تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 40)

 رستم علی خان

کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔

اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے۔ لیکن جمہور علماء (یعنی کثیر علماء) کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسی علیہ السلام سے کئی سوبرس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہے۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان 400 سال کا فرق ہے۔ تو اس لحاظ سے حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔ واللہ تعالی اعلم

امام بدر الدین عینی صاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے ۔اور زندہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی ۔کتاب العلم،باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۸۴،۸۵)

خدمت بحر(یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) ا ِنہیں سے متعلق(یعنی انہیں کے سپرد ) ہے اور
اِلیاس علیہ السلام ” بَرّ ”(خشکی) میں ہیں۔(الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ،حرف الخاء المعجمۃ،باب ماوردفی تعمیرہ،ج۲،ص۲۵۲)

اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ ۔اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔

اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۸،پ ۱۵، الکہف:۶۵)

اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی ۔ کہ اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتا ہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص39)
اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔واللہ تعالی اعلم

اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ،اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔

حضرت خضر کی وفات پر دلائل

حضرت امام بخاری سے حضرت خضر اور حضرت الیاس کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ زندہ ہیں؟ انہوں نے فرمایا:یہ کیسے درست ہوسکتا ہے جبکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا: روئے زمین پر جولوگ آج موجود ہیں وہ سوسال تک زندہ نہیں رہیں گے۔

صحیح مسلم میں حضرت جابر سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے اپنی وفات سے پہلے فرمایا:
’’ یعنی آج دنیا میں جو لوگ زندہ ہیں سوسال تک ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا۔‘‘ اس ارشادِ نبویؐ کی کوئی تاویل ممکن نہیں ہے۔‘‘

یہ مسئلہ ایک دوسرے امام صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ دی۔ وَمَاجَعَلْنَا لِبَشَرٍمِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدِ (الانبياء:34) ہم نے آپ سے قبل کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے حضرت خضر علیہ السلام کے زندہ رہنے کا مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اگر خضر زندہ ہوتے تو ان پرواجب تھا کہ وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ سے علم حاصل کرتےاور آپ کی معیت میں جہاد کرتے۔ نبی کریمﷺ نے غزوۂ بدر میں عرض کی تھی۔

«اَللّٰهُمَّ اِنْ تَهْلُكَ هٰذِهِ الْعِصَابَةَ لَاتُعْبَدُفِى الْاَرْضِ»

’’اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی، تو روئے زمین پر تیری عبادت نہیں ہوگی۔ یہ جماعت تین سو تیرہ صحابہ کرام پر مشتمل تھی۔ ان کے ناموں کی مع باپ و قبیلہ فہرست موجود و معروف ہے۔ مگر اس میں حضرت خضر کا نام تک نہیں، لہذا بتایا جائے۔ اس وقت حضرت خضر کہاں تھے۔

ابراہیم حربی سے حضرت خضر کی زندگی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: جس نے کسی میت کا حوالہ دیا اس نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ یہ وسوسہ اندازی شیطان کی طرف سے ہے۔

’’بحر‘‘ (ایک کتاب) میں شرف الدین ابوعبداللہ محمدبن ابوالفضل المرسی سے حضرت خضر کی موت منقول ہے۔ابن جوزی نے علی بن موسیٰ الرضا سے اور ابراہیم بن اسحاق حربی سے یہی قول کیا ہے۔ حضرت خضر کی زندگی کو کیسے صحیح مانا جاسکتا ہے ۔ وہ جبکہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ جمعہ و جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔اور آپ کےاس ارشاد کے باوجود آپ کے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔

«والذى نفسى بيده لوكان موسى حياما وسعة الا ان يتبعنى»

’’ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا-
یہ چند اختلاف ہیں جو خضر علیہ السلام کی حیات و وفات کے بارے علماء کرام اور مفسرین میں پائے جاتے ہیں حقیقت کیا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

آج ہم حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے بارے بیان کریں گے- حضرت یونس کی قوم باقی قوموں سے اس لخاظ سے منفرد ہے کہ جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہونے لگا تو ان لوگوں نے اس انداز میں توبہ اور گریہ زاری کی کہ ان پر سے عذاب ہٹا دیا گیا اور ان کی توبہ قبول ہوئی- جب اللہ کی طرف سے عذاب ظاہر ہوتا ہے تو توبہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے- لیکن قوم یونس کی گریہ زاری اس انداز کی تھی کہ ان پر رحم کیا گیا- چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے؛

ترجمہ: پھر کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اسے اس کا ایمان نفع نہ دیتا، سوائے یونس کی قوم کے، جب وہ ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے زلت کا عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک انہیں (فوائد دنیا سے) بہرہ مند رکھا (سورہ یونس)

آپ کا نام یونس ہے اور والد صاحب کا نام متّٰی بن شتّٰی ہے بعض حضرات نے متّٰی ان کی والدہ کا نام بتایا ہے، جیسا کہ ابن کثیر نے فرمایا ہے اس صورت میں ان کی نسبت ماں کی طرف ہوگی جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت ان کی والدہ مریم کی طرف ہے- واللہ اعلم الصواب-

جب آپ کی عمر اٹھائیس برس ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہر نینوا کے باشندوں کی ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا- نینوا، یہ عراق میں موصل کے علاقہ کا ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ یونس علیہ السلام نے ان لوگوں کو ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا۔ مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی اور تمرد کی وجہ سے اللہ عزوجل کے رسول علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ حضرت یونس علیہ السلام مسلسل قوم کو اللہ کی طرف دعوت دیتے اور ہر روز بازاروں میں بیابانوں میں چوکوں پر الغرض جہاں بھی لوگوں کا کوئی گروہ نظر آتا آپ انہیں تبلیغ کرنے لگتے-
یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت و تبلیغ سے تنگ آ کر حضرت یونس علیہ السلام پر پتھراو کرنا شروع کر دیا- قوم کے لوگ آپ کے بارے خبر رکھتے کہ کل کو یونس علیہ السلام کس جگہ پر لوگوں کو دعوت حق اور وعظ و نصیحت کرنے والے ہیں- چنانچہ وہ لوگ پہلے ہی اس مقام پر پتھر جمع کر لیتے- جب حضرت یونس دعوت دینے کے لیے جاتے تو لوگ ان کی بات شروع کرنے سے پہلے ہی پتھر مارنے لگتے- اور کہتے کہ اے یونس تو کہتا ہے کہ ہم اپنے ان خداوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے آباو اجداد پوجا کرتے تھے اور ہم تیرے خدا واحد کی پرستش کریں-

جب حضرت یونس شہر والوں سے مایوس ہوئے تو انہوں نے دربار شاہی کی طرف رخ کیا کہ دربار میں جا کر بادشاہ اور اس کے حواریوں کو دعوت دیتا ہوں شائد وہ لوگ میری بات مان جائیں- چنانچہ آپ وہاں پنہچے اور وہاں منتظمین کو سب سے پہلے اللہ کی طرف بلایا- وہاں بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھا گیا- سپاہیوں نے آپ کو اٹھا کر دربار سے باہر پھینک دیا-

الغرض حضرت یونس علیہ السلام جب قوم سے بلکل مایوس ہو گئے تو بارگاہ الہی میں ان کی سرکشی اور بغاوت کا رونا رویا اور عرض کی یا الہی میں ہر طرح سے ان لوگوں کو تیری طرف بلایا ہے لیکن یہ لوگ نہیں مانے اب تو ہی ان سے نمٹ-

ابھی اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہ ہوا تھا کہ حضرت یونس نے خود سے جا کر قوم سے کہا کہ میں نے تم کو ہر طرح سے اللہ کی طرف بلایا لیکن تم نہ مانے- پس آج سے ٹھیک تین دن بعد تم پر عذاب نازل ہو گا- چنانچہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں تم سے رخصت ہوتا ہوں- اور اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ شہر سے نکل گئے-

چونکہ حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب والی بات اپنی طرف سے کہی تھی ابھی عذاب کے لیے کوئی حکم اللہ کی طرف سے نازل نہ ہوا تھا اس لیے آپ کی یہ بات بارگاہ ربویت میں ناگوار گزری اور اللہ کی طرف سے آپ کی پکڑ کا سبب بنی۔

چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام جب بستی سے نکلے تو آگے ایک جنگل آیا- آپ نے وہاں اپنی بیوی اور بچوں کو ایک درخت کے سائے میں بٹھایا اور خود آگے گئے کہ دیکھ سکیں اگر کوئی راستہ یا سواری مل جائے تو-

حضرت یونس کے جانے کے بعد وہاں سے ایک لٹیروں کا قافلہ گزرا- جب ان لوگوں نے جنگل میں ایک عورت اور دو بچوں کو دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور جا کر پوچھا کہ وہ لوگ وہاں کیا کر رہے ہیں-.
حضرت یونس کی بیوی نے بتایا کہ وہ لوگ قریب کی بستی سے آئے ہیں اور ان کا شوہر آگے کوئی سفر کا انتظام کرنے گیا ہے سو وہ لوگ ان کا انتظار کر رہے ہیں-

جب ان لوگوں کو معلوم پڑا کہ یہ بس تین لوگ ہیں ان میں بھی دو بچے ہیں تو انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کی بیوی کو اٹھا لیا- بی بی نے انہیں کہا کہ یہ تم کیا کرتے ہو تم نہیں جانتے میرا شوہر ایک نبی اللہ ہے اور تم لوگ زلیل و رسوا ہو گے اگر تم ایک نبی کی بیوی کے بارے کچھ برا ارادہ رکھو گے- لیکن ان لٹیروں نے کوئی بات نہ مانی- الغرض جب کچھ دیر بعد حضرت یونس واپس آئے تو دیکھا کہ بچے اکیلے رو رہے ہیں اور بیوی آپ کی وہاں نہیں ہے- تب آپ نے بچوں سے اس بارے پوچھا تو انہوں نے ساری بات بیان کر دی۔

حضرت یونس علیہ السلام بڑے پریشان ہوئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے کہ شائد کہیں نزدیک ہی ہوں اور نظر آ جائیں- جب مایوس ہو گئے تو اللہ کے حضور رونے اور گڑگڑانے لگے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے لگے جن کی وجہ سے ان پر یہ مصیبت پڑی تھی-
جب کوئی راہ نظر نہ آئی تو آپ نے بیوی کی عزت کو اللہ کے سپرد کیا اور بچوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ گئے- آگے ایک دریا آیا چونکہ بچے چھوٹے تھے خود سے دریا عبور کر نہیں سکتے تھے اور نہ ہی کوئی ایسا زریعہ تھا کہ جس سے دریا کو پار کیا جا سکتا- چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے کو کنارے پر بٹھایا اور دوسرے کو دریا پار کروانے کے لیے اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور دریا میں اتر گئے-

ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا ہو گا کہ آپ کو پیچھے سے اپنے دوسرے بیٹے کی دلخراش چیخ سنائی دی جو کہ کسی ڈر خوف کی وجہ سے تھی- حضرت یونس علیہ السلام نے جب مڑ کر دیکھا تو ایک بھیڑیا آپ کے بیٹے کو اٹھا کر لے جا رہا تھا- حضرت یونس علیہ السلام گڑبڑا کر واپسی کو دوڑے تو اسی ہڑبڑاہٹ میں جو دوسرا بیٹا کاندھے پر تھا وہ بھی دریا میں گر گیا- ایسے موقعوں پر اکثر ہی انسانی عقل ساتھ چھوڑ دیتی ہے- جب ہر طرف سے مصیبتیں اور پریشانیاں گھیر لیتی ہیں تو انسان کو سمجھ نہیں آتا اسے کیا کرنا ہے اور اس سے کیا ہو رہا ہے- حضرت یونس علیہ السلام بھی دوسرے بیٹے کو بچانے کی کوشش میں جب اس طرف دوڑے تو جو کاندھے پر تھا وہ بھی دریا میں گر گیا- اس سے پہلے کہ آپ کچھ سمجھ پاتے دریا کی لہریں بچے کو اپنے ساتھ بہا لے گئیں- دوسری جانب کنارے کی طرف دیکھا تو بھیڑیا بھی کہیں نظر نہ آیا- چونکہ حضرت یونس علیہ السلام بنا حکم کے نکلے تھے اس لیے یہ ساری مصیبتیں ان پر پڑیں تھیں اللہ کی طرف سے-

چنانچہ آپ نے ایک بار پھر بارگاہ الہی میں اپنی بیوی اور بچوں کے بارے التجا کی لیکن کوئی جواب نہ آیا- آپ نے رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور وہاں سے پھر آگے کی طرف بڑھ گئے-

وہاں سے آپ ایک بڑے سمندر پر پنہچے جہاں ایک جہاز (بحری بیڑہ) چلنے کے قریب تھا- حضرت یونس علیہ السلام جب جہاز میں سوار ہوئے تو آپ کے پاس کچھ نہ تھا- جہاز والوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس ہمیں دینے کے لیے کرائے کو کچھ ہے ؟

حضرت یونس نے فرمایا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے بلکہ جو کچھ تھا سب کچھ لٹا کر آ رہا ہوں- ان لوگوں نے جب یہ سنا تو یقین ہوا کہ یہ جھوٹ بولنے والا نہیں لگتا- چونکہ ایک نبی ہونے کے ناطے آپ کے چہرے کی معصومیت اور پاکیزگی و نور سے ان لوگوں نے خیال کیا کہ یہ ضرور کوئی نیک بزرگ ہے سو اس خیال سے بنا کرائے کے جہاز میں سوار کر لیا کہ ان کی برکت سے ہمارا سب کا سفر بھی بخیر و عافیت گزر جائے گا- اور کوئی رنج مصیبت ہمارے جہاز کو پیش نہ آئے گا-

الغرض حضرت یونس علیہ السلام اس کشتی میں سوار ہوئے اور ایک طرف سب سے الگ تھلگ کونے میں ہو کر بیٹھ گئے- جب کشتی سمندر کے درمیان میں پنہچی تو طوفان نے کشتی کا گھیراو کر لیا اور طوفانی لہریں کشتی میں داخل ہونے لگیں- اور طوفان کا زور اس قدر بڑھنے لگا کہ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جاتی-

تب کشتی کے ملاح نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ اگر کوئی غلام اپنے آقا کا نافرمان ہو کر اور اس سے بھاگ کر آجائے اور کشتی میں بیٹھ جائے تب یہ سب ہوتا ہے- اور اگر اس کا پتا کر کے اسے کشتی سے اتار دیا جاوے تو باقی سب کی جان بچ جاتی ہے- پس ہم میں بھی کوئی شخص ضرور ایسا ہے جو اپنے آقا کا نافرمان ہو کر بھاگ آیا ہے اسے اٹھا کر سمندر میں ڈال دو تو باقی سب حفاظت سے کنارے پنہچ سکیں گے- ورنہ ایک شخص کی نحوست کی وجہ سے باقی سب کی جان و مال کو بھی خطرہ ہو گا-

لوگ ایک دوسرے کی جانب شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے- حضرت یونس علیہ السلام اٹھے اور فرمایا؛ اے لوگو ایک دوسرے پر شک نہ کرو میں ہی وہ بدنصیب غلام ہوں جو اپنے آقا کا نافرمان ہوا ہوں اور اس سے فرار اختیار کی ہے- پس مجھے اٹھا کر سمندر میں ڈال دو اگر تم چاہتے ہو کہ تم ساتھ حفاظت کے دوسری جانب پنہچ جاو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close