تاریخ ہند

آزادی کے 70 برسوں کی حقیقت

دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان کی آزادی کو 70 برس گزرگئے ۔ ان ستر برسوں کی سیاست کا تجزیہ کیجئے تو ایسے کئی مقام آئے جب آزادی، سیکولرزم اور جمہوریت جیسے الفاظ پر دھول کی پرتیں جمتی ہوئی محسوس ہوئیں — لیکن آندھی اور طوفان کے گزرنے کے بعد یہ غیرمعمولی الفاظ حرکت کرتے ہوئے ہمارے حوصلے اور اعتبار کو دوبارہ بحال کردیتے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا کردار

اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ دارالعلوم، دیوبند کے سپوتوں نے 1926 میں کولکاتا میں منعقدہ،  جمعیت علماء ہند کی ایک میٹنگ میں ، یہ اعلان کیا تھا کہ ہم اس جماعت کی حمایت کریں گے جو انگریزی حکومت سے "مکمل آزادی" کے حق میں ہوگی۔ پھرجمعیت کی اس میٹنگ کے تین سال کے بعد، "انڈین نیشنل کانگریس" نے اپنے لاہور کے اجلاس میں ، انگریز حکومت سے ہندوستان کی مکمل آزادی کو اپنے منشور میں داخل کیاتھا۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار

مسلمانوں نے آزادی کی خاطر انگریزوں کے خلاف تحریکیں چلائیں ، پھانسی کے پھندے پر لٹکے،جان ومال اور اہل وعیال کی قربانیاں پیش کیں اور کالاپانی کی خوفناک وہیبت ناک سزائیں برداشت کیں ۔غرضیکہ ہر طرح کےمصائب وآلام برداشت کرنےکےباوجود بھی ان کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی بلکہ وہ بخوشی اپنےمنزل کی طرف رواں دواں رہے۔ 

مزید پڑھیں >>

یوم آزادی: ہم جشن منائیں یا ماتم کریں!

  آزادی میں اتنی قربانیاں دینے کے باوجود آج ہم سے محب وطن کی شہادت مانگی جا رہی ہے، ہم گائے کے نام پر قتل کئے جا رہے ہیں، ہمیں سر راہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہمارے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں، ہمیں دوسرے درجے کا شہری گردانا جا رہا ہے، اس لئے ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم یوم آزادی کے موقع پرجشن منائیں یا ماتم کریں ! 

مزید پڑھیں >>

مولوی محمد باقر: شہید آزادی و مجاہد صحافت

شہید مولوی محمد باقر رحمتہ اللہ علیہ کا نام آتے ہی ایک مرد مجاہد ،جانباز ،اور بیباک صحافی کی تصویر ذہن کے کینوس پر ابھرتی ہے۔ جس عہد میں طباعت و اشاعت کی سہولیات نا کے برابر تھیں اس عہد میں بھی ،ادب ،سماج اور قوم و ملت کی خدمت کرنا اور سامراجی نظام وکمپنی کی بربریت کے خلاف ببانگ دہل لکھنا اور اپنی ملت کی آواز بننا آسان کام نہیں تھا۔

مزید پڑھیں >>

فراموش کی جا رہی ہیں جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں

 ہندوستان پر زبردستی قابض ہونے والے اور ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنانے والے انگریزوں کے خلاف جدو جہد اور دی گئی قربانیوں میں یہاں کے مسلمانوں کا جو تاریخی رول رہا اور ان مسلمانوں نے اپنے اُوپر ہو نے والے ظلم وبربریت اورقتل و غارتگری کے خلاف جس طرح  نبرد آزما رہتے ہوئے ملک کوانگریزوں کے ناپاک چنگل سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ سب واقعات ، سانحات اور حادثات ہمارے ملک کی تاریخ کا  اہم حصہ ہیں ، جو سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں اور باوجود منظم طور پر ان تاریخی حقائق کو مسخ  کرنے کی کوششوں کے بعد بھی تمام تر شواہد کے ساتھ ملک اور بیرون ممالک کی لائبریریوں میں موجود ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

بھارت چھوڑو آندولن کے 75 سال: کیا سیکھا ہم نے آندولن سے؟

کرکٹ کی دنیا میں عظیم کھلاڑیوں کی بہترین علامات میں ایک علامت یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ آؤٹ ہونے پر وہ امپائر کے فیصلے کا انتظار نہیں کرتا، خود میدان سے چلا جاتا ہے. اس پیمانے پر ویسے تو کئی کھلاڑی ہیں لیکن سب سے اوپر آسٹریلیا کے سلامی بلے باز ​​ایڈم گلکرسٹ کا نام آتا ہے. 2003 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے گلکرسٹ کے بلے سے ڈی سلوا کی گیند چھوکر پیچھے گئی. امپائر کو لگا کہ گیند پیڈ پر لگی ہے. لہذا آؤٹ نہیں دیا لیکن گلکرسٹ خود پچ چھوڑ کر چلے گئے. عظیم کھلاڑی کھیل کے ایمان سے سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں. وہ تھرڈ امپائر یا الیکشن کمیشن کے لئے میدان میں کھڑے نہیں رہتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی جنگ آزاد ی میں علما و اسلامی مدارس کا کردار

ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں خاص کر علما کا رول(Role)انتہائی اہمیت رکھتا ہے ساتھ ہی ساتھ مدارس اسلامیہ بھی اس میں شانہ بشانہ شامل تھے۔ جنگ آزادی کی داستان بہت طویل اور انتہائی دردناک ہے جس کا احاطہ ایک چھوٹے سے مقالہ میں ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں >>

آخری مغل تاج دار:تاریخ کاستم یامکافات عمل

ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا۔‘شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں۔ ‘کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘وہ بندر گاہ پہنچا‘اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا۔

مزید پڑھیں >>

ملک کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار 

آج حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں، اسلاف کے کارناموں کو یاد کریں، اسلام کی روشن تعلیمات کو پوری دنیا میں عام کریں، سنگھیوں اور اغیار کے رخساروں پر تاریخ کے ان سنہرے واقعات وحادثات اور مجاہدین آزادی کی خدمات جلیلہ کے ذریعہ ان کے ذہن ودماغ کے دریچوں کو کھولیں اور انھیں بتائیں کہ یہ ملک جتنا تمہارا ہے اتنا ہی ہمارا بھی۔

مزید پڑھیں >>