تاریخ ہند

شہید اعظم ٹیپو سلطان سے انگریز خائف رہتے تھے!

’ٹیپو جس قدر بہادر تھا اسی قدر خدا ترس اور بے تعصب بھی۔ اس کی نگاہ میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی برابر تھے اور کسی کے مذہب سے وہ کوئی تعرض نہیں کرتا۔ وطن اور قوم کے شہیدوں میں اس حد تک بلند مرتبہ اور کوئی دکھائی نہیں دیتا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

مسلم حکمران: ظالم یا مظلوم؟

یوگی حکومت کے وزراءکو پہلے یہ جان  لینا چاہئے کہ یوگی آدتیہ ناتھ جس گورکھ ناتھ مٹھ سے آتے ہیں اُس مٹھ کی زمین نواب سراج الدولہ نے عطیہ میں دی تھی۔ 1994ء میں آدتیہ ناتھ کے پیش رو، مہنت اویدناتھ نے آصف الدولہ کی نسل سے تعلق رکھنےوالے انجم قدر کی عزت افزائی بھی کی تھی۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا تھا کہ گورکھ ناتھ مٹھ کی زمین مسلم حکمراں سراج الدولہ نے دی تھی۔ کم از کم یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کے کابینی رفقاء کو تو مسلم حکمرانوں کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ 

مزید پڑھیں >>

ہندستان کی براہمنیت

یوں توبراہمنوں کے مطابق انکے دیوتائوں کی تعداد چالیس کروڑ ہے یعنی دیوتائوں کی تعداد پجاریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور گائے ان دیوتائوں کی سردار ہے  ہندو مت کے پیروکار اگر جانور وں مثلا ناگ، ہنومان اور بندروں کی پرستش کرتے ہیں تو وہ درختوں ، پتھروں ، دریائوں کے سنگم، منبع، سورج، چاند، اور انگنت دوسری چیزوں کی پوجا بھی کرتے ہیں مزید یہ کہ وہ علم، موت، دولت وغرہ کو بتوں کی شکل دیتے ہیں اور انہیں دیوتا مان کر انکی پوجا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عدم تشدّد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود تشدّد کے شکار

عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود ہی ان دنوں متعصبانہ، فرقہ وارانہ اور جارحانہ ذہنیت کے لوگوں کے نشانے پر ہیں، ایسے میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات او رنظریات پرعمل تو دور ان کی شناخت تک مٹانے کے لئے یہ لوگ درپئے ہیں ۔ ان کے قاتل کو نہ صرف بے گناہ بلکہ مسیحا تک قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے قاتل کی جگہ جگہ مجسمہ لگانے اور ان کی عقیدت میں مندر تک تعمیر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

شیر کی ایک دن کی زندگی!

میسور کے نام سے تقریباً قارئین واقف ہی ہونگے یہ ہندوستان کی ایک ریاست کا نام تھا مگر آجکل ایک جدید شہر کا نام ہے ۔دنیا اس شہر کے نام سے بہت اچھی طرح واقف ہے جسکی ایک اہم ترین وجہ وہاں کہ سلطان حیدر علی کے صاحبزادے فتح علی ہیں جنہیں دنیا ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار: ٹیپو سلطانؒ

آج ہمارے برادران وطن کو ٹیپو کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں وہ انگریزوں کے ٹیپو اور اس کی جراء ت وہمت اور اس کی مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد سے بعض وعناد اور اس کی وجہ سے اپنی حکومت سازی میں جو رکاوٹیں در پیش ہورہی تھیں ان کا سب کا نتیجہ تھا، جس کی رو میں بہہ کر اس عظیم مسلمان حکمراں اور سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ملک کے سپوت کے تعلق زبان درازی کی کوشش یا تو یہ تاریخی حقائق سے عدم واقفیت یاتعصب ذہنی کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں >>

88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں ملی!

صوبہ جموں میں مسلم آبادی قریب40فیصد ہے ۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں 3400کے قریب وکلاء میں کم وپیش700مسلم وکلا ہیں لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے 10اضلاع میں سے 5اضلاع میں 50فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

آزادیٔ ہند میں مسلمانوں کا کردار

 ہندوستان کو  آ زاد کرنے میں جتنی قربانیاں مسلم رہنمائوں نے دی اُسے زیادہ دیگر مذاہب کے رہنمائوں نے نہیں دی ہیں ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ رہنمائی کا سب سے بڑا چہرہ گاندھی کے طور پر سامنے آیا ہے جو کہ ایک ہندو تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ دیگرمذاہب کے لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

جنگ آزادی میں مسلمانوں اور مدارس کی قربانیوں کا صلہ!

مدارس اسلامیہ 15اگست یوم آزادی یا 26جنوری ’’یوم جمہوریہ‘‘ کی تقریب منعقد کرنے کیلئے مسٹر یوگی یا شیو راج سنگھ چوہان کے مذہبی منافرت کے زہر میں بجھی کسی ہدایت کے محتاج نہیں ہیں۔ بلکہ انہیں مدارس کے بوریہ نشینوں نے ایسے وقت میں انگریزوں کے پیروں تلے زمین ہلادی تھی اور کسی بھی موقع انگریزوں کی ملازمت کو قبول کرنے یا انگریزی فوج میں شامل ہونے کو حرام قراردیتے ہوئے بہت سارے گمراہ ہندوستانی جوانوں کو انگریزوں کا آلۂ کار بننے سے بچا لیا تھا، لہذ مسٹر یوگی یا چوہان جن کے پرکھوں کی انگریز نوازی کے تذکرے تاریخ کے سینے میں آج بھی محفوظ ان نفرت کے پجاریوں مدارس اسلامیہ کو حب الوطنی کا درس دینے کا کوئی اخلاقی حق بھی حاصل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

آزادی کی آزاد کہانی

موجودہ حکومت اپنے وعدوں  سےمنھ چرا  رہی ہے اور  نا ن ایشو کو ایشو بنا نے میں لگی ہوئی ہے۔ایسے میں مسلمانوں کو جوش سے کم ،ہوش سے زیادہ کام لینے کی ضرورت ہے۔مسلم دانشوران اورعلما ء  کو مل کر قیادت کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ ورنہ مسائل گھٹنے کے بجائے بڑھتے ہی رہیں گے۔‘اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا’سیاسی،سماجی ،معاشی اور تمام مسائل کا حل تعلیم ہی ہے۔

مزید پڑھیں >>