تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 101)

رستم علی خان

چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں ایک خوان تم پر اتاروں گا یعنی جو معجزہ یہ لوگ آپ کی نبوت کی دلیل میں مانگ رہے ہیں ضرور ان پر ظاہر کروں گا مگر پھر جس نے ناشکری کی یعنی جیسے موسی علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل والوں نے من و سلوی کے بارے کیا تھا کہ اللہ بےمحتاجی اور محنت کے ان پر رزق اتارتا لیکن وہ ناشکری کرنے لگے اور من و سلوی کی جگہ دال چنے اور اناج کا مطالبہ کرنے لگے کہ ہم زمین سے اگا کر کھانا چاہتے ہیں- چنانچہ اللہ تعالی نے فرما دیا کہ اگر ناشکرے ہوئے تو ایسا عذاب کروں گا کہ ایسا عذاب جہانوں میں کسی اور کو نہ کروں گا-

چنانچہ اس کے بعد ایک خوان گوناگوں نعمتوں کا آسمان سے ان پر اترا- جب سرپوش اٹھا کر اس کا دیکھا تو اس میں پانچ روٹیاں اور ایک مچھلی تلی ہوئی جس میں کانٹے نہ تھے اور نہ استخوان اور تھوڑی سی ترکاری اور ایک نمکدان میں نمک اور پانچ انار اور تھوڑی سی کھجوریں اور زیتون اور بھی انواع و اقسام کے میوے اور کھانے دھرے ہوئے تھے- پس تمام بنی اسرائیل نے اس خوان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا- اور ابھی کچھ کھایا نہ تھا کہ کہنے لگے اے عیسی اگر تم سچے ہو تو اس تلی ہوئی مچھلی کو اپنے معجزے سے زندہ کر کے دکھاو- تب ہم تم پر ایمان لاویں گے-

تب حضرت عیسی نے فرمایا کہ اگر میں ایسا کروں تو ایمان لاو گے- کہنے لگے ہاں ضرور ایمان لاویں گے- تب حضرت عیسی نے اس تلی ہو مچھلی کو حکم دیا کہ زندہ ہو جا اللہ کے حکم اور مرضی سے اور ہو جا صحیح سلامت جیسے تو تھی اس سے پہلے- پس وہ تلی ہوئی مچھلی خدا کے حکم سے جی اٹھی اور سہمناک ہو کر کود گئی لوگوں کے بیچ میں  سے- تب پھر کہنے لگے اے عیسی اب اس کو ویسا ہی کرو یعنی تلی ہوئی- تب حضرت عیسی نے اللہ سے دعا فرمائی تو مچھلی دوبارہ پہلے کی سی حالت میں آ گئی- اور تمام بنی اسرائیل نے یہ معجزہ دیکھا-

پھر حضرت عیسی علیہ السلام اس خوان پر کھانے کو بیٹھ گئے اور سب کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی- تب جو لوگ غریب فقیر تھے یا اندھے محتاج تھے حضرت عیسی کے ساتھ کھانا کھانے خوان پر بیٹھ گئے- اور جو لوگ مغرور تھے اور امرا تھے انہوں نے دعوت قبول نہ کی اور کہنے لگے کہ ہم خود ایسا خوان اپنے واسطے تیار کیئے لیتے ہیں- تب جن لوگوں نے حضرت کیساتھ اس خوان سے کھانا کھایا ان میں جو غریب فقیر تھے اس کی برکت سے غنی ہوئے اور جو اندھے تھے اللہ نے ان کو بینائی عطا فرمائی اور جو کوڑھی محتاج تھے یا کسی معذوری کا شکار تھے ان نعمتوں کو کھانے کی برکت سے اللہ نے ان کو شفا عطا فرمائی- اور سب لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا لیکن خوان پر دھری نعمتوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی اور رات تک اسی طرح بھرا ہوا خوان وہاں پڑا رہا اس کے بعد واپس آسمان پر چلا گیا- تب جن لوگوں نے اپنے غرور کیوجہ سے نہ کھایا تھا پشیمان ہوئے کہ ہم بیوجہ جنت کی نعمتوں سے محروم رہے-

بعد اس کے خدا کے حکم سے دوسرے روز پھر وہ خوان بہشت سے اترا اور پس کل کی نسبت اور بھی زیادہ تعداد میں اور تونگر لوگوں نے بھی اس میں سے پیٹ بھر کر کھایا اور تلی ہوئی مچھلی اور وہ پانچ روٹی اور سبزی اور انار غرض سبھی کچھ کھایا لیکن کچھ بھی کم نہ ہوا جوں کا توں پڑا رہا جیسے کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا ہو دسترخوان بھرے کا بھرا رہا- پس جس کو جس چیز کو شوق تھا اس کو ملا، اگر کسی کو شیرینی کا شوق تھا تو اس کو وہی ملا اور جسے ترشی سے ذوق تھا سو حاصل ہوئی اور جس کو نمکین کا شوق تھا اس کو نمکین ملتا اور ہر چیز میں ایسا ذائقہ کہ جس قدر کھاتے اور بھی کھانے کو من کرتا-

الغرض تین دن تک وہ خوان نعمتوں کا بہشت سے اترتا رہا اور لوگ اس شہر کے جتنے تھے سب آسودہ ہو کر کھاتے لیکن دسترخوان کی نعمتوں کو کوئی فرق نہ پڑتا- اور بعضی روایات میں یوں ہے کہ چالیس دنوں تک وہ خوان آسمان سے اترتا رہا- اور تمام شہر کے لوگ کھاتے رہے مگر کم لوگ ایسے تھے جنہوں نے نہ کھایا اور سرکشی پر ڈٹے رہے- پس جب بنی اسرائیل نے حضرت عیسی کا یہ معجزہ دیکھا تو بعضے ان میں سے ایمان لائے اور بعضے ایمان نہ لائے اور سرکش رہے- اور جو لوگ کہ ایمان نہ لائے تھے ان میں سے شکل ان کی ریچھ اور سور کی ہو گئی- اور جو لوگ ایمان لائے تھے ان پر رحمت الہی نازل ہوئی- مروی ہے کہ سات سو آدمی ان میں سے ایمان نہ لائے اور شکل ان کی مسخ ہو گئی اور ریچھ اور سور بن گئے اور گھروں سے نکل کر جنگلوں کیطرف بھاگ گئے اور تھوڑے ہی عرصے میں سب کے سب مر گئے اور جہنم واصل ہوئے- اور جو لوگ کہ ایمان لائے تھے اللہ نے ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کئیں اور اسباب ان کے بڑھ گئے اور نور اسلام سے سعادت دارین حاصل کی- واللہ اعلم بالصواب

مروی ہے کہ ایک روز حضرت عیسی ساتھ مومنوں کے ایک میدان کیطرف سیر کو جاتے تھے کہ ایک لومڑی کو دیکھا- حضرت عیسی نے اس لومڑی سے پوچھا کہ تو کہاں سے آتی ہے اور کہاں کو جا رہی ہو- اس نے کہا میں اپنے گھر سے آئی ہوں اور دوسرے مکان پر جاوں گی- حضرت عیسی نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے کہ ایک لومڑی بھی دو دو مکان رکھتی ہے جبکہ مریم کے بیٹے عیسی کا کوئی مکان نہیں ہے-

پس جب مومنوں نے حضرت کی یہ بات سنی تو کہنے لگے اگر آپ ارشاد فرماویں تو ہم آپ کے لیے ایک مکان عالیشان تیار کر دیں- حضرت نے فرمایا میرے پاس دولت مال دنیا کا کچھ نہیں ہے- انہوں نے کہا اس کی آپ فکر نہ کریں دولت تمام ہم دیں گے- تب حضرت نے فرمایا کہ اے میرے رفیقو جہاں اتنا کرنے لگے ہو وہاں یہ بھی کر دو کہ جہاں میں کہوں اس جگہ میرے واسطے مکان تیار کر دو- انہوں نے کہا اے حضرت جہاں آپ فرماویں گے ہم اسی جگہ پر تعمیر کریں گے-

الغرض تمام انصار دوسرے دن ڈھیر دولت اور مکان بنانے کا سامان وغیرہ لیکر آئے اور حضرت سے کہنے لگے فرمائیے کس جگہ مکان تعمیر کرنا ہے- تب آپ نے فرمایا آو میرے ساتھ تم کو جگہ بتلا دوں- تب ان کو ساتھ لیکر دریا کے کنارے گئے اور لہروں کے بیچ کی جگہ بتلائی اور فرمایا کہ اس جگہ میرے واسطے مکان تیار کر دو- تب آپ کے ساتھ کہنے لگے کہ اے حضرت یہ جائے مخوف ہے بھلا موجوں پر مکان کیونکر بنے گا اور کس طرح ٹھہرے گا- تب حضرت عیسی نے فرمایا اے میرے رفیقو! جان رکھو کہ دنیا جائے خوف موج کی مانند ہے اور سن رکھو کہ اس گرداب موج میں گھر بنا کر کوئی رہا نہیں اور نہ رہے گا- پس اس دنیا کی زندگی کی فکر اور غم چھوڑ کر اس زندگی کے بارے فکر کرو جو ہمیشہ رہنے والی ہے- پس دنیا کی عمارت بنانا کوئی فائدہ نہیں بلکہ آخرت کی عمارت بنانا چاہئیے جس کو ہمیشہ بقا ہے-

منقول ہے کہ حضرت عیسی کے دور میں ایک عورت نیک بخت تھی- ایک دن روٹی بنانے کیواسطے چولہے میں آگ جلائی کہ نماز کا وقت ہو گیا- چنانچہ چولہا جلتا چھوڑ نماز کے لیے اٹھ گئی- جب نماز سے فراغت کی تو دیکھا کہ اس کا بچہ آگ سے کھیل رہا ہے دوڑی ہوئی بچے کے پاس گئی تو اسے صحیح سلامت پایا کہ آگ نے بچے کو کچھ نقصان نہ پنہچایا تھا- عورت نے یہ عجیب واقع اپنے شوہر سے بیان کیا اور اس نے حضرت عیسی سے- تب حضرت نے فرمایا کہ اپنی عورت کو بلاو، جب عورت آئی تو حضرت نے اس سے پوچھا کہ تم خدا کا کونسا کام کیا کہ جو تجھے یہ مرتبہ حاصل ہوا کہ تیرا لڑکا آگ سے بچا-

عورت نے کہا خدا عالم الغیب ہے میں کچھ نہیں جانتی، مگر چار باتیں ہیں- اول یہ کہ اس کی نعمت پر شاکر ہوں- دوسرا اس کی بلا پر صابر ہوں- تیسرا اس کی رضا پر راضی ہوں- چوتھا آخرت کا کام دنیا کے کام پر مقدم جانتی ہوں اگرچہ کار دنیا فوت ہی کیوں نہ ہو جائے- حضرت نے فرمایا بس یہی باعث ہے محفوظیت کا اور اگر یہ عورت مرد ہوتی تو بسبب اس کے عملوں کے اس پر ضرور وحی نازل ہوتی

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close