ہوتے ہوئے ہندوستان واپس آئے۔ محراب شاہ قلندری گوالیاری کی خدمت میں پہنچے اوراس حکم کے ساتھ آپ کومحراب شاہ نے اجازت وخلافت دی کہ ہندوستان کوانگریزوں کی غلامی سے ہرحال میں آزادکراناہے۔ اسی ارادہ سے آپ تقریبا1846ء کوگوالیارسے دہلی پہنچے۔ دہلی کے مشاہیرعلماء ومشائخ سے آپ نے ملاقات وگفتگوکی۔ مفتی صدالدین آزردہ نے مشورہ دیاکہ اس مہم کے لئے ماحول سازی آگرہ کے اندربہتراورمؤثرطریقے سے ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی مفتی آزردہ نے مفتی انعام اللہ سرکاری وکیل آگرہ کے نام ایک سفارشی خط بھی لکھا۔ آگرہ پہنچ کردینی وعلمی شخصیات اورسربرآوردہ حضرات سے آپ نے رابطہ قائم کیا۔ آپ کااثرروزبروز بڑھتااورپھیلتاچلاگیا۔ مجلس علماء آگرہ قائم کرکے آگرہ کے علماء کوآپ نے مربوط ومنظم کیا۔ یہ علماء آپ کے دست وبازو بن گئے۔ مولانامدراسی نے دہلی وآگرہ کے بعدمیرٹھ، پٹنہ اورکلکتہ وغیرہ کے بھی دورے کئے اورانگریزوں کے خلاف مہم کادائرہ کافی وسیع کرلیا۔ سیدخورشیدمصطفی رضوی لکھتے ہیں کہ:تحریک 1857ء کے لئے پورے ملک کوتیارکرنے میں مولاناشاہ احمداللہ کانام سرِفہرست آتاہے۔ وہ ملک کے گوشے گوشے میں دورے کرکے( انگریزوں کے خلاف )بغاوت کے لئے عوام کوآمادہ کررہے تھے۔ میلسن (Malleson)لکھتاہے کہ:بے شک ان تمام سازش کارہنمامولوی(احمداللہ )تھااوریہ سازش تمام ہندوستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ ……میں سمجھتاہوں کہ یہی شخص بغاوت کی سازش کادماغ ودست وبازوتھا۔ اپنے سفرکے دوران اُسی نے وہ اسکیم تیارکی جوچپاتی اسکیم کہلاتی ہے۔ (تاریخ جنگ آزادی ہند، مطبوعہ رضالائبریری رامپور، ص205 )

لکھنؤ، فیض آباد، شاہجہاں پورمیں مولانامدراسی نے انگریزوں سے گھمسان کی جنگ لڑی۔ آخرمیں محمدی(شاہجہاں پور)میں مولانااحمداللہ شاہ مدراسی، شہزادہ فیروز شاہ، جنرل بخت خاں، مولانافیض احمدبدایونی، ڈاکٹروزیرخان اکبرآبادی وغیرہ نے اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔ مگرراجہ بلدیوسنگھ کی غدارکی کی وجہ سے مولانامدراسی اپنی مُہم میں ناکام ہوکر1858ء میں شہیدہوگئے۔ اوربلدیوسنگھ کوانگریزوں نے پچاس ہزارکاانعام دیا۔ (ماہنامہ جام نور، اگست2007، ازمولانایٰسین اخترمصباحیؔ)

پروفیسرمحمدایوب قادری بدایونی (کراچی)لکھتے ہیں کہ:شاہ احمداللہ صاحب کی شہادت پرروہیل کھنڈکی ہی جنگ آزادی نہیں بلکہ ہندوستان کی جنگ آزادی1857ء ختم ہوگئی۔ (جنگ آزادی، مطبوعہ کراچی، ص303)

انگریز مؤرخ’’ جی ڈبلوفارسٹر‘‘لکھتاہے کہ:یہ بتادیناضروری ہے کہ وہ (یعنی مولانامدراسی)عالم باعمل ہونے کی وجہ سے مولوی تھا۔ روحانی طاقت کی وجہ سے صوفی تھا۔ اورجنگی مہارت کی وجہ سے سپاہی اورسپہ سالار تھا۔ (ہسٹری ڈی انڈین میوٹنی)

مفتی عنایت احمدکاکورویؒ: 

بطل حریت، مجاہدملت حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکورویؒ1228 ؁ھ میں قصبہ دیوہ ضلع بارہ بنکی میں پیداہوئے، ابتدائی دینی کتب اپنے آبائی قصبہ میں پڑھیں، تیرہ سال کی عمرمیں مزیدعلوم وفنون کی تعلیم کے لئے رامپورتشریف لے گئے جہاں حضرت مولاناسیدمحمدرامپوری سے صرف ونحومولاناحیدرعلی ٹونکی اورمولانانورالاسلام صاحبان سے دیگرفنون پڑھے۔ علم حدیث دہلی میں حضرت مولاناشاہ محمداسحاق سے پڑھااوران سے سندفراغت حاصل کی، پھرعلی گڑھ میں حضرت علامہ و مولانابزرگ علی مارہرویؒ سے علم معقولات کادرس لیا۔ تحصیل علوم کے بعدتدریسی زندگی کاآغازعلی گڑھ میں کیااوراپنے استاذمحترم حضرت مولانابزرگ علی کے وصال کے بعدان کے جانشین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، بے شمارتشنگان علوم کوسیراب فرمایابریلی شریف، رامپور، علی گڑھ ودیگرمقامات پردینی تدریسی اورافتاء کے میدان میں قابل قدرخدمات انجام دیں۔

آپؒ نے دینی علمی اور تحقیقی کام کے ساتھ ساتھ ملّی، قومی اورسیاسی کاموں میں مجاہدانہ کرداراداکیا، چنانچہ آپ نے1857ء کی تحریک آزادی میں فرنگی سامراج کے خلاف مجاہدین تحریک کے لئے مالی امدادواعانت کافتویٰ دیا، اس فتویٰ کی وجہ سے آپ پربغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایاگیا۔ جنرل بخت خان بریلی پہنچے اوردارالتخت دہلی کے محاذ پرشرکت کے لئے رامپوریوسف علی خان نے جنگ آزادی میں مجاہدین کی اعانت سے انکارکیاتوجنرل بخت خان نے فوج کشی کردی۔ اس جنگ میں بھی مفتی عنایت احمدکاکورویؒنے بڑھ چڑھ کرحصہ لیامولوی سرفرازعلی کے مشورے سے مرادآبادہوتے ہوئے دہلی گئے۔ وہاں ابھی تک ہنگامۂ کارزار گرم تھا۔ مفتی صاحب میدان شجاعت میں تیغ آزمائی بھی کرتے رہے اورمجلس مشاورت میں خاص طورسے شرکت بھی فرماتے رہے۔ مفتی صاحب نے دوسرے رہنمائے حریت کی معیت میں محاربۂ بریلی میں اول اول فتح حاصل کی لیکن وطن دشمن غداروں کی ناپاک حرکات کی وجہ سے بالآخرشکست کاسامنا کرناپڑا۔ شہیدان حریت کے ارواح پررحمت کے پھول نچھاورہونے کی دعائے خیرکرتے ہوئے میدان سے رخصت ہوگئے۔ آپ کو انگریزتسلط کے بعدگرفتارکرلیاگیا اوراس فتویٰ کی وجہ سے بعدمقدمہ آپ کوحبس دوام کی سزاسناکرجزیرۂ انڈمان میں بھیج دیاگیا۔ اس مقام پرآپ نے اسیری کی لیل ونہاربھی دین متین کے لئے وقف رکھے اورآپ نے ’’علم الصیغہ‘‘اور’’  تواریخ حبیب الٰہ‘‘جیسی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ ’’تقویم البلدان‘‘کااردوترجمہ کیا، مدت دراز کے بعدیہی ترجمہ آپ کی رہائی کاسبب بنا، حرمین طیبین کی حاضری کی تڑپ اورخواہش ایک عرصہ سے دل میں مچل رہی تھی۔ یہ دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ آپ 1862ء  میں اس مبارک سفرپرروانہ ہوئے مگرجدہ شریف کے قریب آپ کاجہازایک چٹان سے ٹکراکرپاش پاش ہوگیا۔ علم وفضل کے نیّراعظم، بطل حریت حضرت مفتی عنایت احمدکاکورویؒ عین حالت نمازمیں احرام باندھے سمندروں کی لہروں کی نذرہوکر7؍اپریل 1863ء کو52سال کی عمرشریف میں جام شہادت نوش فرمایا۔

مولانافیض احمدبدایونی، مولاناسیدکفایت علی کافیؔ مرادآبادی، مولانارحمت اللہ کیرانوی، مولاناوہاج الدین مرادآبادی، مولانابخش صہبانیؔ دہلوی، ان حضرات نے بھی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیااوران کی سیاسی بصیرت اورقومی غیرت وحمیت نے نے انگریزوں کے ناپاک عزائم ومنصوبے کوخاک میں ملاکرتمام ہندوستانیوں پراحسان عظیم کیاہے۔ سرپرکفن باندھ کرنکلنے والی یہی وذات وشخصیات ہیں جنہوں نے ہندوستان کوغلامیت کی زنجیرسے نکال کرہندوستان میں رہنے والے لوگوں کوآزادی کاایک عظیم تحفہ دیاہے۔ انگریزوں کویہ معلوم تھاکہ اپنی جگہ پرپہاڑ بن کررکے رہنے والے ان حضرات سے مقابلہ کرناآسان نہیں، اگران کوڈھیل دے دی جائے تووہ دن دورنہیں کہ ہم کوشکشت فاش کاسامناکرناپڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مقدس علماء کرام کی جماعت اوران کے متبعین وہمنوواؤں نے وطن عزیز کی بازیابی کے لئے جنگ آزادی کے موقع پرجوقربانیاں پیش کی ہیں وہ آب زرسے لکھے جانے کے قابل ہیں۔

مگرافسوس !!!یہ کہ ان علماء کرام کی عظیم قربانیوں کوآج بھلادیاگیا۔ ان کے علاوہ مسلم وغیرمسلم رہنماؤں کی ہمت وجرأ ت اورشجاعت وبہادری کومبارک باددیتاہوں جنہوں نے اپنے خون پسینہ کوایک کرکے انگریزوں کے خواب’’ سونے کی چڑیا‘‘کی تعبیرکوسرے سے نست ونابودکرکے انگریزوں کوبے نیل مرام اورخائب وخاسرکردیا۔ ہندوستان میں انگلستان کے بادشاہوں کی حکومت 1270ھ مطابق1858ء سے27؍رمضان المبارک1366ھ مطابق14؍اگست1947ء تک رہی پھریہ ملک 28؍رمضان المبارک 1366ھ مطابق15؍اگست1947ء کوبرٹش گورنمنٹ کے پنجے سے آزادہوکردوحصوں میں تقسیم ہوگیاچھوٹے حصے کانام پاکستان اوربڑے حصے کانام ہندستان ہے۔ اَللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤ تِی الْمُلکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ ط ائے اللہ ملک کے مالک!توجس کوچاہتاہے حکومت دیتاہے اورجس سے چاہتاہے حکومت چھین لیتاہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close