تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط ششم)

رستم علی خان

حضرت ادریس کے آسمانوں پر جانے کے بعد چند نیک بزرگ اولیاء نے بنی نوع آدم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا جن کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں جنہیں یہاں مختصر بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی-

روایات میں ان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ پانچ تھے جن کے نام "ود” "سواع” "یعوق” "یغوث” اور "نثر” تھے-

چند ایک روایات میں ان کے بارے آتا ہے کہ وہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے تھے کچھ روایات میں ان کے بارے حضرت

شیث علیہ السلام کے بیٹے تھے جو بعد ان کے خدا کی طرف سے نازل کردہ احکامات کی تبلیغ کرتے تھے-

اور کچھ روایات کے مطابق وہ بنو قابیل سے تھے جو حضرت شیث کی تبلیغ سے صاحب ایمان ہوئے تھے-

مختصرا بیان کرتے چلیں کہ بعد انبیاء کے لوگ احکام الہی سے دور ہونے لگے اور دنیا داری (مال مویشی اور کھیتی باڑی) میں مشغول ہوتے گئے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے نکلنے لگے تو ان پانچوں اولیاء نے قوم کی ہدایت کا بیڑہ اٹھایا- بنی نوع آدم ان سے بیزاری کا اظہار کرنے لگی اور بلآخر ایک دن ان پانچوں کو شہید کر دیا گیا-

اور بعض روایات میں ہے کہ وہ طبعی موت مرے تھے- ان کی وفات کے بعد اللہ کی طرف سے ان پر سختی نازل کی گئی کہ ان کے ہاں بارشیں ہونا بند ہو گئیں جب قحط پڑنے لگا تو لوگ سخت پریشان ہوے اور ایک دوسرے سے مشورے مانگنے لگے کہ اب کیا کیا جائے-

تب شیطان ایک بزرگ کی صورت میں ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تم نے ان پانچ بزرگ ہستیوں کو شہید کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی تم پر نازل ہوئی یے- لوگ نے شیطان کو ایک بیک بزرگ اور مصلح سمجھا اور مشورہ مانگا کہ اب ہم کیا کریں جو اللہ کی ناراضگی دور ہو سکے- تب اس نے کہا کہ تم ان کی قبروں پر جاو اور عبادت کرو وہ تمہارا وسیلہ بنیں گے اور وہی تمہاری دعائیں آگے اللہ ک پنہچائیں گے-

تب سبھی لوگ وہاں گئے اور عبادت کرنے لگے اور یہ ان کا صبح شام کا معمول ہوا- تب پھر شیطان ان کے پاس آیا اور کہا کیا ہی اچھا ہو اگر میں ان کی شکلیں (مجسمے) یہاں بنا دوں تاکہ تمہیں پہچان میں آسانی ہو اور انہیں دیکھنے سے عبادت کا شوق اور رغبت اور بھی بڑھے- قوم کو یہ بات بڑی پسند آئی اور کہا کہ بیشک اگر تم ایسا کر سکو تو یہ اور بھی اچھا ہو جائے- شیطان نے ان کے مجسمے بنائے اور اللہ نے انہیں مہلت دی اور ان کی روزی کھول دی-

جب وہ لوگ پھر سے مشغول دنیا ہوئے تو انہیں اس میدان تک جانا بھی مشکل لگنے لگا کہ جہاں وہ مورتیں تھیں تب قوم نے شیطان ابلیس سے کہا کیا ہی اچھا ہو کہ آپ یہ مجسمے ہمارے گھروں میں بھی بنا دیں کہ ہم روز آنے جانے کی زخمت سے بچ جائیں اور ایک روز مقرر کر لیں یہاں آنے کو تب شیطان نے ان کے گھروں میں ہر گھر اور قبیلے میں الگ مورتیں بنا دیں-
اور جب وہ نسل ختم ہوئی اور بعد ان کے نئی نسل آئی تو شیطان نے انہیں بہکایا کہ یہی تمہارے خدا ہیں اور تمہارے باپ دادا بھی انہیں سے مانگتے تھے سو تم بھی انہیں پکارو- تب وہ لوگ انہیں ہی اپنے خدا سمجھ بیٹھے اور اس پر ڈٹ گئے اور مختلف قبیلوں نے اپنے اپنے خدا بانٹ لئیے اور یہاں سے بت پرستی کی ابتداء ہوئی-

اور ان کے بارے قرآن میں زکر کیا جاتا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے-

وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا

اور کہتے رہے کہ تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا اور وَدّ اور سُوَاع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نسر (نامی بتوں) کو (بھی) ہرگز نہ چھوڑنا-

تھوڑا سا زکر ان کے بارے میں کہ ان کے مجسمے (بت) جو شیطان ابلیس نے بنائے وہ کیسے تھے اور ان کو کیا نام اور مقام دئیے گئے-

"ود” (Wadd) :

"محبت اور دوستی” قمری دیوتا تھا۔  قرآن میں (71:23) میں حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں دیوتا کے طور پر ذکر ہے۔

ود قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنی کلب بن وبرہ کا معبود تھا جس کا استھان انہوں نے دومتہ الجندل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتبات میں ان کا نام ودم ابم (ود باپو) لکھا ہوا ملتا ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس کا بت ایک نہایت عظیم الجثہ مرد کی شکل کا بنا ہوا تھا۔ پریش کے لوگ بھی اس کو معبود مانتے تھے اور اس کا نام ان کے ہاں ود تھا۔ اسی کے نام پر تاریخ میں ایک شخص کا نام عبد ود ملتا ہے۔

یغوث (Yaghuth) :

وہ مدد کرتا ہے۔ یغوث قبیلہ طے کی شاخ انعم اور قبیلہ مذحج کی بعض شاخوں کا معبود تھا۔ مذحج والوں نے یمن اور حجاز کے درمیان جرش کے مقام پر اس کا بت نصب کر رکھا تھا جس کی شکل شیر کی تھی۔ قریش کے لوگوں میں بھی بعض کا نام عبد یغوث ملتا ہے-

یعوق (Ya’uq) :

ایک دیوتا تھا جس کی پوجا نوح علیہ السلام کے وقت میں ہوتی تھی۔۔

یعوق یمن کے علاہ ہمدان میں قبیلہ ہمدان کی شاخ خیوان کا معبود تھا اور اس کا بت گھوڑے کی شکل کا تھا-

نسر ( Nasr) :

لغوی معنی "گدھ”۔ نسر حمیر کے علاقے میں قبیلہ حمیر کی شاخ آل ذوالکلاع کا معبود تھا اور بلخع کے مقام پر اس کا بت نصب تھا جس کی شکل گدھ کی تھی۔ سبا کے قدیم کتبوں میں اس کا نام نسور لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کے مندر کو وہ لوگ بیت نسور۔ اور اس کے بجاریوں کو اہل نسور کہتے تھے۔ قدیم مندروں کے جو آثار عرب اور اس کے متصل علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان میں سے بہت سے مندروں کے دروازوں پر گدھ کی تصویر بنی ہوئی ہے-

سواع (Suwa’) 

سواع قبیلہ ہذیل کی دیوی تھی اور اس کا بت عورت کی شکل کا بنایا گیا تھا۔ ینبوع کے قریب رہاط کے مقام پر اس کا مندر واقع تھا_

یہ مختصر احوال ان کے بارے جو ذکر روایات وغیرہ سے ملتا ہے-

قوم جب مکمل بت پرستی میں ڈوب گئی اور اللہ کے علاوہ اپنے اپنے مختلف معبود بنا لئیے گئے تب رحمت یزداں کو جوش آیا اور اللہ تبارک وتعالی نے بنی نوع آدم کی ہدایت اور راہنمائی کے لئیے حضرت نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا-
آگے بڑھنے سے پہلے تھوڑا تذکرہ آپ کے نام و نسب اور پیدائش پر کرتے چلیں-

آپ کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے (نوح بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ (ادریس) بن مھلاییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم علیہم السلام)

روایات میں ہے کہ حضرت نوح کا نام نوح اس لئیے ہوا کہ وہ اپنی قوم پر بہت زیادہ نوحہ کیا کرتے تھے-

ابن حریر کے قول کے مطابق آپ کی ولادت حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے ایک سو چھبیس (126) سال بعد ہوئی-

اہل کتاب (تورات) کی تاریخ کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی وفات اور حضرت نوح علیہ السلام کی ولادت کے درمیان ایک سو چھیالیس (146) سال کا فاصلہ ہے-

اور صحیح ابن حبان میں ہے کہ ان کے درمیان دس قرن (دس صدیوں یا دس نسلوں) کا فاصلہ ہے-

بہرحال اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرما کر مبعوث فرمایا جب بتوں اور شیطاوں کی پوجا شروع ہو گئی اور لوگوں نے صحیح کفر اور گمراہی کا راستہ اپنا لیا- چنانچہ اللہ تعالی نے انسانوں پر رحم فرماتے ہوئے انہیں مبعوث فرمایا- اس طرح وہ پہلے رسول تھے جنہیں زمین والوں کی طرف بھیجا گیا (کہ پہلے کہ انبیاء آدم و شیث اور ادریس علیہم السلام بس احکامات الہی کی تلقین کرنے والے تھے لیکن حضرت نوح پہلے رسول تھے جو گمراہ ہوئی قوم کی طرف احکام الہی سنانے اور پنہچانے آئے تھے) اور یہی بات روز محشر تمام لوگ بھی ان سے کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں آپ اللہ سے حساب شروع کرنے کی سفارش کریں-

قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے حضرت نوح کے بارے ارشاد فرمایا :

ترجمہ: اور بھیجا ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس- پس وہ رہے اپنی قوم کے ساتھ ساڑھے نو سو سال (العنکبوت)
اور اس مدت میں اسی یا بیاسی لوگ ایمان لائے ۔

آگے بڑھنے سے پہلے تھوڑا سا فرق نبی اور رسول کا واضح کرتے چلیں کہ حضرت نوح پہلے رسول خدا تھے اور ان سے پہلے (آدم، شیث اور ادریس علیہم السلام) نبی تھے-

شریعت اسلامیہ میں نبی اس ہستی کو کہتے ہیں جسے حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے چن لیا ہو اور وہ براہ راست اللہ سے ہم کلام ہوتی ہو۔ رسول اس نبی کو کہا جاتا ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نئی شریعت اور کتاب بھیجی گئی ہو۔ یاد رہے! کہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے مگر ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔

نبی اور رسول کی یہ تقسیم ہم انسانوں کو سمجھانے کے لیے ہے ورنہ جو فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتا ہے اس کو رسول کہہ دینا اس کے منافی نہیں ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کا اصل نام شاکر، سَکَن یا عبد الغفار تھا۔اور آپ کو نوح اس لئیے کہا جاتا ہے کیونکہ آپ اپنی قوم پر سب سے زیادہ نوحہ کرنے والے تھے-

آپ کا وطن عراق اور موصل کے شمال میں آرمینیہ کی سرحد پر واقع ہے۔ آدم علیہ السلام کے بعد آپ پہلے نبی تھے کہ جن کو رسالت سے نوازا گیا اس وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔

قرآن مجید میں متعدد بار حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر آیا ہے بلکہ ایک پوری سورت سورہ نوح ان کے نام سے قرآن میں موجود ہے- ارشاد باری تعالی ہے

ترجمہ: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو خبردار کرے- پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب نازل ہو- انہوں نے کہا’ اے قوم میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا- اور وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا- جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی- کاش تم جانتے ہوتے- (سورہ نوح)

حضفت نوح علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے قوم کو توحید کی طرف بلانا شروع کیا اور فرمایا اے قوم ایک اللہ کی طرف لوٹ آو اور اسی کی عبادت کرو جو وحدہ لاشریک ہے اور اس کے ساتھ کسی بت، مجسمے یا طاغوت کو شریک نہ کرو ورنہ سخت وبال میں پڑ جاو اور درد ناک عذاب میں مبتلا ہو گے-

حضرت نوح نے قوم سے کہا کہ میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں اور تمہیں اس درد دینے والے عذاب سے بچانا چاہتا ہوں جو کسی بھی وقت آیا چاہتا ہے-
قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے نوح تو صحیح گمراہی میں ہے بھلا ہم پر یہاں کوئی عذاب کیسے آئے گا جب کہ ہم ہمارے معبودوں کو خوش رکھتے ہیں-

حضرت نوح نے انہیں سمجھایا کہ یہ شیطان کی چال ہے جو تمہیں گمراہی کے راستے پر ڈالے ہوئے اور اصل معبود برحق تو اللہ وحدہ لاشریک کی ذات ہے جس نے تمہیں اور اس کائنات کے نظام کو بنایا ہے-

الغرض حضرت نوح علیہ السلام نے قوم کو ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی وہ دن رات مشرکوں کو شرک سے باز آنے کی تلقین کرتے انہوں نے ہر طرح سے رات کو دن میں تنہائی میں اعلانیہ بھی ترغیب کے زریعے سے بھی اور ترتیب کے زریعے سے بھی قوم کو سمجھایا- ابلیس بھی اپنے لاو لشکر سمیت تو پہلے ہی موجود تھا اس نے آپ کی تبلیغ سے ان لوگوں کو دور رکھنے میں توانائیاں صرف کر دیں-

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close