تاریخ ہند

ہندوستانی تہذیب پر مسلمانوں کے اثرات (قسط اول)

آصف علی

ہندو مذہب

ہندومت کسی ایک مذہب کا نام نہیں ہے، بلکہ اس میں مختلف و متضاد عقائد و رسوما ت، رجحانات، تصورات اور توہمات کے مجموعہ کا نام ہے۔ یہ کسی ایک شخص کا قائم کردہ یا لایا ہوا نہیں ہے، بلکہ مختلف جماعتوں کے مختلف نظریات کا ایک ایسا مرکب ہے، جو صدیوں میں جاکر تیار ہوا ہے۔ اس کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ الحاد سے لے کر عقیدہ وحدۃ الوجود تک بلا قباحت اس میں ضم کر لئے گئے ہیں۔ دہریت، بت پرستی، شجر پرستی، حیوان پرستی اور خدا پرستی سب اس میں شامل ہیں۔

مندر میں جانے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے جانے سے مندر ناپاک ہوجاتا ہے۔ وید کا سننے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے متعلق حکم ہے کہ اگر وید سن لے تو اس کے کانوں میں پگھلاہوا سیسہ ڈالاجائے۔ غرض ہندو مت ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک نظام ہے، جس کے اندر عقائد، رسوم  اور تصورات کی بہتات ہے۔ اسے ویدی مذہب کی ترقی یافتہ، توسیع یافتہ اور تبدیل شدہ شکل بھی کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ وہ مقام جہاں سے یہ پھیلا ہے وہ بہر حال ویدی مذہب ہی ہے۔

برصغیر کی ہندو تہذیب

یہ تہذیب کا مسلمہ قانون ہے کہ اعلیٰ تہذیب کے اثرات کمتر تہذیب پر پڑتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قدیم زمانے اور قرون وسطی کے وسط تک برصغیر کی تہذیب ایک اعلیٰ مقام رکھتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں وہ تمام عناصر پائے جاتے ہیں جو کہ کسی تہذیب تمدن کی تشکیل و ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ مثلاً یہاں بہترین قدرتی وسائل جن میں زرعی زمین، جس پر بغیر کسی مشقت کے پیداوار حاصل ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ موسم اعتدال پزیر، بارشوں کی کثرت کی وجہ سے کسی نہری نظام کی نظام کی ضرورت نہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر وسیع پر جنگل، جس میں ہر طرح کے جانوروں اور دوسرے وسائل کی فروانی۔ اس کے علاوہ سونے چاندی کے علاوہ ہر طرح کی دھاتوں کی کانوں کے علاوہ ہیرے جواہرات کی کانیں تھیں۔ جب کہ غذا کی فراہمی وسیع پیمانے پر ہوتی ہے تو اس کالازمی نتیجہ آبادی کا وسیع پھیلاؤہوتا ہے اور تہذیب و تمدن کی نمود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ یہاں ہر دور میں علمی و تمدنی ترقی جاری رہی۔ اس لیے یہاں ہر پیشہ کے کاریگر کثرت سے دستیاب تھے، جیسا کہ بابر لکھتا ہے کہ

٫٫ امیر تیمور نے پوری دنیا سے کاریگر جمع کیے تھے۔ جب کہ مجھے یہاں کے تعمیراتی کاموں کے لیے کاریگر دستیاب ہوئے اس سے کہیں زیادہ تھے، ،

جب روزگار کی فکر نہ ہو تو ذہنی بالیدیگی بڑھتی ہے اورنت نئے خیالات جنم لیتے ہیں اور تہذیب و تمدن میں نئے نت انکشافات و خیالات جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہاں تعمیرات، سائنس، فلکیات، مذہب اور فلسفہ میں عظیم الشان ترقیات ہوئیں۔ ان کی علمی مہارت کا تو البیرونی نے بھی اعتراف کیا ہے۔ یہاں سے مختلف انکشافات عربوں نے حاصل کیا اور یورپ تک پہنچایا۔ دنیا کے سب سے بڑےمذہب ٫بدھ مت، نے یہیں جنم لیا۔ جس کے پیرؤں کی تعداد دنیا میں کسی بھی اور مذہب سے زیادہ ہے۔ یہ اور بات ہےکہ بدھ مت جہاں بھی گیا وہاں کے لوگوں نے اسے اپنے عقائد اور ضرورتوں کے مطابق تبدیل کرلیا،

ہند کے مذہب اور تہذیب میں دوسری قوموں کی شمولیت

ہندوستان اپنی ذرخیری، وسائل کی فراہمی اور سونا چاندی کی بہتات کی وجہ سے ہمیشہ ہی وسط ایشیا کے لوگوں کے لیے کشش کا باعث رہا ہے۔ یہی وجہ ہے اس علاقہ پر ماقبل سے ہی وسط ایشاءپر حملے ہوتے رہے ہیں۔ یہاں کی تہذیب کا چوں کہ دنیا کی ترقی یافتہ تہذیبوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس لیے حملہ آور حملہ آور ہو نے کے بعد چند در چند نسلوں کے بعد ہی اپنی شناخت گم کرکے مقامی لوگوں میں اس طرح فنا ہوگئے کہ انہیں یاد بھی نہ رہا کہ ان کے آبا بیرونی نژاد تھے اور یہ مقامی لوگ ہیں یا بیرونی نژاد۔ کیوں کہ انہوں نے مقامی مذہب اور ثقافت اختیار کرلی اور انہیں گوتریں دیں گئیں اور ان کا نسلی تعلق کسی دیومالائی شخصیت سے جوڑ دیا گیا۔

قدیم ہند میں فلسفہ اور مذہب اور سائنس کا عروج 

مذہب کے علاوہ برصغیر میں فسلفہ اور سائنس کا ظہور بھی ہوا۔ ان لوگوں نے تعمیرات، دھاتوں کی صفائی اور ان کے استعمال میں نمایاں ترقیات کیں۔ خاص کر یہاں کے لوگوں نے ریاضی میں بہت ترقی کی۔ بعض شواہد کے مطابق صفر بھی ان کی اختراع ہے اور ان کے پاس سے ہی یہ عربوں تک پہنچا۔ انہوں نے فلکیات میں بھی قابل ذکر ترقی تو نہیں کیں ، کیوں کہ یہاں کے لوگ بت پرست تھے اور ہر فلکی اجزام کو کسی نہ کسی دیوتا کا مظہر اور زندہ ہستی مانتے تھے۔ باوجود ان کی ضعیف اعتقادی سے یہاں نہایت ترقی پسندانہ اور حقیقت پسندانہ بہت سی ایسی آوازیں بلند ہوتی رہیں ،لیکن ان آوازوں کو ان کے عقیدہ کی بنا پر پزیرائی نہیں ملی، لیکن اس کے باوجود یہاں قدیم زمانے میں آزاد خیالی دنیا کے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ تھی۔

یہاں ترقی یافتہ تمدن ہونے کی وجہ سے جو قومیں حملہ آور ہوئیں اور فتح یاب ہونے کے باوجود وہ جلد ہی مقامی مذہب اور ثقافت کے ہاتھو سرنگوں ہوگئیں۔ حملہ آور ہونے والی قومیں ترقی یافتہ تہذیب و تمدن کی حامل نہیں تھیں اور برصغیر کے مقابلے میں ان کا تمدن بہت پست تھا اور ان کا مذہب بھی بہت سادہ تھا۔ اس لیے جلد ہی مقامی ثقافت و مذہب کے آگے سرنگوں ہوگئے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ باپ دادا کے نام غیر ملکی ہوتے تھے اور پوتا کا نام مقامی ہے اور ان کے سکوں میں مقامی دیوتا نظر آتے تھے۔ اس کا اندازہ ان کے سکوں کے مطالعہ سے بخوبی ہوتا ہے، خاص طور پر آریاﺅں اور یونانیوں کے بعد جو قومیں حملہ آور ہوئیں وہ جلد ہی مقامی قوموں میں جذب ہوگئیں اور  انہوں نے راجپوتوں کا درجہ حاصل کرلیا یا جاٹ کہلائیں۔

دوسری قوموں کے اثرات ہند پر

یہ فطرت کا قانون ہے کہ نچلی تہذیبیں اعلیٰ تہذیبوں کا اثر قبول کرتی ہیں۔ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ہے کہ اعلی تہذیب نے نچلی تہذیب کا اثر قبول کیا ہو۔ برصغیر پر حملہ آور قوموں میں دو قومیں ایسی تھیں جو کہ ترقی یافتہ تھیں ، ان میں ایک ایرانی اور دوسرے یونانی۔ ایرانی اپنے وقت کی ترقی یافتہ قوم تھی۔ ایرانیوں نے صرف کچھ عرصہ کے لیے برصغیر کے مغربی حصہ کو اپنے قبضہ کیا تھا،مگر ان کےاثرات ہندوستان پر واضح طور پر نظر آتے ہیں ،خاص کر موریہ عہد میں۔ یاد رہے موریا عہد سے پہلے، علاوہ وادی سندھ کی تہذیب کے، ہمیں کسی قسم کے اثری آثار نہیں ملتے ہیں۔ موریا عہد کے جو بھی آثار ہمیں ملتے ہیں ان پر ایرانی چھاپ صاف نظر آتی ہے. مثلاً اشوک کی تعمیرات میں۔ اس طرح یونانیوں کے جو تذکرے ملے ہیں ان موریاؤں کے دربار کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور فوجوں کی ترتیب وغیرہ میں ایرانیوں کی چھاپ صاف نظر آتی ہے۔

یہاں حملہ آور قوموں نے کسی قسم کے آثار نہیں چھوڑے ہیں۔ سکندر کا حملہ جو کہ یورپین کے نزدیک بہت اہم سمجھا جاتا ہے مگر اس کے آثار تو دور کی بات ہے یہاں کی کتابوں یا کتبوں میں میں اس کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا ہے، سکندر کی جو کچھ تفصیلات ملی ہیں وہ صرف یونانی مؤرخین کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ بعد کے یونانی جنہیں سیتھیوں کے حملے کی وجہ سے باختر سے نقل مکانی کرنی پڑی اور انہوں نے وادی کابل، شمالی اور وسط ہند اور وادی سندھ پر قبضہ بھی کرلیا تھا۔ مگر ان کے اثرات کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کچھ عمارتوں اور ٹیکسلا کے علاقوں میں کچھ بدھ کے مجسموں میں ملتے ہیں۔ البتہ ان کے سکے چوں کہ ہند کی نسبت بہت ترقی یافتہ تھے اس لیے یہاں کے راجوں نے نے ان کی تقلید کی اور اپنے سکوں کو یونانی سکوں کی طرح ڈھالنے لگے۔

یونانیوں کی زبان اور رسم الخط کچھ زیادہ دیر تک زندہ رہی۔ کیوں کہ آنے والے حملہ آرورں مثلاً کشان اور سیتھیوں نے اسے اپنے سکوں پر استعمال کیا ہے۔ یونانیوں نے باختر میں ہی یونانی دیوتاﺅں کو بھلا کر بدھ مذہب اختیار کرلیا تھا۔ مگر ہند میں آکر انہوں نے بدھ مذہب کے زوال کے ساتھ ہی اسے خیرباد کہہ کر مقامی مذہب اختیار کرلیا تھا۔ انہوں نے پہلے ہی مقامی ناموں کو استعمال کرنا شروع کیا اور جلد ہی ہندؤں میں اس طرح غائب ہوگئے کہ ان کے بارے صرف اتنا ہی معلوم ہوگیا کہ یون نام کی ہندؤں کی ایک ذات ہے۔

تنگ نظری

برصغیر کے لوگوں میں وسعت اور آزاد خیالی کے باوجود ایک نوع کی تنگ نظری بھی آگئی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم ہیں اور علم و فضل میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ہے اور یہاں کے لوگ ہر معاملے میں بڑھے ہوئے ہیں۔ جب ان کا سامنا البیرنی سے ہوا تو وہ اس کے علم سے حیرت زدہ رہ گئے۔

مسلمانوں کے برصغیر پر اثرات

مسلمانوں کی آمد کے بعد برصغیر کے لوگوں پر کیا اثرات پڑے ؟یہ ایک بڑا سوال ہے اور اس کا جواب اتنا آسان نہیں ہے۔ جتنا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ مسلمانوں کی آمد کے بعد اردو وجود میں آئی۔ حالانکہ اردو کا بنیادی ڈھانچہ ہند آریائی ہے اور برصغیر کے جس گوشہ میں میں چلے جائیں وہاں کی مقامی زبان جس کو آپ نہیں جانتے ہوں اور لب لہجہ مختلف ہو۔ مگر چند دنوں کے بعد آپ کو بہت سے الفاظ سمجھ میں آنے لگیں گے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اردو کے الفاظ قدیم آریائی زبان کے ہیں اور اردو میں آکر ان کا لہجہ اور استعمال بدل گیا ہے۔ اگرچہ قدرتی طور پر مسلمانوں یہاں آئے تو انہوں نے غیرملکی زبان فارسی اور کسی حد تک اس میں عربی و فارسی الفاظ دخیل ہوگئے۔ اور جب فارسی دانوں کا میل جول مقامی لوگوں سے ہوا تو کچھ الفاظ ان کی زبان میں آگئے۔ اور یہ استمال برصغیر کے ہر علاقہ میں ہوا اور اس کا اثر مقامی بولیوں پر بھی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کے ہر قطعہ میں ایک اردو داں طبقہ وجود میں آیا۔ اور ان کی اردو کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مقامی لہجہ کے زیر اثر تھی۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی میں نقل و حرکت اور کتابوں کی ترسیل شروع ہوئی تو شہری طبقہ کی زبان مزید نکھری۔ یہی وجہ ہے ہر ترقی یافتہ خطہ کی زبان کے بارے میں یہ دعوی کیا گیا کہ اردو کا مولد ان کی زبان و علاقہ ہے۔ یاد رہےکہ انسویں صدی عیسوی سے پہلے ہندی، اردو کو ہی کہا جاتا تھا اور یہ عربی اور دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ مگر فورٹ ولیم کالج میں جان گلگرسٹ نے ایک کتاب للوجی سے لکھوائی جس میں عربی اور فارسی الفاظ نکال کر اس کی جگہ سنسکرت کے الفاظ استعمال کئے گئے۔ اس طرح ہندی وجود میں آئی۔ ان دونوں کا صرف الفاظ کا خزانہ مختلف ہے اور باقی تمام قوائد و قاعدے مشترک ہیں۔

مسلمان جب ب برصغیر میں آئے تو یہاں پردے کا رواج نہیں تھا، مگر مسلمان تہذیب و اثر سے ہندوؤں میں پردے کا استعمال شروع ہوا۔ مگر یہ زیادہ تر دہلی اور اس کے ارد گر کے ان علاقوں جہاں مسلمانوں کا اثر و رسوخ زیادہ تھا۔ مسلمانوں میں بھی پردہ مقامی لوگوں میں نہیں تھا، ان میں بھی صرف تعلیم یافتہ لوگوں میں تھا اورآج بھی ہے۔ خاص کرہندوستان و پاکستان کی مقامی قومیں اپنے علاقہ میں تو کسی قسم کا پردہ نہیں کرتی ہیں۔ ہاں دوسرے علاقہ میں یا اجنبیوں کے سامنے پردہ کرتی ہیں۔

مسلمان جب پر صغیر میں آئے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں کے کثیر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ خاص کر بدھ قوموں نے بغیر کسی مزاحمت کے اسلام قبول کیا۔ مثلاً شمالی ہند جہاں بدھوں کی اکثریت تھی۔ مگر اس کے باوجود مسلمان برصغیر میں ہندو مت کو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا سکے. مگر بدھ مت کے خاتمہ کا سبب مسلمان بنے۔ بدھ مت کے ماننے والے برصغیر کے اس علاقہ میں آباد تھے جہاں برصغیر میں مسلمانوں نے قبضہ کیا۔ جس وقت مسلمان برصغیر آئے اس وقت برصغیر میں باوجود اس کے ہندو مت بدھ مت کے مقابلے طاقت ور ہوچکا تھا۔ مگر اس کے باجود بدھ مت قائم و دائم تھا۔ خاص کر وادی کابل، وادی سندھ اور بنگال کے علاقہ میں علاقہ میں ان کی کثیر تعداد بدھ مت سے تعلق رکھتی تھی۔ پہلے ہنوں نے ان امن پسند لوگوں کا قتل عام کیا اور جو باقی بچے ان کا خاتمہ غزنوی دورمیں ہوا،باقی ماندہ بدھوں نے اسلام قبول کرلیا۔

اس طرح بنگال، بہار  کے علاقہ میں بدھ مت کثیر تعداد میں آباد تھے ان کا قتل عام مسلمانوں کی فوجوں نے کیا۔ یہاں تک کہ وہ برصغیر میں نیست و نابود ہوگئے۔ پشاور میں کنشک کا عظیم مینار باقی تھا۔ مگر اسے جلد ہی آگ لگا کر نیست و نابود کردیا گیا۔ اس طرح باقی ماندہ بدھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس طرح بدھ مت برصغیرسے ہمیشہ کے لیے سے نیست ونابود ہوگیا۔ مگر ہندو مت اتنا سخت جان تھا کہ اس کو مسلمان نیست و نابود نہیں کرسکے۔ بس کچھ ہی لوگ اسلام لائے۔

قدیم زمانے میں برصغیر کے علم و ادب کا چرچا تھا۔ ان کی علمی خدمات اوپر گنائی جاچکی ہیں اور دوبارہ ذکر کرنا فضول ہے، یہ علمی سرگرمیاں ان میں مسلمانوں کی آمد تک پورے شباب پر تھیں اور جب تک مسلمان ان کے اندر نفوز نہیں کئے تھے برصغیر کے ہندوؤں میں علمی، ادبی، سائنسی اور تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں بلکہ زور شور سے جاری تھیں۔ ان میں بہت سی یونیورسٹیاں جاری تھیں۔ جو کہ ٹیکسلہ، نالندہ، گیا، اجین قنوج اور دوسرے شہروں میں تھیں ، ان میں ٹیکسلہ اور نالندہ یونیورسٹیاں عظیم تر تھیں۔ مگر محمود غزنوی کے اور بعد میں غوریوں کے حملے سے ہند کے ٹیکسلہ دوسرے علمی ادارے تباہ و برباد کردیے گئے۔

برصغیر میں قدیم زمانے میں صرف چار ذاتیں تھیں اور وقت کے ساتھ بے شمار ذاتیں وجود میں آگئیں۔ بقول ابسن کے برصغیر میں ذات کی بنیاد پیشے پر تھی اور اس کا تعلق لازمی طور پر مذہب کا حصہ نہیں ہے۔ اگرچہ ذات کو ایک تقدس حاصل تھا، تاہم مسلمانوں کی آمد سے پہلے ایسی مثالیں ملتی تھیں کہ پیشہ کی بنیاد پر ذات میں تبدیلی ہوئی۔ مثلا کوئی برہمن راجہ بننے کے بعد چھتری بن گیا یا کوئی چھتری برہمن بن گیا یا کسی راجہ نے کسی کی خدمات سے  اس کی ذات کوتبدیل کردیا، یا اس کا درجہ بڑھا دیا اور یہ عمل اس علاقہ میں بھی جاری رہا جہاں مسلمانوں کا اثر و رسوخ نہیں قائم ہوا۔ مثلاً کانگڑہ کے پہاڑی علاقہ میں جہاں انگریزوں کی آمد تک وہاں یہ روایت تھی کہ راجہ نے کسی سے خوش ہوکر اسے اعلیٰ ذات میں شامل کر دیا یا ناراض ہوکر اسے کمتر ذات میں شامل کردیا۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی آمد کے بعد ہندوؤں نے اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے ذاتوں شکنجہ کو سخت کر دیا.

ابسن نے بالکل درست کہا کہ برصغیر میں ذات سے زیادہ تغیر پزیر کوئی نہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ذات کا مذہب سے لازمی تعلق نہیں ہے اور اس کا تعق کسی نہ کسی طرح پیشہ سے ہے۔ پیشہ میں تبدیلی کے ساتھ ہی ذات میں بھی تبدیلی ہوجاتی ہے اور ذات کی تبدیلی کسی فرد واحد کی بات نہیں بلکہ پوری برادری میں ذات کی تبدیلی ہوتی ہے اور یہ عمل کئی نسلوں میں ہوتا۔ ابسن نے یہ بات ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے کہی تھی، لیکن یہ تبدیلیاں مسلمانوں میں بھی واقعہ ہوئیں ہیں ،

ابسن نے جن تبدیلی کی مثالیں دیں ان کے مطابق کوئی برادری پہلے پیشہ میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ پابندیاں یا شرائط پر عمل درآمد ہونا شامل ہے۔ مثلا اگر کوئی برہمن یا راجپوت غربت کی وجہ سے اپنا پیشہ تبدیل کرکے کھیتی باڑی کرتا ہے تو وہ برہمن سے گر کر جاٹ بن جاتا ہے اور اس کے بعد وہ بیواﺅں کی شادی بھی کرنے لگتا ہے۔ یا کوئی چمار اپنا کام چھوڑ دیتا ہے اور کپڑا بننا شروع کردیتا ہے تو اس کی ذات میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔

  برصغیر میں ٫خاندان، معاشرے کی بنیاد ہے اور کوئی درمیانی تفریق یا خاندان کا کوئی فرد اپنے آبا اجداد سے جدا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ فرد کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ ماں باپ کی اولاد اور اس کے پیچھے کی پشتیں ، جن سے وہ پیدا ہوا ہے اور اس کے آگے کی وہ جھولیں جو اس کے بعد آنے والی ہیں۔ یہاں ذات اور قبیلہ کی اہمیت ہے اور فرد کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے پیچھے یہ نظریہ ہے کہ فرد کچھ نہں ہے سب کچھ خاندان یا قبیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے برصغیر میں پیشے کی تبدیلی ہو، کسی رواج میں تبدیلی یا مذہب کی تبدیلی اس کاتعلق فرد واحد سے نہیں بلکہ پوری برادری اس کا فیصلہ پنچایت یا جرگہ میں کرتی تھی۔ اس لیے اس قبول کوفرد واحدنے قبول نہیں کیا بلکہ کسی علاقہ کے تمام برادری اور قبیلے اس پر عمل کرتے تھے۔

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. یہ کہنا کہ بہار اوربنگال میں بودھوں کا مسلمانوں نے قتل عام کیا،انتہائی بے خبری اورغلط معلومات پر مبنی ہے، مسلمانوں کی آمد سے قبل شنکر آچاریہ کی ہندومت کے احیاء کی تحریک کے تحت بدھوں کا قتل عام اورصفایاہوچکاتھا۔

متعلقہ

Back to top button
Close