تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 49)

رستم علی خان

اس کے بعد حضرت موسی نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ روشن تھا اور اس کے نور سے تمام محل فرعون کا منور ہو اٹھا- چنانچہ دونوں معجزے جب ظاہر ہوئے تو بجائے ایمان لانے کے فرعون نے اپنی قوم اور وزیروں سے کہا کہ موسی کوئی رسول نہیں بلکہ یہ ایک بڑا جادوگر ہے جو پڑھا ہوا ہے جادو کو- اور چاہتا ہے کہ تم سب کو اپنے جادو سے ڈرا دھمکا کر شہر سے بھگا دے- تو اب تم بتاو کہ تمہاری اس بارے کیا رائے ہے-

تب وہ بولے کہ ہم ہرگز اس کے جادو کا مقابلہ نہیں کر سکتے- پس موسی اور اس کے بھائی کو ڈھیل دے- اور اپنے لوگوں کو شہر میں بھیج تاکہ شہر کا کوئی بڑا جادوگر لے کر آئیں- فرعون کو وزیروں نے کہا کہ تمہارے شہر میں بہت سے جادوگر ہیں ان سب کو بلا کر جمع کرو- پھر موسی کا مقابلہ ان سے کرواو- پھر دیکھیں گے اکیلے موسی جادو میں ان سے کیسے جیت سکتے ہیں-

چنانچہ فرعون نے جناب موسی علیہ السلام سے کچھ دن کی مہلت مزید مانگی- تب آپ اپنے بھائی ہارون کے ساتھ گھر واپس تشریف لے آئے-

بعد اس کے فرعون نے اپنے لوگوں کو شہر میں دوڑایا کہ تمام شہر کے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کیا جائے- چنانچہ فرعون نے چار ہزار جادوگروں کو جمع کیا اور ہر شخص ان میں ایسا کمال رکھتا کہ ثانی ان کا جادو میں کوئی نہ تھا- اور ایک جادوگر جو ان میں بڑا تھا وہ اندھا تھا- فرعون نے ان سے کہا کہ ہم ایک عرصے سےتمہیں کھانا پینا اور کپڑا وغیرہ دے رہے ہیں- علاوہ اس کے خاص انعام و اکرام سے وقتا فوقتا نوازا جاتا ہے- پس آج ایک بڑی مصیبت ہماری بادشاہت پر آن پڑی ہے- اب تمہیں چاہئیے کہ ہماری مدد کرو اور اپنے جادو کے زور سے موسی کے جادو کا جواب دو اور اسے شہر مصر سے نکال باہر کرو- اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہم خوش ہوں گے تم سے اور ڈھیر دولت اور خزانہ انعام میں دیں گے-

چنانچہ ان جادوگروں نے کہا کہ ہم نمک خوار ہیں فرعون کے اور اس کے کام میں کوئی غلطی نہ کریں گے اور مثل ہمارے جادو کے کوئی نہیں- اور ہم ضرور موسی کو ہرا دیں گے- اور کہا کہ ہمیں آلات جادو کے اور سامان وغیرہ چاہئیے ہو گا تاکہ ہم اپنا کام شروع کر سکیں-

چنانچہ فرعون نے ان کے لیے اپنے خزانے کا دروازہ کھول دیا- اور خزانچیوں سے کہا کہ جادوگروں کو جس جس چیز کی ضرورت ہے انہیں دی جائے- چنانچہ رسیاں اور سیماب وغیرہ جو ضرورت سے تھے سب مہیا کر دئیے- اور جادوگروں نے اپنا طلسم تیار کرنا شروع کر دیا-

اور حضرت موسی علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے ادھر فرعون ملعون جادو میں مشغول تھا- ایک بڑے میدان میں جو فرعون کے محل کے اطراف میں تھا وہاں یہ سب طلسم تیار کئیے جا رہے تھے- اور سارے شہر میں خبر پھیلا دی کہ موسی کے جادو کا مقابلہ فرعون کے جادوگر کریں گے- اور وقت مقرر کیا گیا-

چنانچہ مقابلے والے دن لوگ اس میدان میں جمع ہوئے اور فرعون نے اپنے محل کے گرد بارہ ہزار لشکر سوار کھڑے کر رکھے تھے- پس جب دوپہر کا وقت ہوا اور آفتاب گرم ہوا تب جادوگروں نے آلات طلسم والے چار ہزار ڈالے اور وہ سب حرکت میں آئے- اور تمام آلات مثل زندہ سانپ، اژدھے اور بچھووں کے ہوئے- اور میدان کی ہر چیز معدوم ہو گئی- تب جادوگروں نے حضرت موسی سے کہا- قولہ تعالی؛

ترجمہ: کہا ان جادوگروں نے اے موسی یا تو ڈال یا ہم ہوں ڈالنے والے- موسی نے کہا نہیں تم ڈالو- پھر سب رسیاں ان کی اور لاٹھیاں ان کی خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑتی ہیں- پھر ڈرنے لگے اپنے جی میں موسی- ہم نے کہا اے موسی تو نہ ڈر- مقرر تو ہی رہے گا سب سے اوپر- اور ڈال اے موسی جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے نگل جاوے- جو انہوں نے بنایا وہ تو فریب ہے جادوگروں کا-

گویا انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا کہ آپ اپنا عصا پہلے ڈالیں گے یا ہم اپنا ساز سامان پہلے ڈالیں- چونکہ جناب موسی وہاں اکیلے تھے اور سوا اللہ آپ کا ساتھی وہاں کوئی نہ تھا پس آپ نے کہا کہ پہلے تم ڈالو- پھر جب انہوں نے اپنی طلسم کی گئیں رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں تو جادو کے زور سے یوں نظر آنے لگیں جیسے دوڑ رہی ہوں مثل اصلی سانپ بچھووں کے اور مروی ہے کہ جو جتنی بڑی رسی یا لاٹھی تھی وہ اتنا ہی بڑا سانپ اور اژدھا بنی ہوئی نظر آنے لگی-

حضرت موسی علیہ السلام نے جب یہ حال دیکھا تو اپنے دل میں ڈرنے لگے- چونکہ آپ کے پاس ایک عصا تھا اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں سانپ اور اژدھے لہذا عقل کی نظر سے دیکھیں تو کسی بھی صاحب عقل انسان کا اس صورت حال سے ڈرنا بنتا ہی ہے-

پھر اللہ تعالی نے آپ کو حوصلہ دیا کہ نہ ڈریں بلکہ اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا عصا ڈال دیں پھر دیکھیں کیسے ان سب کو نگلتا ہے- یہ سب تو ایک فریب اور دھوکہ ہے نظر کا۔

پس حضرت موسی نے اللہ کے حکم سے عصا ڈالا تو وہ اژدھا بنا اور اس کی ہیئت بہت بڑی تھی- اور وہ میدان کے سرے سے چلتا ہوا میدان میں آیا- اور اس نے چار ہزار طلسم جادو سے جو سانپ اژدھے اور بچھو وغیرہ بنے پھرتے دکھ رہے تھے اور جتنے آلات جادو اور طلسم کے تھے ایک ہی لقمے میں کھا لئیے- اور اس میدان میں کوئی چیز باقی نہ رہی- تب وہ فرعون کے تحت کی طرف بڑھا تو فرعون اپنا تحت چھوڑ کر بھاگ اٹھا- اور حق اور باطل واضح ہوا اور لوگوں نے جانا کہ فرعون تو برسر باطل اور جھوٹا تھا- اور حضرت موسی ہی سچے اور حق پرور ہیں جو فتح یاب ہوئے-

تب حکم ہوا موسی اپنا عصا پکڑ لیجئے کہیں ایسا نہ ہو یہ سارا شہر تباہ و برباد کر دے- تب جناب موسی نے اژدھے کی گردن سے پکڑا تو دوبارہ عصا ہو کر آپ کے ہاتھ میں آیا- جادوگر تمام یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ واللہ یہ کوئی جادو ہرگز نہیں ہے- کہ جب موسی نے عصا پھینکا تو ایک ہیبت ناک بلا کی صورت ہوا اور ہمارے سوانگ جادو سب کو کھا گیا- اور جب دوبارہ پکڑا تو عصا بن کر ان کے ہاتھ میں آیا- اور یہ ہرگز کوئی جادو یا نظر کا دھوکہ نہیں-

تب ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ پس دیکھا تم نے موسی نے کوئی فریب نہیں دکھایا بلکہ وہ حق پرست ہیں اور یہ تو کھلا معجزہ ہے جو موسی نے دکھایا- پس اب بہتری اسی میں ہے کہ ہم موسی اور اس کے رب پر ایمان لے آئیں- چنانچہ وہ سب سجدے میں گر پڑے- قولہ تعالی؛

ترجمہ: اور ڈالے گئے جادوگر سجدے میں، کہا انہوں نے ایمان لائے ہم ساتھ پروردگار عالموں کے ساتھ پروردگار موسی اور ہارون علیہم السلام کے-

تب اللہ تبارک وتعالی نے ان کی آنکھوں کا پردہ ہٹایا اور انہیں جنت اور تحت الثری دکھایا- پھر جب سجدے سے سر اٹھایا تو کون و مکاں سب دیکھا- تب کہنے لگے ایمان لائے ہم جہانوں کے رب پر-

تب فرعون نے ان سے کہا کہ تمہارا رب تو میں ہوں- جادوگروں نے کہا کہ نہیں تم ہرگز ہمارے خدا نہیں- بلکہ ہمارا رب تو وہ ہے جو رب ہے موسی اور ہارون علیہم السلام کا-

تب فرعون نے کہا تم ان کے خدا پر ایمان کیوں لاتے ہو بھلا ان کا خدا تمہیں کیا دے گا- تب جادوگروں نے کہا، تحقیق ہم ایمان لائے اپنے رب پر تاکہ وہ ہماری خطائیں بخشے- اس لیے کہ ہم نے زبردستی کی ہے جادو سے اس کا مقابلہ کرنے کی اور جادو تو نرا جھوٹ اور کفر ہے- اور تو باطل ہے اور برحق تو رب ہے-

تب فرعون ملعون نے کہا اگر تم میرے سوا کسی اور کو معبود مانوں گے تو میں تمہیں سخت عذاب کروں گا- اور کہا کہ میں تمہارے ہاتھ پاوں کٹوا دوں گا پھر تمہیں کھجور کے درخت کے ساتھ سولی دوں گا- پھر تم جانو گے کہ ہم میں سے کون شدید عذاب کرنے والا ہے اور کون ہے جو باقی رہنے والا ہے-

تب جادوگروں نے کہا تجھے جو کرنا ہے بیشک کر گزر اب ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں- آئی ہے ہمارے پاس ایک کھلی چیز اس کی دلیلوں میں سے- اور کہا کہ دنیا کی ہر چیز اس کے حکم پر چلتی ہو سو بنا اس کے حکم کے تو نہ ہمیں زندگی دے سکتا ہے اور نہ ہی ہم سے زندگی چھین سکتا ہے- پس تو جو کچھ کرے گا وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو گا اس میں تیرا حکم اور مرضی شامل ہو یا نہ ہو-

تب فرعون نے جلادوں کو بلوا کر حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دو- تب جلادوں نے فرعون کے حکم پر اول ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دئیے اور بعد اس کے انہیں دار پر کھینچا- جب انہیں دار پر کھینچا گیا تب پھر انہوں نے کہا؛

کچھ ڈر نہیں ہم کو اپنے پرودگار کیطرف پھر جانا ہے ہم غرض رکھتے ہیں کہ بخشے ہم کو رب ہماری غلطیوں میں کہ ہم ہوئے پہلے ایمان لانے والوں میں سے۔

تب حضرت موسی اور ہارون علیہم السلام واپس گھر تشریف لائے اور خدا کا شکر بجا لائے- تب حضرت موسی نے گھر آ کر اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش اور مال و دولت دنیا کا زندگی میں عطا کیا ہے- اے پروردگار میرے تو جانتا ہے گمراہ ہیں یہ لوگ- اے اللہ مٹا دے ان کی آرائش اور ختم کر دے ان کا مال و دولت اور سخت کر ان کے دلوں کو کہ ایمان نہ لاویں جب تک نہ دیکھیں دکھ کی مار-

تب فرمایا اللہ نے قبول ہو چکی تمہاری دعا سو تم ثابت قدم رہو اور مت چلو ان کی راہ پر جو انجان ہیں- یعنی جلدی مت کرو اور حکم کی راہ دیکھو اور چند روز ابھی وعدے کا دن باقی ہے-

بعد اس کے چالیس برس تک حضرت موسی اور ہارون نے فرعون کی دعوت کی- اے فرعون تو واحدانیت کا اقرار کر- خدا پر ایمان لا جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا- اور نہ ستا بنی اسرائیل کو- لیکن فرعون لعین نہ مانا اور جھوٹا دعوی خدائی کا کرتا رہا-

بعد اس کے فرعون نے ہامان وزیر سے کہا کہ میرے واسطے ایک بلند مینارہ تعمیر کرواو تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمانوں تک جاوں اور جھانکوں آسمان میں موسی اور ہارون کے رب کی طرف- اور دیکھوں کہ آسمانوں والا رب کون اور کیسا ہے- اور میرا گمان کہتا ہے کہ موسی جھوٹ بولتا ہے بھلا آسمانوں میں کوئی رب کیسے رہ سکتا ہے-

تب ہامان نے مزدور سارے شہر کے اکٹھے کئیے اور انہیں اینٹیں بنانے کا حکم دیا- اور پھر ایک ترکیب سے اینٹ بنائی اور اسے آگ میں پکا کر پختہ کیا- کہتے ہیں کہ ایجاد اینٹ کی سب سے پہلے ہامان سے شروع ہوئی-

تب ایک مینارہ بنانا شروع کیا اور سات برس لگے اس کام میں اور ایسا بلند مینارہ بنایا کہ راج مزدور کو ہمت نہ ہوتی کہ اٹھ کر اس پر اینٹ جما دے- جب کوئی اینٹ لگانے کو اٹھتا ہوا اسے اڑا لے جاتی- اور دیکھنے پر یوں معلوم ہوتا گویا آسمان میں داخل ہوا جا رہا ہے-
غرض بہت مال و زر خرچ کیا اسے بنانے میں اور ابھی تعمیر مکمل نہ ہوئی تھی کہ اللہ تعالی نے جبرائیل امین کو اس مینارے کو توڑنے کا حکم دیا- تب بحکم ربی حضرت جبرائیل نے آ کر ایک پر ایسا مارا کہ سارے کا سارا مینارہ زمین بوس ہوا-

اور اسے بنانے والے راج مزدور اور اینٹ جلانے والے اور گارا دینے والے سب کو اس کے ساتھ ہی ختم کر دیا- اور کوئی نام و نشان کسی کا باقی نہ رہا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close