تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 50)

رستم علی خان

چنانچہ جب فرعون کو ہر طرف سے شکست ہوئی اور جناب موسی فتح یاب ہوتے رہے حق و باطل کی اس جنگ میں حق ہمیشہ باطل پر غالب رہا اور باطل زلیل و رسوا ہوا- تب یہ دیکھ لوگ حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے لگے اور آپ کو سچا رسول تسلیم کرنے لگے-

حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں فرعون کے گھر کی دو عورتیں بھی شامل تھیں- جن میں ایک فرعون کی بیٹی کی خادمہ خاص تھیں جن کا نام مشاعتہ تھا- اور دوسری عورت خود فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ عنہما اجمعین تھیں-

مروی ہے کہ ایک دن فرعون کی ملازمہ فرعون کی بیٹی کا سر گوندھ (کنگھی کر) رہی تھیں کہ ان کے ہاتھ سے کنگھی نیچے گر گئی- چنانچہ انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر کنگھی کو زمین سے اٹھایا- تب یہ الفاظ فرعون کی بیٹی نے بھی سن لیے- تب اس نے پوچھا کہ اے بی بی ابھی تم نے کیا کہا- کیا تم میرے باپ فرعون کے علاوہ کسی دوسرے کو رب مانتی ہو-

اس بی بی کو سمجھ آ گئی کہ ان کا ایمان اب راز میں نہیں رہا بلکہ فرعون کی بیٹی تک پنہچ گیا ہے سو اگر اب چھپائیں گی تو جھوٹ کا سہارہ لینا پڑے گا- تب انہوں نے فرعون کی بیٹی کے سامنے اپنے ایمان کا اقرار کیا اور کہا کہ ہاں تمہارا باپ جھوٹا ہے اور وہ ہرگز خدا نہیں بلکہ محض دعوی کرتا ہے خدائی کا اور اسے کسی چیز پر کچھ اختیار حاصل نہیں ہے- بلکہ میرا اور تیرا اور تیرے باپ فرعون کا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب- اور تمام اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے- اور میں موسی اور ہارون کے رب پر ایمان لائی ہوں-

پس فرعون کی بیٹی نے جب اس کے منہ سے یہ باتیں سنیں تو اول انہیں خوب مارا پیٹا- پھر بعد اس کے اپنے باپ فرعون کو اس کے ایمان کے بارے اطلاع کر دی- چنانچہ فرعون کے حکم پر اس بی بی کو فرعون ملعون کے سامنے پیش کیا گیا- تب اس نے پوچھا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ تم میرے علاوہ معبود مانتی ہو اور موسی اور ہارون کے رب پر ایمان رکھتی ہو- اور اسی کی عبادت کرتی ہو-
تب ان بی بی نے جواب دیا ہاں میرا اور تیرا اور ساری مخلوق کا رب اللہ ہے اور میں اسی کی عبادت کرتی ہوں- فرعون نے انہیں چت لٹا کر ہاتھوں اور پیروں میں میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں-
اور پھر ایک دن فرعون ان بی بی کی طرف آیا، اور کہا اب تیرے خیالات درست ہوئے؟ وہاں سے جواب ملا میرا اور تیرا اور ساری

مخلوق کا رب اللہ ہی ہے- فرعون نے ڈراوا دیا اور کہا اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا- اب بھی میری بات مان لے اور اس دین سے باز آجا- انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال- میرا ایمان مضبوط ہے اور تو کسی طرح مجھے اس سے ہٹا نہیں سکتا-

تب اس ظالم نے انکے لڑکے کو منگوایا اور انکے سامنے اسے مار ڈالا- اور جب اس بچے کی روح نکلی تو اس نے کہا، اے ماں خوش ہو جا تیرے لئے اللہ تعالی نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں، اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی، انہوں نے اس روح فرسا واقعے کو دیکھا اور صبر کیا اور راضی بہ رضا ہو کر بیٹھی رہیں، فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوایا اور سانپ چھوڑ دیئے۔

تب فرعون نے انہیں دوبارہ باندھ کر ڈلوا دیا- بعد کچھ عرصہ کے پھر آیا اور آ کر اپنی بات دہرائی- تب بھی ان بی بی نے وہی جواب دیا کہ تیرا اور میرا رب اور ساری کائنات کا رب اللہ ہے اور وہی معبود برحق ہے اور یہ کہ تو جھوٹا ہے-

تب ملعون نے کہا اگر اب بھی نہ مانیں تو میں تیرے دوسرے لڑکے کو بھی قتل کر دوں گا- چنانچہ ان بی بی نے فرمایا تو جو کر سکتا ہے کر گزر میں اپنے ایمان سے ہٹنے کی نہیں- تب ان کے چھوٹے لڑکے کو منگوایا اور ان کی آنکھوں کے سامنے اس کے ٹکڑے کر دئیے- تب اس بچے نے بھی اپنی ماں کو خوشخبری سنائی- بعد اس کے ان بی بی کو جب قتل کیا تو اللہ تعالی نے فرعون کی بیوی کی آنکھوں کے آگے سے پردہ ہٹایا تب حضرت آسیہ نے بھی اس عورت کا خوبصورت انجام دیکھا اور ایمان لائیں-

اور بعض جگہ اس عورت کی تین بچیوں کا تذکرہ بھی ہے جنہیں فرعون نے ان کی ماں کے سامنے ابلتے ہوئے تیل کی کڑاھی میں ڈالا تھا تاکہ وہ ایمان سے بعض آئیں اور فرعون کو اپنا رب تسلیم کریں- لیکن یکے بعد دیگرے تین بیٹیوں کی قربانی دینے کے باوجود بھی ان کے استقلال میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ ہر بار یہی کہتیں کہ تو کر گزر جو کرنا ہے- میری بیٹیاں اپنے ازلی ٹھکانے پر پنہچ گئی ہیں اور وہ اس دنیا سے بہتر ہے- اور عنقریب تیرا انجام بہت برا ہو گا اور مرنے کے بعد ہمیشگی کی زلت اور رسوائی تیرا مقدر بنے گی- اور اسی طرح جب تینوں بیٹئوں کو تیل میں ڈالنے کے بعد بھی وہ عورت اپنے ایمان سے نہ پھریں تو ان کو بھی اسی تیل کے کڑاہ میں ڈال دیا گیا- واللہ اعلم الصواب

مروی ہے کہ اس عورت کا ایمان اور استقلال دیکھ کر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بھی ایمان لائیں- حضرت آسیہ نے سوچا کہ آخر کونسی چیز ہے جو اس عورت کو اس قدر مضبوط بنائے ہوئے ہے- تب اللہ تعالی نے ان کی آنکھوں سے تمام پردے ہٹائے- تب حضرت آسیہ نے اس عورت اور اس کی بچیوں کا اللہ کے ہاں خوبصورت انجام دیکھا تو ایمان لے آئیں-

فرعون کو جب حضرت آسیہ کے ایمان کے بارے خبر ملی تو ایک دن اپنے درباریوں سے ان کے بارے دریافت کیا کہ تمہارا میری بیوی آسیہ کے بارے میں کیا خیال ہے- تب ان سب نے بڑی تعریفیں کیں اور آپ کی اچھائی اور بھلائی بیان فرمائی- اور یہ کہ وہ کسی کے ساتھ ظلم اور نا انصافی نہیں کرتیں-

پس فرعون نے کہا کہ وہ بھی موسی اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئیں ہیں- اب بتاو کیا کرنا چاہئیے- چنانچہ سب نے قتل کرنے کا مشورہ دیا- تب فرعون نے بی بی آسیہ سے ان کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں رب ارض و سماوات پر ایمان لائی اور وہی رب ہے تمام مخلوقات کا- تب اول انہیں سارے دربار میں برہنہ کیا بعد اس کے ان کو زمین پر لٹا کر ان کے ہاتھ پاوں میں میخیں گڑوا دیں- اور کہا ملعون نے اگر تو اپنے ایمان سے پھر جائے تو میں تمہیں رہائی دوں گا- لیکن حضرت آسیہ نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا اور اپنے ایمان پر مضبوطی سے جمی رہیں-

بعد اس کے فرعون نے کہا کہ میرے تم پر بہت احسانات ہیں اور تم مجھے بہت محبوب ہو- تب حضرت آسیہ نے فرمایا کہ اللہ کے احسانات تیری نسبت بہت زیادہ ہیں اور وہ مجھے زیادہ محبوب رکھتا ہے- تب انہیں باہر دھوپ میں لٹا کر ان کے ہاتھ پاوں میں میخیں گڑوا دیں- فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا- تب ملعون نے حکم دیا کہ ایک بڑا پتھر لا کر آسیہ کے اوپر گرا دو- تب حضرت آسیہ نے اللہ تعالی سے دعا مانگی؛

ترجمہ: اور اللہ تعالی نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی کہاوت بیان فرمائی،جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنااور مجھے فرعون سے اور اسکے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔(سورۃ التحریم۔ آیت 11)

آپ کی دعا قبول ہوئی چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردے اٹھا دئیے اور انہیں ان کا جنت میں مقام اور درجہ دکھایا- تب یہ دیکھ کر وہ خوشی سے ہنسنے لگیں- تبھی فرعون بھی وہاں آیا اور انہیں ہنستا دیکھ کر کہا لگتا ہے ان کا دماغ چل گیا جو اس قدر تکلیف میں بھی ہنس رہی ہیں- پھر ان سے ان کے ایمان بارے دریافت کیا تو وہی جواب ملا- تب ملعون نے پتھر ان پر ڈالنے کا حکم دیا- لیکن پتھر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے ملک الموت نے ان کی روح قبض کر لی- اور جب پتھر ان پر پڑا تب ان میں جان نہ تھی- رضی اللہ عنہما اجمعین۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close