تاریخ ہند

خطاطی کا فن ،ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی وراثت

مسلم عہد حکومت میں خطاطی کاغذ کے صفحات سے نکل کر درودیوار کی زینت بن گئی

غوث سیوانی، نئی دہلی

   ہندستانی خطاطی یا INDIAN CALIGRAPHYکی لگ بھگ ایک ہزار سال کی تاریخ ہے۔بھارت میں رہنے والوں کے آباءواجداد مختلف ملکوں سے آئے تھے اسلئے وہ اپنے ساتھ مختلف تہذیبیں اور مختلف علوم و فنون لے کر آئے تھے۔ہندستانی خطاطی بھی ایک ایسا ہی فن ہے،جواگرچہ باہر سے آیا مگربھارت میں پروان چڑھا اوریہیں اس میں نئے نئے تجربے ہوئے۔یہ تنہا ایسا فن ہے جس کی شروعات ہی شاندار طریقے سے ہوئی لہذااسکی ترقی بھی خوب ہوئی۔بادشاہوں سے لے کر عوام تک نے اس مےں دلچسپی لی،نتیجہ یہ ہوا کہ یہ فن پورے ملک میں پھیل گیا ۔بھارت میں خطاطی کے شاندارنمونے ملتے ہیں۔ےہ نمونے عمارتوں،کتابوں،مخطوطوں،جنگی اسلحوں،مختلف دھاتوں کے برتنوں،سونے چاندی کے سکوں اور لکڑی کے سامانوں پر ملتے ہیں۔بعض اوقات انھیں کپڑوں پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔خطاطی کے یہ نمونے ہماری تہذیب اور تاریخ کے قیمتی سرمائے ہیں،جنھیں محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے مگر افسوس کہ اج ان کے نقوش مٹتے جا رہے ہیں۔

خطاطی کا فن

عربی رسم الخط دنیا کی دیگر رسم الخطوں سے بہت مختلف ہے۔یہ ایک طرف تو شارٹ ہینڈ ہے تو دوسری طرف جمالیاتی لحاظ سے بھی بے مثل و بے مثال ہے۔چونکہ پرانے زمانے میں آج کی طرح کمپیوٹر یا ٹائپ رائٹرکاچلن نہیں تھا لہذا سب کچھ ہاتھ سے ہی لکھا جاتا تھا۔اس تحریر میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لئے کتابت کا فن وجود میں آیا ۔کتابت کے لئے مختلف خطوط کا استعمال ہوتا تھا،جن میں خط کوفی، نسخ، نستعلیق، ثلث، گلزار، بہار، تغرا اور شکستہ زیادہ مشہور ہوئے۔ان خطوط کی الگ الگ پہچان ہے اور الگ الگ انداز، مگر حسن سبھی خطوط میں ہے۔ کتابت میں تو سیدھے انداز میں لکھا جاتا تھا مگر خطاطی کا ستعمال اس میں حسن ونکھار پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن کا نزول مکہ اور مدینہ میں ہوا، قراءت مصر میں ہوئی اور خطاطی کا کام ایران میں ہوا۔ اہل عرب دیہاتی زندگی جیتے تھے جن کے اندر قرآن کریم کا نزول ہوا اور وہ اسے سیدھے طریقے سے درختوں کے پتوں اور جانوروں کے چمڑوں و ہڈیوں پر لکھ کیا کرتے تھے۔ ان کی زندگی جس طرح سے تصنع وبناوٹ سے پاک تھی اسی طرح انھوں نے اس کی تلاوت و کتابت میں بھی کسی قسم کا تصنع روا نہیں رکھا مگر جب اسلام کی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور دوسری اقوام بھی مسلمان ہوئیں تو انھوں نے قرآن کی تلاوت اور کتابت میں بھی کئی تجربے کئے۔ جہاں مصر میں قرآن پڑھنے کے لئے ایک مخصوص اسٹائل کی ابتدا ہوئی وہیں ایران اور سط ایشیا میں اسے لکھنے پر خاص محنت کی گئی۔ اہل ایران فنون لطیفہ میںمہارت رکھتے تھے اور خطاطی، مصوری،سنگ تراشی، عمارت سازی میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے قرآن لکھنے کے لئے خوبصورت رسوم کی ایجاد کی اور اس طرح سے کتابت وخطاطی کے فن کو سنورنے کا موقع ملا۔

خطاطی کے فن کا عروج

عربی وفارسی رسم الخطوں کا استعمال اولاً صرف کاغذوں اور چمڑوں کے ٹکڑوں پہ ہوتا تھامگر بعد میں یہ مکانات کی سجاوٹ کے کام بھی آنے لگا۔ مسلمان جس دور میں بھارت آئے اور یہاں مسلم سلطنتوں کی بنیاد پڑی اس وقت وسط ایشیا اور ایران میں خطاطی کو کاغذوں سے نکال کر مکانات کی زینت بنایا جانے لگا تھا۔ کوفہ وبصرہ سے لے کر سمرقند وبخاراتک بے شمار ایسی عمارتےں موجود تھیں جن کے درودیوار کو قرآنی آیات اور عربی وفارسی اشعار سے مزین کیا جاچکا تھا۔ البتہ یہ فن جب بھارت آیا تو اس نے ایک الگ انداز اختیار کیا جو وسط ایشیا ے میل کھاتا تھا اور اس سے الگ بھی تھا ۔اس کے نمونے بھارت کی تاریخی عمارتوں میں عام ہیں۔دلی کی پہلی قابل ذکراسلامی عمارت مسجد قوت الاسلام ہے،جسکی تعمیر ۶۰۲۱ ءکے بعد ہوئی۔اس مسجد کی دیواروں،محرابوں،چھتوں اور منار کی سجاوٹ میں خطاطی کا بھرپور استعمال ہوا ہے۔اس مسجد کا مئذنہ قطب مینار ہے جس میں انتہائی حسن اور نزاکت کے ساتھ قرآنی آیات اور عربی عبارتیں نقش کی گئی ہیں۔ مسجد کا ایک گیٹ سلطان علاءالدین خلجی کے دور میں تعمیر ہوا جسے علائی دروازہ کہا جاتا ہے۔اس دروازے پر عربی عبارت اس طرح تحریر کی گئی ہے گویا پتھر نہیں موم پر لکھی گئی ہو۔انداز بھی ایسا ہے جیسے آیات قرآنیہ اوپر سے نیچے کی جانب نازل ہورہی ہوں۔یہاں موجود قبروں پر بھی خطاطی کے شاندار نمونے ہیں۔ اسی دور میں اجمیر کی مسجد ڈھائی دن کا چھونپڑہ تعمیر کی گئی تھی اور اس پر جو خطاطی کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں انھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سب ابتدائی دور کے نمونے ہیں۔ بعد کے زمانے میں اسے مزید ترقی ہوئی، نئے نئے تجربے ہوئے اور اس نے وسط ایشیا سے الگ انداز اپنایا جو ہندوستانی رنگ تھا۔ مشترکہ تہذیب کا رنگ جو اس تمدن کی خصوصیت رہی ہے۔ مسجدوں کے علاوہ مقبروں، محلوں اورگنبدوںکی دیواروں کی سجاوٹ بھی شاندار خطاطی سے کی گئی ہے۔آگرہ کا تاج محل اور قلعہ،فتح پور سکری کے محلات،دلی کے لال قلعہ کی عمارتیں،ہمایوں،اکبر اور اعتمادالدولہ کے مقبرے سے لے کر لکھنو کے امامباڑوں تک اور کشمیر کی خانقاہوں سے لے کر جنوبی ہند کے محلوں تک ہر جگہ خطاطی کے شاندار نمونے ملتے ہیں۔

مغل دور میں خطاطی کے شاہکار

اسی طرح عہد سلطنت اور مغل دور میں جو تصویریریں بنائی گئیں ان میں بھی خطاطی کے شاہکار موجود ہیں۔ایسی بے شمار تصویریں میوزیموںمیں موجود ہیں، جن میں خطاطی نظر آتی ہے۔جو کتابیں مغل عہد میں مصور کی گئیں ان میں اہم نام رزم نامہ، (مہابھارت) رامائن، کلیلہ ودمنہ، بابر نامہ وغیرہ ہیں۔ ان سبھی کتابوں میں خوبصورت خطاطی ہے۔اسی طرح حضرت امیر خسرو کی

”تاریخ علائی “میں خطاطی کا حسن موجود ہے۔یہ کتاب نیشنل میوزیم،دہلی میں موجود ہے۔عہدوسطی کی بہت سی کتابیں ہیں جن میں دیدہ زیب خطاطی ہے۔ خطاطی صرف عمارتوں اور کتابوں تک محدود نہیں بلکہ عجائب گھروں میں رکھی ہوئی تلواروں اور ڈھالوںمیں بھی ملتی ہے۔اسی طرح اس دور کے برتنوں پر بھی موجود ہے ،جو غالباً سجاوٹ کے کام میں آتے تھے۔اس دور کے سونے چاندی کے سکے جنھیں اشرفی ودرہم کہا جاتا تھاان پر بھی خطاطی میں لفظوں کو ابھارا گیا ہے۔ اس قسم کے برتن، سکے، لڑائی کے سازوسامان اور استعمال کی دیگر اشیاءآج بھی دنیا بھر کے عجائب گھروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔چند سال قبل ٹراونکور (کیرل) کا ایک مندر چرچے میں تھا، جہاں چھ تہ خانوں سے اربوں روپے کے خزانے برآمد ہوئے ہیں۔ان خزانوں میں سونے کے تغرے بھی شامل ہیں۔سونے کے ان پتروں پر عربی فارسی عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ تغرے صرف اس لئے قیمتی نہیں ہیں کہ سونے کے ہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ان پرخطاطی کے شاندار نمونے ہیں۔  عہد وسطی میں چونکہ خطاطی کا فن عروج پر تھااور اسکی مانگ بھی زیادہ تھی لہذا بڑے بڑے خطاط پیدا ہوئے۔ان خطاطوں میں کئی نام اہم ہیںجیسے امیر خسرو کے بھائی علاءالدین علی شاہ،سلطان علی شیرازی،چندربھان برہمن، میر عبداللہ ترمذی، رائے پریم چند، منشی لکشمن سنگھ، مرزا اسد بیگ وغیرہ۔فنکار خطاطوں کے علاوہ کئی بادشاہ اور شہزادے بھی اس میں مہارت رکھتے تھے۔جہانگیر، شاہجہاں، اورنگ زیب،شہزادی زیب النسائ،شہزاداہ دارا شکوہ اچھے خطاط تھے۔انھوں نے متعدد کتابیں اور قرآن کریم کی خطاطی کی تھی۔ معروف خطاطوں اور شہزادوں، شہزادیوں کے علاوہ ایسے خطاط بڑی تعداد میں تھے جو شہروں میں اپنی دکان کھولے بیٹھے تھے اور ان کے پاس قدر دانوں کی لائن لگی رہتی تھی۔

بھارت کی مشترکہ تہذیب اور خطاطی کا فن

جامع مسجد کی دیواروں پرسنگ مرمر میں سنگ موسی کے ذریعے خطاطی، تاج محل کی دیواروں پرقیمتی پتھروںمیں خطاطی اوربادشاہ اکبر و اعتمادالدولہ کے مقبروں کی خطاطی کا کوئی جواب نہیں۔اسی طرح قطب مینار کی خطاطی اور عہدغلامان کی عمارتوں پر کی گئی خطاطی بے مثل وبے مثال ہے اوراس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔خطاطی کتابوں اور تصویروں میں بھی خوب ملتی ہے۔ان کتابوں میںجہاں بابر نامہ، آئین اکبری، گلستاں، بوستاں اور کلیلہ ودمنہ ہیں ، وہیںخالص ہندستانی مذہبی کتابیں بھی ہیں جیسے مہابھارت،رامائن اور پنچ تنتر وغیرہ۔گویا ان کتابوں اور اس فن کے ذریعے قومی یکجہتی اورملی جلی ہندستانی تہذیب کا سبق بھی ملتا ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن بادشاہوں نے قرآن کی خطاطی کرائی اور سونے کے پانی سے مزین کرایا انھیں نے رامائن اور مہابھارت کی بھی خوبصورت خطاطی کرائی۔ اسی عہد میں بائبل کی بھی خطاطی ہوئی۔واشنگٹن کے میوزیم میں آج بھی عہد لودھی کا بائبل کا نسخہ موجو د ہے۔

اس فن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ فنکار مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اور ایک طرف جہاں چندربھان برہمن، رائے پریم چنداور منشی لکشمن سنگھ جیسے ہندو خطاط تھے، جو اسلامی موضوعات پرخطاطی کرتے تھے تو دوسری طرف مسلم خطاط مہابھارت ،رامائن اورپنچ تنتر کی خطاطی کرتے تھے۔گویا ہندستان میں یہ فن مکمل طور پر سیکولرزم اور قومی یکجہتی کی مثال بن گیا تھا۔

خطاطی کے فن کو محفوظ کرنے کی ضرورت

خطاطی کا فن آج دم توڑ رہا ہے۔آج کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اس طرف دھیان دے،مگرکچھ لوگ آج بھی اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے تحت چلنے والے ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اس فن کو زندہ رکھنے کے لئے کو شش کر رہا ہے۔اسی طرح کئی ریاستوں کی اردو اکیڈمیاں اور کچھ دوسرے ادارے کتابت و خطاطی سکھانے کے سینٹرچلارہے ہیں۔

خطاطی اصل میں مصوری سے بہت قریب فن ہے۔یہ فن لاجواب ہے،دلکش ہے،شاندار ماضی رکھتا ہے،مگر اسکا مستقبل بھارت میں تاریک ہوتا جارہاہے۔ماضی میں اس فن نے جتنا عروج دیکھا ہے، حال اتنا ہی زوال پذیر ہے۔آج کوئی اسکا پرسان حال نہیں۔آج کل اس فن کے جانکار بہت کم ملتے ہیں ہو سکتا ہے مستقبل میں انکی تعداد میں مزید کمی واقع ہو جائے،مگر اس فن کے لئے ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب خطاطی کے لئے کچھ کمپیوٹر سافٹ ویر آ گئے ہیں اور ہو سکتا ہے اسی بنےاد پر یہ فن زندہ رہے مگر مشین کے کام کو آرٹ نہیں کہا جا سکتا۔ آرٹ تو صرف انسانی ہاتھ کے کام کو ہی کہہ سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

غوث سیوانی

غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close