تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 16)

رستم علی خان

قوم عاد کے بعد دوسری بڑی قوم ثمود کی تھی انہیں عاد ثانیا بھی کہا جاتا ہے- عاد جس طرح جنوبی اور مشرقی عرب کے مالک تھے ، ثمود اس کے مقابل مغربی اور شمالی عرب پر قابض تھے۔ ان کے دارالحکومت کا نام حجر تھا۔ یہ شہر حجاز سے شام کو جانے والے قدیم راستہ پر واقع تھا۔ اب عموماً اس شہر کومدائن صالح کہتے ہیں۔ یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔ یہ یادگاریں اب تک باقی ہیں۔ان پر ارامی و ثمودی خط میں کتبے منقوش ہیں۔

یہ بھی سامی نسل سے ہی تھے- ثمود قدیم جزیرۃ العرب کی قوم جو ہزاروں سال ق م سے تقریباً محمدﷺ کے عہد تک رہے ہیں۔ قوم کے مورثِ اعلیٰ کا نام ثمود تھا اور مشہور نسب نامہ یہ ہے۔ ثمود بن جشیر بن ارِم بن سام بن نوح علیہ السلام۔

اور کہیں ان کا نسب نامہ یوں بھی بیان ہوا ہے کہ یہ جدیس کے بھائی ثمود کی نسل ہیں یہ دونوں عاثر کے بیٹے تھے وہ ارم کا بیٹا تھا اور ارم سام بن نوح کا بیٹا تھا-

بعض مورخین نے کہا ہے کہ اہل کتاب (یہودی) ان دونوں قوموں (عاد و ثمود) کے حالات سے واقف نہیں تھے کیونکہ ان کی کتاب تورات میں ان کا ذکر نہیں- لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو عاد و ثمود کے بارے بتایا تھا- ارشاد ہے

ترجمہ : اور موسی نے صاف صاف کہہ دیا اگر تم اور جتنے لوگ اس زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو اللہ پھر بھی بےنیاز قابل تعریف ہے- کیا تم لوگوں کو ان کی خبر نہیں پنہچی جو تم سے پہلے تھے قوم نوح اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں- جن کے پاس پیغمبر معجزے لے کے آئے- (سورہ ابراھیم 14 آیت 8، 9)

یہ وہ زمانہ تھا جب عرب میں قوم ثمود کا ڈنکا بجتا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کو بڑی زرخیزی عطا کی تھی۔ مٹی میں بڑی طاقت تھی۔ فصل خوب ہوتی، پانی بھی بہت تھا۔ لوگوں نے کنویں کھودے ہوئے تھے۔ دراصل یہ اپنے وقت کے بہترین انجینئر تھے۔

ان کے محلات، قلعے اور مکان ان کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ میدانوں میں بڑے بڑے محل تو ہر زمانے میں بنائے جاتے ہیں لیکن قوم ثمود کا حیران کن ہنر پہاڑ تراشنا تھا۔ کہتے ہیں اس زمانے میں لوگ طویل العمر ہوتے تھے کہ مٹی سے گھر بناتے تو ان کی زندگی میں ہی وہ گھر گر جاتے اس لئیے ان لوگوں نے پہاڑ تراش کر گھر بنانے شروع کر دئیے جو مضبوط ہوتے-

یہ لوگ کسی مناسب پہاڑ کا انتخاب کرتے، پھر اسے تراشنا شروع کر دیتے، یہاں تک کہ پہاڑ میں مکان بنا ڈالتے۔ یہ مکان غار نما ہر گز نہیں تھے بلکہ ان میں ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہوتا۔ پہاڑ میں تعمیر ہونے کی وجہ سے یہ بہت مضبوط ہوتے تھے۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے پورے علاقے میں ان جتنا خوش حال اور طاقت ور ملک کسی کا نہیں تھا۔ اور یہ خوش حالی اور طاقت ہی کا گھمنڈ تھا جس نے انھیں مغرور اور ظالم بنا دیا تھا۔ ارد گرد کی بستیوں پر ظلم کرنا ان کے لیے ایک کھیل کا درجہ رکھتا تھا۔
خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی وجہ سے ثمود کے لوگ عیش کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اپنے نبی اور رسول حضرت ہود علیہ السلام کی تعلیمات کو بھلا چکے تھے۔ اور ایک بار پھر بت پرستی کی طرف مائل ہو گئے تھے-

انھی حالات میں ایک نوجوان کا چرچا ہوا۔ سرخ و سفید رنگ، لمبے قد اور مضبوط جس کا مالک یہ نوجوان عام لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ اسے اپنے زمانے کی فضول رونقوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ اسے بت کدوں میں رکھے ہوئے بتوں سے بھی سخت نفرت تھی۔ لوگ اس کی زبان سے بتوں کے متعلق نفرت کے کلمات کئی دفعہ سن چکے تھے۔ لیکن اس کی شرافت اور دیانت کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہتے تھے۔ نہیں کہتے تھے۔

اس نوجوان کا نام ’’صالح‘‘ تھا۔ ایک معزز قبیلے کا باوقار شخص، جسے بعد میں اللہ نے اپنا نبی بنایا۔ اور آپ کا نسب نامہ یوں ہے؛
صالح بن عبید بن ماسح بن عبید بن حادر بن ثمود بن عاثر بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام- اللہ تبارک وتعالی نے حضرت صالح علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی اور انہیں قوم ثمود کی ہدایت و رہربری کی ذمہ داری سونپی- حضرت صالح علیہ السلام نے شہر کے بڑے بڑے لوگوں اور سرداروں کی دعوت کی۔ اور جب وہ کھانے وغیرہ سے فارغ ہوئے تو بعد اس کے آپ نے ان لوگوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور انہیں بلانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا؛

’’اے لوگو! آج میں نے تمہیں وہ باتیں یاد کرانے کے لیے بلایا ہے، جن کو تم بھول چکے ہو۔ مجھے علم ہے کہ تم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ ہی نے تمہیں اور تمہاری زمین کو بنایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود تم اس کی عبادت کرنے کے بجائے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتے ہو۔ اے میری قوم کے سردارو! یہ گمراہی چھوڑ دو، ایک اللہ کی عبادت کرو۔ وہی تمہارا اصل رب ہے، اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور سرکشی کا رویہ چھوڑ دو۔

حضرت صالح علیہ السلام کی گفتگو کے جواب میں ان سرداروں نے کہا: ’’اے صالح! ہمیں تم سے بہت سی امیدیں تھیں۔ ہم تمہیں بہت معزز اور باوقار شخص سمجھتے تھے لیکن تم نے ہمیں ’’گمراہ‘‘ کہہ کر ہمارے باپ دادا کے دین کو گالی دی ہے۔ تمہاری کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر ہم ان خداؤں کی پوجا کیوں چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں۔ تم نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔‘‘

حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں سمجھانا چاہا لیکن وہ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھ آئے۔ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے یہ باتیں عام لوگوں میں کیں تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنی رسالت کا عام اعلان کر دیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ صالح نے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ وہ حضرت نوح ؑ اور ہودؑ کی طرح کے رسول ہیں۔ ان کا انکار کرنے پر اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ اور مزید فرمایا؛ کہ اللہ نے تمہیں قوم عاد کا جانشین بنایا ہے- تم ان سے عبرت حاصل کرو اور ان جیسے عمل نہ کرو- اللہ نے تمہیں یہ زمین عطا فرمائی جس کے میدانوں میں تم محلات تعمیر کرتے ہو اور بڑہ مہارت سے پہاڑ تراش تراش کر پختہ عمارتیں بناتے ہو- لہذا اللہ کی ان نعمتوں کے عوض نیک عمل کرو اس کی عبادت کرو اس کے ساتھ شرک نہ کرو- اس کے احکام سے مخالفت کر کے اس کی اطاعت سے رو گردانی نہ کرو کہ اس کا انجام بہت عبرتناک ہے-

مگر طاقت کے غرور میں پڑے ہوئے سرداروں اور مذہبی لیڈروں نے لوگوں کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کر رہے ہوتے اور گناہ کی زندگی بسر کر رہے ہوتے تو اللہ انہیں پورے عرب میں اتنی عزت نہ دیتا، ان کی زمینوں کو اتنا سرسبز نہ بناتا اور ان کے محل اور پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکان اتنے عمدہ نہ ہوتے۔

بت خانوں کے مالک یعنی کاہن کہتے: ’’اے لوگو! خود سوچو، جو ہاتھ گناہ گار ہوں، ان ہاتھوں میں اللہ یہ ہنر کیوں پیدا کرے گا جن کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں معزز بن جائیں…‘‘

کچھ جھوٹے دانش ور دور کی کوڑی لائے اور کہنے لگے: ’’دراصل اس (صالح علیہ السلام) کا علیحدہ اور تنہا رہنے سے (نعوذ باللہ) ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔ اس لیے یہ اپنے باپ دادا کو گمراہ قرار دے کر ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔‘‘

کچھ زیادہ ہمدردی جتاتے تو کہتے: ’’بے چارے صالح پر کسی بد روح کا سایہ پڑ گیا ہے۔‘‘

بعض تو یہ کہنے سے بھی باز نہ آئے کہ صالح جادوگر ہو گیا ہے۔ کچھ سردار کہتے:

’’ہمیں یقین ہے کہ صالح نے یہ سارا چکر اس لیے چلایا ہے کہ وہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر ا ن کا سردار بن جائے۔ یہ بہت چالاک شخص ہے۔‘‘

لیکن حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں اور بت کدوں کے کاہنوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ آپ کی کوششوں سے کچھ لوگوں نے ایمان قبول کر لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کر کے شرک اور بری باتوں سے باز آ گئے۔
ان میں اکثر ایسے تھے جو غریب اور عام لوگ تھے۔ قوم کے سرداروں نے ان ایمان لانے والوں کو بے وقوف قرار دیا اور حضرت صالح علیہ السلام کا خوب مذاق اڑایا۔

تب حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا تم لوگ نوح علیہ السلام کی قوم کا حال بھول گئے جو نبی اللہ اور اس کے متبعین کو ستاتے اور ان کی تحقیر کرتے تھے اور وہ غرق کر دئیے گئے- اور کیا تمہارے سامنے عاد کی مثال نہیں کہ جنہوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا اور احمق کہا اور اپنی طاقت اور زمینوں اور کھیت کھلیانوں پر مان کیا اور اللہ سے مقابلے کی ضد کرنے والوں کو کیسے ہوا نے ایک دوسرے سے پٹخ کے مارا- ان سے عبرت پکڑو اور اللہ نے جو موقع دیا ہوا ہے اس سے فائدہ اٹھا لو اور اس کی طرف لوٹ آو بیشک وہ تمہیں اور بھی نوازے گا-

انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے مکر کیا اور بڑے بڑے سردار اور کاہن آپ کے پاس آئے اور یوں گویا ہوئے- اے صالح ہمیں تو تم سے بڑی امیدیں تھیں کہ تم ہمارے بستی میں سب سے زیادہ صاحب عقل، دانشور اور ایمان دار اور سچے آدمی تھے- ہم نے تو سوچا تھا تمہیں اپنا سردار بنا لیں گے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تم کسی کے ساتھ ناانصافی بھی نہیں کرتے اور بہادر اود نڈر بھی ہو تم میں سب کچھ سرداری کے لائق ہے پر افسوس کہ تم ہمیں اور ہمارے باپ داد کو اور ان کے دین کو غلط کہتے ہو سو اگر تم اب بھی یہ سب چھوڑ دو اور ان چھوٹے اور عام لوگوں میں بیٹھنے کی بجائے ہمارے ساتھ بیٹھو اور ہماری محفلوں میں شرکت کرو تو ہم تمہیں اپنا سردار مان لیں گے اور تمہاری حکم عدولی نہ کریں گے-

تب حضرت صالح نے فرمایا، مجھے کافروں کی سرداری کا شوق نہیں ہے اور میرا منصب پیغمبری ہے سو میں حق بات کہنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا- میں تو اللہ کے احکام تم تک پنہچانے آیا ہوں اور یہ میرے ذمے ہے کہ حق کو کھول کر بیان کروں چاہے تم لوگ مانوں یا نہ مانو-

کئی برسوں کی تبلیغ کے بعد ثمودی قوم آپ سے تنگ آ گئی۔ وہ آپ کو اپنے طاقت ور قبیلے کا معزز شخص ہونے کی وجہ سے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا سکتی تھی۔

ان دنوں قبیلے کے کسی فرد کے قتل ہو جانے پر جنگ کا لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ چنانچہ قوم کے سرداروں نے بت کدوں کے کاہنوں سے مل کر ایک وفد بنایا۔ یہ لوگ حضرت صالح علیہ السلام کے پاس گئے اور کہا:

’’اے صالح! ہم تمہاری باتوں سے سخت تنگ آ گئے ہیں۔ تمہاری عذاب کی دھمکیوں نے ہمارا جینا مشکل کر دیا ہے۔ ہماری خوش حال اور رنگین زندگی کو تم نے کباب میں ہڈی بن کر تباہ کر دیا ہے۔ اس موقع پر ہم تم سے صاف صاف باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ تم کوئی معجزہ دکھاؤ۔ اگر تم نے ایسا کر دیا تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close