آل سعود کا تاریخی پس منظر

مصنف: ناصر السعید ۔ ترجمانی: خالد سیف اللہ اثری

کتاب:  تاریخ آل سعود

851 ہجری میں قبیلہ عنزہ کا ایک مسالیخ نامی خاندان غلہ لانے کے لیے سحمی بن ہذلول کی سربراہی میں عراق گیا. ان کا گزر بصرہ سے ہوا. بصرہ میں اس قافلے کے کچھ افراد ‘مردخای بن ابراہیم بن موشی’ نامی ایک یہودی تاجر سے غلہ لینے گئے. جب ان سے مول بھاؤ ہوا تو یہودی تاجر نے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں ؟ انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق قبیلہ عنزہ سے ہے. اتنا سننا تھا کہ وہ یہودی بالکل ڈرامائی انداز میں ایک ایک سے گلے ملنے لگا، سینے سے چمٹانے لگا. اس نے بتایا کہ وہ بھی مسالیخ نامی خاندان سے ہے لیکن اس کے والد اور قبیلہ عنزہ کے درمیان لڑائی کی وجہ سے وہ وہاں سے بصرہ آگیا تھا اور تب سے یہیں پر مقیم ہے. پھر اس نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ وہ اس خاندان کے سارے اونٹ کو گیہوں ، کھجور اور عراقی چاول سے لاد دیں . اس دریادلی کے مظاہرے پر مسالیخ کے افراد حیرت زدہ رہ گئے اور عراق جیسے خیروبرکت والے علاقے میں اپنے رشتہ دار کو پاکر پھولے نہیں سمائے. انھیں یہودی تاجر کی بات کا یقین آ چلا کہ وہ انھیں کا اپنا رشتہ دار ہے.

 مسالیخ کا یہ قافلہ جب کوچ کرنے لگا تو مردخای نے ان کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا. انھوں نے بخوشی اسے قبول کرلیا اور اسے اپنے ساتھ نجد لے گئے جہاں اس نے خوب پروپیگنڈہ کیا کہ وہ ان کا اپنا رشتہ دار ہے. اس یہودی نے یہاں اپنے کچھ حامیوں کو اکٹھا کیا. نجد کے بعض افراد کی طرف سے اسے دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑا جن میں قصیم کے دینی رہنما شیخ صالح السلیمان العبداللہ التمیمی پیش پیش ہیں . ان سے پریشان ہوکر  اس یہودی نے ‘القصیم’ اور ‘العارض’ (موجودہ ریاض) کو خیر آباد کہا اور ‘احساء’ کی راہ لی. یہاں پر اس نے اپنے نام میں معمولی ترمیم کی اور اسے :مرخای’ کے بجائے ‘مرخان’ کردیا. وہاں سے اس نے قطیف کے قریبی علاقے کی راہ لی جس کا نام اب ام الساہک ہے. اس نے اس کا نام بدل کر ‘الدرعیہ’ رکھا. ‘درع’ عربی میں زرہ کو بولتے ہیں.

اس کا قصہ یوں ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو ذرا پسپائی ہوئی تو ایک شہید کی زرہ کسی دشمن کے ہاتھ لگ گئی جسے اس نے یہ سمجھ کر اچھے دام میں بنوقینقاع کو فروخت کر دیا کہ وہ محمد صلعم کی زرہ ہے. اسی شکست کی یادگار کے طور پر آل سعود کے جد امجد ‘مردخای بن ابراہیم بن موشی’ نے اس جگہ کا نام ‘الدرعیہ’ رکھا. یہودی محمد صلعم کی طرف منسوب زرہ خریدنے کو اپنی فتح سمجھتے ہیں . اس طرح سے اس یہودی نے قطیف سے قریب ام الساہک کو اپنا مرکز بنایا اور نیل سے فرات تک یہودی مملکت کی داغ بیل ڈال دی. اس نے اپنے مرکز کو مضبوط کرنے کے لیے قرب و جوار کے گاؤں سے رابطہ کرنا شروع کیا اور ان پر حکمراں بن بیٹھا لیکن عجمان کے قبیلے نے جو بنی خالد اور بنی ہاجر کے ساتھ تھا، اس یہودی کے ارادے کو بھانپ لیا اور جب  انھیں اس کی اصلیت کا پتا چلا اس کے بستی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا. عجمان نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن یہ اپنے بعض حامیوں کے ساتھ بچتے بچاتے ‘العارض’ (جو اب ‘ریاض’ کے نام سے موسوم ہے) سے قریب الملیبید اور الغصیبہ کے علاقے میں بھاگ گیا. اس علاقے کے مالک سے پناہ مانگی. اسے وہاں پناہ مل گئی لیکن ابھی ایک مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ اس نے پناہ دینے والے محسن اور اس کے خاندان ہی کو دھوکہ سے مار ڈالا. اس نے اس علاقے کا نام پھر ‘الدرعیہ’ رکھا.

 بعض نادان یا اجرت یافتہ مؤرخین کا کہنا ہے کہ ‘الدرعیہ’ اس علاقے کے مالک کی طرف نسبت ہے جس کا نام علی بن درع تھا اور یہ کہ وہ بھی مردخای کے قبیلے کا تھا  جس نے اسے زمین ہبہ کی تھی لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جس نے یہودی کو پناہ دی اور جسے یہودی نے دھوکے سے قتل کیا اس کا نام ‘عبداللہ بن حجر’ تھا.

اس یہودی نے لوگوں کو گم راہ کرنے کے لیے مسلم ہونے کا ڈھونگ رچا. بہت سے ایمان فروش دینی رہنماؤں کا سہارا لیا. ان کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی کہ مردخای اصلی عرب ہے اور قبیلہ عنزہ سے اس کا تعلق ہے.  قصیم کے دینی رہنما صالح السلیمان العبداللہ التمیمی اس کے سخت مخالف تھے جسے اس نے زلفی کی مسجد میں نماز عصر کے دوران رکوع کی حالت میں موت کے گھاٹ اتار دیا. یہ یہودی الدرعیہ میں بڑے ٹھاٹ باٹ سے رہا. اس نے کثرت سے شادیاں کیں اور بچے پیدا کیے جنھیں اس نے عربی نام دیا.  ان کی تاریخ کے بارے میں حقائق سے پرے لکھنے والے اور حتی الامکان اصل  تاریخ پر پردہ ڈالنے والے کبھی تو انھیں عدنان کی نسل سے بتاتے ہیں تو کبھی قحطان کی نسل سے تاکہ انھیں محمد عربی صلعم کی ذریت سے جوڑ سکیں . بعض مؤرخین تو اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ انھیں ربیعہ، عنزہ اور مسالیخ سے جوڑنے لگے. مکتبات مملکت سعودی عرب کے ڈائریکٹر ‘محمد امین التمیمی’ نے تو جھوٹ کی حد ہی پار کر دی. اس نے آل سعود اور آل عبد الوہاب کا شجرہ تیار کیا اور دونوں کو ہی ایک شجرہ میں مندمج کردیا کہ یہ دونوں محمد عربی صلعم کی اصل سے ہیں . 1943 میں اس مؤرخ نے قاہرہ میں سعودی سفیر ‘عبداللہ ابراہیم الفضل’ سے 35 ہزار مصری پاؤنڈ بطور معاوضہ وصول کیا تھا. اسی مؤرخ نے ملک فاروق بولونی کا شجرہ بھی تیار کیا تھا جسے 23 جولائی 1952 کی بغاوت نے مصر سے بے دخل کر دیا. اس مؤرخ کے مطابق  ‘فاروق’  محمد عربی کی نسل سے ہے اور یہ نسبت اس کی ماں کی طرف سے ہے.

اس یہودی مردخای کی اولاد میں سب سے کامیاب ‘ماک رن’ تھا جسے یہ بصرہ سے ساتھ لے کر آیا تھا. ‘ماک رن’ کا نام بدل کر اس نے ‘مقرن’ رکھ دیا. مقرن کے معنی جوڑنے والے کے ہوتے ہیں اور چونکہ مردخای کا نسب مسالیخ سے جڑ گیا تھا اسی مناسبت سے اس کا نام مقرن رکھا.

اس مقرن کو  لڑکا ہوا جس کا نام ‘محمد’ رکھا پھر ‘سعود’ پیدا ہوا. اسی کے نام سے ‘آل سعود’ جانا جاتا ہے جب کہ اس سے پہلے کے ناموں سے تجاہل عارفانہ برتا جاتا ہے. اس سعود کے متعدد اولادیں تھیں جن میں مشاری، ثنیان اور محمد ہیں. یہاں سے یہودی خاندان کے دوسرے باب کا آغاز ہوتا ہے. اب اس خاندان کا نام آل سعود ہے. ‘محمد بن سعود’  الدرعیہ کے علاقے میں ہی رہا. یہ بستی تین مربع کلومیٹر سے متجاوز نہیں تھی. محمد بن سعود نے خود کو ‘امام محمد بن سعود’ کا خطاب دیا. یہیں  اس امام کی ملاقات ‘امام محمد بن عبد الوہاب’ نامی دوسرے امام سے ہوتی ہے جو وہابی تحریک کے بانی تھے.



⋆ خالد سیف الله اثری

خالد سیف الله اثری

خالد سیف اللہ اثری معروف دینی دانش گاہ جامعۃ الفلاح سے فارغ ہیں۔
آزاد صحافی اور قلم کار ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

قطر کا بائیکاٹ اور سعودی موقف پر بعض علماء کا قابل افسوس رویہ!

رمضان المبارک کے مہینے میں قطر کا بری، بحری اور فضائی حدود کا مقاطعہ اپنے آپ میں ایک غیر اخلاقی و غیر انسانی رویہ ہے. افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس مسئلے کو بھی مسلکی رنگ میں رنگے کی کوشش کی جارہی ہے. اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اپنے مسلک کی برتری ثابت کرنے کے لیے بے بنیاد الزامات تراشے جارہے ہیں جب کہ حقائق سے ان کا دور تک بھی علاقہ نہیں .

2 تبصرے

  1. iqbalbokda@yahoo.com

    حوالہ جات درکار ہیں۔

  2. منشورات اتحاد شعب الجزیرۃ العربیہ ، ناصر السعید، تاریخ آل سعود، جزء اول صفحہ 14-18..کتاب کے اخیر میں مراجع بھی درج ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے