تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 105)

رستم علی خان

مروی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنی والدہ حضرت مریم کو ساتھ لیکر بیت المقدس سے شہر شام کیطرف جاتے تھے تب راستے میں حضرت مریم کی طبیعت بگڑی اور بیماری نے غلبہ کیا- چونکہ وہ سوائے بیخ گیاہ کے اور کچھ استمعال نہ کرتی تھیں- سو حضرت عیسی سے فرمایا کہ اے بیٹے مجھ کو وہی لا دے- پس حضرت عیسی نے اپنی والدہ حضرت مریم کو اسی جگہ چھوڑا اور خود اس جڑ کی تلاش میں نکلے- بعد اس کے حضرت مریم نے اسی جگہ پر وفات پائی اور خدا کے حکم سے اسی وقت جنت کی حوروں نے آ کر انہیں غسل دیا اور بہشت کے کپڑے سے کفن دیا اور اسی جگہ دفن کر کے چلی گئیں-

پس جب بعد کچھ ساعت کے حضرت عیسی وہاں آئے تو اپنی والدہ کو اس جگہ نا پا کے پریشان ہوئے اور افسوس کرنے لگے کہ ناحق والدہ کو اکیلا چھوڑ گئے خدا جانے ان کیساتھ کیا معاملہ پیش آیا- اور اسی پریشانی میں اپنی والدہ کو آواز دینے لگے- پہلی دو آوازوں پر کوئی جواب نہ آیا پھر جب تیسری دفعہ حضرت عیسی نے اپنی والدہ کو پکارا تو حضرت مریم نے جواب دیا لبیک اے میرے بیٹے، کیوں بلاتے ہو مجھے- حضرت عیسی نے فرمایا اے ماں میری تین دفعہ میں نے آواز دی آپ کہاں تھیں- حضرت مریم نے فرمایا، اے بیٹے پہلی پکار کر میں فردوس اعلی میں تھی دوسری پکار پر سدرتہ المنتہی پر اور جب تو نے تیسری آواز دی تب میں پہلے آسمان سے جواب دیا-

تب حضرت عیسی نے فرمایا اے اماں اپنا حال بیان کرو کہ تم پر اگلے سفر میں کیسی گزری- حضرت مریم نے فرمایا اے بیٹا جس کو اللہ تعالی فردوس اعلی نصیب کرے اور وہ مراد کو پنہچے اس سے بہتر اور کیا چیز ہے جو تم پوچھتے ہو- پس حضرت عیسی اپنی والدہ سے یہ باتیں سنکر آبدیدہ، گریاں و سینہ بریاں بیت المقدس کو لوٹ آئے اور لوگوں کو خدا کیطرچ دعوت کرتے رہے- واللہ اعلم بالصواب-

ایک دن منبر پر بیٹھ کر لوگوں سے کہنے لگے، اے لوگو! اللہ تعالی نے توریت میں فرمایا تھا کہ موسی علیہ السلام کی امت کو ہفتہ کا دن مبارک ہے- اور اس روز سوائے عبادت کے اور کچھ کام دنیا کا کرنا حرام ہے- پس اب حق تعالی نے اس کو منسوخ کیا اور ہماری کتاب انجیل میں فرمایا کہ اتوار کا دن بہت مبارک ہے- پس اب اس دن کو اللہ کی خوب عبادت کرو اور زکر و اذکار میں مشغول رہو اور کچھ کام دنیا کا نہ کرو اور بمطابق حکم انجیل کے چلو- پس یہودی حضرت عیسی سے یہ بات سنکر اپنے دل میں کینہ لائے اور ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ دیکھو اب تک جتنے نبی بھی حضرت موسی کے بعد آئے کسی نے بھی شریعت موسی کو منسوخ نہیں کیا اور یہ بےپدر کا بچہ ہمارے نبی موسی کی شریعت کو منسوخ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اب سے میری شریعت کے مطابق کرو جو انجیل میں بیان ہوئی ہے- پس اب ہم ضرور اس کو قتل کر دیں گے تاکہ حضرت موسی کی شریعت منسوخ نہ ہو اور ہمیشہ کے لیے یہی شریعت رہے۔

چنانچہ جب حضرت عیسی نے بنی اسرائیل کو اپنی شریعت پر چلنے کا حکم دیا تو وہ لوگ اپنے دل میں کینہ لائے کہ یہ بن باپ کا بچہ حضرت موسی کی شریعت کو منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے- پس آپ کو مار ڈالنے کا قصد کیا- پس ان میں سے جو لوگ ایمان لائے تھے یا کامل مومن تھے وہ کہنے لگے اے قوم تم یہ کیا ظلم کرتے ہو- کیا تم بھول گئے کہ اس سے پہلے بھی تم اللہ کے دو نبیوں حضرت زکریا اور ان کے بیٹے یحی علیہم السلام کو شہید کر چکے ہو اور ان کی شہادت کیوجہ سے اللہ کا عذاب بھی تم لوگوں پر نازل ہو چکا ہے- اور تم تب بھی غیض الہی کا شکار ہو چکے ہو- بجائے اس کے کہ تم اس بات سے عبرت پکڑو تم حضرت عیسی نبی مرسل کو بھی قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہو- تمہارے حق میں بہتر ہے کہ اللہ سے ڈرو اور حضرت عیسی پر اور جو کتاب وہ لائے اس پر ایمان لاو اور انہی کی قائم کردہ شریعت پر چلو- اور توبہ کرو اور اللہ کے غضب سے پناہ مانگو- اور اس راہ سے بچو جو سیدھا جہنم کیطرف جاتی ہے- الغرض مومنین نے کافروں کو بہتیرا سمجھایا اور ان کی پچھلی کوتاہیوں اور ان کی پاداش میں اترنے والے عذاب کے بارے بتایا لیکن کافر لوگ کسی طرح نہ مانے اور آپس میں مشاورت کرنے لگے کہ جب بھی حضرت عیسی کو تنہا پاویں گے معاذ اللہ قتل کر دیں گے-

چنانچہ جب مومنوں نے دیکھا کہ کافر لوگ اپنے ارادوں سے باز نہیں آنے کے اور کوئی نصیحت کوئی بات ان پر اثر نہیں کر رہی بلکہ وہ موقع کی تلاش میں ہیں کہ کب عیسی انہیں تنہا ملیں اور وہ انہیں مار ڈالیں- پس مومن لوگ حضرت عیسی کو ایک ساعت بھی اکیلا نہ چھوڑتے اور ہر دم سب حضرت عیسی کے ساتھ رہتے تھے اور خبرداری کرتے تھے اور کہیں بھی آپ کو تنہا نہ جانے دیتے تھے ہمہ وقت ساتھ ہی رہتے تھے-

ایک دن ایک عورت بنی اسرائیل کی حضرت عیسی کے اصحاب حواریوں سے پوچھنے لگی بھلا بتاو تو تم جو ہر دم ہر ساعت عیسی کیساتھ رہتے ہو تو کیا تم نے ان سے کوئی معجزہ دیکھا ہے جس کی وجہ سے تم ان پر ایمان لانے والے بنے ہو- تب حضرت کے اصحاب کہنے لگے کہ بیشک ہم نے حضرت عیسی سے کئی معجزے دیکھے ہیں- حضرت عیسی نبی مرسل مردوں کو زندہ کرتے ہیں، اندھوں کو بینا کرتے ہیں، کوڑھی اپاہج کو ٹھیک کرتے ہیں، لولے لنگڑوں کو شفا نصیب کرتے ہیں اور بھی کئی ایسے معجزے ہیں جو ہم نے ان کیساتھ رہتے دیکھے اور یہی ان کی نبوت کے سچا ہونے کی دلیلیں ہیں- تب وہ عورت کہنے لگی بیشک میں ایمان لائی حضرت عیسی پر اور ان کی کتاب و شریعت پر اور مبارکبادی ہو اس شکم کو ہے جس نے انہیں پیٹ میں رکھا-

تب اس عورت کی بات سنکر حضرت عیسی روح اللہ نے فرمایا کہ مبارکبادی اس نبی کی امت کو ہے جو قرآن پڑھیں گے- تب اس عورت اور حضرت عیسی کے حواریوں نے پوچھا، اے حضرت بھلا یہ قرآن کیا چیز ہے کہ ہم نے اس بارے کبھی نہیں سنا- حضرت نے فرمایا قرآن وہ کتاب ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو گی- اور قرآن کی شریعت پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کر دے گی- چنانچہ حق تعالی نے فرمایا، "اور جب کہا عیسی مریم کے بیٹے نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا آیا ہوں اللہ کا تمہاری طرف اور سچا کرتا ہوں اس کو جو میرے آگے تھی توریت اور خوشخبری سناتا ہوں ایک رسول کی جو آوے گا مجھ سے پیچھے اور نام اس کا احمد ہو گا”- مروی ہے کہ ہمارے نبی پاک کا فرشتوں کے درمیان  نام احمد رکھا گیا اور دنیا میں آپ کا نام محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم رکھا گیا-

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close