تاریخ اسلام

 اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

 ماہ ِ محرم الحرام اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے جس کے ذریعہ اسلامی سال کی شروعا ت ہوتی ہے ۔اسلامی سال کا آغاز یا اختتام اپنے اندر غیر معمولی اہمیت اورتاریخی وانقلابی حیثیت رکھتا ہے۔عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسوی سال جب ختم ہونے لگتا ہے اور ڈسمبر کی آخری رات ہوتی ہے، بارہ بجے کے بعد جنوری کی صبح نمودار ہونے والی ہوتی ہے تو پوری دنیا میں جشن وطرب کا ماحول چھا جاتا ہے، شراب وشباب کے نشہ میں نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے اوربداخلاقی اور بیہودگی، شرافت وتہذیب کی تمام حدوں کو پارکرکے نئے سال کی خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔

 دوسری طرف اسلامی سال کاآغاز محرم الحرام کے ذریعہ ہوتا لیکن سادگی، خاموشی، ایثاروقربانی اور دین وانسانیت کی بقاکے لئے جان وتن کی بازی لگانے والوں کی یادگار کو لے کر نئے سال کا سورج طلوع ہوتا ہے، اسلامی سال کاآخری مہینہ ذوالحجہ ہے، اور یہ سال کااختتامی مہینہ بھی ایمان والوں اور قیامت تک آنے والے انسانوں کو عبرت وموعظت کا پیغام دے کر جاتا ہے۔اسلامی سال کے اختتام پر ۱۸ ذی الحجہ کو دامادِ رسول، پیکرِ حیا، مجسم ِسخاوت، ذوالنورین، خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان ِ غنی ؓ کی المناک شہادت کا واقعہ پیش آیا۔سال کی شروعات کے پہلے دن یعنی محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے، عدل وانصاف، حق وصداقت کے علم بردار، خسر ِ رسول ﷺخلیفۃ المسلمین، امیر المؤمنین سیدناعمر فاروق ؓ کی روح فرسا شہادت واقع ہوئی۔اسی محرم کے پہلے عشرہ میں یعنی دس محرم الحرام کو تاریخ ِانسانی کی عظیم اور مظلومانہ شہادت نواسہ ٔ رسولﷺ، جگر گوشہ ٔ بتولؓ، فخر ِنوجوانان سیدنا حسین ؓ کی دردانگیزشہادت کا قیامت خیز سانحہ پیش آیا، کربلا کی سرزمین پر نبی ﷺ کے مبارک اور بابرکت خاندان کا مقدس ترین لہو بہااور خانوادہ ٔ نبوت کے چشم وچراغ حضرت حسین ؓ نے اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ جام ِ شہادت نوش فرماکر مقصد ِ زندگی کا ناقابل ِ فراموش سبق دے گئے۔

  شہادت ہے مقصودومطلوبِ مومن

  نہ  مال ِ غنیمت، نہ  کشور کشائی

   چناں چہ عاشورہ ٔ محرم ۶۱ ھ کو اپنے ۷۲ وفاداروں کے ساتھ حضرت حسین نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔( البدایہ والنہایہ:۱۱/۵۶۹)حضرت حسین ؓ کی شہادت بلاشبہ تاریخ کی نہایت کی المناک اور درد انگیز شہادت ہے، ظالموں نے بڑی بے دردی کے ساتھ خاندان ِ رسول ﷺ کے مبارک خون کو بہایا، اور خاک وخون میں تڑپایا، لیکن سیدنا حسین ؓکی استقامت و عزیمت کہ آپ ؓ نے سب کچھ قربان کردیا مگر اپنے موقف پر قائم رہے ۔  بلاشبہ حضرت حسین ؓ کی شہادت وہ درد ہے جس کی تکلیف ہر وقت امت اپنے سینہ میں محسوس کرتی ہے، روئے زمین پر نواسہ ٔ رسول ﷺ کی مظلومانہ شہادت انسانیت کے لئے ایک عبرت وموعظت کا ذریعہ ہے۔سیدنا حسین ؓ کی شہادت زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں کیاسبق اور پیغام دیتی ہے اس کو حضر ت مفتی محمد شفیع صاحب ؒ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں :’’جگرگوشہ ٔ رسول ﷺ سید شباب اہل الجنۃ حضرت حسین ؓ کی دردناک مظلومانہ شہادت پر تو زمین وآسمان روئے، جنات روئے، جنگل کے جانور متاثر ہوئے، انسان اور پھر مسلمان توایساکون ہے جو اس کا درد محسوس نہ کرے۔یاکسی زمانہ میں بھول جائے، لیکن شہید ِ کربلاؓ کی روح مقدس درد وغم کا رسمی مظاہرہ کرنے والوں کی بجائے ان لوگوں کو ڈھونڈتی ہے جو ان کے درد کے شریک اور مقصد کے ساتھی ہوں، ان کی خاموش مگر زندہ ٔ جاوید زبان ِ مبارک مسلمانوں کو ہمیشہ اس مقصد ِعظیم کی دعوت دیتی رہتی ہے جس کے لئے حضرت حسین ؓ بے چین ہوکر مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ جانے کے لئے مجبور تھے اور جس کے لئے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اپنے اہل ِ بیت کو قربان کرکے خود قربان ہوگئے۔

واقعہ ٔ شہادت کو اول سے آخر تک دیکھئے۔حضرت حسین ؓ کے خطوط اور خطبات کو غور سے پڑھئے۔آپ کو معلوم ہوگا کہ مقصد یہ تھا:٭کتاب وسنت کے قانو ن کو صحیح طور پر رواج دینا۔٭اسلام کے نظام ِ عدل کو از سرنو قائم کرنا۔٭اسلام میں خلافت ِ نبوت کے بجائے ملوکیت وآمریت کی بدعت کے مقابلہ میں مسلسل جہاد۔٭حق کے مقابلہ میں روز وزرکی نمائشوں سے مرعوب نہ ہونا۔٭حق کے لئے اپنا جان ومال اور اولاد سب قربان کردینا۔٭خوف وہراس اور مصیبت ومشقت میں نہ گھبرانااور ہروقت اللہ تعالی کویادرکھنااور اسی پر توکل اور ہرحال میں اللہ تعالی کا شکر اداکرنا۔ہے کوئی جگر گوشہ ٔ رسول ﷺ، مظلوم ِ کربلا، شہید ِجوروفاکی اس پکار کوسنے اوران کے مشن کو ان کے نقشِ قدم پر انجام دینے کے لئے تیار ہو، ان کے اخلاق فاضلہ اور اعمالِ حسنہ کی پیروی کو اپنی زندگی کامقصد ٹھہرائے۔۔۔(شہید ِ کربلا:۷)

    محمد علی جوہر ؒ نے اسی پس ِ منظر میں یہ تاریخ ساز شعر کہا تھاجس میں بہت ساری حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں :

  قتل ِ حسین ؓ  اصل میں مرگ ِ یزید ہے

  اسلام زندہ  ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    کربلا کے میدان میں حضرت حسین ؓ ہوں، یا مسجد ِ نبوی کے محراب میں حضرت عمرؓ، مدینہ کی گلیوں میں حضرت عثمان ؓ ہوں، یا احد کے میدان میں حضرت حمزہ ؓ ہوں یا اس کے علاوہ دیگر بہت سے مواقع میں جان وتن لٹانے والے صحابہ کرام ؓکی الم انگیز اور دردناک شہادت کے واقعات یہ سب ہمیں سبق اور پیغام دیتے ہیں کہ دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں، نبی ﷺ کے کلمہ کو بلند کرنے اور انسانیت تک ابدی کامیابی کے پیغام کو پہنچانے کے لئے خود کو نچھاورکرنا پڑتا ہے۔یہی پوری اسلامی تاریخ کی ایک سچی حقیقت ہے کہ اسلام کے لئے ہر مومن کو آزمایاجائے گا، ہر مسلمان کو پرکھا جائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُتْرَکُوْا اَنْ یَقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَھُمْ لَایُفْتَنُوْنَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاوَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ۔(العنکبوت:۲۔۳)’’کیالوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُنہیں یونہی چھوڑدیا جائے گاکہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ:’’ہم ایمان لے آئے‘‘اوراُن کو آزمایانہ جائے؟حالانکہ ہم نے اُن سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں ۔لہذا اللہ ضرور معلوم کرکے رہے گا کہ کون ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے، اور وہ یہ بھی معلوم کرکے رہے گا کہ کون جھوٹے ہیں ۔‘‘ایک جگہ ارشاد فرمایا:وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔( البقرۃ:۱۵۵)’’اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، ( کبھی) خوف سے، اور(کبھی)بھوک سے، اور( کبھی )مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے۔اورجولوگ(ایسے حالات میں )صبر سے کام لیں اُن کوخوشخبری سنادو۔‘‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ اَلصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہٖ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔(ترمذی:۲۱۹۱)یعنی لوگوں پر ایک زمانہ آئے گاجس میں اپنے دین پرثابت قدم رہنے والے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص آگ کے انگاروں سے مٹھی بھرلے۔‘‘

    اسلام اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، اسی اسلام کی بنیاد پردین ودنیا کی کامیابی اور نجات ہے، اگر دامن ِ اسلام چھوٹ گیایا تعلیماتِ نبوی سے ہماری زندگیاں دور ہوگئیں تو نقصان اور خسارہ اٹھانا پڑے گا۔اسلام کی بقا اور اس کی حفاظت کے لئے مختلف انداز میں قربانی دینے کی ضرورت پڑتی ہے ۔کبھی خواہشات کی قربانیاں، کبھی رسم ورواج کی قربانیاں، کبھی حرام وناجائز کی قربانیاں، تبھی کر اسلام کی لذ ت اور اس کی حلاوت نصیب ہوگی ۔اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج مسلمان دین کے معاملہ میں نہایت درجہ سست اور لاپرواہ ہوچکے ہیں، غفلت اور عدم ِ توجہ ہر دن بڑھتے ہی جارہی ہے، سنت وشریعت کی تعلیمات سے دوری میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔صحابہ کرام ؓ کی قربانیوں، شہدائِ اسلام کی شہادتوں سے غافل ہوکر اپنی زندگی میں مست مگن ہیں ۔نوجوان طبقہ خواہشات کو پورا کرنے میں اپنی ذمہ داریوں اور فرض ِ منصبی سے بالکل ناواقف ہوکر زندگی گزاررہا ہے۔انہوں نے شہادتِ حسین ؓ کے مقصد کو بھلادیا، اہل ِ بیت کی عظیم قربانیوں کو فراموش کردیا، صحابہ کرام ؓ کی جدوجہد کو نظر انداز کردیااور سب سے بڑھ کر اپنے آقاومحسن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے دردوکڑھن اور ان کی فکروں کو بالائے طاق رکھ دیا اور غلط راستوں پر چلنے کے عادی ہوچکے ہیں ۔اسلامی تاریخ کی یہ عظیم شہادتیں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ ہم بھی اپنے مقصدِ زندگی کو یادرکھیں، دین کی سربلندی کا جذبہ، اشاعت ِ اسلام کی تمنا، احیائے سنت کا ولولہ ہمارے بھی دلوں میں ہونا چاہیے اور اسی فکر ودرد میں ہمارے بھی شب وروز گزرنے چاہیے۔

یہ شہادت گہہ ِ الفت  میں قدم رکھنا ہے

  لوگ  آسان  سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کی شہادت کی محض افواہ پر نبی کریم صلی الله عليه وسلم  سینکڑوں صحابہ سے اس قتل کا بدلہ لینے کے لئے جاں نثاری کی بیعت لیتے ہیں اور اس اقدام پر آسمان سے ہدیہ تبریک و تہنیت کی بارش ھوتی ھے۔۔۔
    لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَٰبَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا۔۔۔۔۔۔۔ 48 : 18

    گویا کہا جا سکتا ھے کہ عالم الغیب کی طرف سے یہ امت کے لئے اشارہ تھا کہ جب عثمان سچ مچ شہید ھوں گے تو مسلمانوں کا اسی طریقہِ نبوی کو اختیار کرتے ھوئے قصاص کے لئے بیعت کرنا موجبِ رضائے خداوندی  اور باعثِ السکینہ ھو گا۔۔۔۔ اور اس طرح ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ایک صحتمند روایت کا قیام یقینی ھو جاتا۔۔۔

    لیکن جب حضرت عثمان ایک عام آدمی نہیں بلکہ خلیفۃ المسلمین کی حیثیت میں ہوتے ہوئے شہید کر دئیے جاتے ھیں تو ان کا قصاص نہیں لیا جاتا۔۔۔  ان کا کیس تک نہیں کھولا جاتا ۔۔۔ کیوں؟

    اور نتیجتاً امت مسلمہ اس دن سے لے کر آج تک افتراق و انتشار کا شکار ھے۔ تاریخ اس پر شاہدہے_

    دوسری بات یہ کہ فضائل کی ساری حدیثیں لوگوں کا  منہ بند کرنے کے لئے گڑھی گئ ہیں اگرچہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ھوں یا حضرت علی اور حسن وحیسن رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں ھوں ،، ڈھائی سال کے امام حسینؓ تھے اور غالبا ساڑھے تین سال کے حضرت حسنؓ تھے جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ھوا ، دونوں بھائیوں کو رسول اللہ ﷺ کا حلیہ تک یاد نہیں تھا ،، نہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وقت جوان تھے کہ جنت کے جوانوں کے سردار کہلاتے اور نہ ھی وہ جوانی میں فوت ھوئے ،، جب دنوں بھائی بوڑھے ھو کر فوت ھوئے اور بچے تھے کہ رسول اللہ فوت ھو گئے تو پھر جوانی زیرِ بحث ھی کیوں آئی ؟ کیا جنت میں جوانوں کے ساتھ بوڑھے اور ادھیڑ عمر لوگ بھی ھونگے ؟ جب سارے جوان ھونگے تو کیا حسنؓ و حسینؓ اپنے والد اور نانا کے بھی سردار ھونگے ؟ اور باقی نبیوں کے بھی سردار ھونگے ؟ نہ کوئی سر ھے نہ پیر ، بس اسی قسم کی وارداتیں فضائل میں کی گئ ہیں چاھے وہ کسی بھی کتاب میں ھوں ـ جن کے جہنمی ھونے کا خوش خبری آپ نے سنائی ہے ھم ان کو بھی جہنمی نہیں سمجھتے بلکہ اللہ کے عدل پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کس کے عذر قبول فرماتا ھے…

متعلقہ

Close