تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 29)

رستم علی خان

چنانچہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی بریت ظاہر ہوگئی تو بادشاہ مصر نے حکم دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو عزت کے ساتھ لایا جائے میں شاہی خدمت ان کے سپرد کردوں گا۔ حضرت یوسف علیہ السلام جب وہاں پنہچے تو عزیز مصر نے اپنے تحت پر ان کے لئیے جگہ خالی کی اور آپ کو تمام مصر کی شاہی سونپنے کی بات کی-

تب حضرت یوسف نے پوری بادشاہت سنبھالنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اگر تم قحط سالی سے بچنا چاہتے ہو تو خزانے کے کنجیاں میرے حوالے کردو، کیوں کہ میں حساب میں ماہر ہوں، چنانچہ عزیز مصر نے آپ کو شاہی خزانچی بنادیا۔

خوشحالی کے دور میں آپ نے بہت سا غلہ اور اناج جمع کرنا شروع کر دیا اور تمام غلے کو ان کے خوشوں میں ہی رہنے دیا کہ اس طرح غلہ خراب ہونے اور اسے کیڑا لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے- اسی دوران عزیز مصر کا انتقال ہوا چونکہ اس کی کوئی اولاد نہ تھی جو تحت شاہی سنبھالے تو لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف علیہ السلام کو ہی بادشاہ بنا لیا جائے کہ آپ تمام معاملات نہایت احس طریقے سے سر انجام دیتے ہیں- اور دوسرا اخلاق و کردار اور عادات و اطوار کے لحاظ سے بھی اس قابل ہیں کہ حکومت سنبھال سکیں کہ آپ جیسا نیک بزرگ کوئی نہ ہے جو تحت شاہی کے لائق ہو-

خوشحالی کے بعد جب قحط کا زمانہ آیا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت میانہ روی سے جمع کیا ہوا غلہ عوام میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ خوشحالی کے سالوں میں آپ نے اتنی مقدار میں غلہ جمع کر لیا تھا جو کہ آپ کے ملک کی عوام کی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا- چنانچہ آپ نے نزدیک و دور کے قحط زدہ علاقوں میں اپنے ایلچی بیجھے کہ خبر کر دیں کہ مصر میں غلہ موجود ہے سو جو کوئی خریدار بننا چاہے آ کر کے خرید لے-

قحط کا اثر کنعان تک بھی جا پہنچا تھا، جب حضرت یوسف کا ایلچی وہاں پنہچا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اہل کنعان سے مشاورت کے بعد غلے کے لیئے سب سے سرمایہ اکٹھا کیا اور چند معزز لوگوں کے ساتھ اپنے بیٹوں کو غلہ لانے کے لیے مصر بھیجا، اور ان سے کہا کہ شاہ مصر سے کہنا کہ ہمیں ہمارے سرمائے کے بدلے زیادہ غلہ عنایت کرے جب ہم پر خوشحالی آئے گی تو ہم آپ کو پورا پورا بدلہ دیں گے- اور یوسف علیہ السلام کے بھائی بنیامین کو اپنے پاس ہی رکھا۔

جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اور ان کا قافلہ مصر میں پہنچا تو حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا مگر وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو نہ پہچان سکے، حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے بہانے سے ان کے خاندان اور گھر بار کے متعلق پوچھا اور آپ کا مقصد باپ اور بھائی کی خیریت دریافت کرنا تھا- تب آپ کے بھائیوں نے بتایا کہ ہم دس بھائی ہیں جو یہاں موجود ہیں اور علاوہ ان کے ہمارا ایک اور بھائی بنیامین ہے جو ہمارے بوڑھے باپ کی خدمت کے لئیے ان کے پاس رکا رہا ہے کہ وہ ضعیف اور نابینا ہیں-
تب حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ کیا ہی اچھا ہو جو اگلی دفعہ تم اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ساتھ لے کر آو تو ہم تمہیں مزید غلہ دیں گے اور تم اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے زیادہ غلہ لے جا سکو گے تو اگلی بار اپنے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لانا، تم کو بہت سا غلہ دیا جائے گا اور اگر تم اس کو نہ لائے تو تم کو اناج نہیں ملے گا۔

چنانچہ حضرت یوسف نے ان کے کہے مطابق ان کو اس مطلوبہ سرمائے سے جو وہ غلہ خریدنے کو لائے تھے مقدار میں زیادہ غلا اور اناج دیا اور ان کی خوب آو بگھت بھی کی اور انہیں اچھے سے رکھا اور بہترین طریقے ان کی سے مہمان نوازی کی اور یہی انبیاء کے اوصاف ہوتے ہیں کہ وہ برا کرنے والوں کے ساتھ بھلا ہی کرتے ہیں اور اپنی طرف سے بھلائی چاہتے ہیں سبھی کی-

جب وہ سب واپس ہونے لگے تو آپ نے پھر فرمایا کہ تم اگلے سال آؤ گے تو میرے پاس اپنے اس بھائی کو بھی لانا جو تمہارے والد کے پاس ہے اور پھر بھائی کو لانے کی ترغیب دینے کے لئے فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ تول پورا کر کے دیتا ہوں اور میں بہترین میزبانی کرنے والوں میں سے ہوں اور پھر انکو ڈرانے کے لئے یہ بھی کہا کہ اگر تم میرے پاس اسے لے کر نہ آۓ تو میری طرف سے تمہیں کوئی غلہ نہ ملے گا اور تم میرے قریب بھٹکنا بھی مت۔

بھائیوں نے کہا کہ ہم اپنے والد سے بات کریں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کہ ہمارے والد اسے بےحد عزیز رکھتے ہیں اور یوسف کے بعد سے اسے کہیں آنے جانے نہیں دیتے سو ہم اسے لانے کا عہد نہیں کرتے مگر ہم کوشش کریں گے اور اپنے والد سے آپ کا زکر بھی کریں گے کہ ہم آپ کو ایک نیک اور اعلی اخلاق و کردار کا مالک دیکھتے ہیں تو پس ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے والد آپ کے بارے جان کر بنیامین کو ہمارت ساتھ بھیجنے پر راضی ہو جائیں-

پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے خادموں سے کہہ کر وہ سرمایہ بھی اپنے بھائیوں کے تھیلوں میں رکھوا دیا جو وہ غلہ خریدنے کے لئے اپنے ساتھ لیکر آئے تھے-

اسکی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جب وہ وطن پہنچ پر غلے میں پونجی پائیں تو واپس کرنے ضرور آئیں گے اور آپکو یہ بھی خطرہ تھا کہ شاید ان کے پاس دوبارہ غلہ خریدنے کے لئے مزید رقم نہ ہو اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو غلے کے عوض اپنے بھائیوں سے رقم لینا اچھا معلوم نہ ہوا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہہ رکھا تھا کہ اگلی بار جب وہ غلہ لینے آئیں گے تو ان کے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لائیں گے اور اس سلسلے میں جب وہ اجازت لینے کے لئے اپنے والد کے پاس پہنچے تو کہا کہ آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیں ورنہ ہمارا غلہ روک لیا جاۓ گا اور ہمیں کچھ نہ ملے گا۔ اور بھی جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو انہیں وہ سرمایہ بھی مل گیا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا تھا ، اسے دیکھ کر وہ خوش ہوۓ اور والد سے کہا کہ ہمیں اور کیا چاہئے سرمایہ بھی واپس مل گیا ہے اور اگر بنیامین ساتھ جاۓ گا تو ہم اور زیادہ اناج لا سکیں گے۔ اور مزید کہا کہ ہم نے اسے نیک اور مہمان نواز شخص پایا ہے اور ہم اسے قول کا پکا دیکھتے ہیں-

حضرت یعقوب علیہ السلام اب تک حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کا غم نہ بھولے تھے اور اپنے بیٹے بنیامین کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس سے انہیں یوسفؑ کی خوشبو آتی تھے۔ اسلئے انہوں نے فرمایا کہ میں اسے ہر گز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا- اور یوسف کی طرح میں اس کے بارے تم پر کوئی اعتبار نہیں کر سکتا کہ تم پہلے بھی عہد شکنی کر چکے ہو پس اب جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں رکھ کر مجھ سے قول و قرار نہ کر لو کہ تم اسے میرے پاس واپس لے کر آو گے اور جب تک بنیامین کو نہ لے آو میرے پاس لوٹ کر نہ آو گے تو میں تمہیں اس کی اجازت دے سکتا ہوں۔

چنانچہ تمام بیٹوں نے پختہ اقرار کر لیا اور اللہ کو گواہ بنا لیا کہ ہم بنیامین کے ساتھ یوسف جیسا نہ کریں گے اور اپنا عہد نبھائیں گے کہ ہم ابھی تک یوسف والی ندامت کو نہیں بھول پائے-

تب حضرت یعقوب علیہ السلام نے انہیں بنیامین کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔ پھر انہوں نے بیٹوں کو نصیحت کی کہ شہر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا اور الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا کہ یہی میرے اللہ کا حکم ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سب خوب صورت اور خوش شکل تھے اور والد نے یہ حکم اس لئیے دیا کہ کہیں بیٹوں کو نظر نہ لگ جاۓ۔ اور بعض روایات کے مطابق ایسا اس لئیے حکم ہوا کہ حضرت یوسف اپنے بھائی سے الگ سے مل سکیں- چنانچہ جب وہ سب مصر پنہچے تو باپ کی نصیحت کے مطابق ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوئے بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوئے-

جب وہ شہر میں داخل ہو گئے تو پھر ایک ساتھ حضرت یوسف کے پاس پنہچے اور بنیامین بھی ان کے ساتھ ہی تھے- حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے بھائی کو دیکھا تو اٹھ کر اپنے سینے سے لگایا اور انہوں نے اسے اپنے قریب جگہ دی اور پوشیدہ طور پر بتا دیا کہ آپ اس کے بھائی ہیں اور حکم دیا کہ اس بات کا ذکر دوسرے بھائیوں سے مت کرنا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close