تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 116)

رستم علی خان

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر مبارک اب پچیس برس ہو چکی تھی- متعدد قومی کاموں میں آپﷺ شریک تھے- تجارت کے کاروبار کے زریعہ سے لوگوں سے معاملات پیش آتے تھے- اس بنا پر آپﷺ کے حسن معاملہ، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کی عام شہرت ہو چکی تھی- یہاں تک کہ زبان خلق نے آپﷺ کو امینﷺ کا لقب دے دیا تھا- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  تک جب آپﷺ کی شہرت پنہچی تو انہوں نے ان اسباب کے لخاظ سے آپﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپﷺ میرا مال تجارت لیکر شام کو جائیں- جو معاوضہ میں اوروں کو دیتی ہوں آپﷺ کو اس کا مضاعف دوں گی- آنحضرتﷺ نے قبول فرمایا اور مال تجارت لیکر بصریٰ تشریف لے گئے-

حضرت خدیجہؓ کے متعلق آتا ہے کہ مکہ کی ایک معزز خاتون تھیں اور ان کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں آنحضرتﷺ کے خاندان سے ملتا ہے- اور اس رشتہ کے لخاظ سے وہ آپﷺ کی چچیری بہن تھیں- ان کی دو شادیاں پہلے ہو چکیں تھیں اب وہ بیوہ تھیں- چونکہ نہایت شریف النفس اور پاکیزہ اخلاق تھیں سو اس بنا پر جاہلیت کے زمانہ میں "طاہرہؓ” کے لقب سے مشہور تھیں- نہایت دولتمند تھیں- "طبقات ابن سعد” میں لکھا ہے کہ جب اہل مکہ کا قافلہ تجارت کو روانہ ہوتا تھا تو اکیلا ان کا سامان تجارت پورے قریش کے برابر ہوتا تھا-

القصہ جب آنحضرتﷺ حضرت خدیجہؓ کا اسباب تجارت لیکر مکہ سے روانہ ہوئے تو حضرت خدیجہؓ نے اپنے ایک غلام "میسرہ” کو آپﷺ کے ساتھ کر دیا اور اسے تلقین کی کہ دھیان رکھے کہ آپﷺ کس طرح لوگوں کے ساتھ معاملات فرماتے ہیں اور پھر جو کچھ وہاں دیکھے آ کر سب حال بیان کرے- چنانچہ جب آپﷺ اسباب تجارت فروخت کر کے واپس آئے تو میسرہ نے آپﷺ کی صداقت و دیانت اور ایمانداری کے تمام واقعات حضرت خدیجہؓ کے گوش گزار کیے- اور آپﷺ کے لوگوں کے ساتھ پیش آئے معاملات کی بھی خوب تعریف و توصیف بیان کی- چنانچہ حضرت خدیجہؓ نے اپنے چچا زاد بھائی "ورقہ بن نوفل” کیساتھ مشاورت کے بعد آنحضرتﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ جو آپﷺ نے اپنے خاندان کے بڑوں سے مشاورت کے بعد قبول فرما لیا۔ اور نکاح میں ورقہ بن نوفل ہی حضرت خدیجہؓ کے ولی قرار پائے- اور یہ سفر شام کے پچیس دن بعد کا واقعہ ہے- اور بعض روایات میں ہے کہ واپس آنے کے تقریبا تین مہینہ کے بعد حضرت خدیجہؓ نے آپﷺ کو شادی کا پیغام بھیجا- ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا لیکن ان کے چچا "عمرو بن اسد” زندہ تھے- عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں اور اس میں بالغہ نابالغہ کی قید نہ تھی- حضرت خدیجہؓ نے چچا کے ہوتے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے- تاریخ معین پر ابوطالب اور تمام روسائے خاندان جن میں حضرت حمزہؓ بھی تھے حضرت خدیجہؓ کے مکان پر آئے- ابوطالب نے خطبئہ نکاح پڑھایا اور پانچ سو طلائی درہم حق مہر قرار پایا-

بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت خدیجہؓ کے والد زندہ تھے اور ان کی موجودگی میں نکاح ہوا- لیکن شراب میں مخمور تھے اور جب ہوش میں آئے تو نکاح کا حال سن کر برہم ہوئے کہ یہ برابر کا جوڑ نہیں ہے- لیکن یہ روایت صحیح نہیں- امام سہیلی نے بہ تصریح اور بدلیل ثابت کیا ہے کہ حضرت خدیجہؓ کے والد جنگ فجار سے قبل انتقال کر چکے تھے- حضرت خدیجہؓ جس مکان میں رہتی تھیں وہ آج بھی (حسب بیان مورخ طبری) انہیں کے نام سے مشہور ہے- حضرت امیر معاویہؓ نے اس مکان کو خرید کر مسجد بنوا دیا- شادی کے وقت آنحضرتﷺ کی عمر پچیس برس تھی جبکہ حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس برس تھی اور پہلے دو شوہروں سے ان کے دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں- ان کے نام اور حالات آگے مفصل آئیں گے- آنحضرتﷺ کی جس قدر اولاد ہوئی بجز "حضرت ابراہیم” کے حضرت خدیجہؓ ہی کے بطن سے ہوئی- ان کے حالات آگے تفصیل سے آئیں گے۔

رسول اللہﷺ جس زمانہ میں پیدا ہوئے اس وقت مکہ بت پرستی کا مرکز اعظم تھا- خود خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے- رسول اللہﷺ کے خاندان کا تمغہ امتیاز صرف اس قدر تھا کہ اس صنم کدہ کے متولی اور کلید بردار تھے- باایں ہمہ رسول اللہﷺ نے کبھی بتوں کے آگے سر نہیں جھکایا- دیگر رسوم جاہلیت میں بھی کبھی شرکت نہیں کی- قریش نے اس بنا پر کہ انہیں عام لوگوں سے ہر بات میں ممتاز رہنا چاہیئے- یہ قاعدہ قرار دیا تھا کہ ایام حج میں قریش کے لیے عرفات جانا ضروری نہیں- اور یہ کہ جو لوگ باہر سے آئیں وہ قریش کا لباس اختیار کریں ورنہ ان کو عریاں ہو کر کعبہ کا طواف کرنا ہو گا- چنانچہ اسی بنا پر طواف عریاں کا عام رواج ہو گیا تھا- لیکن آنحضرتﷺ نے ان باتوں میں کبھی اپنے خاندان کا ساتھ نہیں دیا-

عرب میں افسانہ گوئی کا عام رواج تھا- راتوں کو لوگ تمام مشاغل سے فارغ ہو کر کسی مقام پر جمع ہوتے تھے- ایک شخص جس کو اس فن میں کمال ہوتا تھا داستان شروع کرتا تھا اور باقی لوگ بڑے ذوق و شوق سے رات رات بھر داستان سنتے تھے- بچپن میں ایک دفعہ آنحضرتﷺ نے بھی اس جلسہ میں شریک ہونا چاہا تھا- لیکن اتفاق سے راہ میں شادی کا کوئی جلسہ تھا دیکھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور وہیں نیند آ گئی پھر صبح کو آنکھ کھلی- ایک دفعہ اور بھی ایسا ہی اتفاق ہوا اس دن بھی یہی اتفاق پیش آیا- چالیس برس کی عمر میں دو دفعہ ہی ایسا ارادہ کیا اور دونوں دفعہ توفیق الہی نے بچا لیا کہ "آپﷺ شان ان مشاغل سے بالآتر ہے-"

آنحضرتﷺ کے بہت سے دنیاوی تعلقات تھے، تجارت کا کاروبار تھا، متعدد اولادیں تھیں- تجارت کی ضرورت سے اکثر سفر کرنا پڑتا تھا- لیکن دست قدرت کو جو کام لینا تھا وہ ان تمام مشاغل سے بالآتر تھا- دنیا اور دنیا کے کام آپﷺ کو ہیچ نظر آتے تھے- تاہم مطلوب حقیقی کا اب تک پتا نہ تھا-

مکہ معظمہ سے تین میل پر ایک غار تھا جس کو "حرا” کہتے ہیں- آپﷺ مہینوں وہاں جا کر قیام فرماتے اور مراقبہ کرتے- کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جاتے اور جب وہ ختم ہو چکتا تو پھر گھر تشریف لاتے- اور پھر واپس جا کر مراقبہ فرماتے- صحیح بخاری میں ہے کہ غار حرا میں آپﷺ تخث یعنی عبادت کیا کرتے تھے- "یہ سوال کیا گیا کہ آپﷺ کی عبادت کیا تھی- جواب یہ ہے کہ غور و فکر اور عبرت پزیری-"

یہ وہی عبادت تھی جو آپﷺ کے دادا "ابراہیم علیہ السلام” نے نبوت سے پہلے کی- ستاروں کو دیکھا تو چونکہ تجلی کی جھلک تھی دھوکہ ہوا، چاند نکلا تو اور بھی شبہ ہوا، آفتاب پر اس سے بھی زیادہ ہوا، لیکن جب سب غروب ہو گئے تو بےساختہ پکار اٹھے؛ "میں فانی چیزوں کو نہیں مانتا….میں اپنا منہ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا-"

ایک مغربی مورخ نے آنحضرتﷺ کی اس عبادت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ؛ "سفر و حضر میں ہر جگہ محمدﷺ کے دل میں ہزاروں سوال پیدا ہوتے تھے، میں کیا ہوں، یہ غیر متناہی عالم کیا ہے، نبوت کیا شے ہے، میں کن چیزوں کا اعتقاد کروں-؟ کیا کوہ حرا کی چٹانیں، کوہ طور کی سربفلک چوٹیاں، کھنڈر اور میدان، کسی نے ان سوالوں کے جواب دئیے-؟ نہیں ہرگز نہیں، بلکہ گنبد گرداں، گردش لیل و نہار، چمکتے ہوئے ستارے، برستے ہوئے بادل، کوئی ان سوالوں کا جواب نہ دے سکا-” (کارلائل ہیروز، تذکرہ رسول اللہﷺ)

نبوت کا دیباچہ یہ تھا کہ خواب میں آپﷺ پر اسرار منکشف ہونے شروع ہوئے- جو کچھ آپ ﷺخواب میں دیکھتے تھے بعینہ وہی پیش آتا تھا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close