تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 28)

رستم علی خان

چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام عزیزِ مصر کے محل میں رہنے لگے- عزیز مصر نے انہیں اچھی طرح رکھا اور کئی سالوں تک آپ انکے گھر پر رہے اور جوان ہو گئے-

جب آپ جوان ہوئے تو جوانی نے آپ کے حسن و جمال کو مزید بڑھا دیا- یہاں تک کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام کے عشق میں مبتلا ہو گئی- اور جب وہ اس میں بےبس ہو گئی تو ایک دن حضرت یوسف کو اپنے پاس بلایا اور انہیں ساتھ لئیے محل کے اندرونی حصے کی جانب چلی اور دروازے اچھی طرح بند کرتی گئی اور آگے پیچھے سات دروازے تھے جنہیں اچھے سے بند کیا اور محل کے آخری کمرے میں پنہچ کر حضرت یوسف سے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور بیقراری ظاہر کی- حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے منع کرتے ہوئے کہا کہ عزیز مصر میرا آقا ہے اور میں اس کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا کہ وہ مجھے بےحد عزیز رکھتا ہے-

عزیزِ مصر کی بیوی نے جب دیکھا کہ آپ کسی طور اس کی طرف مائل نہیں ہوتے تب اس نے زبردستی کرنی چاہی تو حضرت یوسف علیہ وسلام دروازے کی طرف بھاگے اور خدائے پاک کے حکم سے ساتوں دروازے خودبخود کھلتے چلے گئے-

بعض روایات میں ہے کہ جب آپ نے عورت کو درازے بند کرتے دیکھا تو جان لیا کہ یہ ارادہ بد رکھتی ہے اور آپ نے اپنے آزار بند کی گرہیں مضبوط کرنی شروع کر دیں اور مزید گرہیں لگا لیں تاکہ کھل نہ سکے- جب آخری کمرے میں پنہچے اور عورت نے اپنی خواہش ظاہر کی اور بیقراری دکھائی اور خود اپنے سر کا کپڑا اتار کر وہاں موجود ایک بت کے اوپر ڈال کر اسے ڈھک دیا- حضرت یوسف نے عورت سے پوچھا کہ اسے کیوں ڈھک دیا- اس نے کہا کہ یہ ہمارا خدا ہے اور اس کے سامنے برا فعل کرتے مجھے شرم محسوس ہوتی ہے اب یہ ہمیں نہیں دیکھ سکتا- تب آپ نے فرمایا کہ میرا رب تو سمیع البصیر ہے- اور اس سے کوئی چیز چھپی نہیں چاہے سات پردوں میں ہی کیوں نہ ہو- اور اللہ سے مدد مانگی تب حکم آیا کہ دروازے کی جانب دوڑو- حضرت یوسف نے کہا کہ دروازے تو بند ہیں- حکم ہوا دروازے کھلے ہیں- تب آپ دوڑے اور دروازے خود ہی کھلتے چلے گئے- عزیز مصر کی بیوی نے پیچھے سے آپ کی قمیص کا دامن پکڑ کے اپنی جانب کھینچنا چاہا تو دامن پھٹ گیا- اور جب وہ آگے پیچھے آخری دروازے پر پنہچے تو وہاں انھوں نے عزیز مصر کو کھڑا پایا- تو عورت نے جلد چالاکی سے کہا۔ جو تیرے گھر میں برائی کا ارادە کرے یا تو اُس کو قید کیا جائے یا سخت سزا دی جائے۔

حضرت یوسف علیہ اسلام نے فرمایا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ ہی مجھ کو اپنا مطلب پورا کرنے کے لیے پھسلاتی تھی۔ تب خاندان کے ایک فیصلہ کرنے والے نے کہا کہ دونوں اپنی گواہی پیش کرو- تب حضرت یوسف نے بحکم ربی وہاں موجود زلیخا کے خاندان کے ایک شیر خوار بچے سے فیصلہ کروانے کی بابت کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچہ کیونکر بولے گا اور کیسے گواہی دے گا- تب وہ چار ماہ کا بچہ اللہ کے حکم سے بولا کہ یوسف کی قمیص کا دامن دیکھو؛ اگر تو قمیص آگے سے پھٹی ہے۔تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹا اور اگر قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچا اور عورت جھوٹی ہے۔

جب قمیص کو دیکھا تو وہ پیچھے سے پھٹی تھی تب عزیز مصر نے اپنی بیوی سے کہا کہ بیشک تم ہی جھوٹی ہو اور تم عورتوں کے مکر بہت بھاری ہوتے ہیں اور یوسف تو معصوم اور سچا ہے پس تم ندامت کرو اپنے گناہ پر اور یوسف سے بھی کہ تم غلط ہو-
یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزە تھا کہ دودھ پیتا گہوارہ میں جھولتا ہوا بچہ الله کے حکم سے بول اُٹھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ چار بچوں نے الله کے حکم سے کلام کیا۔ فرعون کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواە نے۔ حضرت عیسٰی نے اپنی والدە کی پاکدامنی بیان کی جس کا ذکر سورە مریم میں ہے۔ اور بنی اسرائیل کے ایک بزرگ جریح پر اس طرح کی تہمت لگی تو ایک نوزائیدە بچے نے گواہی دی۔

زلیخا بادشاە وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی۔ لیکن اس واقعے کی خبر شہر بھر میں مشہور ہوگئی۔ شہر کی عورتوں نے زلیخا پر طن و تشنیع شروع کردی۔ چند عورتوں نے کہا دیکھو عزیز مصر کی بیوی اپنے نوکر پر جان دے رہی ہے۔ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں ہے۔ اصل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حُسن کی شہرت پورے مصر میں پھیل چکی تھی۔ اصل میں ان کو بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے دیدار کا شوق تھا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ شہر کی عورتوں نے کہا کہ عزیز کی بیوی اپنےجوان غلام کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اسکے دل میں حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت بیٹھ گئی ہے۔ وە صریح غلطی میں ہے۔

جب یہ خبر عزیز مصر کی بیوی تک پنہچی کہ شہر کی عورتیں ان کے بارے ایسی باتیں کرتی ہیں تو انہوں نے ان سب کو اپنے محل میں دعوت پر بلایا- جب سب عورتیں آ گئیں تو انہیں برامدے میں بٹھایا اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک چھری تھما دی اور ان کے سامنے کھانے کو پھل پیش کئیے-

جب تمام عورتیں پھل کاٹنے میں مشغول ہو گئیں تو زلیخا نے حضرت یوسف کو کمرے سے باہر آنے کو کہا- جب حضرت یوسف کمرے سے نکلے اور عورتوں کی ان پر نظر پڑی تو انہوں نے اپنی انگلیوں کی پوریں کاٹ لیں اور انہیں احساس تک نہ ہوا- بلکہ ایک سکتے کی سی کیفیت میں حضرت یوسف کو دیکھنے لگیں- تب زلیخا نے ان کی توجہ ان کے ہاتھوں کی جانب دلوائی- تب انہوں نے کہا کہ اللہ کی پناہ ہم نے ایسا حسن و جمال پہلے کبھی نہیں دیکھا- یہ واقعی کوئی آدم زاد ہے یا پھر کوئی بزرگ فرشتہ-
تب زلیخا نے کہا کہ اب کہو کیا میں غلط ہوں اس میں جو میں نے کیا؟ تمام نے کہا کہ بیشک تو سچی ہے کہ ایسا پیکر حسن و جمال کا ہو تو ہر کوئی بہک سکتا ہے- تب زلیخا نے کہا کہ تم تو ایک بار دیکھ کر انگلیاں کٹوا بیٹھی ہو تو میرا سوچو جس کے ساتھ یہ تمام وقت ہوتا ہے- سو میں اسے مجبور کرتی رہوں گی جب تک یہ میری خواہش نہ پوری کر دے وگرنہ اسے قید خانے میں داخل کر دیا جائے گا-تب حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ جس چیز کی دعوت یہ عورت مجھے دیتی ہے میں اس سے بہتر قید ہونا سمجھتا ہوں-

چنانچہ جب عزیز مصر نے دیکھا کہ اس کی عورت ابھی بھی یوسف کے بارے خواہش غلط رکھتی ہے اور اپنی خواہش میں پکی ہوئی جاتی ہے تو بہتر جانا کہ یوسف کو قید کر دیا جائے- (اور یہی ہوتا آیا ہے ہر بار کہ ہر کوئی کمزور کو ہی دبانا چاہتا ہے)
چنانچہ حضرت یوسف کو قید میں ڈال دیا گیا اور آپ ایسے قیدی تھے جو بےجرم سزا وار ٹھہرائے گئے تھے-

حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ دو قیدی اور بھی قید خانے میں داخل کئیے گئے جن میں سے ایک شاہی باورچی تھا اور دوسرا بادشاہ کا مدام حاص تھا جو اسے شراب پلایا کرتا تھا- ان دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینے کی کوشش کی ہے- چنانچہ یہ دونوں اور ان کے علاوہ جو قیدی پہلے سے وہاں موجود تھے تمام کے تمام حضرت یوسف کے حسن و جمال اور آپ کے اخلاق و کردار سے بےحد متاثر ہوئے-

اب آپ کا یہ کام تھا کہ سارا دن قیدیوں کو دین حق کی تبلیغ کرتے رہتے اور اللہ کی عظمت و بڑائی بیان کرتے رہتے- اسی طرح وقت گزرتا رہا- پھر ایک دن دونوں شاہی قیدی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ اے نیک آدمی ہم دونوں نے خواب دیکھے ہیں جو عجیب نوعیت کے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں تجھے ایک نیک بزرگ کی صورت پس ہم تجھے بتاتے ہیں جو ہم نے دیکھا ہے اور تو ہمیں اس کی تعبیر کے بارے میں بتا دے اگر آپ واقعی ایسا کر سکیں تو۔

چنانچہ ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے اپنے خوابوں کا تذکرہ بیان کیا- ساقی نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے دیکھتا کیا ہوں کہ بادشاہ کو انگور نچوڑ کر پلا رہا ہوں- باورچی نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اپنے سر پر روٹیوں اور اناج کا تھال اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے اٹھا اٹھا کر لے جا رہے ہیں- تو اے یوسف یہ ہمارے خواب ہیں تو ہمیں ان کی تعبیر کے بارے کچھ بتا-

حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میرے قید خانے کے ساتھیو! میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا اس سے پہلے کہ ہمارا کھانا آئے- لیکن اس سے پہلے تم مجھے بتاو کہ یہ جو تم نے الگ الگ خدا بنا رکھے ہیں یہ بہتر ہیں یا وہ اللہ جو اکیلا اور زبردست اور غالب ہے- اور بیشک اللہ ہی سب سے بہتر ہے- پھر فرمایا کہ تم میں سے پہلا کہ جس نے دیکھا کہ بادشاہ کو شراب پلاتا ہے وہ رہائی پائے گا اور اپنی خدمت پر بحال ہو گا اور بادشاہ کو انگور نچوڑ کر شراب پلائے گا-

اور دوسرا کہ جس نے دیکھا کہ پرندے اور جانور اس کے سر سے کھانا لے کے اڑتے ہیں اس پر جرم ثابت ہو گا اور وہ سولی چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچیں گے- اور یہی ہے ان خوابوں کی تعبیر جو مجھے میرے اللہ نے سکھلائی اور میں نے صحیح صحیح بیان کر دی-

بعد اس کے آپ نے اس قیدی سے (کہ جس کے بارے کہا تھا کہ رہائی پائے گا اور دوبارہ بادشاہ کی خدمت پر مامور ہو گا) کہا کہ جب رہا ہو جاو تو بادشاہ سے میرا زکر ضرور کرنا اور میری بےگناہی کا تذکرہ بھی کرنا کہ بےجرم قید ہے-

روایات میں ہے کہ حضرت یوسف کا یہ کہنا بارگاہ ربی میں نامنظور ہوا کہ یوسف ہمیں چھوڑ کر دوسروں سے کہتا پھرتا ہے کہ میری بےگناہی کا زکر کرنا جبکہ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں- چنانچہ رہا ہونے والا قیدی آپ کے بارے زکر کرنا بھول گیا اور اس طرح آپ مزید آٹھ سال تک اس قید خانے میں رہے اور اللہ کی عبادت اور قیدیوں کو دین حق کی دعوت و تبلیغ کرنے میں مشغول رہے-
ایک دن عزیز مصر نے خواب دیکھا کہ سات گائیں موٹی ہیں اور سات دبلی اور دبلی پتلی گائیں موٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز اور سات خشک ہیں- وہ اس خواب سے بڑا پریشان ہوا اور دوسرے دن اپنے دربار میں اس خواب کا تذکرہ کیا اور اپنے وزیروں مشیروں اور نجومیوں سے اس خواب کی تعبیر ڈھونڈنے کے بارے کہا-

تمام لوگوں نے بےبسی اور لاعلمی کا اظہار کیا کہ یہ خواب بڑا پراسرار ہے یا پھر کوئی آسمانی اشارہ ہے اور ہم اس کی تعبیر ظاہر کرنے سے قاصر ہیں-

اس وقت دربار میں عزیز مصر کا مدام حاص وہ قیدی بھی موجود تھا کہ جو قید سے رہا ہوا تھا اور جس سے حضرت یوسف نے بادشاہ کے سامنے ان کا زکر کرنے کی بابت کہا تھا- تب اسے حضرت یوسف کے بارے یاد آیا تو اس نے عزیز مصر سے کہا کہ میں اس خواب کی صحیح تعبیر لا کے دے سکتا ہوں لیکن اس کے لئیے مجھے جیل خانے میں جانے کی اجازت چاہئیے-

عزیز مصر سے اجازت لینے کے بعد وہ سیدھا حضرت یوسف کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے بادشاہ کا خواب بیان کیا اور اس کی تعبیر کے بارے پوچھا اور مزید کہا کہ اگر آپ اس کی صحیح تعبیر بیان کر دیں تو عزیز مصر کے آگے آپ کی سفارش کروں گا کہ آپ کو رہائی دی جائے-

حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کی تعبیر یوں بنتی ہے کہ جو سات گائیں موٹی تازی ہیں وہ آنے والے سات سال خوشحالی کے ہیں جس میں خوب بارش ہو گی اور غلہ اناج ہو گا- اور جو سات گائیں دیکھی دبلی پتلی کہ موٹی گائیوں کو کھاتی ہیں وہ سات سال خشکی اور قحط کے ہیں جو پہلے سات سالوں کے بعد آئیں گے اور اس میں جو تم نے اکٹھا کیا ہو گا غلہ خوشحالی کے زمانوں میں وہ کھاو گے- اور جو سات خوشے خشک دیکھے اس سے مراد ہے کہ اناج کو خوشوں میں خشک رہنے دینا کہ اس سے اناج کے خراب ہونے اور کیڑا لگنے کا خدشہ بہت کم ہو جاتا ہے- اور جع دیکھا کہ سبز خوشے تو وہ سات سال قحط کے بعد پھر خوشحالی کا دور آئے گا اور خوب بارشیں ہوں گی-

وہ شحص تعبیر پوچھ کر گیا اور جب اس نے دربار میں یہ تعبیر عزیز مصر سے بیان کی تو اس نے پوچھا کہ کس نے بیان کی ہے یہ یقینا وہ کوئی بزرگ شخص ہیں- ساقی نے آپ کے بارے بادشاہ سے مکمل زکر کیا آپ کے اخلاق و کردار کی گواہی سمیت- تب عزیز مصر نے آپ کو رہا کرنے اور دربار میں لانے کا حکم جاری کیا- جب حضرت یوسف تک اس بات کی خبر پنہچی تو آپ نے فرمایا کہ عزیز مصر سے ان عورتوں کی بابت پوچھو کہ جنہوں نے اپنی انگلیاں کاٹیں تھیں- چنانچہ ان عورتوں سے اس بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ بیشک یوسف اخلاق و کردار کا مضبوط ہے اور ہم ہی بہکنے والوں میں سی تھیں- زلیخا نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ بیشک یوسف پاکدامن ہے اور اس نے کوئی خیانت نہیں کی-

جب حضرت یوسف تک یہ بات پنہچی تو فرمایا کہ میں ایسا صرف لئیے کہ عزیز مصر کو بتا سکوں کہ میں اس کے پیچھے اس کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی اور بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے اور بیشک یہ عورتوں کا ہی مکر و فریب تھا اور عورتوں کے مکر بہت بھاری ہوتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close